آج کا کالم

اماں جان! ہم آپ کی نصیحتوں پر عمل پیرا ہیں۔۔۔

95 سال کی ایک بوڑھی خاتون، جن کا جسم ہڈیوں کا پنجر بن گیا تھا، کمر جھک کر کمان ہوگئی تھی اور آنکھوں سے بینائی غائب ہوگئی تھی، ان کے سامنے ان کا 73 سالہ بیٹا کھڑا تھا۔ دونوں کے درمیان یہ گفتگو ہوئی:
بیٹا:اماں جان! بہت سے حامیوں نے ساتھ چھوڑ دیا ہے، گنتی کے چند لوگ اب ساتھ میں ہیں۔ کیا کروں؟
ماں :بیٹا! اگر تم حق پر ہو تو جس راہ میں تمھارے ساتھیوں نے جانیں دی ہیں، اسی راہ میں تم بھی جان دے دو۔
بیٹا :اماں! میں خود کو حق پر سمجھتا ہوں، لیکن بدلے ہوئے حالات میں آپ سے مشورہ کر رہا ہوں۔
ماں :بیٹا! اگر حق پر ہو تو حالات کی ناسازگاری کے باعث دشمنوں کے سامنے جھکنا اہل حق کا شیوہ نہیں۔
بیٹا :اماں! میں موت سے نہیں ڈرتا، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ دشمن میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کریں گے یا مجھے سولی پر لٹکا دیں گے۔
ماں:بیٹا! جب بکری ذبح کر ڈالی جائے تو پھر اس کی کھال کھینچی جائے یا اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں، اسے کیا پروا؟  بیٹا! موت سے نہ ڈرنا، راہ حق میں تلواروں سے قیمہ بننا ذلت و رسوائی کی زندگی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔
بیٹا :اماں جان! میں آپ کی مرضی سمجھ گیا ہوں، ان شاء اللہ آپ کی توقعات پر پورا اتروں گا۔
ماں نے پیار سے بیٹے کو گلے لگا لیا۔
ماں :بیٹے! یہ تمھارے جسم پر کیا ہے؟
بیٹا :حفاظت کے لیے زرہ پہن رکھی ہے۔
ماں :شہادت کی تمنا رکھنے والے ان عارضی چیزوں کا سہارا نہیں لیتے۔
پھر کیا ہوا؟ اس کا اندازہ بہ آسانی لگایا جا سکتا ہے۔ بیٹے نے لڑ کر جان دے دی، اس کی نعش کو سولی پر لٹکا دیا گیا۔ تین دن کے بعد بوڑھی ماں ادھر سے گزری۔ اس نے نعش کو مخاطب کرکے کہا :
کیا ابھی اس شہ سوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا؟
حکمران وقت بھی وہیں کھڑا تھا۔ اس موقع پر اس کے اور بوڑھی خاتون کے درمیان یہ گفتگو ہوئی:
حکمراں :بڑھیا! تیرا بیٹا ملحد تھا، اپنے انجام کو پہنچا۔
خاتون :نہیں، وہ بڑا نمازی، روزے دار اور پرہیز گار تھا۔
حکمراں :تو سٹھیا گئی ہے۔
خاتون :میں سٹھیایی نہیں ہوں۔ میں نے اللہ کے رسول ص سے سنا تھا کہ بنو ثقیف میں ایک سفاک پیدا ہو گا۔ وہ تو ہے۔
حکمراں :اللہ کے دشمن کا یہی انجام ہونا تھا۔
خاتون :تو نے میرے بیٹے کی دنیا برباد کر دی، اس نے تیری آخرت برباد کر دی۔
یہ خاتون تھیں حضرت ابوبکر صدیق کی بیٹی حضرت اسماء، بیٹا تھا عبد اللہ بن زبیر اور حکمراں تھا حجاج بن یوسف۔
_________________________
اماں جان! آپ کے بیٹوں نے آپ کی نصیحت کو حرز جان بنایا ہے، انھوں نے جان قربان کرنا اور سولی پر چڑھنا تو منظور کیا، لیکن حق کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
اماں جان! حسین بن علی، نفس الذکیۃ، زید بن علی، ابراہیم، مالک، احمد، ابن تیمیہ، سید احمد، شاہ اسماعیل، عودہ، قطب، قمر الزمان، علی احسن مجاہد، عبد القادر ملا، سب نے وہی کیا ہے جو آپ نے کہا تھا۔ انھوں نے قید و بند کو گوارا کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا، لیکن حق پر آنچ نہیں آنے دی۔
اماں جان! ابھی کل ہی آپ کے ایک اور 73 سالہ بیٹے (مطیع الرحمٰن نظامی) کو پھانسی دی گئی ہے۔ اس نے بھی پھانسی کے پھندے کو چوم لیا، لیکن ذرا بھی مداہنت نہ دکھائی۔
اماں جان! ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ ہم بھی آپ کو رسوا نہ ہونے دیں گے۔ آپ نے جو کچھ نصیحتیں کی ہیں ان پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے۔ سر کٹادیں گے، لیکن باطل کے سامنے اسے نہیں جھکائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close