آج کا کالم

اس انتخاب کی حقیقی اور اکیلی فاتح ہیں مایاوتی!

رويش کمار

یہ خیال پرانا اور فضول ہو چکا ہے کہ بھارت میں انتخابات الیکشن کمیشن کراتا ہے. نیا خیال اور حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں انتخابات نیوز چینل کراتے ہیں. چینل کے لوگ ریٹرننگ افسر کے کردار میں ہر پروگرام میں کسی ایک ٹیم کی جیت کا اعلان کرتے رہتے ہیں. انتخابات کے وقت نئے نئے چینل کھل جاتے ہیں. نئی ویب سائٹ بن جاتی ہے. انہیں لے کر کمیشن کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی ہے. اس لئے روایتی طور پر انتہائی ستائش کی شکار اس ادارے کا طریقہ تشخیص ہونا چاہئے. الیکشن کمیشن وقت سے پیچھے چلنے والی ایک قدیم ادارہ ہے. کمیشن کے پاس سیاسی وفاداری اور خوف کی وجہ سے کسی ایک ٹیم کی طرف جھکے میڈیا کو پکڑنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے. پیڈ نیوز کی اس کی سمجھ محدود ہے. کمیشن ابھی تک ایگذٹ پول کے کھیل ہی سمجھ پایا ہے. اس کے پاس کسی سروے کے نمونے جانچنے یا دیکھنے کی کوئی سمجھ نہیں ہے. حق تو تب مانگے گا جب سمجھ ہوگی. نیوز اینکر پارٹی جنرل سکریٹری کے کردار میں پارٹی کا کام کر رہے ہیں . ایک ٹیم کی دن بھر پانچ پانچ ریلی دکھائی جاتی ہے. ایک ٹیم کی ایک بھی ریلی نہیں دکھائی جاتی ہے. حکمراں جماعت نے بڑی آسانی سے تبلیغ کے اخراجات اور طریقے کو بدل کر میڈیا کو ملا لیا ہے. اینکر اور صحافی اب سیاسی جماعتوں کے جنرل سکریٹری ہیں اور اس میں ایک ٹیم کی اہمیت قائم ہو گئی ہے. کمیشن کے پاس ایسی کوئی سمجھ نہیں ہے کہ وہ ریلیوں کی نشریات کو لے کر توازن قائم کرنے کا کوئی اصول بنائے. اخبار تو کمیشن سے بالکل ہی نہیں ڈرتے ہیں . ایف آئی آر کے بعد بھی کچھ فرق نہیں پڑا ہے. سیاسی جماعتوں نے اپنے اخراجات اور حکمت عملی میڈیا کو باہر سے کر دیا ہے. بارٹر (چیز تبادلہ) نظام آ گیا ہے. اشتہارات دیجئے اور اس کے بدلے ریلی کا براہ راست نشر گھنٹوں دكھايے. وہ نہیں تو میڈیا گھرانے کی کان کنی کے کاروبار کو لائسنس دے دو یا سڑک کی تعمیر میں معاہدے.

سات مرحلے میں انتخابات کرانے کی اس کی سمجھ کا قائل ہو گیا ہوں . مجھے دکھ ہو رہا ہے کہ انتخابات جلدی ختم ہو گئے. انہیں کم سے کم بھادو تک چلنے چاہئے تھے. اس سے بھی آگے درگا پوجا تک انتخابات ہو سکتے تھے. 403 مراحل میں بھی یوپی کے انتخابات ہو سکتے تھے. میں نے یہ مضمون الیکشن کمیشن پر نہیں لکھا ہے. میں نے یہ مضمون مایاوتی کے لئے لکھا ہے. اس انتخاب میں وہ اکیلی میڈیا کے بنائے ایک رخا ماحول کے سیاسی دباؤ سے لڑتی رہی ہیں . پوری دنیا کے انتخابات میں میڈیا کے فحش  کے اس دور میں مایاوتی نے اپنا ایک اور الیکشن میڈیا کے بغیر ہی مکمل کیا. یہ بتاتا ہے کہ اس لیڈر کی ساخت اخباری صفحات سے نہیں بلکہ سٹیل کے کسی قسم سے ہوگی. وهاٹس اپ کے لئے نئے نئے بینر، ویڈیو مواد بنائے ہیں لیکن بنیادی طور پر بی ایس پی نے میڈیا کا بے حد جامع اور روایتی کام کیا ہے. مایاوتی لکھنؤ لوٹ کر ایک پریس کانفرنس کرتی تھیں اور باقی وقت میڈیا کو دور ہی رکھا. انتخابات سے پہلے کچھ اخبارات کو انٹرویو تو دیا مگر ٹی وی کو نہیں دیا. ٹوئٹر کے کو تو ڈوب مرنا چاہئے کہ وہ بھارت کی واحد ایسی لیڈر ہیں جو ٹویٹ نہیں کرتی تھیں . اپنی ریلی کا فوٹو اپ لوڈ نہیں کر رہی تھیں.

اس زمانے میں کسی انتخابی حکمت عملی کا تصور بغیر میڈیا کے نہیں ہو سکتی ہے. مایاوتی نے اپنے زندگی کے سب سے اہم انتخابات کو بغیر میڈیا کے لڑا ہے. ان کے لئے ایسا کرنا آسان نہیں رہا ہوگا. قائد سے انہیں میڈیا کے لئے دستیاب ہونا چاہئے تھا مگر کیا یہ سچ نہیں ہے کہ میڈیا بی ایس پی کو پارٹی ہی نہیں مانتا ہے. مایاوتی کو گھیرنے والے مخالف پارٹی ٹی وی کے اینکر متوازی ماحول رچ رہے تھے. کوئی بھی دیکھنے والا چکرا جائے کہ شاید انتخابات کا یہی ماحول ہے. مایاوتی میڈیا کی مسلسل بنائی جا رہی گھاراو کو نظر انداز کرتی رہی ہیں . سینہ پھلانے والے اچھے اچھے لیڈر ٹی وی کے بنائے اس ماحول میں پھنس جاتے ہیں . ان دھكدھكي بڑھ جاتی ہے. کئی بار ماحول بنا کر بھی وہ آخر آخر تک ڈرے رہتے ہیں . عجیب عجیب حرکتیں کرتے ہیں . دو ماہ کے انتخابات میں مایاوتی عام بنی رہی ہیں . اس بات کے لئے ان پر ریسرچ ہونی چاہئے. اس بات کے لئے بھی ریسرچ ہونی چاہئے کہ بغیر  میڈیا کے ایک رہنما آج بھی اپنے ووٹر سے اور ووٹر اپنے لیڈر سے کیسے تعلقات برقرار رکھتا ہے. مایاوتی بھلے نہ دباؤ میں آتی ہوں مگر ووٹر تو اسی میڈیا معاشرے میں رہتا ہے. اس ووٹر کے لئے اپنے لیڈر کے ساتھ کھڑے رہنا کم آسان نہیں رہا ہوگا. بی ایس پی کا کارکن تو دس جگہ اٹھتا بیٹھتا ہو گا، وہ کس طرح اس پارٹی کے لئے کام کرتا ہے گا جو میڈیا میں نظر نہیں آتی ہے مگر اس کی لیڈر چار بار وزیر اعلی بن چکی ہیں.

ایسا ہو نہیں سکتا کہ ہار کا ڈر مایاوتی کو نہیں ستاتا ہوگا.  انتخابات میں انہیں نہیں لگا ہوگا کہ سب کچھ ہاتھ سے گیا. ہارنے کے بعد ان پر تیکھے سوالات کے حملے ہوں گے. فکر تو ہوتی ہی ہوگی کہ میڈیا کی وجہ سے ان کی پارٹی کمزور پڑ سکتی ہے. اس طرح کی ذرا سی ایسی صورت میں آپ کو وزیر اعظم نریندر مودی کا برتاؤ دیکھئے اور مایاوتی کا دیکھئے. ہار کا معمولی خوف وزیر اعظم کو کس طرح سے بھربھرا سکتا ہے یہ بنارس نے دیکھا ہوگا اور یہ بھی بنارس کی دکھا سکتا ہے کہ وہ جس لیڈر کو ہندو دل شہنشاہ سمجھتا ہے اسے اسی  طرح دیکھنے کی خواہش بھی رکھتا ہے. آخری نتیجہ جو بھی نکلے، تین دن تک وزیر اعظم بنارس میں ایسے اٹکے رہے جیسے ساتویں مرحلے کے انتخابات 40 نشستوں پر نہیں ، بلکہ 5 نشستوں کے لئے ہوا ہے. ایک طرف یہ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم جنگ کو جنگ کی طرح لیتے ہیں . ہار رہے ہیں تو جیتنے کے لئے ہاتھی سے اتر سکتے ہیں . جس دادا کا ٹکٹ کاٹتے ہیں اسی کا ہاتھ پکڑ کر عبادت کرتے ہیں .  انتخابات میں زبان اور حکمت عملی تبدیل کر سکتے ہیں . بنارس اتنا ڈرا دیا کہ وہ اکیلے نہیں آئے، بلکہ بیسوں وزراء کو بلایا، ارکان پارلیمنٹ کو بلایا اور ایڈیٹرز کو بھی. اگر آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ وزیر اعظم گھبراتے نہیں ہیں تو آپ کو صحیح لگتا ہے.

اس کے ٹھیک الٹ مایاوتی ستھتپرجن بنی رہیں . انہوں نے ایمانداری کو نہیں چھوڑا. چيكھي چلائی نہیں کہ وہ ڈوب رہی ہیں . بچاءو بچاءوکر رہی ہیں . بی ایس پی کے سارے لیڈر بنارس آو. سارے کارکن بنارس آو. بنارس ہار گئے تو حکومت نہیں بنے گی. ایسا نہیں کیا. مشکل حالات میں بھی وہ گھبرائی نہیں . اس کے ٹھیک الٹ انتخابی مہم ختم ہونے سے ایک دن تشہیر ختم کر لکھنؤ پہنچ گئیں . جو لوگ قیادت میں جرات اور صبر کے عنصر تلاش کرتے رہتے ہیں انہیں مایاوتی پھر بھی نہیں دكھےگي. مودی ہی ہر طرف نظر آئے گا جو پانچ نشستوں کی شکست سے گھبرا کر گلی گلی گھومنے لگے. مودی کی مدد کے لئے مکمل میڈیا تھا. گھنٹوں براہ راست نشر ہوتا رہا. کیمرے کے لئے طرح طرح کی تصاویر بنائی گئیں . پہلی بار بابا وشوناتھ مندر کی بنی پرپراو کو توڑ کر عبادت کے سیاسی سوانگ کا براہ راست نشر کیا گیا. گڑھوا آشرم جاکر گائے کو پھل کھلانے لگے تاکہ او بی سی متدات جھک جائیں . یہ تب حال ہے جب کاشی کو کیوٹو بنایا جا رہا ہے. وہاں کے لوگ جاپان کا ویزا لے کر بنارس میں ٹہل رہے ہیں . لال بہادر شاستری میموریر تک چلے گئے جس کے بارے میں اكونومك ٹائمز کے CL کے منوج نے لکھا ہے کہ کایستھ ووٹروں کو متاثر کرنے کے لئے گئے. شاستری جی کی ذات تک تلاش لی گئی.

بنارس میں چینلز نے جس طرح سے رتجگا کیا ہے اسے دیکھ کر ایک عام ووٹر کی جان ہی نکل جائے. ایسے میں کیا مایاوتی بالکل نہیں گھبرائی ہوں گی ؟ کیا انہیں بنارس کی پانچ سیٹیں چاہئے ہی نہیں؟ آپ بنارس میں کسی سے بات کیجئے. ہر سیٹ پر بی ایس پی جنگ میں ہے اور کچھ سیٹوں پر جیتنے کی پوزیشن میں ہے. یہ اس لئے اہم ہے کیونکہ بی ایس پی وہاں بغیر مایاوتی کے روڈ شو اور میڈیا کے انتخابات لڑ رہی ہے. ہو سکتا ہے کہ مایاوتی انتخابات ہار جائیں . انتخابات ہارنے کے بعد مایاوتی کی بے رحم تنقید میں یہی سب نہ کرنے کے عناصر شامل ہوں گے لیکن سوچیں کہ اس الیکشن میں کوئی ضد کی طرح اپنی بنت کو بچائے رکھنے کے لئے اپنے طریقے سے جیتا رہا ہے. میرے حساب سے میڈیا کے بنائے انتخابی ماحول کی اکیلی فاتح مایاوتی ہیں. انہوں نے میڈیا  دباؤ کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے. میڈیا کو نہ اہمیت دی اور نہ میڈیا نے ان. کیا ایسا ہندوستان کے سب سے مقبول لیڈر وزیر اعظم نریندر مودی کر سکتے ہیں؟ کیا ہارنے کی حد تک خود کو کسی انتخابات میں ٹی وی کے پردے سے دور رہ کر تبلیغ کر سکتے ہیں ، انتخابات لڑ سکتے ہیں . میں اس کا جواب جانتا ہوں . آپ بھی جانتے ہیں . لہذا اس سوال پر قہقہے لگايے. مایاوتی نے میڈیا کو شکست دی ہے. انتخابات ہارنے کی قیمت پر وہ اس لڑائی کو لڑتی رہیں اور جیت گئیں ہیں، چاہیں ان کے حصے میں جیتنی بھی سیٹیں آئیں گی، ہر سیٹ میڈیا کے خلاف آئے گی.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close