اسپتال مریضوں کے علاج کے بجائے کمائی کا ذریعہ بن گئے ہیں

ایک طرف ملک کی آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے دوسری جانب صحت عامہ کے شعبہ سے سرکاری توجہ کم ہونے سے عام لوگوں کے دواء وعلاج پرحکومتوں کے بجٹ چھوٹے ہورہے ہیں، آج جو سرکاری اسپتال کام کررہے ہیں ان کے عملہ کا حال تو اس سے زیادہ بدتر ہے۔ وہ غریبوں وکمزوروں کا علاج کرنا کسر شان سمجھتے ہیں، صاحب حیثیت لوگ ان کی مراد پوری کرسکتے ہیں اس لئے وہ ان کے علاج پرتوجہ دیتے ہیں، ملک کے پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کے علاج سے زیادہ ایسے طریقے آزمائے جاتے ہیں کہ اسپتال چلانے والوں کو زیادہ سے زیادہ آمدنی ہو خواہ اس کیلئے مریض کا علاج موخر کرنا پڑے، اس کے مرض کو بڑھایا جائے یا اس کو زیادہ سے زیادہ مدت اسپتال میں روکے رکھنے کیلئے دوسرے طریقے آزمائے جائیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ونجی اسپتال یا نرسنگ ہوم میں آئے دن ڈاکٹروں، نرسوں اوراسپتال کے دوسرے ملازموں کی مجرمانہ غفلت وکوتاہی کے واقعات مریضوں کی غیر فطری موت کا جس بڑی تعداد میں باعث بن رہے ہیں، وہ بھی ایک تشویشناک پہلوہے، ان وجوہ نے علاج ومعالجہ کے میدان کو جو ایک مقدس پیشہ سمجھاجاتا تھا غیر انسانی اور غیر اخلاقی بنادیا ہے، کبھی کسی اسپتال سے ڈاکٹروں کا ایک پورا گروپ کڈنی ریکٹ میں پکڑا جاتا ہے تو کبھی اسپتال کے ملازموں کی مدد وتعاون سے نوزائدہ بچہ کو بدلنے یا چوری کرنے کی واردات سامنے آتی ہے، غلط انجکشن لگاکر مریض کو موت کا شکار بنا دینا، آپریش کرتے وقت پیٹ میں قینچی یا کپڑا چھوڑ دینا، ایک آنکھ کے بجائے دوسری کا آپریشن کردینا تو عام بات ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں ایک اور لعنت یہ پھل پھول رہی ہے کہ جس مریض کو علاج کیلئے ڈاکٹر کے گھر پر دکھایاجاتا تھا اس کو ڈاکٹر کے جونیئر ہی دیکھتے اور اس کا علاج کرتے ہیں اگر یہ موجود نہیں یا چھٹی پر چلے گئے تو پھر سمجھ لیجئے کہ مریض لاوارث حالت میں پڑا رہے گا ، خواہ اس کی جان پرہی کیوں نہ بن جائے کیونکہ دوسرا ڈاکٹر اس کا علاج تو کیا اسے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔ کسی زمانے میں نرس کو مریض احترام کے ساتھ سسٹر کہہ کر پکارتے تھے مگر آج کے ماحول میں نرسوں کی یہ روایتی شبیہ بھی مسخ ہوگئی ہے جس کے بعد ان کے حوالہ اپنے مریض کو چھوڑ دینے میں لوگوں کو خوف محسوس ہوتا ہے۔ محکمہ صحت انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے لیکن ہندوستان میں صحت کی خدمات کا جو حال نظر آرہا ہے اس میں مرض کے قابو سے باہرہونے پر ہی مریض سرکاری ہیلتھ مرکز یا اسپتال کا رخ کرتا ہے، روبہ زوال اس صورت حال کے باوجودمریض نیز اس کے اہل وعیال کو یہ امید ہوتی ہے ڈاکٹر اور نرسوں سے اسے معقول علاج نہ بھی فراہم ہو پھر بھی کم از کم وہ محفوظ تو رہے گا لیکن بعض منشیات کو چھوڑ کر بیشتر بڑے اسپتالوں سے لیکر ضلع کے سول اسپتال تک ڈاکٹر سے لیکر نرس تک سبھی ملازمان اوپرکی آمدنی بڑھانے کی فکر میں مصروف ہیں اور اس میں انہیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملتی تو وہ مریض یا اس کے گھر والوں سے بدسلوکی پر اتر آتے ہیں اور اس کا نتیجہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کی صورت میں اکثر ظاہر ہوتا ہے۔ اس ماحول وفضا میں مرکزی حکومت کی طرف سے تین ہزار کروڑ روپے کے دیہی صحت مشن منصوبہ، گاؤ۔دیہات کے مریضوں کو کیسے صحت مند بنائے گا۔یہ سوال لوگوں کے ذہن میں پیدا ہونا فطری ہے، اگر اس پہل کو حکومت ہند حقیقی طور پر عام لوگوں کیلئے کارگر بنانا چاہتی ہے تو پہلے اسپتالوں کی بدتر حالت اور ملازموں کی غیر ذمہ داری کے رویہ پر محکمہ صحت کو قابو پانا پڑے گا، جب تک حکومت اور اسپتال کا انتظامیہ اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایسے ملازموں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی نہیں کریگا، دواؤں کی خرید وفروخت ، انسانی اعضاء کاغیر قانونی کاروبار اور مریضوں سے بدسلوکی کے واقعات اخبارات کی سرخیاں بنتے رہیں گے۔(یو این این)



⋆ عارف عزیز

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

دینی مدارس کو نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے؟

* آر ایس ایس اور اس کی حکومتوں نے ملک کی ہندو اکثریت کو اپنا …