آج کا کالم

اصل سوالوں کے جواب نہیں تو کچھ دوسرے مدعے لے آؤ!

رويش کمار

ملازمتوں پر جب بھی بات ہوتی ہے، بوگس مسئلے اچھالے جانے لگتے ہیں. 23 مئی کے بزنس سٹینڈرڈ میں مہیش ویاس کا مضمون ہے. مہیش ویاس سینٹر فار مانیٹرگ اكونومي پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ہیں . ان کے تجزیوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے.

مہیش ویاس کا کہنا ہے کہ بھارت ایک سال میں پانچ لاکھ بھی روزگار پیدا نہیں کر پا رہا ہے، ایک کروڑ یا دو کروڑ کی بات تو چھوڑ ہی دیجئے. لیبر مارکیٹ میں ملازمتیں نہیں ہیں ، اس وجہ جس کی نوکری جا رہی ہے وہ لیبر مارکیٹ سے باہر ہو جا رہا ہے. حکومت ہند کا لیبر بیورو بھی ہر سہ ماہی سروے کرتا ہے. 2016 میں اس نے دس ہزار خاندانوں کے سیمپل سے سروے کیا ہے. لیبر بیورو کے چوتھے سروے کے مطابق جنوری 2017 کے کوارٹر میں آٹھ شعبوں میں ملازمتیں بڑھی ہیں. 1 اکتوبر 2016 کے کوارٹر کے مقابلے میں . کتنی بڑھی ہیں وہ دیکھ لیجئے.

صرف 122000، روزگار ہی بڑھیں . آٹھ سیکٹر ہیں ، مینو فیکچرنگ میں 83،000، ٹریڈ سیکٹر میں 8000، ٹرانسپورٹ میں 1000، آئی ٹی اور بیپیو میں محض 12،000 روزگار بڑھیں ، ہیلتھ میں دو ہزار اور تعلیم میں 18،000 روزگار بڑھے ہیں. غیر زرعی شعبے کے ان آٹھ اہم شعبے میں محض سوا لاکھ روزگار بڑھے ہیں. یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے. اس کے پہلے کی تماي میں 32،000 اور 77،000 روزگار بڑھے تھے . 1 اپریل 2016 سے لے کر 1 جنوری 2017 کے درمیان صر31000 2،  روزگار پیدا ہویے ہیں . یعنی روزگار میں صرف 1.1 فیصد اضافہ ہوا ہے. سودیشی جاگرن منچ نے بھی 22 مئی کو گوہاٹی سے اعداد و شمار جاری کئے ہیں کہ روزگار محض 1 فیصد بڑھی ہیں .

کیا آپ کو حکومت کے کسی وزیر نے ٹویٹ کرکے بتایا ہے کہ ہم روزگار نہیں بڑھا پا رہے ہیں؟ کیا آپ کو وزرا نے اپنے وزارتوں کا حساب دیا کہ ان کی وزارت میں کتنی نوکریاں نکلی ہیں؟ تمام وزیر ٹی وی شو میں آکر جنرل بات کرتے ہیں کہ اتنے کروڑ کرنسی لون دیئے ہیں تو روزگار بڑھی ہیں. تمام بینک کے پاس ریکارڈ تو ہوگا کہ کسے کرنسی لون دیا ہے، اسی سے پوچھ کر بتا دیں کہ لون والے ہر شخص یا انٹرپرائز میں کتنوں کو روزگار یا کام دیا ہے،کتنی مستقل یا عارضی نوکریاں دی ہیں. اس کا کوئی ایپ نہیں بن سکتا تھا کیا؟

22 مئی کو مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے پریس کانفرنس کر کے دعوی کیا کہ ان کی وزارت اگلے تین سال میں ایک کروڑ روزگار پیدا کرے گا. یہی دعوی گزشتہ سال کیا گیا پر مئی 2016 میں . جب مرکزی کابینہ نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو 6000 کروڑ کے پیکیج دینے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگلے تین سال میں ایک کروڑ روزگار پیدا ہوں گے. ایک سال گزر گیا تو کوئی حساب نہیں، اب ایک سال بعد کہہ رہی ہیں کہ اگلے تین سالوں میں ایک کروڑ روزگار ہوں گی. یعنی ہر سال 30 لاکھ کے قریب. گارمنٹ فیکٹریوں میں شدید اٹومیشن ہو رہا ہے. روبوٹيكر. اس کی وجہ سے وہاں اب روزگار کا پہلے جیسا  نہیں ہیں.

23 مئی 2017 کے فنانشل ایکسپریس میں سنیل جین نے ایک مضمون لکھا ہے. اس کا عنوان ہے عظیم معمار پلبگ کے مسائل درست کر رہا ہے. ان کا اشارہ وزیر اعظم کی طرف ہے. سنیل جین نے لکھا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں میں میں نے وزیر اعظم کی پالیسیوں کی تعریف میں بہت سے کالم لکھے ہیں، لگتا ہے ان کالم کو دوبارہ لکھنے کا وقت آ گیا ہے. یعنی جو امید ظاہر گئی تھی، وہ صحیح ثابت نہیں ہوتی نظر آرہی ہے. اس مضمون کے کچھ اقتباس کا ترجمہ پیش کر رہا ہوں .

2014 میں جی ڈی پی میں سرمایہ کاری کا حصہ 31.2 فیصد تھی، تین سال بعد 26.9 فیصد ہے. سرمایہ کاری میں تقریبا چار فیصد کی کمی ہے. 2014 کے مقابلے میں جی ڈی پی نمو بھی جزوی طور پر ہی زیادہ ہے. یعنی معمولی اضافہ ہوا ہے. حکومت عوامی علاقے بیکار کمپنیوں کے وینویش ہی حکومت بینکوں کے این پی اے یعنی نان پرپھارمگ ایسیٹ کے بوجھ کو ہلکا کر سکتی ہے، مگر مودی راہل گاندھی کے خوف سے ایسا نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ان پر سوٹ بوٹ کی حکومت کا لیول نہ چسپاں کر دیں . سنیل کی یہ عجیب منطق ہے. حکومت جس راہل گاندھی کو ہلکے چیلنج سمجھتی ہے، ان کی وجہ سے اتنا بڑا فیصلہ ٹال سکتی ہے. یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی آئیڈیا ہی نہ ہو.

اس مضمون کے مطابق بینکوں کے پاس اب قرض دینے کی صلاحیت نہیں ہے. ریزرو بینک نے بھی قوانین سخت کر دیے ہیں . جس کی وجہ سے بینکوں میں جمع رقم بڑھنے سے بینک کمزور ہوتے جا رہے ہیں . آپ جانتے ہیں کہ بینکوں کی اصلی کمائی قرض اور سود سے ہوتی ہے. جنوری سے لے کر دسبر 2016 کے دوران عوامی علاقوں کی لینڈنگ (قرض دینے کی صلاحیت) میں 8 فیصد کی ہی بڑھوتری ہوئی، لیکن ڈپوذٹ میں 70 فیصد اضافہ ہو گیا.

سنیل جین نے تنقید کی ہے کہ جیٹلی جی ایس ٹی کی شرح کو اور بھی کم کرنے کی کوشش کر سکتے تھے. وزیر اعظم مودی اپنے سیاسی طاقت کا استعمال کر ریاستوں کو کم شرح کے لئے تیار کر سکتے تھے، جس سے مانگ میں اضافہ ہوتا. یو پی اے کے دور میں پالیسیوں میں توقف یا آلسی کو لے کر کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا. اسے انگریزی پالیسی پرالسس کہتے ہیں . جب جی ڈی پی کا ڈیٹا روایذ ہوا تب پتہ چلا کہ 2014 کے مالی سال میں انڈسٹریل پروڈکشن 3.4 فیصد بڑھا تھا. جبکہ ڈیٹا روایذ ہونے سے پہلے یہ نگیٹو دکھایا جا رہا تھا. کہا جاتا تھا کہ یو پی اے کے وقت پراجیکٹ لٹکے پڑے ہیں . اٹکے پراجیکٹ کی تعداد مودی حکومت کے وقت بھی بہت زیادہ ہے. سرمایہ کاری آپ سب سے کم سطح پر ہے، ملازمتیں پیدا نہیں ہے تو غیر ملکی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ لگے کہ سرمایہ کاری کا بہتر ماحول ہے.

اس دور میں سیاسی خبروں سے زیادہ بزنس کی خبروں کو احتیاط سے پڑھنا چاہیے. ایسا نہیں ہے کہ حکومت کا کسی سیکٹر میں کارکردگی بہتر نہیں ہے. یہ سوچنا بالکل غلط ہوگا. لیکن سرمایہ کاری اور روزگار کی تخلیق کے معاملے میں ابھی وہ کچھ بھی دعوے کے ساتھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں دکھائی دے رہی ہے.

بزنس اسٹینڈرڈ میں شینی جیکب اور شريا رائے نے توانائی سیکٹر کا جائزہ لیا ہے. اس میں بتایا گیا ہے کہ مودی حکومت کی توانائی پالیسیاں صحیح ٹریک پر ہیں، مگر انہیں اب فاتح قرار نہیں دیا جا سکتا ہے. اجولا منصوبہ کے تحت 2 کروڑ 20 لاکھ گیس سلنڈر کے کنکشن دیئے گئے ہیں. جو ایک ریکارڈیڈ کامیابی ہے. اس کے لئے حکومت فی خاندان 1800 روپے کی سبسڈی بھی دے رہی ہے. حکومت نے اجول اور دین دیال اپادھیائے گرام جیوتی اسکیم میں بجٹ کی کمی نہیں ہونے دی ہے.

حکومت نے دعوی کیا تھا کہ جب ڈھائی کروڑ کنکشن دیے جائیں گے تو ایک لاکھ روزگار پیدا ہوگا. کیسا روزگار اور کتنے کے تنخواہ والا روزگار پیدا کرے گا یہ کوئی نہیں بتاتا. کم از کم حکومت اس معاملے میں قابل اعتماد اعداد و شمار تو پیش کر ہی سکتی تھی کہ ایک لاکھ روزگار کہاں پیدا ہویے اور وہ روزگار کی تخلیق کے گھٹتے اعداد و شمار میں کیوں نہیں شامل ہو پا رہی ہے.

آپ جانتے ہیں کہ حکومت نے لوگوں سے گیس کی سبسڈی چھوڑنے کی اپیل کی تھی. اسے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا اور دعوی کیا گیا کہ 21،000 کروڑ کی سبسڈی بچی ہے. سی اے جی کی رپورٹ میں اس پر سوال اٹھایا گیا ہے. کہا گیا ہے کہ صرف 1،764 کروڑ کی سبسڈی بچی ہے. باقی 21،552 کروڑ کی بچت گیس کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے. سی اے جی کی رپورٹ کے بعد بھی وزیر دعوی کر رہے ہیں کہ 21،000 کروڑ کی سبسڈی بچی ہے. قیمت اور سبسڈی میں فرق ہے کہ نہیں .

انگریزی کے ان تین مضامین کا ترجمہ ہندی میں کیا ہے. پہلے بھی قصبہ پر کئی مضامین لکھے ہی.  قارئین کرام اور ہم جیسے صحافیوں کے لئے ضروری ہے کہ اقتصادی پالیسیوں کی بازیگری کو سمجھیں. ہندی کے اخبار واقعی کوڑا ہیں. ان میں چاپلوسی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے. میں نے ہندی کے کئی اخباروں کو بند کر دیا ہے. زمینی حقایق سے جڑے سوالوں کو پکڑیے ورنہ جذباتی سوالات میں بھٹکتے رہ جائیں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے وقت نکل جائے گا. کب تک نیوز چینلز کا کالر پکڑ کر غیر ضروری مسائل کی طرف موڑا جاتا رہے گا یا چینلز کے كانكلیو میں ہلکے پھلكے سوال پوچھے جاتے رہیں گے. آپ غور سے دیکھئے ایسے واقعات کو. مصنوعی سوالات کے دم پر صحافی خود شیر بن کر اعلان کر رہے ہیں کہ یہ پوچھ لیا، وہ پوچھ لیا، یہاں گھیر لیا، وہاں گھیر لیا. وزیر آرام سے ہنستے ہوۓ نکل آتے ہیں. ایک تو جواب نہیں دیتے دوسرا جواب کے نام پر تقریر بہت کرتے ہیں. كتھاواچن سے بچيے. آپ حکومت سے کہانی نہیں سن رہے ہیں. اس کے لئے ایک سے ایک بابا لوگ ہیں. وہاں جائیے اور ان سے سنیے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close