آج کا کالم

اس معاملے میں تو سرکار کی تعریف بنتی ہے !

سدھیر جین

شفافیت ہر معاملے میں قابل تعریف نہیں ہوتی۔ فوج یا انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کام کاج کو ملک کے لوگوں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ کالے دھن کو باہر نکالنے کا کام بھی فوج اور خفیہ ایجنسیوں جیسا بنانا پڑا۔ نوٹبدي کی تیاری خفیہ طریقے سے کی گئی۔ تاہم ابھی اس بات پر تنازعہ ہے کہ تیاری واقعی کی گئی تھی یا نہیں، لیکن یہ بتانے کے لئے حکومت نے ميڈيا کا جس ہنر مندی سے استعمال کیا، اس کی تعریف ضرور کی جانی چاہئے۔ دو ہفتے کے اندر ہی آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ واقعہ بے مثال ثابت ہو گیا ہے۔ قومی مفاد کے بینر پر میڈیا نے حکومت سے بھی دو قدم آگے آکر جس طرح نوٹ بندی کو سراہا ہے، اور ایک محب وطن کارکن کی طرح حکومت کا ساتھ دیا ہے، اسے صرف ملک میں نہیں، پوری دنیا میں بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا ہوگا۔

حکومت کا کامل بھروسہ قابل تعریف…

نوٹ بندی کے بعد 15 دن سے ملک میں جس طرح کا دھوم دھڑاكا مچا ہوا ہے، اسے دیکھتے ہوئے کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ اس فیصلے کو لاگو کرنے کے لئے جو تیاری کی جانی ضروری تھی، وہ نہیں کی گئی تھی. اس پر کوئی اختلاف اس لئے بھی نہیں ہے کہ خود حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ مخفی رکھنے کےپیش نظر بینک اور اے ٹی ایم کا بندوبست نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ظاہر ہے، حکومت نے سوچ لیا تھا کہ جو ہو گا، اسے موقع واردات پر ہی نمٹا دیا جائے گا۔ 130 کروڑ کی آبادی والے ملک میں اتنا سنسنی خیز کام نافذ کرنے میں حکومت کا اتنا زبردست اعتماد ہمیں ایک بار پھر حکومت کی تعریف کرنے کے لئے حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ ملک کے ہر طبقے کو کتنی بھی پریشانی ہوئی ہو، دو ہفتے میں نوٹ بندی کا نصف کام تو حکومت نے نمٹا ہی لیا ہے۔

 قومی مفاد کے پرچار نے حکومت کا کام بنایا۔۔۔

بلیک منی، کرمنل منی، کرپشن، متوازی معیشت کا خاتمہ وغیرہ ایسے الفاظ ہیں جنہیں نوٹ بندی کے فیصلے کے مرکزی حصے میں رکھ کر حکومت نے انقلاب برپا کر دیا. دراصل، بہت سارے مقاصد کو ایک ساتھ دیکھنا ذرا مشکل ہوتا ہے، لہذا ان تمام مقاصد کو ایک ہی لفظ میں سمیٹا گیا تھا، جسے قومی مفاد یا قوم کی ترقی کا نام دیا گیا. اس کا کرشمائی اثر یہ ہوا کہ نوٹ بندی کے فیصلےکے تجزیے کے سارے امکانات ختم ہو گئے۔ قومی مفاد کے کام کے بارے میں عام لوگوں کا تو کچھ کہنا ہی  نہیں، ایک سے بڑھ کر ایک دانشور بھی نوٹ بندی پر ہونٹ بندی کرنے کو مجبور ہو گئے ہیں۔ جن باتوں کو کہنا ہی خطرے سے خالی نہ ہو، اس کے بارے میں سوچنا کس لئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے پر ایکسپرٹ اور دانشور اس کی خصوصیات اورنقائص کے بارے میں سوچنے تک سے پرہیز کر رہے ہیں۔ اسی طرح اپنے خلاف تنقید کے امکانات کو ایک ہی جھٹکے میں ختم کرنے کی دانشمندی کے لئے موجودہ حکومت کی تعریف کی جانی چاہئے۔

صرف دو ہی ہفتے گزرے ہیں۔ ۔ ۔

حکومت کے پاس فیل گڈ کی سینکڑوں وجوہات اسی دن سے دستیاب ہوں گے، جب اس نے سوچا ہوگا کہ نوٹ بندی کرنی ہے۔ کوئی پریشانی ہوتی تو پرانی حکومتوں کی طرح وہ یہ فیصلہ لے ہی نہ پاتی۔ بیشک کتنی بھی افراتفری مچی ہو، ملک کے لوگ ‘آگے کی خوشی’ کے لئے ‘آج کا دکھ’ اٹھاتے چلے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس کی کارروائی میں ملک کے عوام نے الوطنی میں اپنے کان اور آنکھیں بالکل ہی بند کر رکھے ہوں گے، یہ مان کر چلنا ٹھیک نہیں ہوگا. اگرچہ حکومت نے اپنی سرکاری مشینری اور نوٹ بندی کی حامی میڈیا کو رات دن کام پر لگا رکھا ہے، پھر بھی آگے کے لئے حکومت کو کچھ اور انتظام کرکے رکھنے ہوں گے۔ ابھی سے یہ سوچ کر رکھنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ نوٹ بندی کے مرحلے کےمکمل ہونے میں ابھی 35 دن اور باقی ہیں۔ 30 دسمبر کے بعد بھی تین ماہ تک ریزرو بینک نوٹ بدلوانے کا کام جاری رکھے گا، یعنی چار ماہ تک غیر یقینی حالات کے آثارختم نہیں ہو سکتے۔

عالمی کساد بازاری سر پر آکر کھڑی ہے۔ ۔ ۔

دنیا میں خوفناک بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ یاد کیا جانا چاہئے کہ سات سال پہلے کی کساد بازاری کو ہمارا ملک اسلئے جھیل گیا تھا کہ ہماری معیشت واقعی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل تھی۔ اسی بنیاد پر اس وقت ہم حیرت انگیز طور پر اور چالاکی سے اپنی جی ڈی پی میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اب ویسے حالات بچے نہیں ہیں۔ سال بھر پہلے اپنے بینکوں کی حالت نازک ہونے کا راز بے فاش ہو چکا ہے۔ پانچ سے آٹھ لاکھ کروڑ روپے کی رقم این پی اے میں چلی جانے کے اندازے سے ہم بری طرح پریشان اور ڈرے ہوئے ہیں۔ ایسے میں دو چار لاکھ کروڑ کی رقم اگر نوٹ بندی سے بچ بھی گئی تو وہ بینکوں کے درد کو تھوڑا سا کم کرنے میں ہی چلی جائے گی۔

نوٹ بندی سے کالے دھن کا کتنا لینا دینا؟

1000 اور 500 کے پرانے نوٹوں کی کل رقم 1420000 کروڑ ہے۔ اب تک کے 15 دن کا موٹا موٹا اندازہ یہ ہے کہ چھ لاکھ کروڑ کے پرانے نوٹ ملک کی عوام نے رات رات بھر بینکوں کے سامنے لمبی لمبی لائنوں میں جوجھتے ہوئے جمع کرائے ہیں۔ یہ لوگ اپنی پرانی جمع رقم نکال کر اور اپنے پرانے نوٹ تبدیل کرکے جو نئے نوٹ اور پرانے 100-100 کے نوٹ لے پائے ہیں، وہ تقریبا سوا لاکھ کروڑ ہی ہے۔ تجارت اور دوسرے کام کاج کے لئے نوٹوں کا بھاری ٹوٹا پڑا ہوا ہے۔ دو ہفتے میں ہی تمام گھریلو مصنوعات کو تقریبا 10 لاکھ کروڑ کی فوری چپت لگ چکی ہے۔ سرکاری ماہرین اقتصادیات بولتے وقت پھونک پھونک كر قدم رکھ رہے ہیں۔

ان کی ہونٹ بندی جائز بھی ہے، لیکن آزادانہ طور پر اقتصادی صورت حال کا اندازہ لگانے والے ماہرین کا قیاس ہے کہ نوٹ بندی کے پورے عمل میں 14 لاکھ کروڑ کے پرانے 1000-500 کے نوٹوں میں سے 11 لاکھ کروڑ کے پرانے نوٹ جمع ہو جائیں گے۔ یعنی تین لاکھ کروڑ کے پرانے نوٹ بینک تک نہیں آئیں گے۔ اسی کو ہم بلیک منی کہیں گے، اور حکومت دعوی کرے گی کہ اس فیصلے سے تین لاکھ کروڑ کا بلیک منی مٹی یا کاغذ کا ٹکڑا بنا دیا گیا۔ اسی رقم کو حکومت اپنے فیصلے سے ہوا منافع بتائے گی. ایک اور کریڈٹ وہ اس سے لےپائے گی کہ کم سے کم 400 کروڑ کے جعلی نوٹ بھی بازار سے صاف ہو گئے۔ تاہم 14 لاکھ کروڑ کے صحیح نوٹوں کے درمیان جعلی نوٹوں کی یہ مقدار کوئی زیادہ قابل ذکر ثابت ہو نہیں پائے گی۔ پھر بھی جعلی نوٹوں پر چوٹ کا پرچار کرنے میں یہ بات کام آئے گی۔

نوٹ بندی سے بالواسطہ نقصان کا اندازہ ۔ ۔ ۔ ۔

اس طرح کے نقصان کو تولنے کے لئے کوئی ترازو دستیاب نہیں ہے۔ اس کا کچھ کچھ اندازہ اسٹاک مارکیٹ کی ہلچل اور صنعت و تجارت کرنے والوں کی حالت دیکھ کر چل جاتا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو اب تک ہوئے تین سے چار لاکھ کروڑ کے نقصان کو تو ہم یہ کہہ کر چھوڑ بھی سکتے ہیں کہ چلئے، آگے کے اچھے سالوں میں اسٹاک مارکیٹ اس کی تلافی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن صنعت اور تجارت میں اب تک 10 لاکھ کروڑ سے زیادہ کا نقصان اور آنے والے 35 دنوں میں 15 لاکھ کروڑ کے نقصان کی تلافی ہونے میں ایک سال سے لے کر دو سال تک لگ سکتے ہیں، لیکن نوٹ بندی کے جمع خرچ کا جو لوگ بھی حساب لگانے بیٹھیں گے، انہیں ابھی سے جواب سوچ کر رکھ لینا چاہئے۔

پھر بھی تشویش کی بات نہیں ۔ ۔ ۔ ۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت کے پاس اس وقت رسمی طور پر اور ساتھ ہی غیر رسمی طور پر فعال ہنر مند اقتصادی ماہرین اور میڈیا مینیجر کافی تعداد میں دستیاب ہیں۔ وہ کسی بھی صورت حال کو سنبھالنے کے قابل ہیں۔ حکومت کے پاس اس خوبی کہ دانشوران بھی ہیں جو فیل گڈ کا استعمال کرنے میں ماہر ہیں۔ اس معاملے میں موجودہ حکومت تعریف کی مستحق ہے۔ یہاں ایک فلسفیانہ جملوں کے استعمال کرنے کی بھی گنجائش نکل رہی ہے، جس میں کہا گیا ہے – خوشی اور کچھ نہیں، بس دکھ کے اتار کا کھیل ہے۔ نوٹ بندی سے عوام کو اب تک ہوئی اور آگے ہونے والی پریشانی 35 دن بعد بند ہو ہی جانی ہے۔ اس کے بعد پریشانی ختم ہونے کا سکھ، یعنی دکھ اور پریشانی کے ختم ہونےکی خوشی کا احساس تو ہونا ہی ہونا ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close