آج کا کالم

امرتسر ریلوے حادثہ

رام بھروسے چل رہے ملک میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے

وراگ گپتا

امرتسر میں ریل حادثے کے بعد وزیر اعلی اور مرکزی وزیرِ ریل نے غیر ملکی دوروں کو منسوخ کرکے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وجئی دشمی کو راون دہن کے دن ہوئی ان موتوں سے یہ پھر ثابت ہوا کہ رام بھروسے چل رہے ملک میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ ملک میں ٹرین سے كٹ كر موت کے سب سے بڑے حادثے کے لیے کس کی جواب دہی ہے اور کون مجرم ہے؟

نیتاؤں کی شہ پر ریلوے کی زمین میں جھگیوں کی بھرمار

 ریلوے حادثوں کو روکنے اور بچاؤ کے انتظامات کے لیے متعدد کمیٹی اور کمیشن بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر انل كاكوڈكر کی صدارت میں بنی اعلی سطحی کمیٹی کی طرف سے 2014 میں دی گئی رپورٹ کی سفارشات کو لاگو کرنے کے لیے ایک لاکھ کروڑ کا مکمل فنڈ اب بھی جاری ہونا ہے۔ پرانی سفارشات کو لاگو کرنے کی بجائے حادثوں کو روکنے کے لیے 20 ہزار کروڑ روپے سے نئے سیکورٹی کے نظام کو انسٹال کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق ریلوے کی زمین پر 47 ہزار جھگیوں میں 5 لاکھ لوگ صرف دہلی میں ہی رہتے ہیں۔ ان میں سے 25 ہزار جھگياں ریلوے ٹریک کے 15 میٹر کے دائرے میں ہیں۔ غیر قانونی جھگیوں کے مافیا کے پیچھے بی جے پی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی جیسی پارٹیوں کے سیاستدانوں کا مفاد اور ووٹ بینک کی سیاست ہے، تو پھر ریلوے کے حفاظت کے قوانین پر عمل کون کرائے؟

ریلوے کے 1989 کے قانون پر عمل کی جواب دہی کے لیے مرکز ذمے دار

 ریلوے کے افسر اس ایونٹ کی رسمی جانکاری اور معلومات نہ ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے گیٹ مین نے ڈاون سِگنل دیا تھا اور ڈرائیور نے ٹرین کی رفتار دھیمی نہیں کی۔ سوال یہ ہے کہ شمالی ریلوے کے فیروز پور ڈویژن کے افسران، ریلوے سیکورٹی کمشنر، آر پی ایف اور جی آر پی کے حکام کے پاس برسوں سے ہو رہے اس تقریب کی معلومات کیوں نہیں تھی۔ ریلوے کے آپریشنل اور حفاظت کے لیے پارلیمنٹ کی طرف سے 1989 میں بنائے گئے قانون کی دفعہ 151 اور 153 کے تحت لاپرواہ افسروں کو پانچ سال کی سزا کیوں نہیں ہونا چاہیے؟

انتظامیہ اور پولیس میں تال میل کی ناکامی کے لیے ریاست ذمے دار

 ایسے پروگراموں کو منظوری دینے کے لیے قوانین کے مطابق عوام کے بیٹھنے کا صحیح انتظام، پارکنگ، فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کا بندوبست ضروری ہوتا ہے، جس کا شاید ہی کبھی عمل ہوتا ہو؟ راوَن دہن کے پروگرام کا آرگنائزر کانگریس کے مقامی کونسلر کا بیٹا بتایا جا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق گزشتہ سال کے پروگرام کو پولیس کی منظوری نہیں ملنے کے باوجود اس سال منظوری مل گئی تھی۔ مقامی انتظامیہ اور فائر بریگیڈ خود کو انجان ہی بتا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دھوبی گھاٹ کے چھوٹے میدان میں ہزاروں لوگوں کی بھیڑ کے انتظام کے لئے مقامی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے؟

ودھایک، سنسد اور وزراء کی جواب دہی بھی طے ہو

 امرتسر سے نوجوت سنگھ سدھو اور اوپی سینی ممبر اسمبلی، وزیر ہیں اور سنسد بھی کانگریس پارٹی سے ہیں۔ لچھے دار تقریر کرنے والے سدھو کی بیوی نوجوت کور حادثے کے بعد عوام کی مدد کی بجائے، جائے حادثہ سے ندارد ہو گئیں۔ سرکاری ریسکیو ٹیم کے آنے تک زیادہ تر زخمیوں کو عوام کی طرف سے ہسپتال پہنچایا جا چکا تھا۔ نیتاؤں کے ذریعہ وِدھایک اور سنسد فنڈ کو اپنے چہیتوں کے درمیان بندربانٹ کیا جاتا ہے، لیکن رفاہی کاموں کی توسیع کے لیے سرکاری پیسے کا صحیح استعمال نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ جائے حادثہ اور ریلوے ٹریک کے درمیان 10 فٹ کی دیوار کو ممبر اسمبلی یا پارلیمنٹ فنڈ سے اونچا کیوں نہیں کرایا گیا؟ افتتاحی پروگراموں میں تصویر كھچانے والے عوامی نمائندوں کی ایسے حادثوں کے لیے جواب دہی اب کیوں نہیں طے ہونی چاہیے؟

مرکز اور ریاستوں کا انٹیلی جینس نظام فیل

 ملک میں پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں وی آئی پی ڈیوٹی میں مصروف رہتی ہیں اور عوام کو ایسے حادثوں کا شکار ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خوفناک دور سے گزر چکے پنجاب میں ہوئے اس ریلوے حادثے سے مرکز اور ریاستوں کی انٹیلی جینس ایجنسیوں کی قلعی پھر کھل گئی ہے۔ ملک میں ہزاروں عوامی پروگراموں کی باقاعدہ اطلاع دینے کی جواب دہی، منتظمین کے ساتھ چیف گیسٹ نیتاؤں کی کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ چین میں برهمپتر کا پانی روکے جانے کا معاملہ ہو یا پھر امرتسر کا ریل حادثہ۔ انٹیلی جینس ایجنسیاں اگر حادثے کے پہلے ہی قانون کی خلاف ورزی کرنے کے پہلے ہی اپنا اِن پُٹ دے دیں تو ایسے واقعات کی تکرار یقینا روکی جا سکتی ہے۔

حادثے سے سبق کی بجائے پھر سے ہوگی ليپاپوتی

 گجرات کی بی جے پی حکومت میں غیر گجراتیوں کو اجتماعی طور سے بھگایا جا رہا ہے تو وہیں پنجاب کی کانگریس حکومت میں ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ مرنے والوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کے درد اور آہ و بکا کو سرکاری معاوضے سے کب تک دبایا جائے گا؟ اس حادثے کے بعد میڈیا کی سرگرمی کے رہنے تک کچھ حکام کا سسپینشن اور کچھ کا تبادلہ ہوگا۔ ریاست اور مرکزی حکومت کے درمیان الزام تراشی کے کئی راؤنڈ چلنے کے بعد ملک کا نظام کیا پھر سے رام بھروسے ہو جائے گا؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وراگ گپتا

وراگ گپتا سپریم کورٹ ایڈووکیٹ اور آئینی امور کے ماہر ہیں۔

متعلقہ

Close