آج کا کالم

آپ کے بینک اکاؤنٹس میں جمع پیسے کتنے محفوظ؟

رويش کمار

بچوں کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، ٹی وی اور سیاست کی ہندو مسلم کی ڈبیٹ عام لوگوں کو انسانی بم میں بدل رہی ہے. راجستھان کے راجسمد میں نفرت نے شمبھو لال کو اتنا پاگل کر دیا کہ اس نے مزدور محمد افراض کو پہلے کاٹ دیا اور پھر جلا کر مار دیا. یہ معلومات یہیں تک، لیکن کبھی اس سیاق و سباق کے حوالے سے لوٹوں گا ضرور تاکہ ہندو مسلم کی سیاست آپ کو اور آپ کے بچوں کو شمبھو لال کی طرح قاتل میں نہ بدل دے. بینکوں میں جمع آپ کے پیسے کی بات کرتے ہیں. 10 اگست 2017 میں لوک سبھا میں پیش ہوئے فنانشل ریذيولیشن اینڈ ڈپوذٹ انشيورینس بل کو لے کر بحث ہو رہی ہے. 18 اگست کو یہ بل لوک سبھا کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا، اس کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ پیش نہیں کی ہے مگر اس کے کچھ دفعات کو لے کر میڈیا میں بحث ہے کہ بینکوں میں جمع آپ کا پیسہ محفوظ نہیں ہے. ابھی بینک چاہیں تو دینے سے انکار کر سکتے ہیں. یہ بل اس لیے لایا گیا ہے تاکہ بینکاری سیکٹر کی نگرانی کے لئے ایک قرارداد  کارپوریشن بنایا جاسکے. یہ کارپوریشن ڈوبتے ہوئے بینک کے جمع رقم کی انشورنس کا پیمانہ کا بھی فیصلہ کرے گا. اخباروں اور نیوز ویب سائٹ پر آپ نے اس طرح کی هیڈلان دیکھی ہوگی.

– نوٹ بندي کے بعد اب آپ کے بینک اکاؤنٹ پر حکومت کی نظر، لا رہی ہے نیا بل۔

– کیا جانتے ہیں آپ، بینک میں رکھا پیسہ ہی نہیں رہے گا آپ کا، لٹ سکتی ہے ساری جمع پونجی۔

– بینک میں رکھا آپ کا پیسہ نہیں رہے گا آپ کا، مودی حکومت لا رہی ہے نئے قانون ۔

کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے، بل میں تو ہے مگر آخری طور پر یہی ہوگا، ابھی نہیں کہا جا سکتا، مگر جو ہے اس پر بات ہو سکتی ہے. 9 نومبر کو دی ہندو اخبار میں میرا نانگيا نے اس پر تفصیل سے مضمون لکھا تو بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ خدشہ اٹھا کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے کہ بینک ہمارے پیسے کو لوٹانے سے انکار کر سکتے ہیں. اس کے بعد 3 دسمبر کو اسکرول پر شروتی ساگر نے اس پر لکھا اور پھر آہستہ آہستہ کئی مقامات پر یہ خبر شائع ہونے لگی. نئی دفعات میں کہا گیا ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈروں کے جمع پیسے کا استعمال بینک کو ابارنے میں کیا جا سکتا ہے. ڈپوزٹ انشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن بھی ختم کیا جانا ہے. جس کے تحت اکاؤنٹ ہولڈروں کو 1 لاکھ روپے تک لوٹانے کی ضمانت ملی ہے.

ابھی تک قانون ہے کہ آپ کے اکاؤنٹ میں اگر دس لاکھ جمع ہیں، بینک ڈوب گیا تو صرف ایک لاکھ تک ملے گا. نو لاکھ روپیہ سمجھئے ڈوب گیا. اس کی جگہ بینکوں کو چھوٹ دی جائے گی کہ وہ آپ کا پیسہ لوٹاییں گے یا نہیں. اگر لوٹاییں گے تو کس طور پر. کہیں طویل وقت کے لئے سرمایہ کاری کر دیا تو آپ گئے کام سے. بینکوں کا این پی اے بڑھ کر 6 لاکھ کروڑ سے بڑھ گیا ہے. بینکوں کے لئے یہ بری خبر تو ہوتی ہی ہے، آپ کے لئے بھی ہے کیونکہ بینک ڈوبیں گے تو آپ کا پیسہ بھی ڈوبے گا. نئے فراہمی کے مطابق ڈوبتے بینکوں سے کہا جائے گا کہ آپ خود ہی بچا لو، اکاؤنٹ ہولڈر کو پیسہ مت دو. تنازعہ بل کے چیپٹر 4 سیکشن 2 کو لے کر بھی ہے. اس کے مطابق قرارداد  کارپوریشن ریگيولیٹر سے صلاح مشورے کے بعد یہ طے کرے گا کہ فانینشيل ریذيولیشن اینڈ ڈپوذٹ انشيورینس بل. دیوالیہ بینک کے جماكرتا کو اس جمع رقم کے بدلے کتنی رقم دی جائے. وہ طے کرے گا کہ جماكرتا کو کوئی خاص رقم ملے یا پھر اکاؤنٹ میں جمع مکمل پیسہ.

جون 2017 میں اسٹیٹ بینک کا نان پرفارمنگ اسیٹ این پی اے بڑھ کر 188069،کروڑ ہو گیا ہے. اسٹیٹ بینک کی طرح ہی پانچ دیگر سرکاری بینک ہیں جن کا این پی اے اتنا بڑھ گیا ہے کہ بھارتی ریزرو بینک نے انہیں فوری طور پر کچھ کرنے کو خبردار کیا ہے. سرکاری رپورٹ بتاتی ہے کہ عام ہندوستانی کا 63 فیصد پیسہ ساروجنك علاقے کے بینکوں میں جمع ہے، 18 فیصد ہی نجی بینکوں میں جمع ہے. اگر یہ پبلک سیکٹر کے بینک ڈوبے تو بڑی تعداد میں کسٹمر متاثر ہو جائیں گے. میرا نانگيا نے لکھا ہے کہ ‘بیل۔ان’ نام سے ایک بل آ رہا ہے جو مجوزہ ریزولشن کارپوریشن کو اختیار دے گا کہ وہ بینکوں کی لائبلٹی کو منسوخ کر دے یعنی یا بینک سے طویل وقت  کے لئے سرمایہ کاری کر دے، آپ کو دے ہی نہ. جو پیسہ آپ بینکوں میں فکس ڈپوذٹ یا عام ڈپوذٹ جمع کرتے ہیں اسے لائبلٹی کہتے ہیں. بینک آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ آپ جب پیسہ مانگیں گے تو وہ لوٹا دے گا. اب اس ‘بیل۔ان’ کے آنے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ بینک آپ کو پیسہ دینے سے انکار کر سکتے ہیں. ہو سکتا ہے کہ بدلے میں آپ کو کچھ اسٹاک دے دیں، کوئی سیکورٹی دے دیں. ہمارے ساتھی سشیل مهاپاترا نے میرا نانگيا سے بات کی ہے.

دہلی یونیورسٹی کی كامرس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر میرا ناگيا نے بتایا کہ FRDI Bill اگر پاس ہوا تو Resolution Corporation فیصلہ کرے گا کہ ہر کسٹمر اپنی جمع پونجی کے کتنے حصہ بیمہ کرا سکے گا. ایک ہی بینک میں ہمارے لئے مختلف پرتیشت ہو سکتا ہے آپ کے لئے مختلف پرتیشت ہو سکتا ہے۔ بینکنگ موضوعات پر ہندی میں لکھنے والے وبھاش کمار شریواستو سے بھی ہم نے اس مسئلے پر اور سمجھنے کی کوشش کی.

یہ تو طے ہے کہ ‘بیل۔ان’ فراہمی کے آنے کے بعد کسٹمر اور بینک کے درمیان کا رشتہ بدل جائے گا. بہت سے ماہرین نے لکھا ہے کہ بینکوں میں اب آپ کا پیسہ محفوظ نہیں رہے گا. یا تو پیسہ ڈوب جائے گا یا پھر اس پیسے کو بینک آپ کی خاطر کہیں سرمایہ کاری کر دے گی. جس طرح سے آپ کسی کمپنی کے شییر خریدتے ہیں اسی طرح سے بینکوں میں پیسہ جمع کرنا ہو جائے گا. یہ ایک بڑی تبدیلی ہے. بینکنگ ایسوسی ایشن کے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ بھی اس بل کی فراہمی سے متفق نہیں ہیں.

کانگریس، ترنمول کانگریس اور سی پی ایم نے اس بل کو عوام مخالف کہا ہے. 28 نومبر کو کانگریس نے پریس ریلیز جاری کی ہے. کانگریس نے کہا ہے کہ زیادہ تر عوامی علاقوں کے بینکوں کی صحت خراب ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان بینکوں میں جمع آپ کا پیسہ محفوظ نہیں ہے. اگر یہ بل پاس ہو گیا تو معاشرے کے کمزور طبقے کو گہرا دھکا پہنچے گا، بینکوں میں جمع ان کا پیسہ ڈوب جائے گا. عام آدمی پارٹی کے ترجمان راگھو چڈھا نے 7 دسمبر کو پریس کانفرنس کر یہی خدشہ ظاہر کیا ہے.

بینک کے لئے اب bail- out دراصل bail-in بننے جا رہا ہے. مطلب، پہلے جب کوئی بڑا صنعتکار کسی بینک کو لون واپس نہیں کرتا تھا اور بینک کنگالی کے دہانے پر آ جاتا تھا تو حکومت اپنی جیب سے پیسے دے کر اس بینک کی مدد کرتی تھی جسے بیل آؤٹ پیکیج بھی کہتے ہیں. لیکن اب اس قانون کے ذریعہ ‘بیل۔ان’ نظام بنایا جائے گا یعنی ملک کے عام لوگوں کا پیسہ جو ان کے بینک اکاؤنٹس میں جمع ہے، اسے بینک ہڑپ لے گا اور صنعت کاروں کا لون معاف کرتے ہوئے اپنے نقصان کی تلافی کر لے گا. اور یہ سب کچھ آپ کی مرضی کے بغیر کیا جائے گا.

اس ترتیب میں سایی پرس میں ہوئے ایک تجربہ کی بھی مثال دی جا رہی ہے. مگر وہاں ایسا تجربہ کامیاب نہیں رہا تھا. اس قانون کے آنے کے بعد وہاں کے عام لوگوں کا پیسہ بینکوں نے ہڑپ لیا.

ان تنقیدوں کے بعد حکومت نے کہا ہے کہ حکومت کسٹمر کے پیسے کی حفاظت کو لے کر مصروف عمل ہے. وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ٹویٹ کیا ہے کہ فانینشيل ریذيولیشن اینڈ ڈپوزٹ انشيورینس بل پارلیمنٹ کی استھایی کمیٹی کے تحت ہے. حکومت کا منشا مالیاتی اداروں اور اکاؤنٹ ہولڈروں کے مفادات کو محفوظ رکھنا ہے. یہی نہیں وزارت خزانہ کی جانب سے ایک صفائی بھی آئی ہے. جس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں بل میں ‘بیل۔ان’ کی دفعات کو لے کر غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے. پارلیمنٹ میں جو بل پیش کیا گیا ہے اس سے اکاؤنٹ ہولڈروں کی موجودہ سیکورٹی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گیی ہے. بل میں پاردرشي طریقے سے اکاؤنٹ ہولڈروں کے لئے سیکورٹی کے نئے اصول شامل کئے گئے ہیں. دیکھتے ہیں پارلیمانی کمیٹی اس معاملے میں کیا رپورٹ دیتی ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close