Men dressed up like colonial soldiers in the Battle at the Brandywine reenactment.

استعمار: قدیم محرکات جدید قالب

ڈاکٹر محمد رفعت

استعمار کاظہور معلوم انسانی تاریخ کے ہر دور میں ہوتارہاہے ۔ سادہ الفاظ میں استعمار کے معنی یہ ہیں کہ ایک قوم یا مُلک دوسری کسی قوم یا ملک کی آزادی سلب کرلے اور ’’اختیار‘‘ جو اِنسان کا شرف ہے اجتماعی زندگی میں اِس شرف سے کسی قوم کو محروم کردے۔ آزادی سے محروم کردینے کایہ عمل کبھی ایک ملک دوسرے ملک کے ساتھ کرتا ہے اور کبھی ایک ہی ملک کے اندر کوئی طاقتور طبقہ اپنے ہی ملک کے دوسرے طبقات کی آزادی کو ختم کردیتا ہے اور انھیں غلام بنالیتا ہے۔ دنیا عموماً بیرونی استعمار کی طرف زیادہ متوجہ رہی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ’’اندرونی‘‘ استعمار جو ایک ہی ملک کے ایک طبقے کی جانب سے دوسرے طبقات کے خلاف ہوتا ہے، نظرانداز کیے جانے کے لائق نہیں ہے۔ اکثر اوقات یہ اندرونی استعمار اپنی شدت اور ظلم کے اعتبار سے بیرونی استعمار سے کچھ کم نہیں ہوتا۔

آزادی سلب کیے جانے کے اِس عمل کے ساتھ ساتھ عموماً  محکوم قوموں کااستحصال بھی موجود ہوتا ہے۔ قریب ترین زمانے میں استعمار کی مثال یوروپ کے طاقتور ممالک کا استعمار ہے۔ یوروپ کے اِن ممالک نے صنعتی انقلاب سے قوّت پاکر ایشیا اور افریقہ کے ممالک کو غلام بنایا اور ایک عالم گیر نظامِ استعمار قائم کردیا جو بیسویں صدی کے وسط تک قائم رہا۔ پھر یہ غلام ممالک رفتہ رفتہ استعمار کے تسلّط سے آزاد ہوئے۔ اِس استعماری دور کے اندر اِن ممالک کا استحصال کیاگیا۔ اِن کے قدرتی ذخائر اور خام مال سے اِن ممالک کے اپنے باشندوں کو محروم کردیاگیا اور اِن ذخائر پر یوروپ نے قبضہ کرلیا۔ پھر سیاسی اور فوجی طاقت کے ذریعے یوروپ نے اِن غلام ممالک کو اپنی تجارتی منڈی بنایا۔ مقامی صنعت کاروں اور کاریگروں کے لیے زمین تنگ کردی گئی اور اِن ممالک کے باشندے بیرونی صنعتی سامان خریدنے پر مجبور کردیے گئے۔ اِس طرح یوروپ کا استعمار محض غلام قوموں کی اپنی آزادی سے محرومی کا نام نہیں تھا بلکہ اِس استعمار میں ہمہ گیر استحصال کا عنصر بھی پورے طورپر موجود تھا۔

قدیم استعمار

استعمار کی جو شکل موجودہ ٹکنالوجی کے دور سے پہلے دنیا میں پائی جاتی تھی وہ نوآبادیت (Colonialism) تھی۔ یوروپ کامذکورہ بالا استعمار نوآبادیت ہی کی نوعیت رکھتاہے۔ نوآبادیت کے معنی یہ ہیں کہ کسی قوم پر براہِ راست فوجی طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل کرلیاجائے اور  اُسے غلام بنالیا جائے۔ قدیم تاریخ میں طاقتور  بادشاہوں کی ملک گیری اِسی استعمار کی ایک قِسم ہے۔ نوآبادیت کاردّعمل ہمیشہ آزادی کی تحریکات کی شکل میں ہواہے۔ یوروپ کے استعمار سے نجات پانے کے لیے ایشیا اور افریقہ کے ہر ملک میں آزادی کی تحریکیں برپا ہوئیں ۔ ان تحریکوں نے مسلح بغاوت کی شکل بھی اختیارکی لیکن اکثر صورتوں میں مسلح بغاوتیں یوروپ کی بالاتر فوجی طاقت کے مقابلے میں کامیاب نہ ہوسکیں ۔ البتہ جب جنگ عظیم اوّل و دوم کے نتیجے میں یوروپ کی استعماری طاقتیں کمزور ہوگئیں تو انہیں مجبوراً آزادی کے عوامی مطالبے کے آگے جھکنا پڑا جو پُرامن تحریکات کی شکل میں سامنے آچکا تھا۔ عوامی ردِعمل کی یہ لہر اُس اِنسانی  جذبے کی غمّازی کرتی ہے جو ہر قوم میں اپنی آزادی کے حصول اور اُس کے استقلال کے لیے پایاجاتا ہے۔ فوجی جبر اور طاقت اِس اِنسانی جذبے کو وقتی طورپر دباتو سکتی ہے لیکن ختم نہیں کرسکتی۔

جدید قالب

بیسویں صدی  میں  ایشیائی اور افریقی ممالک آزاد ہوگئے چنانچہ اِن ممالک کے عوام یہ توقع کرتے تھے کہ اب وہ آزادی سے متمّع ہوسکیں گے لیکن فی الواقع ایسا نہ ہوسکا۔ قانونی اور رسمی آزادی کے باوجود حقیقی آزادی سے اکثر ممالک محروم رہے۔ اِس محرومی کی وجہ وہ طاقتور بلاک تھے، جو جنگ عظیم دوم کے بعد ہی وجود میں آگئے تھے۔ روس اورامریکہ کی سربراہی میں قائم اِن طاقتور بلاکوں نے تیسری دنیا کے ممالک پر براہِ راست فوجی تسلّط کے بجائے اپنا بالواسطہ تسلط قائم کرلیا۔ اِس تسلط کی نوعیت راست فوجی غلبے کی نہ تھی بلکہ تسلط کے لیے سیاسی اور ڈپلومیٹک ذرائع کا استعمال کیاگیاتھا۔ یہ نئے استعمار کا ظہور تھا۔

اِس نئے استعمار نے اپنابالواسطہ تسلط جمانے اور برقرار رکھنے کے لیے جو طریقے اختیارکیے وہ درج ذیل ہیں :

(الف)فوجی معاہدے جن کے ذریعے ایک کمزور ملک کو دوسرے کمزور ملک کے خلاف استعمال کیاگیا۔

(ب)    فوجی اڈوں کا قیام

(ج) معاشی معاہدے جن کے ذریعے کمزور ممالک کو تجارتی منڈی بنایاگیا اور اُن کے وسائل  پر قبضہ کیاگیا۔

(د) بین الاقوامی معاشی اداروں کے ذریعے کمزور ممالک کااستحصال۔

(ہ) براہِ راست سفارتی دباؤ کا استعمال

(و) بین الاقوامی اداروں، UNO  (اقوام متحدہ)اور اُس سے متعلق تنظیموں کے ذریعے کمزور ممالک پر سفارتی و سیاسی دباؤ۔

(ز) انسانی حقوق اور بحالی جمہوریت کے نام پر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت۔

روس کے انتشار کے بعد استعماری نظام ایک نئے دور (Phase)میں داخل ہوا۔ اِس دور میں دو طاقتور بلاکوں کی جگہ تنہا ایک طاقتور بلاک نے لے لی اور ’’یک قطبی نظام‘‘ (unipolar order)  وجود میں آگیا۔ استعمار کے اِس نئے دور میں استحصال پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بڑھ گیا۔ اس کی وسعت کے ساتھ اُس کی شدت میں بھی اضافہ ہوا اور نئی عالمی طاقت اور اس کے حلیفوں کے علاوہ دنیا کے باقی تمام ممالک اپنی آزادی سے بڑی حد تک محروم ہوگئے۔

محرّکات

ایک قوم دوسری قوم کو کیوں غلام بناتی  اور اس کی آزادی کو کیوں سلب کرتی ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اِس کاجواب یہ ہے کہ کسی قوم کے اس طرزعمل کے محرکات وہی ہوتے ہیں جو کسی فرد کو اپنی انفرادی  حیثیت میں، ظلم وجبر کاطرزعمل اختیارکرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ انسانی سماج میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو دوسرے انسانوں پر اپنا تسلط جمانے کے درپے ہوتے ہیں، اُن کی آزادی کو سلب کرتے ہیں، اُن پر جبر کرتے ہیں اور اُن کا استحصال کرتے ہیں ۔ یہ غیراِنسانی طرزعمل، خواہ کسی فرد کا ہو یا کسی قوم کا، کچھ محرکات کی بِنا پر ظہور میں آتا ہے۔ یہ محرکات بنیادی طورپر تین ہیں :

(الف) گھمنڈ کاجذبہ

(ب) دوسرے انسانوں پر اپنا اقتدارجمانے اور اپنی مرضی چَلانے کی خواہش

(ج) دوسروں کے مال اور وسائل و ذرائع پر قبضہ کرنے کی ہَوس

کوئی فرد جب اپنے اِن جذبات کو کنٹرول نہیں کرتا اور سماج میں بھی کوئی ایسی طاقت نہیں ہوتی جو اُسے قابو میں رکھ سکے تو وہ ظالم و جابر بن جاتا ہے اور دوسرے کمزوراِنسانوں کا استحصال کرنے لگتا ہے۔ اِسی طرح جب کوئی قوم بحیثیت قوم گھمنڈ کرنے لگتی ہے، دوسری قوموں پر اقتدار کی خواہاں ہوتی ہے اور اُن کے استحصال کے درپے ہوتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر کوئی کنٹرول کرنے والی طاقت ایسی نہیں ہوتی جو اسے زیادتی سے باز رکھ سکے تو استعمار ظہور میں آتا ہے۔ استعمار کی شکل کوئی بھی ہو، اُس کے محرکات یہی ہوتے ہیں ۔

غرور وتکبر

گھمنڈکاجذبہ جب کسی فرد میں پیدا ہوتا ہے تو وہ اِترانے لگتا ہے اور اپنی حدود میں نہیں رہتا بلکہ دوسرے اِنسانوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔ قارون کے متعلق قرآن مجیدمیں ہے:

انَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي فَبَغٰى عَلَيْہِمْ۝۰۠ وَاٰتَيْنٰہُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْۗاُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِي الْقُوَّۃِ۝۰ۤ اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ۔وَابْتَغِ فِــيْمَآ اٰتٰىكَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَـمَآ اَحْسَنَ اللہُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ۝۷۷ قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُہٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ۝۰ۭ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللہَ قَدْ اَہْلَكَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ہُوَاَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّاَكْثَرُ جَمْعًا۝۰ۭ وَلَا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذُنُوْبِہِمُ الْمُجْرِمُوْنَ۔ (سورہ قصص، آیات:76 تا 78)

’’واقعہ ہے کہ قارون موسیٰ علیہ السلام کی قوم کاایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا اور ہم نے اُس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ اُن کی کنجیاں طاقت ور جماعتوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھاسکتی تھی۔ ایک دفعہ جب اُس کی قوم کے لوگوں نے اُس سے کہا۔ ’’پھول نہ جا، اللہ تعالیٰ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ تعالیٰ نے تجھے دیاہے اُس سے آخرت کاگھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے اپنا حصّہ فراموش نہ کر، احسان کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیاہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ تعالیٰ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ تو اُس نے کہا۔ ’’یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بناپر دیاگیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے‘‘۔ کیا اُس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے، جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو اُن کے گناہ نہیں پوچھے جاتے‘‘۔

قارون کو اپنی دولت اور اپنے نام نہاد علم پر غرور تھا۔ اس طرح کاغرور آج مغربی قوموں میں بھی ہے جو اپنی ٹکنالوجی اور سائنس پر ناز کرتی ہیں اور اپنے باطل تصورات کو حق کے طورپر پیش کرکے اُن کو جبراً انسانیت پر مسلط کرناچاہتی ہیں ۔

بادشاہوں کی ملک گیری کے پیچھے ایک جذبہ گھمنڈ کابھی ہوتاتھا۔ اِس جذبے کے تحت وہ مغلوب قوموں کو ذلیل کیا کرتے تھے۔ قرآن مجید نے ملکہ سبا کا بیان نقل کیا ہے:

قَالَتْ إِنَّ الْمُلُوکَ إِذَا دَخَلُوا قَرْیَۃً أَفْسَدُوہَا وَجَعَلُوا أَعِزَّۃَ أَہْلِہَا أَذِلَّۃً وَکَذَلِکَ یَفْعَلُونَ۔  (سورہ نمل،آیت:۳۴)

’’ملکہ سبا نے کہاکہ ’’بادشاہ جب کسی ملک میں گھُس آتے ہیں تو اُسے خراب اور اُس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں، یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں ‘‘۔

گھمنڈ کاجذبہ آخرت فراموشی کی طرف لے جاتا ہے اور آخرت فراموشی سے غذا بھی حاصل کرتاہے۔ قوم ثمود کو اِس گھمنڈ نے بلاضرورت عمارتیں بنانے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو ان الفاظ میں تنبیہ کی۔

أَتُتْرَکُونَ فِیْ مَا ہٰہُنَا آمِنِیْنَoفِیْ جَنَّاتٍ وَّعُیُونٍoوَزُرُوعٍ وَّنَخْلٍ طَلْعُہَا ہَضِیْمٌ وَتَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتاً فَارِہِیْنَoفَاتَّقُوا اللہَ وَأَطِیْعُونِ۔ (سورۃ شعراء، آیات: 146 تا 150)

’’کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یونہی اطمینان سے رہنے دیے جائوگے؟ اِن باغوں اور چشموں میں ؟ ان کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رَس بھرے ہیں تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو؟ اللہ سے، ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘۔

غرور کی بنا پر گمراہ قومیں اپنے بے بنیاد فلسفوں اور نظریات کو عین حق گردانتی ہیں اور اُن کے مقابلے میں ہدایتِ الٰہی کو نظرانداز کرتی ہیں ۔ اِس رویے کا انجام جہنم ہے۔ سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأَخْسَرِیْنَ أَعْمَالاًoالَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعاًoأُولَئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ وَلِقَائِہِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْناًo ذَلِکَ جَزَاؤُہُمْ جَہَنَّمُ بِمَا کَفَرُوا وَاتَّخَذُوا آیَاتِیْ وَرُسُلِیْ ہُزُوا۔(کہف،آیات:103تا106)

’’اِ ن سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی وجہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں، جنھوں نے اپنے رَب کی آیات کو ماننے سے انکارکیااور اُس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اِس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، قیامت کے روز ہم انھیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ اُن کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انھوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے رہے‘‘۔

اقتدار طلبی

گھمنڈ کے علاوہ دوسرا محرک جو افراد کو ظلم وجبر کی طرف لے جاتا ہے اور طاقتور قوموں کو استعماری رویّے پر آمادہ کرتاہے، وہ انسانوں پر اپنا اقتدار جمانے کی خواہش ہے۔ قرآن مجید ایسے افراد کا تذکرہ کرتا ہے جو اپنی نیک نیتی کایقین دِلاتے ہیں لیکن اُن کی اصل نیت اُس وقت سامنے آتی ہے جب اُن کو عملاً اقتدار حاصل ہوجاتاہے۔ قرآن مجیدمیں ہے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یُعْجِبُکَ قَوْلُہُ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیُشْہِدُ اللہَ عَلَی مَا فِیْ قَلْبِہِ وَہُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ oوَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَادَoوَإِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالإِثْمِ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ۔(سورہ بقرہ،آیات: ۲۰۴تا ۲۰۶)

’’انسانوں میں کوئی ایسا ہے جِس کی باتیں دنیاکی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پر وہ باربار خدا کو گواہ ٹھہراتا ہے مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتاہے۔ جب اُسے اقتدار حاصل ہوجاتاہے تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتیوں کو غارت کرے اور نسلِ انسانی کو تباہ کرے۔ حالانکہ  اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو ہرگزپسند نہیں کرتااور جب اُس سے کہاجاتاہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جمادیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم  ہی کافی ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے‘‘۔

فرعون کے ظالمانہ طرزعمل کاتذکرہ قرآن مجید میں کیاگیاہے۔ اس کو اقتدار چھن جانے کا خوف تھا چنانچہ اُس نے اپنے ملک (مصر) کے اندر ہی باشندگان ملک کے ایک گروہ (بنی اسرائیل) کے خلاف استعماری رویہ اختیارکررکھاتھا۔

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِیْ الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَہْلَہَا شِیَعاً یَّسْتَضْعِفُ طَائِفَۃً مِّنْہُمْ یُذَبِّحُ أَبْنَائَہُمْ وَیَسْتَحْیْٖ نِسَائَہُمْ إِنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ oوَنُرِیْدُ أَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوا فِیْ الْأَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ أَئِمَّۃً وَنَجْعَلَہُمُ الْوَارِثِیْنَ o وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِیْ الْأَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَجُنُودَہُمَا مِنْہُم مَّا کَانُوا یَحْذَرُون۔ (سورہ قصص،آیات: 4 تا6)

’’واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اوراس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ اُن میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتاتھا، اُس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اُس کی لڑکیوں کو جیتارہنے دیتاتھا۔  فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں اُن لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انھیں پیشوا بنادیں اور ان ہی کو وارث بنائیں اور زمین میں اُن کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور اُن کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلادیں جس کا انھیں ڈر تھا‘‘۔

قومِ عاد پڑوسی قوموں کے ساتھ جابرانہ رویہ اختیارکرتی تھی۔ حضرت ہودعلیہ السلام نے اِس پر تنبیہ کی ہے:

أَتَبْنُونَ بِکُلِّ رِیْعٍ آیَۃً تَعْبَثُون وَتَتَّخِذُونَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُونَ oوَإِذَا بَطَشْتُم بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ oفَاتَّقُوا اللہَ وَأَطِیْعُونِ۔(سورۃ شعراء، آیات: 128 تا 131)

’’یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بناڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہوتو جبّار بن کر ڈالتے ہو۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو‘‘۔

مال ودولت کی ہوس

افرادکی طرح قوموں کو بھی دولت کالالچ ہوتاہے۔ مال و دولت اورقدرتی ذخائر کے حصول کے لیے قومیں استعماری رویہّ اختیارکرتی ہیں اور دوسری قوموں کے ذرائع و وسائل پر ناجائز قبضہ جماتی ہیں ۔ قریبی دور میں استحصال کا یہ جذبہ استعمارکے ظہور کاسب سے قوی محرک رہاہے۔

جب فرد کے اندر مال و ولت کی محبت حدِاعتدال سے تجاوزکرجاتی ہے تو وہ آخرت کو بھول جاتا ہے اور کمزوروں کی دولت کو لوٹنے لگتا ہے۔ ایسے  ہی کردار کاذکر قرآن میں کیاگیا ہے:

کَلَّا بَل لَّا تُکْرِمُونَ الْیَتِیْمَ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ oوَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَّمّاً oوَّتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبّاً جَمّا(سورۃ فجر، آیات: 17 تا 20)

’’ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم کے ساتھ عزت کاسلوک نہیں کرتے اور مسکین کو کھانا کھِلانے پر نہیں اُکساتے اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتارہو‘‘۔

یہ رویہ وہ گروہ بھی اختیارکرتے ہیں جو منصوبہ بندطریقے سے انسانی آبادیوں پر حملے کرتے ہیں تاکہ لوٹ مارکرسکیں ۔ قرآن مجید نے اِس کردار کاتذکرہ کیا ہے:

وَالْعَادِیَاتِ ضَبْحاً oفَالْمُورِیَاتِ قَدْحاً oفَالْمُغِیْرَاتِ صُبْحاًoفَأَثَرْنَ بِہِ نَقْعاً oفَوَسَطْنَ بِہِ جَمْعاًoإِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّہِ لَکَنُودٌ oوَإِنَّہُ عَلَیٰ ذَٰلِکَ لَشَہِیْدٌ o وَإِنَّہُ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ oأَفَلَا یَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِیْ الْقُبُورِ o وَحُصِّلَ مَا فِیْ الصُّدُورِ oإِنَّ رَبَّہُم بِہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ۔(سورہ عادیات)

’’قسم ہے اُن گھوڑوں کی جو پھنکارتے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں، پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں، پھر صبح سویرے چھاپے مارتے ہیں، پھر اُس موقع پر گردو غبار اڑاتے ہیں، پھر اُسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جاگھُستے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اِنسان  اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے اور وہ خود اِس پر گواہ ہے اور وہ مال و دولت کی محبت میں بُری طرح مبتلاہے۔ تو کیا وہ اُس وقت کو نہیں جانتاجب قبروں میں جو کچھ (مدفون ) ہے، اُسے نکال لیاجائے گا، اور سینوں میں جو کچھ (مخفی ) ہے اُسے برآمد کرکے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟ یقینا اُن کا رب اس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا‘‘۔

اصلاح حال کے لئے اقدام

استعمارایک تلخ حقیقت ہے جو دنیا میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ استعمار کامقابلہ کیسے کیا جائے؟ اصولی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ مقابلے کا انداز وہی ہوگا جو سماج میں ظلم کے ازالے  کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔

کسی سماج میں افراد کے ظلم وجبر کا مقابلہ کرنے کے لیے تین  ضروری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں :

(الف) افراد کے ضمیر کی بیداری۔

(ب) سماج کے اندر صالح اورمؤثر رائے عامہ کی تربیت

 (ج)  نظامِ قانون اور نظامِ حکومت کا قیام جو زیادتی کرنے والے افراد کو قابو میں رکھ سکے۔

اِسی طرح پوری دنیا کی سطح پر دنیا کے ملکوں اور قوموں کو طاقتور ملکوں کے استعمار سے بچانے اور اِس استعمار کامقابلہ کرنے کے لیے بھی تین طرح کے اقدامات ضروری ہیں :

(الف) طاقتور قوموں کے افراد اور ارباب  اقتدار کے اِنسانی ضمیر کو جگانے کی سعی۔

(ب) بین الاقوامی سطح پر صالح اور موثر عالمی رائے عامہ کی موجودگی جو استعمار کو غلط سمجھے اور استعماری روّیوں کو غلط قرار دے۔

(ج) واضح بین الاقوامی قانون کی موجودگی اور موثر بین الاقوامی اداروں کا قیام و استحکام جو طاقتور قوموں کو استعمار سے بازرکھ سکیں اور اُن کااحتساب کرسکیں ۔

ضمیرکی بیداری

ہر اِنسان کے اندر ضمیر موجود ہوتاہے اور جب تک اِنسان اُسے بالکل سُلانہ دے وہ انسان کو برائیوں پر متنبہ کرتارہتا ہے۔ استعمار کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ طاقتور ممالک (جو اپنی طاقت کی بنا پر استعماری رویے کی طرف مائل ہوتے ہیں )کے عام باشندوں کے انسانی ضمیر کو جگایاجائے۔

  بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیْرَۃٌ وَّلَوْ أَلْقَٰی مَعَاذِیْرَہُ ۔(سورہ قیامہ، آیت 14،15)

’’انسان اپنے آپ کو خوب جانتاہے خواہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے‘‘۔

آج کے ذرائع ابلاغ (Communication)کی ترقی کے دور میں یہ ممکن ہوگیاہے کہ بڑے پیمانے پر انسانوں سے رابطہ قائم کیاجائے۔ امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طاقتور ملک کے سوچنے سمجھنے والے افراد سے ربط قائم کرے اور ارباب حکومت کے استعماری رویوں کی نامعقولیت عام انسانوں پر واضح کرے۔ عام انسانوں کاضمیر جاگے گا تو وہ حکومتوں کے رویّے کو ضرور متاثر کرے گا۔

عالمی رائے عامہ کی تربیت

دنیا میں طاقتورممالک کم ہیں اور کمزور زیادہ۔ کمزور ممالک خود تو استعماری اور استحصالی رویّہ نہیں اختیارکرتے لیکن طاقتور ممالک کے استعمار کے آلہ کار بآسانی بن جاتے ہیں یا آلہ کار بن جانے پر مجبور کردیے جاتے ہیں ۔

اِس صورت حال کو بدلنے کے لیے بین الاقوامی رائے عامہ کی تشکیل درکار ہے۔ یہ رائے عامہ محض افراد کی رایوں سے عبارت نہیں ہے بلکہ اس کی تشکیل کا موثر ذریعہ وہ بین الاقوامی فورم ہوسکتے ہیں جو کسی طاقتور ملک کاحلیف بننے کے بجائے حقیقی بین الاقوامی امن کے قیام کے لیے وجود میں لائے گئے ہوں ۔ ’’ناوابستہ تحریک‘‘ میں ایسا ہی فورم بن جانے کی صلاحیت موجود تھی مگر یہ تحریک اب عملاً ختم ہوچکی ہے۔ چنانچہ اب ضرورت ہے کہ مسلمان ممالک آگے بڑھ کر ایسے ادارے وجود میں لائیں، جو کمزور ممالک کے اور انصاف پسند حکومتوں کے نمائندے ہوں اور انصاف کی بنیاد پر بین الاقوامی امن کے لیے کام کریں ۔ یہ ادارے ایک طاقتور بین الاقوامی رائے عامہ کا رول انجام دے سکیں گے۔

بین الاقوامی قانون کی بحالی

اِس وقت جو بین الاقوامی نظام دنیا میں موجود ہے وہ محض کچھ ’’معاہدوں ‘‘ اور’’اعلانات‘‘ پر مشتمل ہے۔ مسلمان ماہرین قانون نے  اسلامی تہذیب کے دورِ عروج میں مؤثر بین الاقوامی قانون مرتب کرنے کی جانب بعض اہم اقدامات کیے تھے۔ اس کام کی تجدید کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق مسلمان علماء اور اسکالرز کو بین الاقوامی قانون مرتب کرنا چاہیے اور مسلمان ممالک کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ قانون بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرلیاجائے۔

اِس وقت کے موجود ادارے— اقوام متحدہ( UNO)اور بین الاقوامی معاشی ادارے  —        یا تو غیرموثر ہیں یا خود استعمار اور استحصال کاآلہ بن گئے ہیں ۔ مسلمان ممالک کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اِن اداروں کے متبادل ادارے تشکیل پاسکیں اور اُن کی رکنیت صرف مسلمان ممالک تک محدود نہ  ہو۔ ان متبادل اداروں کا ڈھانچہ اور اندازِکار، استحصال اور استعمار کے  ہر اثر سے پاک ہونا چاہیے اور خالصتاً انصاف پر مبنی ہوناچاہیے۔ رفتہ رفتہ اِن متبادل اداروں میں استعمار کے شکارخِطّے اور انصاف پسندممالک شامل ہوسکتے ہیں اور پھر یہ بین الاقوامی نظام اتنا طاقتور بنایاجاسکتا ہے کہ موجودہ استعماری و استحصالی نظام کا مقابلہ کرسکے۔



⋆ ڈاکٹر محمد رفعت

ڈاکٹر محمد رفعت
مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے