آج کا کالم

اترا کھنڈ میں جمہوریت کی جیت، بھاجپا کی سازش ناکام

گزشتہ ایک ماہ سے اترا کھنڈ میں بھاجپا کی انانیت اور آمرانہ رویہ کی وجہ سے غیر یقینی صورت حال بنی ہوئی تھی۔ آج سپریم کورٹ کی ہدایت پر سابق وزیر اعلیٰ اترا کھنڈ ہریش راوت کیلئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے فلور ٹسٹ کی کارروائی پوری ہوئی جس سے غیر یقینی صورت حال ختم ہوئی۔ اگر چہ ہریش راوت کی جیت کا اعلان آفیشیلی نہیں ہوئی مگر بی جے پی اور کانگریس کے ممبران اسمبلی نے جو نیوز چینلوں پر بیان دیا ہے اس سے پورے طور پر یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بی جے پی کو ذلت آمیز شکست ہوئی ہے اور اسے منہ کی کھانی پڑی ہے۔
بی جے پی نے پہلا کام یہ کیا تھا کہ کانگریس کے اندر پھوٹ ڈالا جس کے نتیجہ میں اسے کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی حمایت مل گئی۔ باغیوں کی حمایت کا ملنا تھا کہ دستور کی دفعہ 356 کا غلط استعمال کرکے ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ مودی حکومت کی ہزیمتوں کا سلسلہ دہلی سے شروع ہوا۔ بہار میں بھی سارا کس بل نکل گیا۔ بری طرح مودی کو منہ کی کھانی پڑی۔ ان کی بناؤٹی تقریر کا فن کام نہیں آیا۔ نتیش اور لالو کی حمایت والے عظیم اتحاد کی جیت ہوئی۔ دہلی میں بھی بھاجپا کا کچھ بھی نہ چلا۔ محض 3سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔
اس طرح دہلی، بہار اور اترا کھنڈ میں جو برا انجام ہوا ہے لگتا ہے یہ سلسلہ بڑھے گا۔ آسام یا کیرالہ میں جو بی جے پی آس لگائے بیٹھی ہے وہاں بھی کم و بیش ایسا ہی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ 31 فیصد ووٹوں کے بل بوتے پر پورے ملک میں بھاجپا کی حکومت ہوگئی ہے جس کی وجہ سے فرقہ پرستی، جمہوریت کشی اور انسان دشمنی کا مظاہرہ بھاجپا کی حکومت کر رہی ہے۔ بی جے پی کا نعرہ کانگریس مکت ہندستان، یعنی ایک ایسی حکومت جو اپوزیشن کے بغیر حکمرانی اور من مانی کرتی رہے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے بھی اترا کھنڈ کے معاملہ میں بی جے پی کا حوصلہ بڑھایا وہ چاہتے تو مرکزی حکومت کے صدر راج کی تجویز کو نظر ثانی کیلئے مجبور کرتے مگر انھوں نے بغیر کسی غور و فکر کے صدر راج کے پروانہ پر دستخط ثبت کر دیا جو کسی طرح بھی ان کی شایان شان نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اترا کھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے صدر راج کی غلطی کی نشاندہی کی تھی اور بھاجپا کو جمہوریت کشی پر لعن طعن کیا تھا۔ اس فیصلہ کے بعد بھی بھاجپا کی حکومت اور ان کے لیڈران ہوش میں نہیں آئے اور دوڑ دھوپ جاری رکھی۔ سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے اگر چہ اپنی کارروائیوں کی وجہ سے بھاجپا کو ممبران کو خرید و فروخت کا موقع دیا پھر بھی بھاجپا اپنی سازش میں ناکام رہی۔
ہندستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کو جمہوریت بچانے کیلئے سامنے آنا چاہئے۔ اس لئے کہ بھاجپا کی آمریت کا ضرب پارٹی کی حکومت پر پڑسکتی ہے۔ آج فلور ٹسٹ میں مایا وتی کی پارٹی نے جمہوریت کی حمایت کرکے اچھا قدم اٹھایا۔ اسی طرح ہر پارٹی کو فرقہ پرست اور جمہوریت دشمن بی جے پی کو ہر سطح پر شکست دینے کی کوشش کرنی چاہئے جب ہی یہ ملک اور جمہوریت بچ سکتی ہے اور ملک اور جمہوریت کے دشمنوں کو ہزیمت اور ذلت کا سامنا ہوگا جس طرح دہلی، بہار اور اترا کھنڈ میں ہوا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close