آج کا کالم

امت محمدیہ کو متحدہونے کا امام حرم کاپیغام

ڈاکٹراسلم جاوید
قرآن وسنت میں اتحاد و اتفاق کی زبردست تلقین اور اخوت اسلامی اور بھائی چارہ کی عملی مثالوں کے باوجود آج پورا عالم اور ہندوستانی مسلمان اپنے فرض سے غافل دشمنوں کے نرغے میں، مسلک و برادری اور فرقوں میں کٹے پھٹے، باہم سرپیکار ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان تین بڑے دائروں میں اختلاف و انتشار پایا جاتا ہے:۱۔مسلکی اختلافات ۲۔برادری کے اختلافات ۳۔جماعتی اختلافات
مسلکی لحاظ سے ہندوستان کی پوری آبادی شیعہ اور سنی دوخانوں میں بٹی ہوئی ہے اور پھر یہ دونوں خانے بھی مختلف ذیلی خانوں میں منقسم ہیں۔ شیعہ اور سنی، دیوبندی بریلوی کشاکش ہر گلی و شہر میں برپا ہے۔ جس نے اسلام اور اہل اسلام کی بڑی ہوا خیزی کی ہے اور ملت واحدہ کی بیشتر توانائیاں انہیں مسلکی فتنوں کو ہوا دینے یا دبانے میں صرف ہوتی رہی ہیں۔ فرقہ وارانہ اور مسلکی جراثیم کے زہر ہر گلی و کوچے میں گھولے جارہے ہیں۔
آج عمومی طور پر ہم ہندی مسلمانوں کو جوچیز سب سے زیادہ کمزور کررہی ہے وہ یہی اختلافات ہیں،جس کی وجہ سے کلمہ شریک بھائی ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے کیلئے قطعی طورپر اجنبی بنے ہوئے ہیں۔باطل طاقتیں یہی چاہتی ہیں کہ مسلمانوں میںاختلافات قائم رہنے چاہئیں ،تاکہ یہ قوم کسی بھی محاذ پرکامیاب نہ ہونے پائے۔بی جے پی کے سینئر لیڈر مسٹر سبرامنیم سوامی باضابطہ طورپرادران وطن کو یہ کھلے لفظوں میں کہہ بھی چکے ہیں،جو وہاٹس ایپ اوردیگرسوشیل سائٹوں پر کافی دنوں تک ان کا یہ بیان موضوع بحث بھی رہاتھا۔ہمیں خوشی ہے کہ دیر سے ہی مگر صدرجمعیت علماءہند مولانا سیدارشد مدنی اتحاد کیلئے امت محمدیہ کو آوازدینے میں کامیاب رہے ہیں۔انہوں نے اپنی اس کوشش کو استحکام بخشنے کیلئے اما م حرم کو مدعوکیا اوروہ جہاں بھی جارہے ہیں،جہاں بھی خطاب کررہے ہیں ،بلااختلاف مسلک ومشرب انہوں تمام مسلمانوں کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔کل وہ اسی سلسلے میں بنگلو رمیں جمعیة علماءہند کے زیر اہتمام منعقدہ عظمت صحابہ کانفرنس میں خطاب فرمارہے تھے۔انہوں نے فرما کہ اسلام امن ،محبت اور اتحاد کی تعلیم دیتا ہے اور میںخادمین حرمین شریفین اور سعودی عرب کے علماء، ائمہ اور عوام کی جانب سے امن، محبت اور اتحاد کا پیغام  لے کرہندوستان آیا ہوں۔ واضح ہو کہ امام حرم جمعیة علماءہند کی دعوت پر آج کل ہندوستان کے دورے پر ہیں۔ امام حرم نے صحابہ کرام  کی عظمت اور دین کی اہمیت کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول کریم کے بعد دین صحابہ کرام کے توسل سے ہی ہم تک پہنچا ہے۔ اگر صحابہ کرام نہ ہوتے تو دین ہم تک نہ پہنچ پاتا۔ انہو ں نے فرمایا کہ دین اسلام کے لئے صحابہ کرام کی خدمات ہمارے لئے مشعل راہ بھی ہیں۔دوران تقریر امام حرم  نے سورہ حشر کی آیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایاکہ ایک تو صحابہ ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو ان کے نقش قدم پہ چلتے ہیں ا ن کے لئے اللہ نے اپنی رضا کا وعدہ فرمایا ہیں۔آپ بتائیے کہ آپ ان کے نقش قدم پہ چلتے ہیں یا جولوگ صحابہ کے نقش قدم سے انحراف کرتے ہیں ان کے نقش قدم پہ چلتے ہیں۔امام صاحب نے فرمایا آپ لوگ صحابہ کے نقش قدم پہ چلیں گے؟ تمام لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر وعدہ کیا کہ ہم صحابہ کے نقش قدم پہ چلیں گے۔ امام حرم نے ایک بار پھر وضاحت فرمائی کہ اسلام امن محبت اور اتحاد کا درس دیتا ہے اور وہ خادمین حرمین شریفین کے اسی پیغام کے ساتھ ہندوستان آئے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر یہ بات بھی کہی کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے چنانچہ اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں دیگر مذاہب کے درمیان پھیلا دی گئی ہیں انہیں دور کرنے کے لئے علمائے کرام کو بین المذاہب مذاکروں کا انعقاد کرنا چاہئے اور اس طرح کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے۔ انہوں نے مسلمانوں سے متحدہوکر اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے پر اصرار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں خود بھی ان تعلیمات پر پوری مستعدی اور مضبوطی سے عمل کرنا چاہئے۔ امام حرم نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ائمہ اربعہ نے دین کو اچھی طرح سمجھا اور ملت اسلامیہ کو دین اسلام پر عمل کرنے کا طریقہ بتایا۔ ان ائمہ کا طریقہء عمل مختلف اور الگ ہوسکتا ہے لیکن قرآن وحدیث کے تعلق سے ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں رہا اور انہوں نے تقویٰ کے ساتھ قرآن و سنت کی تشریح کی۔ امام حرم نے فرمایا کہ مسلکی اختلاف کے باوجود ان کے درمیان جو اتحاد تھا وہ ہمارے لئے قابل تقلید ہے۔امام کعبہ ڈاکٹر صالح نے کہا کہ آج اسلام کو دشمن طاقتوں سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اتحاد، اخوت و رواداری کی ہے۔ اختلافات اور سرکشی سے ہمیں دور رہنا چاہیے۔ سب سے بدترین وہ لوگ ہیں جو تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ امام کعبہ نے مزید کہا کہ جو صحابہ سے دوری رکھنا چاہتے ہیں ان سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں  نے کہا کہ سعودی حکومت دین اعتدال پر قائم ہے، یہ بات کچھ طاقتوں کو پسند نہیں آتی اسی لئے وہ اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے یہ ہدایت دی کہ وہ ہندوستان جائیں اور وہاں کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیں کہ مذہب اسلام امن کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمان باہم متحد ہوں اور اپنی صفوں میں انتشار نہ رکھیں۔ اس طرح کی وہ کوششیں جو مسلمانوں میں انتشار پیدا کرتی ہیں ان کے خلاف جدو جہد کی جائے۔اما حرم نے خاص طورپر دہشت گردی کے حوالے سے کہا ہے کہ اس خونریزی کی مذہب اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
آج پوری دنیا میں دہشت گردی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ اور تقریباَدنیا بھر میں ہونے والے تمام تر دہشت گردی کے واقعات ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے جو کہ بحیثیت مسلمان میرے لئے باعث تکلیف اور شرمندگی ہے۔ آج دنیا بھرکے مسلمانوں کو شک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جدھر بھی مسلمان نظر آتے ہیں ان کو دہشت گرد کا خطاب دے دیا جاتا ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہےکہ دنیا کیوں ایک پل میں تصویر کاصرف ایک ہی رخ دیکھ کر مسلمانوں کو دہشت گرد کا خطاب دے دیتے ہیں۔ حال ہی میں فرانس ،بیلجیم میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس کی تازہ مثال ہیں۔وہ جو ہمیشہ مسلمانوں پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگاتے ہیں، کیا وہ اسلامی تعلیمات اورمسلمانوں کے ماضی سے آگاہ ہیں ؟ اسلام تو امن وآشتی اور پیار محبت کا دین ہے، جو دشمن کو بھی معاف کر دینے اور شفقت برتنے کا درس دیتا ہے، بھلا اس مذہب کے پیروکار اتنے ظالم اور سنگ دل کیسے ہوتے ہیں؟ کسی بھی چیز کو پرکھنے سے پہلے سکے کے دونوں رخ ضرور دیکھنے چاہیں، پھر آپ کو پوراحق ہے کہ آپ اپنی رائے قائم کریں۔
دنیا کی نظر میں دہشت گرد قراردیا جانے والا اسلام وہی دین ہے جس کے پیغمبر نے بے پناہ طاقت ہونے کے باوجود اپنے دشمنوں کو ہر موقع پر معاف فرمایا اور پیارومحبت سے ان کا دل جیتا۔ اسلام اسی پیغمبر کا دین ہے جس نے پتھرکھاکربھی اپنے دشمنوں کو دعادی اور معاف فرمادیا۔امید کی جانی چاہئے کہ اما حرم فضیلة الشیخ صالح ابن محمدکے پیغام کو حکومت ہند بھی اہمیت دے گی اورمسلمانوں کو دہشت کے الزام میں پھانسنے سے پہلے اس نکتہ ضرور غور کرے گی کہ یہاں ناجائزخونریزی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اسلم جاوید

1967ڈاکٹر اسلم جاوید نے ہاپوڑکے ایک معززخاندان میں ڈاکٹرالحاج نصیراحمد صاحب کے گھرمیں آنکھیں کھو لیں ۔ 1989میں آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج قرول باغ دہلی سے بی یوایم ایس کی تعلیم مکمل کی۔ مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ہیں۔ ملک وبیرون ملک معیاری روزناموں، ماہنامو ں اوردیگر طبی رسالوں میں کاوش قلم شائع ہوتی رہی ہیں۔ 2012 سے ماہنامہ ’ریکس طبی میگزین ‘کے مدیراعلی کے طورپرتحریری خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میگزین کی اشاعت عالمی شہرت یافتہ یونانی دواساز کمپنی ریکس ریمیڈیزپرائیویٹ لمیٹیڈ کے کلی تعاون سے ہورہی ہے۔ علاوہ ازیں سوسائٹی کے زیراہتمام منعقد ہونے والے سیمیناروں اورتقسیم ایوارڈ تقاریب کے موقع پرایک معیاری اور مفید ترین سووینرکی اشاعت بھی ان کے زیرادارت ہی ہوتی ہے۔ طبی خدمات کی تائید و اعتراف میں سری لنکاکی کولمبو یونیورسٹی کی جانب سے جنوری2012میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاگیا۔

متعلقہ

Close