آج کا کالم

اب بی جے پی کو مسلمانوں کا زیادہ خیال رکھنا پڑے گا!

وویک رستوگي

کہتے ہیں، دودھ کو بلی سے محفوظ رکھنا ہو، تو بلی کو اس کی حفاظت کا کام سونپ دینا چاہئے. یہ محاورہ یوں ہی یاد نہیں کر رہا ہوں. آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش میں ہفتہ کو نئی تاریخ لکھی گیی ہے .صرف چار دہائی (اس میں بھی تین سال سے کم) پہلے پیدا ہونے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں پہلی بار مکمل اکثریت پاکر اقتدار پر قابض ہوئی، جس میں ملک کی سیاست کو سمت دینے کے لئے ، اتر پردیش سے ملیں 73 (بی جے پی کو 71، دو نشستیں اتحادی اپنا دل کو) سیٹوں کا دروہ تعاون رہا تھا، لیکن اس کے باوجود پردیش کے تخت پر وہ کئی دہائی سے اکثریت پاکر اقتدار حاصل نہیں کر پائی تھی، سو، وہ فقدان پارٹی رہنماؤں کو کہیں نہ کہیں كھٹكتا تھا.

شاید یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ‘اپنے دم’ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی نیا پار لگانے کے بعد دو میں سے جس ایک لوک سبھا سیٹ سے استعفی دیا، وہ گجرات کی تھی، اور لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی ارکان کی سب سے بڑی تعداد رکھنے کے ناطے قومی سیاسی منظر نامے پر سب سے زیادہ اثر چھوڑنے والے اتر پردیش کی وارانسی سیٹ کی نمائندگی وہ پارلیمنٹ میں کرتے رہے.

ٹھیک ہے، یہ تو ہوا ‘بیک گراونڈ’. اب اس مضمون کے اہم معاملے پر آتا ہوں. نریندر مودی کے اقتدار میں آنے اور ٹکے رہنے کے دوران بہت کچھ نیا ہوا – اچھا یا برا، اس پر کوئی تبصرہ نہیں. سب سے نیا یہ ہوا کہ تقریبا ہر صوبے کی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مضبوطی کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے لگی، اور اختیارات کے طور پر خود کو پیش کرتی رہی. دوسرا نئے، جو اس سے بھی زیادہ اہم ہے، یہ ہوا کہ تمام ریاستوں میں اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد (اگرچہ نظریاتی طور پر اتحاد ہو پائے یا نہیں) نظر آنے لگی، اور سیاست بی جے پی اور غیر بی جے پی جماعتوں کے درمیان سمٹنے لگی. اس کا سب سے مضبوط مثال ہم نے گزشتہ سال بہار میں دیکھا، جب ایک دوسرے کے کٹر حریف رہے لالو پرساد یادو اور نتیش کمار ایک ساتھ گلبهيا ڈالے الیکشن لڑتے نظر آئے بھی، اور جیتے بھی، جبکہ اس سے کچھ وقت پہلے تک تقریبا 17 سال نتیش کمار خود بی جے پی کے ساتھ ہی گلبهيا ڈالے نظر آتے رہے تھے.

بہر حال، مسئلہ یہ ہے کہ ہر پارٹی بی جے پی کے سامنے آکر صرف مخالف سر کیوں اپناتا جا رہا تھا. بے شک، اس کی سب سے اہم وجہ بی جے پی کی ہندووادی (کٹر ہندووادی بھی پڑھ سکتے ہیں) کی تصویر ہے، جو اسے جانے انجانے ‘اقلیتوں کا دشمن ‘ثابت کرتی رہی، یا کم از کم مخالفت کو اسے اس کے طور پر پیش کرنے کا موقع دیتی رہی. ایسا بھی نہیں ہے کہ بی جے پی نے اپنی طرف سے اس میں قطعی کوئی شراکت نہیں دیا. پارٹی کے طور پر کبھی بھی بی جے پی نے بھلے ہی اقلیتوں کے خلاف کچھ نہ کہا ہو، لیکن اسی کے کچھ لیڈروں نے صرف اقلیتوں کو نسيهتے (اور دھمکیاں ) دینے کا کام کر ہی خود کو لیڈر کے طور پر قائم کیا، اور ان کے خلاف آوازیں اٹھنے پر بھی پارٹی نے ڈیمیج کنٹرول کبھی کبھار ہی کیا. اس کے علاوہ رام مندر کے معاملے کو لے کر کھڑی ہوئی، اور ایک طرح سے اسی مسئلے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر قابل قبول بنی پارٹی کی تصویر کو ہندووادی بنانے میں اس مسئلے نے بھی اہم کردار ادا کیا، کیونکہ بی جے پی نے رام مندر کا مسئلہ پوری طرح کبھی نہیں چھوڑا.

یہ تصویر کو آگے لے جانے میں نریندر مودی حکومت کے وقت ہوئی کچھ واقعات نے بھی دروہ کردار ادا کیا. دادری کا اخلاق سانحہ کسی کو کبھی نہیں بھول سکتا، کیونکہ اس واقعہ کو کسی بھی قیمت پر ‘وحشیانہ’ سے الگ کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے … بیف کو لے کر قانون کیا کہتا ہے، وہ قانون مجھے صحیح لگتا ہے یا نہیں ، یہ بحث کا مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن اخلاق کے ساتھ ‘بھیڑ’ نے جو کیا، وہ ‘وحشت’ کے علاوہ کچھ نہیں تھا. قانون کی حکمرانی قانون سے ہی چلتا ہے، قانون ہی چلنا چاہئے، اور اسے کوئی بھیڑ یا تنظیم نہ چلا سکتا ہے، اور نہ اسے چلانے کا موقع و حق دیا جانا چاہئے. اگر اخلاق کو مارنے والی بھیڑ صرف ایک خاص رنگ کا جھنڈا لے کر چلنے سے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتی ہے تو یہ انتہائی ‘خطرناک’ پیغام ہے، جو ملک کے کسی بھی شہری کے پاس نہیں پہنچنا چاہئے، کیونکہ اس سے خوف پیدا ہوتا ہے، اور وہی ‘عدم برداشت’ کو بھی جنم دیتا ہے.

ٹھیک ہے، اصلیت یہ ہے کہ بی جے پی کی ایسی تصویر (کٹر ہندووادی یا اقلیتی مخالف) کسی بھی وجہ سے بنی، لیکن بنی، اور ہفتہ کو آئے انتخابات کے نتائج میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے، جس پر شاید زیادہ لوگوں کی نظر نہیں گئی. بی جے پی اور اس کے اتحادی جماعتوں کے جن 325 ممبران اسمبلی کو فتح حاصل ہوئی ہے، ان میں سے ایک بھی مسلمان نہیں ہے. یہ ملک کی تاریخ میں ممکنہ طور پر پہلا موقع ہے، جب تقریبا 18 فیصد مسلم آبادی رکھنے والے اتر پردیش میں حکومت بنانے جا رہی پارٹی کے ممبران اسمبلی میں کوئی بھی مسلم نہیں.

سو، اب وہی ‘خطرناک’ پیغام ‘دهشتناك’ پیغام کی شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ اقلیتوں کو تسلی دینے، ان کے دماغ سے ڈر اور خوف و ہراس کو نکالنے، اور ان کے ساتھ لے کر چلنے کی ذمہ داری بھی عوام نے (جن میں مرکزی قیادت پر اعتماد کرنے والے اقلیتی بھی شامل ہیں ) انہیں ہی سونپ دی ہے جو اس دہشت کو پیدا کرنے کے لئے بدنام کئے جاتے رہے ہیں. اس لحاظ سے اب بی جے پی کے پاس نہ صرف ریاست کو بہتر طریقے سے چلانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، بلکہ یہ ذمہ داری بھی اسی کی ہے کہ ان پر بھروسہ کرنے والے اور اعتماد نہ کرنے والے مسلم معاشرے سمیت پوری عوام بے خوف نئی حکومت کو اپنی حکومت مان سکے، کیونکہ دادری سانحہ اور مظفر نگر فسادات میں سماجوادی پارٹی کی اکھلیش یادو حکومت کو لاپرواہی اور ڈھلائی کی ملامت بتانے کا موقع بی جے پی کے ہاتھ سے جا چکا ہے. سو، اب بلی کے پاس ہی دودھ کی دیکھ بھال کا ذمہ آ گیا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ بلی کبھی نہیں چاہے گی کہ اسے ‘امانت میں خیانت’ کا مجرم قرار دیا جائے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close