آج کا کالم

احمد آباد عدالت میں گجرات ماڈل کی ناکامی

حکومت نے احمد آباد میں پھر ایک بار اپنی دھاندلی دوہرانے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر سلیم خان

سی بی آئی کے بعد آر بی آئی اور اب عدلیہ، آج کل حکومت ہر کسی سے پنگا لے رہی ہے اور پسپا ہورہی ہے۔ پچھلے سال ستمبر کے اواخر میں  کرناٹک ہائی کورٹ کے سب سے سینیر جج جینت پٹیل نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔وہ  کرناٹک میں دوسرے نمبر پر تھے اور چیف جسٹس ایس کے مکرجی کی سبکدوشی کے بعد انہیں عہدہ سنبھالنا تھا۔ پٹیل کو اس حق سے محروم کرنے کے لیے ان کا الہ بادہائی کورٹ میں  تبادلہ کرکے ترقی کی راہ مسدود کردی گئی۔ اس انتہائی اقدام کی وجہ یہ تھی کہ ایسا معاندانہ سلوک  ان کے ساتھ دوسری مرتبہ ہواتھا۔ اگست ۲۰۱۵ ؁ میں پٹیل  کا تقرر گجرات کے عبوری چیف جسٹس کے طور پر ہوا لیکن اس سے پہلے کہ وہ  باقائدہ منصفِ اعظم کا عہدہ سنبھالتے انہیں  فروری  ۲۰۱۶ ؁ کو کرناٹک ہائی کورٹ میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں وہ دوسرے نمبر پر پہنچا دیئے گئے لیکن اس سے پہلے کہ بنگلورو میں  ان کی ترقی ہوتی اور وہ چیف جسٹس بنتے  الہ باد تبادلہ کردیا گیا جہاں وہ تیسرے نمبر پر پہنچا دیئے گئے۔

ایک سوال یہ ہے کہ راکیش استھانہ جیسے بدعنوان گجراتی افسر کو بچانے کے لیے ان کی تفتیش کرنے والے افسر کو کالے پانی کی سزا پر انڈمان بھیج دینے والی مودی سرکار آخر جینت پٹیل سے اس قدر ناراض کیوں تھی؟ جینت پٹیل ہی وہ باضمیر منصف تھے جنھوں نے سی بی آئی کو  متنازع عشرت جہاں جعلی انکاونٹر کی تفتیش کا حکم دیا تھا۔ پٹیل نے  نہ صرف تفتیش کےاحکامات  جاری کیے بلکہ اس کی نگرانی بھی کی (بشمول  خفیہ افسران کاکردار)۔ اس انصاف پسندی کا صلہ انہیں یہ دیا گیا کہ  کرناٹک بھیجا گیا۔ اس وقت گجرات بار ایسو سی ایشن نے کالجیم سے اس بابت اپنی تشویش درج کرائی لیکن کسی کی ایک نہیں چلی۔ کرناٹک میں  توحکومت  کی من مانی کے خلاف کوئی آواز تک نہیں اٹھی۔ اس لیے کہ اس وقت مرکزی حکومت کا کافی دبدبہ تھا۔

حکومت نے احمد آباد میں پھر ایک بار اپنی دھاندلی دوہرانے کی کوشش کی۔ گجرات ہائی کورٹ کے عبوری چیف جسٹس سبھاش ریڈی کی  سپریم کورٹ میں  ترقی ہوگئی۔ ان کے بعد سب سے سینئر جج عقیل  قریشی ہیں۔ چیف جسٹس بننے سے  روکنے کے لیے قریشی  کا  تبادلہ ممبئی  ہائی کورٹ میں کردیا گیا  اور اننت دوے کو عبوری چیف جسٹس کے عہدے پر فائز کرنے کے احکامات جاری ہو گئے۔ حکومت کی اس غنڈہ گردی کے خلاف بار ایسو سی ایشین نے جسٹس قریشی کے ۲۰۰۵ ؁ میں تقرری سے لے کر اب تک کی کارکردگی    بھروسہ مندی،  ایمانداری،  قانونی مہارت ،  بہترین عدالتی رویہ اور عدل پسندی کو سراہتے ہوئے اتفاق رائے سے تبادلہ کے  حکمنامہ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی  معقول جواز موجود نہیں ہے۔

 وکلاء کے اس  پرزور احتجاج کے آگے حکومت کو جھکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ۱۲ گھنٹے کے اندر وزارت ِقانون و انصاف نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور عقیل  عبدالحمید قریشی کا چیف جسٹس کے طور پر تقرر کردیا۔ اس بظاہر غیر اہم خبر کے اندر کئی سیاسی پیغامات ہیں۔  اول تو یہ کہ  حکومت نےآدرش گجرات کے اندردوسال قبل اور ایک سال پہلے کرناٹک میں جینت پٹیل کے خلاف ایک کریہہ  ناانصافی کا ارتکاب بہ آسانی کردیا تھا مگر عقیل قریشی کے معاملے میں اسے منہ کی کھانی پڑی۔ احمد آباد ہائی کورٹ کے بار ایسو سی ایشین میں اس فیصلے کے خلاف قرار داد کا اتفاق رائے سے منظور ہوجانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ احمد آباد کے اندر  وکلاء برادری  کے سارے سرخیل بی جے پی سے برگشتہ ہوچکے ہیں۔ عام طور پر یہ غلط فہمی پائی  جاتی ہے کہ سارے اداروں   پرسنگھیوں کا مکمل قبضہ ہوچکا ہے۔ یہ عدلیہ کے اتحاد کی عظیم  کامیابی ہے لیکن اس میں گجرات  اور ملک بھر میں بی جے پی کے غیر موثر ہونے کا پیغام بھی پنہاں  ہے۔ عقیل قریشی کے تقرر نے احمد پٹیل کے راجیہ سبھا انتخاب کی یاد تازہ کردی جب  امیت شاہ کو سرِ بازار رسوا ہونا پڑا تھا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close