آج کا کالمتعلیم و تربیت

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

ڈاکٹر محمد رفعت

پچھلی صدی میں اسلامی تحریکات نے معاشرے کی اسلامی خطوط پر تعمیرِ نو کی دعوت دی۔ تعمیرِ نو کا ایک اہم جز، علوم کی اسلامی اساس پر تدوین ہے۔ اس پہلو کی طرف سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور سید قطبؒ نے اپنی تحریروں میں توجہ دلائی۔ تقریباً پون صدی کا عرصہ گزرجانے کے بعد اس سمت میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہمارے پیشِ نظر جناب محمد نجات اللہ صدیقی صاحب کا مقالہ ہے۔ مقالے کا عنوان ہے:

 ”  Islamization of Knowledge, Reflections on Priorities”

(علوم کی اسلامی تدوین- ترجیحات کا جائزہ)

  یہ مقالہ امریکی جریدےAmerican Journal of Islamic Social Sciences (جلد 28، شمارہ 3) میں شائع ہوا تھا۔ محترم مقالہ نگار نے علوم کی اسلامی تدوین کے سلسلے میں پیش کیے گئے تصورات اور اس سمت میں کی جانے والی عملی کوششوں کا جائزہ لیا ہے، خصوصاً مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں اور اسماعیل فاروقی مرحوم کے پیش کردہ خاکہ پر مقالہ نگار نے گفتگو کی ہے۔ اس مقالے کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

’’(الف) علوم کی اسلامی تدوین پر گفتگو کرتے ہوئے، دو طرح کے کاموں میں فرق کیا جانا چاہیے گرچہ دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔ ان میں سے ایک کام موجود علمی سرمائے کا مفید استعمال ہے۔ یہاں اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ معلومات کا استعمال اخلاقی قدروں کے تابع اور اخلاقی حدود کا پابند ہو۔ اس کام کے کرنے کے لیے اخلاقی اقدار کا شعور اور انسانی زندگی سے اُن کے ربط کی دریافت وشناخت ضروری ہے۔ اس کام سے جداگانہ مستقل حیثیت رکھنے والا دوسرا کام یہ ہے کہ موجود علمی سرمائے میں اضافہ کیا جائے، نئی معلومات فراہم کی جائیں اور تخلیقی صلاحیت سے کام لے کر علم کے دائرے کو وسیع کیا جائے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے آزاد فضا درکار ہے، جہاں دماغوں اور ذہنوں کو سوچنے کی اور نئی راہیں تلاش کرنے کی آزادی ہو۔

(ب)  مندرجہ بالا دونوںکاموں کی اہمیت مسلّم ہونے کے باوجود ان میں سے موخر الذکر کام زیادہ ترجیح کا مستحق ہے۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ علوم کی اسلامی تدوین کے مجوزین اور داعیان ابھی تک تخلیقی کام کو وہ اہمیت نہیں دے سکے ہیں، جو اسے ملنی چاہیے تھی۔

(ج)  علم کے دائرے کو وسیع کرنے کا کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے آفاقی ہے، یعنی اس کام کی انجام دہی میں انسانیت کے مختلف گروہوں کا باہمی تعاون ممکن بھی ہے اور ضروری بھی۔ دین اور عقیدے کا اختلاف یا اخلاقی نقطہ نظر کا اختلاف اس تعاون میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

 (د)  علم کو حصولِ قیادت یا حصولِ اقتدار کا ذریعہ سمجھنا محلِّ نظر ہے۔ علم کا یہ تصور منفی رویّوںکو جنم دیتا ہے۔

  (ہ)  یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ انسان کی صلاحیت محدود ہے، وہ سب کچھ نہیں جان سکتا اور انسانی علم کا ہر جز یکساں قطعیت کا حامل نہیں ہوسکتا۔ انسانی معلومات کا ایک بڑا حصہ ظنّی ہوتا ہے اور اس میں ابہام پایا جاتا ہے۔ چنانچہ قطعیت کا دعویٰ کرنے کے بجائے علم کی جستجو کرنے والوں کے لیے انکسار کا رویہ زیادہ مناسب ہے۔

(و)   یہ سوال سنجیدہ غورکا مستحق ہے کہ کیا مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ دنیا کی امامت کریں، اس پر غلبہ حاصل کریں اور دنیا کا نقشہ اسلام کے مطابق بدلیں۔ (طریقِ کار کی گفتگو یہاں نہیں ہورہی ہے بلکہ سوال خود مقصد و منزل کی تعیین سے متعلق ہے۔ طریقِ کار کے پُرامن ہونے کے بارے میں اطمینان کے باوجود خود مقصد کے بارے میں یہ سوال باقی رہتا ہے)

(ز)  ضرورت ایک ایسے علم کی دریافت کی ہے، جو وقت کے ساتھ بدلتی ضرورتوں کو پورا کرسکے، جس کا مفید استعمال کیا جائے اور جو روحانی اساس پر استوار اخلاقی نقطۂ نظر کی رہنمائی سے فیض یاب ہو۔‘‘

پورا مقالہ دلچسپ اور فکر انگیز ہے۔ علوم کی اسلامی تدوین کی تحریک، موجودہ مرحلے سے کس طرح آگے بڑھے، اس سلسلے میں عملی مسائل اور اقدامات پر گفتگو مقالے کے آخری حصے میں کی گئی ہے، خصوصاً سماجی علوم میں پیش رفت کے سیاق میں۔ لیکن اس وقت  مندرجہ بالا نکات میں سے چند سے ہی تعرض کیا جاسکے گا۔

تخلیقیت:

ترجیحات کی ترتیب کے بارے میں محترم مقالہ نگار کی یہ رائے بالکل درست ہے کہ علمی سرمائے میں اضافے کا کام ترجیحِ اول کی حیثیت رکھتا ہے اور موجودہ معلومات کے مفید استعمال کی اہمیت، اس کے بعد ہے۔ علوم کی اسلامی تدوین کی تحریک اس ترتیب کو کیوں ملحوظ نہیں رکھ سکی۔ یہ سوال قابلِ غور ہے۔ بظاہر اس کی تین وجوہات سمجھ میں آتی ہیں:

ایک وجہ تو یہ ہے کہ علمی سرمائے میں اضافہ کا کام نسبتاً مشکل ہے۔ نئی راہیں تلاش کرنا اور نئے زاویوں سے سوچنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کام کے لیے فضا کی سازگاری کی بھی ضرورت ہے۔ عموماً مسلم ممالک کے اندر آزادی کا ماحول نہیں پایا گیا ہے۔ اس صورتحال کا اثر مسلمانوں کے علمی اداروں کی فضا پر بھی پڑا ہے۔ تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی نہ ہونا تخلیقی عمل میں بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ علوم کی اسلامی تدوین کے ابتدائی داعیوں اور بعد میں اس کام کی طرف توجہ دلانے والوں کے ذوق و مزاج میں ایک اہم فرق موجود ہے۔ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اسلامی اساس پر علم کے ارتقاء کی جانب دعوت دی۔ محترم موصوف کی اس دعوت کا سیاق، اسلامی تحریک ہے جو ہدایتِ الٰہی کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیرِ نو کی طرف بلاتی ہے۔ اس سیاق میں علوم کی اسلامی تدوین کا کام ایک زندہ عمل بن جاتا ہے جو انسانی زندگی سے مربوط ہے۔ بعد کے مفکرین مثلاً اسماعیل فاروقی کی تحریروں  میں گفتگو کا طرز اکثر کتابی (اکیڈمک) نوعیت کا ہے، جہاں زندگی سے ربط کو زیرِ بحث تو لایا گیا ہے مگر محض (مسلمانوں یا انسانوں کے) مسائل کے حوالے سے۔ چنانچہ مولانا مودودیؒ کے افکار میں علوم کی نئی جہت کی تلاش کی طرف واضح اشارے نظر آتے ہیں، جبکہ فاروقی کے خاکے میں مرکزی مقام موجود علم کے جائزے اور اس کی ترتیب نو کو حاصل ہے۔ (خواہ یہ علم مسلمانوں کے ماضی کے علمی سرمائے سے ماخوذ ہو یا حال اور ماضی قریب کے مغربی مفکرین سے حاصل کیا گیا ہو۔) اس فرق کی بنا پر مولانا مودودیؒ کے اندازِ فکر کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس موضوع پر اُن کی تحریریں مختصر ہونے کے باوجود، علوم کی اسلامی تدوین کی تحریک کو ترجیحات کی صحیح ترتیب قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

موجودہ صورتحال کی ایک تیسری وجہ بھی محسوس ہوتی ہے۔ علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی خاکہ پیش کیا جس میں ترتیب کے ساتھ اُن اقدامات کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے علوم کی تدوین کا کام انجام پاسکتا تھا۔ ان اقدامات میں آخری اقدام نصابی کتب کی تیاری کا تھا۔ اس پورے اندازِ فکر میں عجلت پسندی جھلکتی ہے۔ سوچا یہ گیا کہ ایک مرتبہ نصابی کتب مرتب ہوجائیں تو گویا تدوینِ علوم کا کام مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد محض ان کتابوں کاپڑھنا پڑھانا کافی ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نئے خطوط پر علمی ارتقاء پیشِ نظر ہو تو آدمی کے ذہن میں آغازِ کار کے طورپر نصابی کتب تیار کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ کرے گا۔ بہرصورت اب ماضی کے تجربات کی مدد لیتے ہوئے ترجیحات کی درستگی ضروری ہے۔ ایسی تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو علمی ارتقاء اور علمی سرمایے میں اضافے کی راہیں کھول سکیں۔ علم کا درست اور مفید استعمال اپنی جگہ ضروری ہے لیکن تحقیقی اسپرٹ سے عبارت تحقیقی سرگرمی زیادہ ضروری ہے۔

آفاقیت:

علوم کا مغربی نقطۂ نظر آفاتی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مغربی دنیا کے جدید دور میں مشاہدے، تجربے اور اُن پر مبنی عقلی استدلال کو درست علمی طریقِ کار قرار دیا گیا اور یہ سمجھا گیا کہ علم و تحقیق کا یہ طریقہ طبعی علوم اور انسانی علوم دونوں میں یکساں کارآمد اور درست ہے۔ اس طریقِ کار کے ساتھ چند مفروضات کو بھی مغربی علمی دنیا میں اساسی حیثیت دی گئی، گرچہ عموماً ان مفروضات کو صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا جاتا مثلاً یہ خیال کہ حقیقت بس اتنی اور ویسی ہی ہے جیسی نظر آتی ہے۔ (بالفاظِ دیگر عالمِ غیب کا کوئی وجود نہیں ہے) یا یہ مفروضہ کہ طبعی دنیا، بعض قوانینِ طبعی کے تحت خود بخود کام کررہی ہے۔ اس میں ہونے والے واقعات اور اس میں نظر آنے والے مظاہر کے پیچھے کسی خالق اور رب کی حکمت و ربوبیت کارفرما نہیں ہے۔ ان مفروضات کے علاوہ جہاں تک انسانی سماج میں مطلوب اقدار کا معاملہ ہے، مغربی دنیا نے اپنے ذوق و مزاج اور رجحان کے مطابق (جو تاریخی عوامل کے نتیجے میں تشکیل پایا تھا) انسانی سماج کے لیے بعض رویّوں کو پسندیدہ قرار دیا ور معاشرے میں اُن کو رائج کرنے کی سعی کی مثلاً انفرادی معاملات میں فرد کی مطلق آزادی، عورت اور مرد کے دائرہ کار کی یکسانیت اور معاشی سرگرمیوں میں ریاست کی کم سے کم مداخلت۔ اسی طرح سیاسی زندگی میں عوام کی حاکمیت اور مذہب و ریاست کی علیٰحدگی کو اصول کے طور پر اختیار کیا گیا۔ مغربی دنیا کی عمومی رائے یہ ہے کہ علمی تحقیق کا مغربی طریقِ کار— زندگی اور کائنات کی حقیقت کے بارے میں اس کے مفروضات اور انسانی طرزِ عمل کے سلسلے میں مطلوب و نامطلوب کے مغربی پیمانے— یہ سب آفاقی نوعیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ ساری انسانیت کو چاہیے کہ انھیں اختیار کرے۔ ایسا کرنا مغرب کے نزدیک دانش مندی اور روشن خیالی کی علامت ہے اور دورِ جدید کے تقاضوں کا صحیح جواب ہے۔ اس کے برعکس مغربی علمی تصورات اور پیمانوں کو اختیار نہ کرنا تاریک خیالی کی دلیل ہے اور ایسا طرز اختیار کرنے والے زمانے کے تیز رفتار سفر میں پچھڑ جائیں گے اور ترقی نہیں کرسکیں گے۔

آفاقیت کا ہر دعویٰ (صحیح ہو یا غلط)اپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے، اس لیے کہ انسان کی فطرت آفاقی واقع ہوئی ہے۔ مختلف گوشوں سے یہ بات کہی تو ضرور گئی ہے کہ انسانیت کے مختلف گروہوں اور قوموں کے لیے حق و صداقت کے الگ الگ معیارات ہوسکتے ہیں اور ان سب مختلف معیارات کو یکساں اعتبار سے موزوں و درست قرار دیا جانا چاہیے۔ (اس خیال کو relativism (اضافیت) کہا جاسکتا ہے) لیکن معیارات کے سیاق میں اضافیت کے اس نقطہ نظر کی کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ خیال انسانی وجدان سے بھی ٹکراتا ہے، اس لیے کہ انسانوں کی حس ہمیشہ سے غلط اور صحیح میں امتیاز کے اور ردو قبول کے پیمانوں کو آفاقی سمجھتی آئی ہے اور اب بھی ایسا ہی سمجھتی ہے۔ تاریخ کے دوران مختلف گروہوں کی سرگرمیوں کا جائزہ اورتجربات سے سیکھنے اور سبق حاصل کرنے کا سارا کام —جانچ کے پیمانوں کو آفاقی تسلیم کرنے کے بعدہی انجام پاسکتا ہے۔

آفاقیت کی جانب اس رجحان کی روشنی میں محترم مقالہ نگار کے اس خیال سے اتفاق کیا جانا چاہیے کہ علم کے دائرے میں توسیع کا عمل، آفاقی نوعیت رکھتا ہے، چنانچہ اس کام کو امتِ مسلمہ تک محدود سمجھنے یا محدود رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ تحقیق اور علمی جستجو کے عمل میں سارے انسانوں کی شرکت ہونی چاہیے۔ لیکن تحقیق اور دریافت کی کاوشوں کی آفاقیت تسلیم کرنے کے ساتھ، دوسری جانب یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ معلومات کی فراہمی، تحقیق و جستجو اور حاصل شدہ معلومات کی ترتیب و تدوین کا سارا کام، بہرحال، کسی نہ کسی تصورِ کائنات کے تحت ہی انجام پاتا ہے۔ مزید برآں، جہاں تک اس دائرئہ علم کا تعلق ہے، جس کو انسانی علوم سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہاں علمی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے تصورِ کائنات کے علاوہ اخلاقی قدروں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔چنانچہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ آفاقی تصورِ کائنات کیا ہے جس پر تحقیق کرنے والے باہم اتفاق کرسکیں اور وہ اقدار کون سی ہیں، جن کو وہ سب تسلیم کرلیں۔

مندرجہ بالا سوال مسلمانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جہاں تک تصورِ کائنات کا تعلق ہے (جس میں تصورِ انسان شامل ہے) ہمارے سامنے دو تصورات آتے ہیں۔ایک مغرب کا غالب تصور ہے جو پچھلی چار صدیوں کے دوران منظرِ عام پر آیا ہے۔ یہ تصورِ کائنات و انسان، مادیت اور الحاد سے متاثر ہے۔ دوسرا قابلِ توجہ تصور، توحید پر مبنی تصورِ کائنات ہے، جس کی جھلکیاں اقوامِ عالم کے مذہبی لٹریچر میں پھیلی ہوئی ہیں اور جس کا واضح اور مربوط بیان— اسلام نے پیش کیا ہے۔ ان دو تصورات کے علاوہ کوئی تیسرا قابلِ لحاظ نظریہ موجود نہیں ہے، جو کائنات اور انسان سے متعلق بحث کرتا ہو۔ (مشرکانہ تصورات کو ان کے قائلین نے عموماًبعض مراسم تک محدود رکھا ہے اور علمی سرگرمیوں میں وہ مادی تصورِ کائنات کے ہی قائل نظر آتے ہیں)۔ مادیت اور الحاد سے متاثر مغربی تصورِ کائنات ہو یا اسلام کا پیش کردہ توحید پر مبنی تصور کائنات، دونوں آفاقیت کے مدعی ہیں اور اپنی صداقت کے دعوے کو انسانیت کے کسی خاص گروہ تک محدود نہیں رکھتے۔ (یہ الگ بات ہے کہ بہت سے مسلمان، تصورِ توحید کی اس آفاقیت کو فراموش کربیٹھے ہیں)۔

توحید کی آفاقیت کے ادراک سے ایک اہم نتیجہ نکلتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانوں کے مختلف گروہ اگر اسلام کو بحیثیت دین، قبول نہ کریں تب بھی اُن کے لیے یہ ممکن ہے کہ علمی تحقیق اور معلومات کی ترتیب کے لیے توحید کو اساس قرار دیں اور توحید سے ہم آہنگ، تصورِ انسان کو اپنائیں۔ یہی وہ رویہ ہے جس کی طرف مسلمان، انسانوں کو بلا سکتے ہیں۔ انسان کے متعلق اسلام بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی اشیاء کو انسان کی خدمت میںلگا دیا ہے۔ اشیاء سے انسان کے اس تعلق کو قرآنِ مجید، تسخیر— سے تعبیر کرتا ہے۔ تسخیر کا تقاضا ہے کہ انسان، کائنات کی  اشیاء کا مفید استعمال کرے اوراس استعمال میں کوئی جھجک محسوس نہ کرے۔ اس لیے کہ اپنی اصل کے اعتبار سے یہ سب اشیاء اس کے لیے جائز ہیں۔ قرآن مجید کا ارشا دہے:

يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا. اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ. قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ. قُلْ ہِىَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا خَالِصَۃً يَّوْمَ الْقِيٰمَۃِ. كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ. (الاعراف: 31، 32)

’’اے بنی آدم! ہرعبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیںکرتا۔ ان سے کہو، کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے اللہ کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصۃً انہی کے لیے ہوں گی۔ اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں، اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں۔‘‘

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللہَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً. وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللہِ بِغَيْرِعِلْمٍ وَّلَاہُدًى وَّلَاكِتٰبٍ مُّنِيْرٍ. (لقمان: 20)

’’کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کی ساری چیزیں تمہارے لیے مسخر کررکھی ہیں اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کردی ہیں…‘‘

اَللہُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْہِ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ. وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْہُ. اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ. (جاثیہ:12،13)

’’وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اُس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو۔ اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا۔ سب کچھ اپنے پاس سے  اس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔‘‘

تسخیر کا مفہوم بیان کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں: ’’کسی چیز کو کسی کے لیے مسخر کرنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ وہ چیز اُس کے تابع کردی جائے اور اسے اختیار دے دیا جائے کہ جس طرح چاہے اُس میں تصرف کرے اور جس طرح چاہے اُسے استعمال کرے۔ دوسری یہ کہ اس چیز کو ایسے ضابطے کا پابند کردیا جائے جس کی بدولت اُس شخص کے لیے نافع ہوجائے اور اس کے مفاد کی خدمت کرتی رہے۔

زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک ہی معنی میں مسخر نہیں کردیا ہے، بلکہ بعض چیزیں پہلے معنی میں مسخر کی ہیں اور بعض دوسرے معنی میں۔ مثلاً ہوا، پانی، مٹی، آگ، نباتات، معدنیات، مویشی وغیرہ بے شمار چیزیں پہلے معنی میں ہمارے لیے مسخر ہیں اور چاند، سورج وغیرہ دوسرے معنی میں۔‘‘ (تفہیم القرآن، سورہ لقمان، حاشیہ 35)

توحید، خلافت، امانت اور تسخیر پر مبنی تصورِ کائنات و انسان، ایک ایسا آفاقی نظریہ فراہم کرتا ہے جو علم و تحقیق کی درست اساس ہے۔ مادیت اور الحاد سے متاثر مغربی تصور کائنات کے بجائے، توحید پر مبنی اِس تصور کو تمام انسان اپنا سکتے ہیں اور اس بنیاد پر علمی سرگرمیوں کو منظم کرسکتے ہیں۔ اسلام سے باقاعدہ وابستگی، اس کے لیے لازمی شرط نہیں ہے۔ اسلام نے اخلاقی قدروں کے ضمن میں اپنے نقطۂ نظر کو بیان کرنے کے لیے معروف اور مُنکر کی اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔ یہ اصطلاحیں آفاقی مفہوم کی حامل ہیں۔ جو افراد اسلام کو بحیثیت دین قبول نہ کریں اُن کو بھی معروف کی طرف بلانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور اسی طرح اُن کو منکر سے روکنا بھی۔ چنانچہ معروف اور منکر— دو متضاد انسانی رویوں کی جانب اشارہ کرنے والے جامع عنوانات ہیں، جن میں پہلا رویہ فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہے، اور دوسرا اس فطرت سے انحراف کا غمّاز ہے۔ انسانوں میں عقیدے کے اختلاف کے باوجود، اخلاقی اقدار کے سلسلے میں اُن کا متحد الخیال ہونا ممکن ہے اور باہمی تعامل کے لیے ضروری بھی ہے۔ معروف و منکر کے تصورات اس اتحاد کی بنیاد ہیں۔ انسانی معاشرے کو تباہی اور انتشار سے بچانے کے لیے اخلاقی اقدار کی آفاقیت پر زور دینا ضروری ہے۔

’’معروف‘‘ کے معنی بیان کرتے ہوئے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:

’’معروف کا لفظ قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے، اس سے مراد وہ صحیح طریقِ کار ہے، جس سے بالعموم انسان واقف ہوتے ہیں، جس کے متعلق ہر وہ شخص ، جس کا کوئی ذاتی مفاد کسی خاص پہلو سے وابستہ نہ ہو، یہ بول اٹھے کہ بے شک حق اور انصاف یہی ہے اور یہی مناسب طریقِ عمل ہے۔‘‘ (تفہیم القرآن، سورہ بقرہ، حاشیہ 179)

’’دعوتِ حق کی کامیابی کا گُر یہ ہے کہ آدمی فلسفہ طرازی اور دقیقہ سنجی کے بجائے لوگوں کو معروف، یعنی اُن سیدھی اور صاف بھلائیوں کی تلقین کرے، جنھیں بالعموم سارے ہی انسان بھلا جانتے ہیں یا جن کی بھلائی کو سمجھنے کے لیے وہ عقلِ عام (common sense) کافی ہوتی ہے جو ہَر انسان کو حاصل ہے۔‘‘  (ایضاً، سورہ اعراف، حاشیہ 150)

معروف کا برعکس مفہوم رکھنے والی اصطلاح منکر ہے۔ منکر کا مفہوم یہ ہے:

’’منکر سے مراد ہر وہ برائی ہے جسے انسان بالعموم برا جانتے ہیں، ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں اور تمام شرائع الٰہیہ نے جس سے منع کیا ہے۔‘‘ (ایضاً، سورہ نحل، حاشیہ 89)

مسلمان تخلیقی صلاحیت سے کام لے کر توحید کی اساس پر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو منظم کریں تو علم کے دائرے کو وسیع کرنے میں تمام خدا پرستوں کا تعاون اُن کو حاصل ہوسکتا ہے۔ اساس کی طرح اخلاقی قدریں بھی، انسانیت کے درمیان مشترک ہیں، چنانچہ مطلوب انسانی رویہ وہ ہے جو معروف کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔ اسی طرح منکر ایسا رویہ ہے جو ناپسندیدہ اور نامطلوب ہے۔ اس طرح وہ آفاقی بنیاد فراہم ہوجاتی ہے، جو مغرب کے مادّی نقطۂ نظر کا متبادل بن سکتی ہے۔

امامت، قیادت اور اقتدار

امتِ مسلمہ کے سپرد کیا کام کیا گیا ہے، اس سلسلے میں عموماً اس آیت سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ. وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ. مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.    (آل عمران :110)

’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں (کی ہدایت و اصلاح) کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم معروف کا حکم دیتے ہو، منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہلِ کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ  ان میں کچھ لوگ ایمان لانے والے بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیش تر افراد نافرمان ہیں۔‘‘

اس آیت کی رو سے امتِ مسلمہ اس امر کی پابند ہے کہ انسانوں سے ربط رکھے، اُن کو معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے۔ آیت کے الفاظ عام ہیں، چنانچہ امتِ مسلمہ کو یہ کام ہر حال میں کرنا ہوگا خواہ اسے حکومت اور اقتدار حاصل ہو یا نہ حاصل ہو۔ البتہ قرآنِ مجید صراحت کے ساتھ اس صورتحال کے بارے میں گفتگو، دوسرے مقام پر کرتا ہے:

اہلِ اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰہُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ. وَلِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ. (الحج: 41)

’’یہ (اہلِ ایمان) وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے منع کریں گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘

ایمان کو اقتدار حاصل ہو:

دونوں آیات کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر، امتِ مسلمہ کا دائمی وظیفہ ہے، اقتدار حاصل ہونے کے بعد بھی اور اُس سے پہلے بھی۔ امت کی یہ دائمی صفت، انسانیتِ عامہ سے اُس کے دائمی ایجابی ربط کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کے کام کو انسانوں کی ’’رہنمائی‘‘ کرنے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ انسان اس رہنمائی کو قبول کررتے ہیں یا بے اعتنائی برتتے ہیں، ہر صورت میں اس رہنمائی کا فراہم کرنا امت کی ذمہ داری ہے۔ بالفاظ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امت کا منصب، انسانیت کے رہنما گروہ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے انسانو ںکا رہنما بنایا ہے اور اس کو انسانیت کی امامت کا کام سپرد کیا ہے۔ اس اصولی صورتحال کی توضیح کے بعد یہ دیکھنا چاہیے کہ عملی صورتِ حال کیا ہوسکتی ہے۔

  (الف) ایک اِمکان یہ ہے کہ خود امت یا اس کے بیش تر افراد یہ بات بھول جائیں کہ انھیں انسانیت کی رہنمائی کرنی ہے۔ ظاہرہے کہ ایسی صورت میں امت انسانوں سے بے تعلق رہے گی اور دنیا میںکوئی تعمیری کردار ادا نہ کرسکے گی۔

(ب)   دوسرا امکان یہ ہے کہ امت کو اپنا مقام و منصب یاد ہو، وہ انسانوں کورہنمائی فراہم کرے، لیکن اس کے مخاطبین بے اعتنائی برتیں اور اس کی رہنمائی سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ اس صورت میں، کم از کم فوری طور پر، انسانوں کے عام رویے کو امت متاثر نہ کرسکے گی۔ البتہ یہ توقع ضرور کی جاسکتی ہے کہ خود امت، راہِ راست پر قائم رہے گی۔

(ج)    تیسری ممکن صورت یہ ہے کہ انسانیت، امت کی فراہم کردہ رہنمائی کی قدر کرے اور اس کو قبول کرے۔ اس صورت میںیہ کہا جاسکے گا کہ امت کو قیادت حاصل ہوگئی ہے یعنی لوگ امت کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔

مندرجہ بالا تینوں امکانات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسانوں کی رہنمائی امت کا لازمی کام ہے۔ قیادت کے حصول کو بذاتِ خود امت کا مقصد قرار نہیں دیا جاسکتا، البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ امت کی فراہم کردہ رہنمائی کو انسان قبول کرلیں تو امت کو قائدانہ پوزیشن حاصل ہوجائے گی۔اگلا سوال اقتدار اور حکومت سے متعلق ہے۔ اس سلسلے میں قرآنِ مجید بتاتا ہے کہ ایمان اور عملِ صالح سے متصف ہونے کی صورت میں، اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اقتدار عطا کرے گا۔

وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ.وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا. يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا.وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ. (نور: 55)

’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ، جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ اُن کو زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے اور اُن کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘

آیتِ بالا کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں کہ ’’اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کی موجودہ حالتِ خوف کو حالتِ امن سے بدل دے گا۔‘‘ اس ارشاد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو اقتدار اہلِ ایمان کو حاصل ہو اس کی غرض یہ ہوگی کہ وہ اہلِ کفر کے تسلط سے آزاد ہوجائیں اور بے خوف وخطر، اللہ کی بندگی کریں۔ اقتدار اس لیے نہ ہوگا کہ مسلمان، دوسرے انسانوں پر اپنی آقائی جمائیں۔ کفر اور اہلِ کفر کے تسلط سے مسلمانوں کی آزادی یقینا مطلوب ہے۔ یہ پہلو سامنے رکھا جائے تو اسلام کے غلبے کے لیے شعوری کوشش کے سلسلے میں کوئی تردّد باقی نہیں رہتا۔ علوم کی اسلامی خطوط پر تدوین (Islamization of Knowledge) کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے آخر میں یہ گزارش ضروری ہے کہ یہ اصطلاح پیشِ نظر کام کے لیے موزوں اصطلاح نہیں ہے۔ اسلامائزیشن کے لفظ سے ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ علم اور معلومات تو موجود ہیں، جو کچھ کرنا ہے وہ محض یہ ہے کہ معلومات کے اس ذخیرے کو اسلام کے قالب میں ڈھالا جائے۔ صورتحال کی یہ تصویر ناقص بھی ہے اور مغالطہ آمیز بھی۔ جیسا کہ محترم مقالہ نگار نے نشاندہی کی ہے، اصل سوال تحقیق کا اور نئی معلومات کی دریافت کا ہے۔ اس تحقیق و کاوش کی اساس اور طریقِ کار ایسا ہونا چاہیے جو اسلامی مزاج سے ہم آہنگ ہو۔ شعور خود اعتمادی اور جرأت کے ساتھ امت کے اہلِ دانش، اس علمی و تحقیقی سفر کا آغاز کریں تو انسانیت کے خیر پسند عناصر کو اپنا ہم سفر بآسانی بناسکیں گے۔

مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رفعت

مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close