آج کا کالم

اب فقط عادتوں کی ورزش ہے، روح شامل نہیں حکایت میں

ڈاکٹر سلیم خان

لال قلعہ سے اپنی ممکنہ آخری تقریر میں مودی بہت گرجے لیکن برس نہیں پائے۔ وہ اسبار کچھ تھکے ماندے لگے اور کسی طرح اپنا پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔ مودی جی نے اس بار خواتین کا بڑا ذکر کیا۔ تین خواتین ججوں اور کواتین کی بٹالین بنانے کا عہد کیا ساتھ ہی مسلم خواتین کو اوپر سے مظالم کے خاتمہ کا بھی عزم کیا لیکن سرکاری شہلٹر ہوم ہندو خواتین کے ساتھ ہونے والی عصمت دری کے واقعات پر کچھ بول نہیں سکے اس سے ہندو خواتین ضرور مایوس ہوئی ہوں گی۔ مودی جی کو سوچنا چاہیے تھا کہ اگر ساری مسل خواتین نے انہیں ووٹ دے بھی دیا تو وہ ہندو خواتین سے کئی گنا کم ہیں۔مودی جی عصمت دری کو شیطانی ذہنیت قرار دیتے ہوئے اس کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرتناک سزا دینے کا ارددہ ظاہر کیا اور کہا قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ اس جملے سے امید بندھی کہ ہجومی تشدد پر کچھ بولیں گے لیکن انتخابی سال میں اپنے بھکتوں کو ناراض کرنے ہمت نہیں جٹا پائے۔ جو وزیراعظم اس ظلم کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں رکھتا وہ بھلا قانون  کی حکمرانی کیسے قائم کرسکتا  ہے؟

ہجومی تشدد کے معاملے میں مودی جی  پہلے تو تادیر خاموش  رہے یہاں تک کہ وہ روزمرہ کے واقعات میں شامل ہوگیا۔ اس کے حوالے سے ہونے والی  شدیدبے چینی کم ہوتے ہوتے قریب الختم  ہوگئی تو اب اس پر بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ یہ  جملہ بازی کا طوفان فی الحال اس زور و شور سے جاری ہے کہ اس کا بھی اثر تیزی سےزائل ہونے لگا۔ ویسے بھی  زبانی جمع خرچ کا کوئی دیرپا اثر نہیں ہوتا۔ پہلے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں آیا جج حضرات نے اپنے غم غصے کا اظہار کیا۔ پھر ایوان پارلیمان میں آیا تو وزیر داخلہ نے سکھوں کے قتل عام کا حوالہ دے کر اس کا جواز پیش کیا اور روک تھام کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈال دی۔ عدالت کے دباو میں ایک پینل تشکیل دیا جس میں ان کے علاوہ سشما سوراج، روی شنکر، نتن گڈکری اور تھاور چند گہلوت شامل ہیں۔ اس کے بعد وزیراعظم نے اپنے انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ کسی بھی مقصد کے تحت ہجومی تشدد جائز نہیں ہے۔ آگے چل کر نتن گڈکری نے کہا سنگھ اور حکومت اس کے خلاف ہے اور پھر صدر جمہوریہ نے بھی اپنے یوم آزادی کے خطاب میں عدم تشدد پر زور دیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا  اس لفاظی سے کا سڑکوں پر بے قصور لوگوں کا قتل کرنے والوں پر کوئی اثر پڑے گا؟ یا وہ اس کو ایک کان سن کر دوسرے سے نکال دیں گے؟  مودی جی کہتے ہیں عصمت دری کرنے والوں کو عبرتناک سزا دے کر وہ شیطانی ذہنیت کو ختم کریں گے کیا اس کا اطلاق ہجومی تشدد پر نہیں ہوتا؟

امریکیریاستشکاگومیں گزشتہ سال ۳۲ سالہہندوستانی نژاد سرینواسیکچیبہولتاکوایڈم نامی ایک شخص نے نسلی منافرت کے سببقتلکردیا۔ اس پر کوئی بیان بازی نہیں ہوئی۔ چند ماہ کے اندر ایڈمپیورنٹنکوعدالت نےعمرقیدکیسزاسنادی۔ اس فیصلے  کا خیر مقدم کرتے ہوئے مقتول کی بیوی سونینا دومالا نے کہا میرے شوہر کے قاتل کو سزا ملنے سے وہ تو واپس نہیں آئے گا لیکن اس فیصلے نے ثابت کردیا کہ تعصب، نفرت  اور نسلی جرائم قابل قبول نہیں۔ ہندوستان میں  اول تو ہجومی تشدد کے واقعات کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا جیسا کہ ہاپوڑ میں اس کو موٹر سائیکل کا جھگڑا بنا دیا گیا۔ تسلیم کربھی لیا جائے تو  قاتلوں کو پکڑا نہیں جاتا جیسا کہ محسن کے معاملے میں ہوا ہے۔ پکڑا بھی جائے تو ان کے خلاف شواہد پیش نہیں کیے جاتے جیسا کہ  پہلو خان کے معاملے میں ہوا کہ سارے ملزم چھوٹ گئے۔ علیم کی طرح کسی کو نچلی عدالت سزا  سنا دیتی ہے تو ہائی کورٹ میں اسے بہ آسانی ضمانت مل جاتی ہے اور مرکزی وزیر اس کامیابی کا جشن مناتا ہے۔ تصور کریں کہ اگر امریکہ میں بھی یہی ہوا ہوتا تو کیا سرینواس کےقاتل ایڈم  کو سزا ہوتی ؟

ہمارے یہاں یہ بھی کہا جاتا ہے جاہل  رہنماوں کو اس حل کا پتہ نہیں ہے اس لیے وہ صرف لفاظی پر اکتفاء کرتے ہیں۔یہ بات  غلط  ہے۔ راجستھان میں جب راکبر گئوتنکواد کا شکار ہوا تو  پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ وسندھراراجے نےٹویٹکرکے سخت الفاظ میں مذمت کیاور لکھامیں نےوزیرداخلہ گلاب چندکٹاریاکوجلدسےجلدمعاملےکی چھان بین کرکے ملزمین کوکڑی سزا دلانے کے ہدایات دی ہیں۔ یہ وہی کٹاریہ جس نے پہلو خان کو اسمگلر قرار دے کر ان پر تین مقدمات کا جھوٹا الزام لگایا تھا  اورجسے کو پولس نے کارج کردیا لیکن اپنے آقا کے بدلے ہوئے  تیور دیکھ کر صوبائی وزیرداخلہنے نندی بیل کی مانند سر ہلاتے ہوئے کہ ااس معاملےمیں سختکاروائیکیجائےگی،انہوںنے یہ بھی کہاکہ اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ( اس سے یہ سانحات  رک جائیں  لیکن) اگرسزائےموت کاقانونبنادیاجائےتوکلسےقتلکےواقعاتہونابندہوجائیںگے۔ کٹاریہ کے حالیہ بیان سے واضح ہے کہ  ہمارے سیاستدانوں کو اس مسئلہ کا حلاچھی طرح  معلوم ہے لیکن وہ اس پر عمل کرنا  نہیں چاہتے۔ وہ ایسا  اس لیے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان  مجرمانہ کارروائیوں  میں  ملوث گئورکشک   ہی حکومت کی رکشا  کررہے ہیں۔

یہ بہانہ بھی بنایا جاتا ہے کہ  ہمارا عدالتی نظام امریکہ کے مقابلے بہت دھیما ہے اس لیے ہندوستان  میں جلد فیصلہ  ممکن نہیں  ہےلیکن اتفاق سے یہ دلیل بھی درست نہیں ہے۔ مودی جی نےمدھیہپردیشکےشہراندورمیں۲۰اپریلکو۴مہینےکیبچیکی آبروریزی اورقتلکرنےوالےمجرمنوینگڈکےکوعدالتنے۲۳دن کے اندرسزائےموتکا ذکر کیا۔ جنسیزیادتیاورقتلکے ملزم کو پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مددسےبہت جلدگرفتارکرلیااورساتدنمیں فردجرمداخلکردی۔ خصوصی سرکاری وکیل اکرم شیخ نے اس معاملے میں مجرم کے لیے سزائےموت کا مطالبہ کیااورججورشاشرمانےسزائے موت سنا دی۔  اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر انتظامیہ اور عدلیہ چاہے تو نہایت سرعت سے کام کرسکتا ہے  مگرگوناگوں وجوہات کی بناء پر جو اکثر سیاسی نوعیت کی ہوتی ہیں وہ  اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی  کرتا ہے۔

قانون سازی  کی بابت بھی یہ بات مشہور ہے کہ ہمارے یہاں قانون سازی  کا طریقہ نہایت  پیچیدہ  ہے۔ برسوں تک کوئی قانون نہیں بن پاتا ایسا کہنا بھی صحیح نہیں ہے۔ شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب کے تحفظ کی خاطر سپریم کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کرنے کے لیے راتوں رات قانون بن کر منظور ہوگیا۔ جس قانون کے تحت نوین گڈکے کو اندور میں سزا ملی وہ بھی حال میں بنایاگیا۔ اس کے تحت ۱۲ سال سے کم عمر لڑکی کے لیے عصمت دری کرنے والے  کےلیےموت کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ چاہے تو ہندوستان کے اندر امریکہ سے زیادہ تیزی کے ساتھ کام ہوسکتا ہےلیکن جب مرکزی  وزیر داخلہ یہ کہہ دے کہ ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہےاور یہ نظم و نسق کا معاملہ ہے اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ مرکزی حکومت کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری  اور صوبائی حکومت بھی ایسی کہ جو انتخاب جیتنے کے لیے مظفر نگر کے فسادیوں کو چھڑانے کے لیے عدالت میں پہنچ جاتی ہے اور وہاں سے تھپڑ کھا کر واپس آتی ہے تو بھلا کام کیسے ہو۔

قانون کی حکمرانی یا  ہجومی  تشددکے معاملے میں حکومت کی نیت میں کھوٹ  ہے اسی لیے  یہ شیطانی ذہنیت  پروان چڑھ رہی ہے۔مودی جی کی  تقریر میں سوائے ۷۵ویں یوم آزادی کو کسی نوجوان کو ترنگا دے کر خلاء میں بھیجنے   کے ساری باتیں گھسی پٹی تھیں۔ ۲۰۲۲ ؁ تک مودی جی وزیراعظم نہ بھی رہیں تب بھی وہ ساری دنیا کی سیر کرچکے ہوں گے اس لیے کسی اور کو زحمت دینے کے بجائے انہیں خود خلاء میں جاکر وہیں جسودا بین کے ساتھ اپنا گھر بسا لینا چاہیے تاکہ ہندوستان کے شہریوں کوان کی سر درد کرانے والی تقاریر سے نجات مل جائے۔ ویسے مودی جی بھول گئے کہ یوم جمہوریہ کے موقع وزیراعظم کو خطاب کا موقع نہیں ملتا اور انہوں نے لال قلعہ سے سچ بولنے کاآخریموقع گنوا دیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close