آج کا کالم

امتحان کے نظام پر کیوں اٹھتے ہیں سوال؟

رويش کمار

نوکری سیریز کا 29 واں ایپی سوڈ حاضر ہے. دہلی میں ایس ایس سی ہیڈ کوارٹر کے باہر ہزاروں طالب علم دھرنے پر بیٹھے ہیں تووہیں کئی طالب علم  پٹنہ کی سڑکوں پر داروغہ کے امتحان کو لے کر لاٹھی کھا رہے ہیں. راجستھان کے اخبارات میں وہاں ہو رہی سپاہی کی بھرتی کو لے کر سوالات کے لیک ہونے کی خبریں شائع ہو رہی ہیں. بھارت میں ایماندار امتحانی نظام کا ہونا بہت ضروری ہے. سلیکشن کمیشن میں ملازمین کی تعداد اتنی کم ہو گئی ہے کہ ان کے لئے بھی ان بحالیوں کو سنبھالنا مشکل ہے. اس کے لئے کون ذمہ دار ہے کہ امتحان کی تشہیر ہوئی، طالب علموں نے بھاری فیس کے ساتھ فارم بھرا اور اشتہارات سمیت امتحان لاپتہ ہو گئے. ایسے بہت سی امتحانات ہیں جو فارم بھرانے کے بعد لاپتہ ہو گئے ہیں. ہماری سیریز کا اثر ہو رہا ہے. نوجوانوں میں اپنے سوالات کو لے کر بیداری آنے لگی ہے. لکھنؤ میں 12،460 اساتذہ کو بڑی کامیابی ملی ہے.

16 مارچ کو صبح انہوں نے بنیادی تعلیم کے وزیر انوپما جیسوال کے گھر کے باہر دھرنا دے دیا. اپنے مطالبات کو لے کرپر امن طریقے سے بیٹھ گئے. یہ لوگ الہ آباد ہائی کورٹ سے دو دو بار کیس جیت آئے ہیں اس کے بعد بھی مطالبہ کر رہے ہیں. ان اساتذہ نے استاد بننے کے ساتھ دھرنا پردرشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں. لاٹھیاں کھائیں ہیں. ٹویٹر پر ٹرینڈ کرایا. ہم نے بھی پرائم ٹائم کے نوکری سیریز کے ایپی سوڈ 7، 24 اور 28 میں انھیں نمایاں طور پر دکھایا، اس کے بعد بھی انہیں تقرری کا خط نہیں ملا. عدالت نے کہا کہ 6 مارچ تک جواننگ لیٹر مل جائے مگر 16 مارچ کو یہ ضواننگ لیٹرکے لئے اپنے وزیر کا گھر گھیر رہے تھے. ضروری نہیں کہ یہ پرائم ٹائم کی نوکری سیریز کا ہی اثر ہو مگر سرکاری نوکری کو فوکس میں لانے کی ہماری ضد اثر کرے گی. ایک ایماندار نظامِ امتحان کا سسٹم اب بھی نہیں ہو گا تو کب ہوگا. طے کیجئیے. ٹی وی پر ہندو مسلم ڈبیٹ چاہئے یا ڈاکٹر بننے کا مواقع چاہئے. بہرحال بنیادی وزیر تعلیم انوپما جیسوال ان میں سے پانچ طالب علموں کو ان کی گاڑی میں لے گئیں اور وزیر اعلی سے ملاقات کرائی. خبروں کے مطابق وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے وعدہ کیا ہے کہ ایک ہفتے میں جواننگ لیٹر  مل جائے گا. 28 دن کے ہماری سفر میں ایس ایس سی کے 15000 نوجوانوں کے بعد اگر 12،460 اساتذہ کو جواننگ لیٹر ملتا ہے تو یہ عام بات نہیں ہے. مارے خوشی کے ہم اس نوکری سیریز کو اکتوبر تک چلانا چاہتے ہیں. جو جواننگ لیٹر عدالت کے دو دو احکامات کے بعد حاصل نہیں کر پائے کیا واقعی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ 1 ہفتے میں دے دیں گے؟

پہلے ان مظاہروں کا اثر کیوں نہیں ہو رہا تھا، وہ اس لیے نہیں ہو رہا تھا کہ میڈیا اور حکومتیں ان طالب علموں کو فالتو سمجھنے لگی تھیں. اب ہر طالب علم ایماندار امتحان کے علاوہ اور پاس ہونے کے بعد جواننگ لیٹر کی مانگ کو لے کر محتاط ہو گیا ہے. ان مسئلے کو میڈیا کے صفحات سے غائب کیا جا رہا ہے. اگر نوجوان اس طرح ٹکے رہے تو وہ نیوز چینلز کا بھی بھلا کر دیں گے. دو ماہ کے اندر اندر ٹی وی چینلز سے ہندو مسلم ڈبیٹ غائب ہو جائے گی. ہو ہی جانا چاہئے، ورنہ یہ آپ کے بچوں میں اور آپ کے ذہن میں بھی طویل عرصے تک کے لئے زہر بھر چکے ہیں. جگہ جگہ طالب علم سڑک پر ہیں، مگر کوئی سن نہیں رہا ہے. جھارکھنڈ میں 70 سے 80 ہزار استاد اپنی مانگ کو لے کر در در بھٹک رہے ہیں. استاد پیٹ پالنے کے لئے اسکول آنے سے پہلے اینٹوں بھٹوں میں مزدوری کر رہے ہیں. تماشا چل رہا ہے ملک میں. حکومتوں نے نوجوانوں کے ساتھ جو ٹھگی کی ہے اس سے بڑی خبر اس وقت بھارت میں کوئی بھی نہیں ہے. ٹی وی دیکھنے کا طریقہ بدل لیجیے، ورنہ ٹی وی آپ کو برباد کر دے گی. 18 دن سے دہلی میں ایس ایس سی کے باہر طالب علم دھرنے پر بیٹھے ہیں. بی جے پی دہلی  کے صدر منوج تیواری اور ان کی تنظیم کے لوگ چیئرمین سے مل آئے، مگر ان طالب علموں کا دعوی ہے کہ ان سے چیئرمین نے بات نہیں کی.

تو پھر یہ طالب علم یہاں کس لئے جمع ہوئے، آپ ان طالب علموں کی تعداد دیکھئے. یہ 18 دن سے یہاں جمع ہو رہے ہیں، نعرے لگا رہے ہیں مگر میڈیا اور حکومت کی طرف سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ آندولن ختم ہو گیا ہے. ٹی وی کیمروں کے ہٹ جانے سے عوام کی آنکھ بند نہیں ہو جاتی ہے. یہ طالب علم اپنے حالات دیکھ رہے ہیں. ان کا مطالبہ سے بھلے کچھ لوگوں کو رضامند نہ ہو مگر حالات سمجھئے. اگر ایماندار امتحانی انتظام نہیں ہوگا تو شک کے سوال ہوں گے، چوری دھاندلی کی خبریں اور افواہ دونوں ہی بڑے سطح پر پھیل چکی ہیں. یہ نوجوان اپنے لئے صرف اور صرف ایماندار اور شفافانہ نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ انہیں یہ نہ لگے کہ کسی نے پیسے دے کر نوکری لے لی. یہ ان کے ارمانوں پر ڈاکہ ہے. نیرَو مودی جی کے کروڑوں لے کر بھاگنے سے بھی بڑا جرم ہے، ایس ایس سی کی کیا اہمیت رہ گئی ہے آپ طالب علموں کے ہجوم سے اندازہ لگا سکتے ہیں.

نیوز چینلز کو لوگوں کے اس غصے کو سمجھنا ہوگا. گودی میڈیا کا کردار چھوڑ کر عوام کے مسائل پر آنا پڑے گا. یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ دن رات ہندو مسلم ٹاپک پر بحث کا موقع تلاش کرتے رہیں اور نوجوان، بینکر، کسان، آدھار سے متاثر غریب اپنے مسائل کو لے کر بھٹکتے رہیں. حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سی بی آئی کی جانچ ہوگی مگر انکوائری کس سطح پر ہے کون کر رہا ہے، ان طلباء کو پتہ نہیں ہے. ان کا کہنا ہے کہ جانچ جلدی ہو اور تب تک 2017 کے امتحان ملتوی ہوں. وہ یہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں تحقیقات ہو. ویسے ایس آئی ٹی بنی ہے بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے، آپ کو پتہ ہے اس کا رذلٹ کیا ہے. کیا پتہ نکلا ہو ہمیں پتہ نہ ہو اور اس سے پہلے نیرَو مودی جی ہی نکل لئے.

آخر کانگریس کے صدر راہل گاندھی کو بھی ان کے درمیان آنا پڑا. راہل گاندھی نے ان کی حمایت میں 15 مارچ کو ٹویٹ بھی کیا تھا مگر جس امتحانی نظام سے کروڑوں طالب علموں کی زندگی متاثر ہو رہی ہے اس کے بارے میں راہل صرف ٹویٹ کر کے کیسے رہ سکتے تھے، انہیں ان کے درمیان میں آنا پڑا. یہ سیاست ہے تو یہی سیاست کرنی پڑے گی. آپ بھارت کے کسی بھی ریاست میں انتخاب کمیشن کا حال پتہ کیجئیے، بہار میں ایک بي پی ایس سي ہے، 2014 میں جو فارم بھرا گیا تھا اس کا رذلٹ مارچ 2018 تک نہیں آیا. ہماری حکومتیں کس طرح ہمارے نوجوانوں کے خواب کے ساتھ کھیل سکتی ہیں. اس کے پہلے یہاں بی جے پی کے ایم پی منوج تیواری، میناکشی لیکھی بھی آ چکی ہیں. یوگیندر یادو تو کئی بار آئے. ششی تھرور نے بھی ان مسائل میں دلچسپی دکھائی، اب راہل آئے ہیں تو انہیں بھی انتخاب کمیشن کے بارے میں کوئی ٹھوس وعدہ کرنا ہوگا.

ہمارے نوکری سیریز کی شروعات دسمبر میں ہی ہو گئی تھی جب ایک لڑکی کے کہنے اور تفصیل سے سمجھانے پر میں نے اپنے بلاگ اور فیس بک پیج پر ایک مضمون لکھا. وہ مضمون وزیر اعظم اور راہل گاندھی کو خط کی شکل میں تھا کہ آپ ان زیر التواء امتحانات پر توجہ دیں. مگر سب نے ہلکے میں لیا. میں اس لڑکی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں مگر اس کا نام بھول گیا ہوں. اس نے مجھے نہ سمجھایا ہوتا تو اتنی بڑی تبدیلی نہیں آتی، ہماری سیریز کے دوران اسی اسٹاف سلیکشن کمیشن سے پاس ہوئے مختلف وزارتوں سے 15،000 سے زائد نوجوانوں کو تقرری کے خط نہیں ملتے۔ ابھی تک بہت سے وزارتیں آرام فرما رہی ہیں، جواننگ لیٹر نہیں دے رہی ہیں. وہ ضد پر ہیں تو ہم بھی ضد پر ہیں. آپ ہی بتائیے کس دلیل سے ہم اسے سمجھیں کہ اگست 2017 میں میرٹ لسٹ آنے کے بعد یہ نوجوان سات ماہ سے گھر پر بیٹھیں. کیا حکومت کو ان سات مہینوں کی بھی تنخواہ انہیں جواننگ کے دن نہیں دینا چاہئے. میری رائے میں انہیں جواننگ کے پہلے ہی دن سات ماہ کی تنخواہ بھی ملنا چاہئے. راجستھان، پنجاب، ہماچل، بنگال، بہار، یوپی، دہلی میں نوجوانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر دھوکہ ہوا ہے. دہلی سلیکشن کمیشن کی حالت اتنی بری ہے کہ کیا بتائیں. 2013 کے امتحانات لاپتہ ہو گئے ہیں. کوئی بتانے سننے والا نہیں ہے. یہ کب تک چلے گا. میٹرک کے طالب علم 31 مارچ کو دہلی چلو کا نعرہ دینے لگے ہے.

29 دنوں تک ایک ہی ٹاپک سے سر میں درد ہو جاتا ہے. روز ہم خود سے لڑتے ہیں کہ پھر وہی ٹاپک، مگر کسی نوجوان کا فون آجاتا ہے کہ ایک بار اور کوشش کر دو. ہم جٹ جاتے ہیں. آپ ہی بتائیے مجھے کیا کرنا چاہیے، 29 دنوں کی اس سیریز سے نوکری حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد 50،000 کی طرف بڑھ رہی ہے. دو تین لاکھ خاندانوں میں اس وقت خوشی کا ماحول ہوگا. کیا مجھے اسے پورے سال نوکری سیریز نہیں کرنی چاہئے. جب نیوز چینل تین مہینہ تک ایک فلم پر بحث کر سکتے ہیں تاکہ معاشرے میں فسادی عناصر کو فروغ ملے تو آپ کو کم از کم 6 ماہ تک اس سیریز کو میرے ساتھ دیکھ ہی سکتے ہیں. وعدہ رہا، سماج کو خوبصورت بنا دوں گا. تو بتائیے 2019 میں کون جیتے گا اس پر بحث کرنی چاہئے یا 2014 میں جو جیتا ہے اس جیت کا کیا ہو رہا ہے، اس پر بحث کرنی چاہئے. اس پر توجہ کرنا چاہئے. آپ نہیں بھی بتائیں گے تو بھی میں نوکری سیریز ہی کروں گا. بینک سیریز بند نہیں ہوئی ہے، پیر سے پھر اس میں جٹنے والا ہوں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close