آج کا کالم

امتحان سے لے کر نتائج تک اتنی تاخیر کیوں؟

رويش کمار

نوکری سیریز کے 19 ویں ایپی سوڈ میں خوش آمدید. مجھے لگتا تھا کہ بے روزگار ایک اجتماعی لفظ ہے. اس لفظ کے استعمال سے تمام بے روزگاروں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں. لیکن نوکری سیریز کے دوران سینکڑوں میسج سے گزرتے ہوئے لگا کہ نوجوان اپنی ملازمت، طلبہ اپنے امتحان کو لے کر مختلف گروپ میں منقسم ہیں. ایک گروپ کا دوسرے گروپ کی بے روزگاری یا تکلیف سے کوئی مطلب نہیں ہے. ریلوے کا بے روزگار، بي پي ایس سي کے امتحان کے بے روزگار سے مختلف ہے اور دونوں کا ایک دوسرے سے کوئی مطلب نہیں ہے. یہی پیٹرن آپ کو ہر دو گروپ کے اندر اندر نظر آئے گا. یہی وجہ ہے کہ تعداد میں زیادہ ہونے کے بعد بھی نوجوانوں کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے، نہ ہی ان امتحانات کو چار چار سال ٹال کر کسی پارٹی یا حکومت کو فرق پڑتا ہے. نوجوان چھوٹے چھوٹے گروپ میں لڑتے ہوئے اپنے لئے بے روزگار جیسے الفاظ کا استعمال کرتا ہوا گروپ ہے. یہی وجہ ہے کہ ہمارا نوجوان اپنی جنگ تو لڑ رہا ہے مگر اس کا دائرہ اتنا محدود ہے کہ لیڈروں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے. اب بھارت کے نوجوانوں کو چار پانچ سال اور ناقص امتحان کے انتظام کے ساتھ جینا ہی ہوگا. نہ نوجوان اپنی بربادی کے اسباب کو پہچانتے ہیں نہ ان کے سمجھدار ماں باپ. ہمارے نوجوانوں کی پولیٹكل کوالٹی یا سمجھ واقعی بہت خراب ہے. مدھیہ پردیش میں 18 فروری کو ریاستی سروس اور جنگل سروس کے ابتدائی امتحان ہوئے. چار دن بعد کمیشن نے جب اپنی ویب سائٹ پر پوچھے گئے سوالات کے جوابات ڈالے تو طالب علم حیران رہ گئے. وہ سمجھ نہیں پائے کہ سوال ہی غلط پوچھا گیا ہے یا جواب غلط دیا گیا ہے. قریب قریب 15 ایسے سوالات تھے جنہیں لے کر تنازعہ ہو گیا.

مدھیہ پردیش کے اخبار ان متنازعہ سوالات سے بھرے ہیں. جیسے بھارت چھوڑو کا نعرہ کس نے دیا تھا، اس سوال کے جواب میں جواہر لال نہرو لکھا ہے جو کہ غلط ہے. یوسف مہر علی نے یہ نعرہ دیا تھا. یہی نہیں، اب کسی طالب علم کو یہ بتانا ہے کہ جواب غلط ہے تو اس کے لئے اسے ایک سوال کے 100 روپے کی فیس درج کرنا ہو گی. اس بار 15 سوال کو لے کر تنازعہ ہے تو 1500 روپے کی فیس بھریں گے تب جاکر آپ کمیشن کو چیلنج کر سکیں گے کہ آپ نے جو جواب پیش کیا ہے وہ غلط ہے. دنیا میں ایسا نایاب نظام آپ کو کہیں نہیں نظر آئے گا. غلطی کمیشن کی ہے تو اسے خود ہی بہتر بنانا چاہئے مگر ہو یہ رہا ہے کہ کمیشن اپنی غلطی بتانے والے طالب علموں سے 1500 روپے مانگ رہا ہے. ٹھیک ویسے ہے جیسے کل کوئی وزیر اعلی کہے کہ آپ کو میری غلطی بتانی ہے تو آپ کو 1500 روپے فیس دینی ہوگی. کیا آپ اس نظام کو عقلی مانیں گے. کمیشن کہہ سکتا ہے کہ بڑی تعداد میں طالب علم چیلنج کرنے لگتے ہیں، دینے ہی چاہئے جب سوال غلط ہوں گے، جواب غلط ہوں گے تو لاکھوں طالب علموں کو چیلنج دینا چاہئے لیکن اس کے بدلے کیا ان سے فیس لی جائے گی. کیا یہ درست نہیں رہتا کہ کمیشن خود بہتر کرتا اور اپنی طرف سے جواب چھاپتا کہ یہی جواب ہے، ہمارا جواب غلط نہیں ہے. اس امتحان کے بعد طالب علم پریشان ہیں کہ فیس دے کر کمیشن کی غلطی ثابت کریں یا پردرشن کریں، یہ سب کریں گے تو پڑھیں گے کب. طلبا نے میمورنڈم تیار کر لیا ہے. وہ وزیر اعلی سے لے کر گورنر تک سب کو دے رہے ہیں. سیکرٹری وغیرہ کو بھی میمورنڈم دے رہے ہیں. نئی دنیا نے لکھا ہے کہ 2010 کے سال میں تو 40 سوال تبدیل کرنے پڑے تھے. آٹھ سال بعد اتنا سدھار ہوا ہے کہ 15 سوالوں پر سوال اٹھ گئے ہیں. آپ چاہیں تو اسی کو ترقی سمجھ سکتے ہیں. ظاہر ہے طالب علموں کی نیند اڑ گئی ہے.

کیا ہمیں ایک ایماندار اور امتحان کا بہتر انتظام نہیں چاہئے، یہ کیوں ہے کہ ہر ریاست میں نوجوان پریشان ہیں مگر کسی ریاست میں یہ سوال نہیں ہے. کیا نوجوانوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ ان کا مستقبل صرف اور صرف ہندو مسلم ڈبیٹ جیسے ٹاپک سے ہے. اگر نوجوان اپنے اپنے امتحان کو لے کر روتے رہیں گے تو ان کی ریاست میں کبھی ایک بہتر امتحان کا انتظام نہیں بنے گا. تو اپنے لئے نہیں دوسرے کے لئے بھی بولیے. ریلوے انمپریٹس کے طالب علم مظاہرہ کریں تو جنگل سروس والے بھی اس میں جائیں اور بي پي ایس سي کے طالب علم مظاہرہ کریں تو اس میں بینکاری امتحان والے بھی جائیں، ورنہ انقلاب کا وہ گانا روز سنا دیجئے، وہ جوانی جوانی نہیں، جس کی کوئی کہانی نہیں. کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے تو فی الحال ٹی وی کم دیکھئے. سلوگن میں جنت نہیں ہوتی ہے.

مدھیہ پردیش میں نرمدا ڈیم سے متاثر غریب کسانوں نے جب پردرشن کا یہ طریقہ نکالا تو ریاست کے نوجوانوں میں سے کم ہی نے ان کا ساتھ دیا ہوگا لیکن اب جب خود پر بیتی ہے تو ان کسانوں کے مظاہرہ کا خیال چراکر مظاہرہ کر رہے ہیں. مدھیہ پردیش میں محکمہ صحت میں معاہدے یعنی ایڈهاك پر کام کرنے والے ان دنوں غیر متعین مدت کی ہڑتال پر ہیں. وہ مستقل کئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں. کہتے ہیں وہ جتنا کام کرتے ہیں، اتنے ہی کام کو مستقل کرنے والوں کو دگنا پیسہ ملتا ہے. سیون ضلع میں جب ان نوجوانوں کو اپنا خیمہ تک لگانے نہیں دیا گیا تو یہ وان گنگا ندی میں اتر گئے. صبح ساڑھے گیارہ بجے سے لے کر شام چار بجے تک پانی میں رہتے ہیں. جب تک تمام مختلف گروپ میں لڑیں گے دریا کے بعد نالے میں بھی اتر جائیں گے تو بھی نظام کو فرق نہیں پڑے گا. یہ بنیادی بات سمجھنی ہی پڑے گی. چاہے آپ پرائم ٹائم دیکھیں یا نہ دیکھیں. یہ لوگ 12 سے 18 سال سے کام کر رہے ہیں، ابھی تک مستقل نہیں ہوئے ہیں. منصوبہ بندی کرنے اور مدت کار کے نام پر 2000 نکال بھی دیے ہیں. یہ لوگ سیون ضلع ہسپتال، سول ہسپتال، کمیونٹی ہیلتھ سروس سینٹر میں نرس ہیں، فارماسسٹ ہیں، ڈیٹا انٹری آپریٹر ہیں.

اتراکھنڈ سے ہمارے ساتھی دنیش مانسیرا نے بتایا ہے کہ ریاست بھر میں بے روزگاروں کے مختلف قسم کے بہت سے آندولن ہو رہے ہیں. جس طرح سے مجھے بے روزگار لفظ کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی اسی طرح دنیش مانسیرا کو ایک معلومات حاصل ہوئی ہے. وہ یہ کہ ریاست میں حکومت نے کئی بھرتی کو سائنس اور آرٹ میں بانٹ کر بے روزگاروں کو ہی آپس میں بھڑا دیا ہے. جیسے ریلوے بھرتی کو لے کر آئی ٹی آئی اور غیر آئی ٹی آئی کے طالب علم آپس میں بھڑے ہوئے ہیں.

26 فروری کو اتراکھنڈ کے وزیراعلی کی رہائش گاہ کے سامنے مظاہرہ کر رہیں تقریبا 30 خواتین کو پکڑ کر بس میں لے جایا گیا. ان سب کے پاس نرسنگ میں ڈپلوما ہے. 15 مارچ 2016 یعنی آج سے دو سال پہلے اتراکھنڈ میں خواتین کی صحت کارکن کے لئے 440 عہدوں کا اشتہارات نکلا تھا. 300 اور 600 کی فیس جمع کرکے 6600 سے زیادہ اے این ایم ڈپلوما والی خواتین نے درخواست دی. نئی حکومت آئی تو کیٹیگری بدل گئی. کہا گیا کہ 440 عہدوں پر انہی نرسنگ ڈپلوما والوں کو موقع ملے گا جنہوں نے 12 ویں میں سائنس پڑھا ہے. اب اس ایک فیصلے سے 5500 خواتین باہر ہو گئیں جنہوں نے 12 ویں آرٹس پڑھا تھا. جبکہ ان خواتین نے اتراکھنڈ حکومت سے تسلیم شدہ سرکاری اور پرائیویٹ نرسنگ کالج سے پڑھنے کے لئے تین سال میں تین سے چار لاکھ روپے خرچ کئے ہیں. تبھی حکومت کو یہ پالیسی بنانی چاہئے تھی کہ آرٹس سے پاس ہونے والی خواتین نرسنگ کی ڈگری نہیں لے سکتی ہیں. سرکاری نرسنگ کالج میں بھی آرٹس اور سائنس دونوں سے گریجویشن کرنے والی خواتین نرسنگ کر سکتی ہیں. پھر کام دینے میں اس کی تقسیم کیوں. بحالی کے عمل کو متنازعہ بنا دینا کوئی حکمت عملی لگتی ہے تاکہ اسی میں کیس مقدمہ ہوتا رہے اور ٹائم کٹ جائے. نوکری ملی نہیں، اب یہ لڑکیاں مظاہرہ کر رہی ہیں، پیسے جٹاكر کیس لڑ رہی ہیں. یہی نہیں فاریسٹ گارڈ، باغ محکمہ، جنگل کارپوریشن کی بھرتيوں میں بھی سائنس اور آرٹس کا بٹوارہ کر دیا گیا ہے. بے روزگار ویسے ہی بٹے ہوئے ہیں، ان شرائط سے اور بٹ جائیں اس سے بہتر حالت کیا ہو سکتی ہے.

ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز میں پانچ دنوں سے طالب علم مظاہرہ کر رہے ہیں. ممبئی کیمپس ہی نہیں، ٹسس کے باقی تین کیمپس میں بھی مظاہرہ چل رہا ہے. انتظامیہ کے ساتھ ملاقات تو ہوئی مگر حل نہیں نکلا ہے. آپ کبھی ٹس کے طالب علموں سے ملیے گا، ان کی کوالٹی کافی اچھی ہے، پڑھائی میں قابل تو ہیں ہی، سماج کی خدمت میں بھی ان طلباء نے کمال کیا ہے. پر یہ کارکردگی اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ، قبیلے اور او بی سی کے طالب علموں کو ملنے والی گرانٹس کی سہولت بھارت حکومت نے واپس لے لی ہے. ٹس نے حکم جاری کیا ہے کہ 2016-18، 2017-19 بیچ کے طالب علم ٹیوشن فیس، ہاسٹل فیس اور کھانے کی فیس ادا کریں. ان طلباء کو پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی سہولت مل رہی تھی جو اب بند ہو گئی ہے. میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکالر شپ نہیں روکی گئی ہے. انڈین ایکسپریس کی پرینکا ساہو سے بات کرنے ہوئے ٹس انتظامیہ نے کہا ہے کہ ادارہ اپنی سطح پر وسائل جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے. یہ عجیب منطق ہے. جب حکومت اسکالر شپ دے رہی تھی تو وہ ملنی چاہئے.

اب ایک ایسی مسئلہ کا ذکر ہوگا جس کا حل مجھے پتہ نہیں. رہنما سے لے کر طالب علموں نے کئی بار یو پی ایس سی سے کہا مگر ان کا حل نہیں ہوتا. جب بھی یو پی ایس سی کا فارم نکلتا ہے یہ طالب علم ایک چانس دیے جانے کی امید میں بے چین ہو اٹھتے ہیں. تمل ناڈو اور کیرالہ سے بھی طلبا نے رابطہ کیا تب لگا کہ بات رکھ دیتے ہیں. آپ جانتے ہیں کہ 2011 میں یو پی ایس سی کی ابتدائی امتحان میں سي سیٹ لاگو کیا گیا تھا. اسے لے کر خوب سوال اٹھے اور ہنگامہ ہوا. طالب علموں کا کہنا تھا کہ نئے نظام اس طرح سے ہے کہ سائنس، انجینئرنگ اور انگریزی میڈیم کے طالب علموں کو فائدہ ہو. آرٹس کے طالب علم پیچھے رہ جائیں گے اور ہندی میڈیم کے طالب علموں کو نقصان ہو.

سي سیٹ کی تحریک نے ایک بار زور پکڑا تھا تب بڑے بڑے لیڈر ان کی حمایت میں آئے تھے. 29 جنوری 2018 کو یو پی ایس سی کے سامنے طلباء نے مظاہرہ کیا تھا. 2015 میں حکومت نے سي سیٹ کو کوالیفائنگ راؤنڈ سے ہٹا دیا. حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ جن طلباء نے 2011 میں پہلی بار یو پی ایس سی کا امتحان دیا تھا ان کو ایک بار اور امتحان دینے کا موقع دیا جائے گا. لیکن 2012-13، 2013-14 میں جن طالب علموں کو سي سیٹ کی وجہ سے نقصان ہوا وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی ایک چانس ملے. ان کا خیال ہے کہ سي سیٹ جیسے نظام کی وجہ سے ان کا چانس بھی برباد ہوا ہے. اس سال جب جموں و کشمیر کے طالب علموں کو یو پی ایس سی سول سروس امتحان میں بیٹھنے کے لئے عمر کی حد میں پانچ سال کی چھوٹ دی گئی تو پھر سے یہ طالب علم پرامید ہو گئے اور بے چین بھی. ان کا کہنا ہے کہ جب وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی کوشش سے انہیں چھوٹ مل سکتی ہے تو ہمیں کیوں نہیں مل رہی ہے. شاید یہ طالب علم ہندو مسلم ڈبیٹ کے نام پر ٹی وی نے کشمیر کو جس طرح سے پیش کیا اور یہ اس کے کلائنٹ بنے ابھی ٹھگے ہوئے سے محسوس کر رہے ہیں.

ہم نہیں جانتے کہ یو پی ایس سی کیا فیصلہ لے گی لیکن اگر ان طالب علموں کو یہی لگتا ہے کہ پرائم ٹائم میں اٹھا دینے بھر سے ان کا کام ہو جائے گا تو یہی صحیح. ان طالب علموں کو ایک سوال خود سے بھی پوچھنا چاہئے جب دوسرے امتحانات کے طالب علم پردرشن کرتے ہیں تو کیا وہ ان میں جاتے ہیں، ان کے دکھوں سے انہیں تکلیف ہوتی ہے، اگر سوال کا جواب نہ میں ہے تو پرائم ٹائم میں بھی اٹھانے سے کچھ نہیں ہوگا . دعا کروں گا کہ انہیں ایک چانس مل جائے. گزارش کروں گا کہ ہندو مسلم ڈبیٹ بند کرانے میں فعال کردار ادا کریں ورنہ وہ جوانی جوانی نہیں جس کی کوئی کہانی نہیں والا گانا سننا پڑے گا. آپ دیکھ رہے ہیں نوکری سیریز کا 19 واں ایپی سوڈ. مرکزی بینک آف انڈیا نے اب تک 700 سے زائد طالب علموں کو جوانگ لیٹر نہیں دیا ہے جبکہ امتحان پاس کئے ہوئے سال گزر گئے ہیں. آپ ہی بتائیے 700 سے زائد طالب علم امتحان پاس کر چکے ہیں، میرٹ لسٹ میں آ جانے کے بعد کئیوں نے نوکری چھوڑ دی، اب انہیں 11 ماہ سے جوانگ لیٹر نہیں مل رہا ہے. کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پولٹكل فکسنگ والے میچ سے کہیں زیادہ یہ بڑی خبر ہے. خبروں کا اپنا ذائقہ اور اولیت بدل لیجیے ورنہ آپ کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہونے والا ہے بلکہ ہو چکا ہے.

الہ آباد میں اترپردیش پبلک سروس کمیشن کا دفتر ہے، اس کے سامنے طالب علموں نے گزشتہ جمعہ کو مظاہرہ کیا. یہ طالب علم انجنیئر ہیں. اسسٹنٹ انجینئر اور جونیئر انجینئر کی بھرتی کے لئے 2013 میں تحریری امتحان ہوئے تھے. جے ای کے 3222 عہدے تھے اور اسسٹنٹ انجینئر کے 952 عہدے تھے. اشتہار نکلا 2013 میں، تحریری امتحان ہوئے تین سال بعد 11-12 اپریل 2016 کو. جے ای کے تحریری امتحان ہوئے 22-23 مئی 2016 کو. اس کے بعد سے دو سال گزر گئے مگر رذلٹ نہیں آیا ہے. 11 دسمبر 2017 کو کمیشن کے سامنے ان نوجوانوں نے مظاہرہ کیا تو جواب ملا کہ 15 فروری کو اسسٹنٹ انجینئر اور اپریل میں جونیئر انجینئر کے رذلٹ نکال دیے جائیں گے. 15 فروری کو بھسم ہوئے 11 دن ہو گئے ہیں. یہ بھارت ملک میں ہی ہو سکتا ہے کہ 2013 ء کے امتحان کا نتیجہ فروری 2018 تک نہیں آیا ہے. تبھی میں کہتا ہوں بھارت کے نوجوانوں کو کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ان کی پولیٹكل کوالٹی بہت خراب ہے. خراب نہ ہوتی تو اس طرح کی ٹھگی ان کے ساتھ ہر ریاست میں نہیں ہوتی. میری بات بری لگ سکتی ہے مگر وہ خود سے چیک کر لیں میری ہی بات صحیح لگے گی.

پٹنہ میں ہمارے ساتھی منیش کمار سے جسمانی چیلنجوں والے طالب علم ملنے آئے. انہوں نے جو حال بتایا وہ سن کر آپ بے حال ہو جائیں گے. 2010 میں یہ لوگ امتحان پاس کرکے مختلف عہدوں کے لئے منتخب ہوئے تھے. ان کی تعداد 49 ہے. انہوں نے جوائن تو کیا مگر آٹھ ماہ بعد بہار ملازم منتخب کمیشن نے نوکری سے ہٹا دیا. ٹھیک اسی طرح جیسے جھارکھنڈ میں داروغہ کی دو سال کی تربیت دے کر، جوانگ کرا کر انہیں نوکری سے ہٹا دیا گیا. وجہ بتائی گئی کہ معذوری ریزرویشن کا صحیح عمل نہیں ہوا ہے. اس امتحان کا اشتہار 2010 میں نکلا تھا، تین سال بعد 24 اگست 2013 کو رذلٹ آیا. جنوری 2014 سے لے کر اگست 2014 تک کام پر رہے مگر بعد میں ہٹا دیے گئے. انہیں پرائم ٹائم کی نوکری سیریز سے توقع ہو گئی ہے کہ شاید حکومت سن لے.

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس ملک میں عدالت ہے یا نہیں. بالکل عدالت ہے اور پٹنہ ہائی کورٹ نے 20 اگست 2015 کو آرڈر بھی دیا تھا کہ ان 49 معذور افراد کو دوبارہ بحال کیا جائے. ابھی تک بحالی نہیں ہوئی ہے. یہ دوبارہ ہائی کورٹ گئے اور دسمبر 2016 میں دوبارہ ہائی کورٹ نے کہا کہ ان کی بحالی ہو. مگر نہیں ہوئی. آپ کو لگتا ہے کہ ہائی کورٹ کے دو دو احکامات سے جب کسی کو فرق نہیں پڑا تو پرائم ٹائم سے فرق پڑے گا.

ہم نے نوکری سیریز کا آغاز اسٹاف سلیکشن کمیشن کی امتحان سے کیا تھا. گزشتہ قسط میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ مہاراشٹر سرکل کے پوسٹل ڈیپارٹمنٹ سے جوانگ کے لئے 353 نوجوان جوائننگ لیٹر کا انتظار کر رہے تھے. ہم نے پرائم ٹائم کی نوکری سیریز کے 17 ویں ایپی سوڈ میں مہاراشٹر سرکل پر زور دیا تھا. آج مہاراشٹر سرکل کی ویب سائٹ پر پوسٹنگ کی خبر آ گئی ہے. 353 نوجوانوں کو بتا دیا گیا ہے کہ کس کی پوسٹنگ کس برانچ اور شہر میں ہوگی. یہ ہمارے لئے بھی خوشی کی بات ہے. اگر ایک شو سے 353 طالب علموں کی زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے تو نوکری سیریز مئی کی جگہ جولائی تک کروں گا. کیا ہمارے بھارت کے نوجوان ایک ایماندار امتحان انتظام نہیں حاصل کر سکتے ہیں، ارادہ کر لیں گے تو حاصل بھی کر لیں گے.

اسٹاف سلیکشن کمیشن کے امتحان سي جي ایل 2016 کے طالب علموں کے لئے بھی ایک اچھی خبر ہے. ہم نے اس امتحان کا بھی سوال اٹھایا تھا کہ پاس کر چکے نوجوانوں کو جواننگ لیٹر نہیں دیا جا رہا ہے. محکمہ انکم ٹیکس کے ادارے سي بي ڈي ٹي کے لئے 1114 عہدوں کے لئے امتحان پاس کر جواننگ کا انتظار کر رہے تھے. پہلی قسط میں بھی اس کا ذکر کیا تھا. آٹھ ماہ بعد اب خط ملے گا. انکم ٹیکس انسپکٹر کے عہدے پر جن کی تقرری ہوئی ہے انہیں ہدایات دی جاتی ہے وہ اپنی پسند کی جگہ حاصل کرنے کے لئے انتخابات کریں اور فارم جمع کریں. چلئے یہ بھی پوچھ رہے ہوں گے کہ ہولی کب ہے، کب ہے ہولی؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close