آج کا کالم

اباحیت کی دوڑ

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے 27 ستمبر 2018 کو ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جس کے سماج پر غیر معمولی اثرات مرتَّب ہوں گے۔

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے 27 ستمبر 2018 کو ایک ایسا فیصلہ سنایا ہے جس کے سماج پر غیر معمولی اثرات مرتَّب ہوں گے۔ فیصلہ سنانے والوں کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ انھوں نے جلتے پر پٹرول انڈیلنے کا کام کیا ہے۔ وہ سماج جو مختلف اسباب سے ابتری اور بحران کا شکار ہے، جس میں مقدّس رشتے پامال ہو رہے ہیں، جس کا اخلاقی زوال اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے، صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ فیصلہ اس میں مزید اضافہ کرے گا اور انتشار، انارکی اور فساد اپنے عروج کو پہنچ جائے گا۔

اس فیصلے میں محترم چیف جسٹس جناب دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے تعزیراتِ ہند ( Indian Panal Code) کی دفعہ 497 کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ دفعہ کہتی تھی کہ اگر کوئی مرد کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ  اس کی مرضی سے جسمانی تعلق بنائے، لیکن اس کے شوہرکی رضامندی نہ لے تو اسے مجرم مانا جائے گا اور پانچ برس تک جیل کی سزا سنائی جا سکے گی۔ اس دفعہ کی منسوخی سے غیر ازدواجی جنسی تعلقات جرم کے دائرہ سے باہر ہو گئے ہیں۔ چیف جسٹس  نے کہا ہے کہ زنا (Adultery) کو شادی سے الگ ہونے کی بنیاد بنایا تو جا سکتا ہے، لیکن اسے جرم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفعہ خواتین کے احترام کے خلاف تھی، جب کہ انہیں ہمیشہ مساوی حقوق ملنے چاہییں‘‘۔  فاضل ججوں کو عورتوں کی آزادی، احترام اور حقِّ مساوات کا تو خیال رہا، لیکن افسوس کہ اس فیصلے کی زد سماجی زندگی کے کن کن پہلوؤں پر پڑے گی ؟ اور دوسروں کے حقوق کہاں کہاں مجروح ہوں گے ؟ اس کی طرف ان کی توجّہ مبذول نہ ہوسکی۔

میاں بیوی کا رشتہ محبت، خیر خواہی اور اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے۔ دونوں مل کر تمدّن کی گاڑی کھینچتے اور اس کی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے درمیان جنسی تعلّق محض لذّت اندوزی کے لیے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس پاکیزہ اور قانونی تعلّق سے اولاد ہوتی ہے، جو ان کے لیے قدرت کا خوب صورت اور انمول عطیہ ہوتی ہے۔ زوجین کے جنسی تعلّق سے وجود میں آنے والی نئی نسل ان کی محبتّوں کے زیرِ سایہ پروان چڑھتی ہے اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر زندگی گزارنا سیکھتی ہے۔ شوہر بیوی، اولاد اور والدین کے درمیان شدید جذباتی تعلّق ہوتا ہے ۔ مرد بیوی بچوں کو اپنا سمجھتا ہے، چنانچہ وہ ان پر اپنی گاڑھی کمائی خرچ کرتا ہے، انھیں مکروہاتِ زمانہ سے بچاتا ہے، کوئی ان کی طرف بُری نظر سے دیکھے تو ان سے لڑنے مرنے کے لیے تیّار ہوجاتا ہے اور اپنے عزیزوں کی حفاظت میں اپنی جان نچھاور کرنے میں بھی دریغ نہیں کرتا۔

اگر شوہر کے دل میں یہ بات گھر کر جائے کہ اس کی بیوی اس کے غائبانے میں کسی سے بھی آشنائی کرسکتی ہے، کسی کی بھی بانہوں میں جھول سکتی ہے، کسی کا بھی بستر گرم کرسکتی ہے، کسی سے بھی جنسی تعلق قائم کرسکتی ہے، تو ان کے درمیان اپنائیت کیوں کر قائم رہ سکتی ہے؟اور ان کے درمیان اعتماد اور محبت کی فضا کیوں کر پروان چڑھ سکتی ہے؟ اگر شوہر کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے کہ اس کی بیوی کے پیٹ میں جو بچہ پل رہا ہے، یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اسی کا ہے، ممکن ہے اس نے کسی اور سے جنسی تعلّق قائم کر لیا ہو، جس سے حمل ٹھہر گیا ہو تو وہ کیوں اس کی خبر گیری کرے گا؟ کیوں اس کے ناز نخرے اٹھائے گا؟ کیوں اس کے علاج معالجہ کے مصارف برداشت کرے گا؟ اور کیوں اس بچے کی پیدائش کے بعد اس کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت کی ذمے داریاں اٹھائے گا؟

  آزادی ہر مرد اور ہر عورت کا بنیادی اور دستوری حق ہے، لیکن فاضل ججوں کو اتنی موٹی سی بات تو سمجھنی چاہیے تھی کہ کسی شخص کی آزادی کی حد وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں دوسرے شخص کی آزادی متاثر ہوتی ہے اور اس کا کوئی حق پامال ہوتا ہے۔ ہر شخص کو آزادی ہے کہ وہ فضا میں ہاتھ بلند کرے اور مُکّا گھمائے، لیکن اسے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کی پیٹھ پر مُکّا جما دے اور کسی کی ناک توڑ دے۔

  قدرت کی طرف سے ہر مرد اور عورت کے اندر جنسی جذبہ ودیعت کیا گیا ہے، لیکن یہ لذّت کوشی کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ تمدّن کی ایک ضرورت وابستہ کردی گئی ہے۔ کسی عورت یا مرد کو یہ حق نہیں کہ بے محابا آزادی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ صرف لذّت تو حاصل کرتا رہے، لیکن خاندان اور تمدّن کی ذمے داریاں اٹھانے پر آمادہ نہ ہو۔

مختلف اسباب سے ہمارا سماج انتشار اور ابتری کا شکار ہے، خاندان کی چولیں ہل گئی ہیں، زوجین کے درمیان عدمِ برداشت اور عدم اعتمادی کی وجہ سے علیٰحدگی اور طلاق کے واقعات کثرت سے پیش آرہے ہیں، عورتوں کی زندگی اجیرن ہو رہی ہے اور بچّوں کی صحیح پرورش نہ ہوپانے کی وجہ سے نئی نسل کی ایسی فوج تیّار ہورہی ہے جو بدمعاشی، آوارگی، غنڈہ گردی اور جرائم میں طاق ہے۔ اس بنا پر انسانی قدریں بُری طرح پامال ہو رہی ہیں۔ اس صورت میں زنا بالرضا کی مذکورہ مخصوص دفعہ کو جرائم کی فہرست سے نکالنے سے سماجی احوال میں بہتری تو ہرگز نہیں آئے گی، ہاں فساد، بے حیائی، اخلاقی گراوٹ اور اباحیت میں ضرور اضافہ ہوگا۔

اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات فطرت سے پوری طرح ہم آہنگ، خاندان کی بنیادوں کو مستحکم کرنے والی اور تمدّن کو فروغ دینے والی ہیں۔ اسلام جنسی جذبہ کو نہ تو کچلنے کی ترغیب دیتا ہے اور نہ اسے کھلی چھوٹ عطا کرتا ہے کہ آدمی جہاں چاہے منہ مارتا رہے، بلکہ وہ اسے منظّم کرتا ہے۔ وہ جنسی تسکین کو صرف نکاح کے دائرہ میں محدود کرتا ہے۔ اس کے نزدیک بغیر نکاح کے جنسی تعلّق قابلِ تعزیر جرم ہے اور نکاح کے بعد زوجین کا کسی دوسرے مرد یا عورت سے تعلق قائم کرنا حرام ہے۔ اس کے نزدیک جس طرح زنا بالجبر جرم ہے اسی طرح زنا بالرضا بھی جرم ہے۔ سماج میں انارکی اور تعفّن پھیلانے والے اور تمدّن کے تقدّس کو پامال کرنے والے اس لائق ہیں کہ انھیں دردناک اور عبرت ناک سزا دی جائے اور روئے زمین کو ان سے پاک کردیا جائے۔

اب، جب کہ ملک کی عدالتِ علیا سے آزادی، بنیادی حقوق اور دستوری تقاضوں کے نام پر مسلسل ایسے فیصلے آرہے ہیں جو سماج میں ابتری پھیلانے والے اور اس کی پاکیزگی کو گدلا کرنے والے ہیں، جو لوگ اسلام کے علم بردار اور اس کی پاکیزہ تعلیمات کے حامل ہیں ان کی ذمے داری ہے کہ وہ سامنے آئیں، ملک کے عوام کے سامنے اسلام کی تعلیمات پیش کریں اور ان کی معقولیت اور سماج کے لیے افادیت واضح کریں۔ یہ ان کی دینی ذمے داری بھی ہے اور ملک سے محبت کا تقاضا بھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close