آج کا کالم

اتر پردیش میں اتحاد کی کھچڑی ہمیشہ کڑوی ثابت ہوئی!

اتر پردیش میں ایک بار پھر انتخابی اتحاد کی کھچڑی پکانے کی تیاری چل رہی ہے. حکمراں سماج وادی پارٹی کا کافی رسہ کشی کے بعد آخر کار کانگریس کے ساتھ اسمبلی انتخابات کے لئے جمع ہو گیا ہے. اس اتحاد سے سماجوادی پارٹی سے زیادہ کانگریس کو امیدیں ہیں. اگرچہ اس پردیش کے گزشتہ 25 سالوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ صاف ہو جاتا ہے کہ یہاں اتحاد کی کھچڑی ہمیشہ کڑوی ہی ثابت ہوئی ہے. اتحاد انتخاب سے قبل کیا گیا ہو یا پھر بعد میں، تھوڑے وقت بعد ہی نتائج درار کے طور پر ہی سامنے آئے ہیں.

سال 1993 میں ایس پی- بی ایس پی کا اتحاد

سن 1993 کے انتخابات میں بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی ساتھ میں انتخابات لڑے تھے اور جیتے بھی تھے. تب ملائم سنگھ یادو وزیر اعلی بنے تھے. اس وقت ایک نعرہ بہت مقبول ہوا تھا – ‘ملے ملائم کانشی رام اور ہوا میں اڑ گئے جے شری رام.’ تاہم 1995 میں مایاوتی نے اتحاد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور ملائم سنگھ کی حکومت اقلیت میں آگئی تھی. اس کے بعد سے آج تک بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی پھر کبھی ایک دوسرے کے قریب نہیں آ پائے.

سال 1996 کا کانگریس- بی ایس پی اتحاد

ملک کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی کانگریس نے 1996 میں بی ایس پی کے ساتھ اتحاد کیا تھا اور آر ایل ڈی (قومی لوک دل) کا کانگریس پارٹی میں ہی ولی کرا دیا تھا. اس انتخاب میں کانگریس کو 29.13 فیصد کے ساتھ 33 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی. کچھ وقت بعد ہی اس اتحاد میں دراڑ آ گئی اور آر ایل ڈی صدر اجیت سنگھ نے خود کو اتحاد سے الگ کر لیا تھا. اس سے سبق لیتے ہوئے 2002 میں کانگریس اکیلے الیکشن لڑے، لیکن اس کا پھیل ووٹ واپس نہیں لوٹا. کانگریس کا ووٹ جو 29.13 فیصد تھا وہ بھی گھٹ کر 8.9 فیصد رہ گیا. کانگریس نے 2012 میں بھی ایک بار پھر قومی لوک دل سے اتحاد کیا، لیکن نہ تو کانگریس کا ووٹ فیصد بڑھا اور نہ ہی سیٹیں.

بی جے پی نے بھی بھگتا انجام

رام مندر کے نام پر بنی لہر سے 1991 میں کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوئی تھی. اس وقت بی جے پی کو کل 415 میں سے 221 نشستیں ملی تھیں. اس کے بعد بی جے پی 1996-97 میں پھر اقتدار میں آئی اور 2002 تک اس کی حکومت رہی. سال 2002 کے انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی نے بی ایس پی کے ساتھ الیکشن افٹرسالاس اتحاد کیا، جس میں مایاوتی وزیر اعلی بنی تھیں. یہ اتحاد بھی کچھ وقت بعد ہی ٹوٹ گیا. سال 2007 میں بھی بی جے پی نے اپنا دل کے ساتھ اتحاد کیا، لیکن اس کا کوئی فائدہ بی جے پی کو نہیں مل پایا. انتخابات میں بی جے پی کی سیٹیں 88 سے گھٹ كر 51 پر آ گئیں. سال 2012 میں بی جے پی نے پیپلز سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کر 398 سیٹوں پر الیکشن لڑا لیکن اس کی نشستیں 51 سے گر کر 47 پر پہنچ گئیں.

دیکھا گیا ہے کہ اتر پردیش میں اتحاد کیے بغیر ہی اکیلے اقتدار سنبھالنے والی پارٹیاں ہی استحکام کے ساتھ پانچ سال حکومت چلا پائی ہیں. سال 1996-97 میں بنی کلیان سنگھ کی حکومت اور 2007 میں بنی مایاوتی کی حکومت نے پانچ سال اکیلے حکومت چلائی. سال 2012 میں سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے پانچ سال حکومت چلائی. اب کانگریس پھر سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر اتر پردیش میں دوبارہ اپنے آپ کو زمانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اس کا فائدہ اور نقصان مستقبل کے پیٹ میں ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close