امرناتھ مسافروں پر حملہ: کشمیریت پر دھبا لگانے کی سازش؟

رويش کمار

امرناتھ مسافروں پر حملے کے بعد کی سیاست اوپری سطح پر کہیں زیادہ بالغ اور سنبھلی ہوئی ہے، لیکن دوسرے درجے کے رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں کے درمیان اس واقعہ کو لے کر ردعمل ساری حدوں کو پار کر گئی ہے. ہم اس پر آئیں گے، لیکن پہلے واقعہ سے متعلق کچھ سوالات اور پہلوؤں پر نظر ڈالنا ضروری ہے. بس ڈرائیور شیخ سلیم غفور بھائی نے سمجھداری نہ دکھائی ہوتی تو دہشت گرد بس میں سوار مسافروں پر اور قہر برپا سکتے تھے. شیخ سلیم گجرات کے ولساڈ کے راج اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں اور 8 سال سے مسافروں کو لے کر امرناتھ جا رہے ہیں.

سلیم نے بتایا کہ دہشت گرد گولیاں چلاتے رہے مگر انہوں نے بس روکی نہیں. سر جھکا کر 70-80 کی رفتار سے بس بھگاتے رہے. باہر سیاہ اندھیرا تھا اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا. فوج کا کیمپ دکھا، تب جاکر بس روکی. ایک خاتون نے بھی کہا کہ ڈرائیور اتنا بہادر تھا کہ بس چلاتا ہی رہا. تین اطراف سے گولیاں چل رہی تھیں. اس نے ہم سب کی زندگی بچا لی. واقعہ کے ایک گھنٹے بعد رات ساڑھے نو بجے سلیم شیخ نے اپنے بھائی کو فون کر کے سب کچھ بتایا. جموں کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے شیخ سلیم کو 3 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے. گجرات کے وزیر اعلی وجے رپاي نے کہا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو لکھیں گے کہ شیخ سلیم کو بہادری کا تمغہ دیا جائے.

بس کا رجسٹریشن ہوا تھا یا نہیں  کل سے مختلف ذرائع کے حوالے سے خبر آ رہی تھی کہ بس امرناتھ مزار بورڈ سے رجسٹر نہیں ہے، ورنہ اس سراكشا قافلے کے ساتھ دوپہر بارہ بجے ہی جواہر ٹنل پار کرا دیا جاتا. سلیم کا کہنا ہے کہ بس کا رجسٹریشن ہوا تھا ورنہ مسافر درشن کس طرح کرتے. 2 جولائی کو ہی درشن ہو چکا تھا اور مسافر سیر وسیاحت کر رہے تھے. ہمارے ساتھی نذیر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بس نے سیکورٹی کے چھ ناکے پار کیے مگر اسے روکا نہیں گیا. یہ کس طرح ہو سکتا ہے، خاص طور پر تب جب وہاں کسی بھی منٹ دہشت گردانہ حملے کا خدشہ تھا. سلیم نے یہ بھی بتایا کہ اس کے ساتھ کچھ اور بسیں بھی تھیں مگر اس کی بس کا ٹائر پنچر ہو گیا تو بسیں آگے نکل گئیں . پنچر ٹھیک ہونے کے بعد سلیم اپنی بس لے کر آگے نکلا تو حملہ ہو گیا. راستے میں کچھ جگہوں پر دو تین سیکورٹی ملازم نظر آئے مگر تعداد کم تھی اس لئے بس نہیں روکی. کہیں بیان ہے کہ اندھیرا اتنا تھا کہ کچھ نظر نہیں رہا تھا، کہیں بیان ہے کہ دو تین سیکورٹی ملازم نظر آئے تو بس نہیں رکی. اس لیے لگتا ہے کہ سلیم کا بیان اہم ہوتے ہوئے بھی یہ چوک کیسے ہوئی، اس کو ذمہ دارانہ اور آخری جواب نہیں سمجھا جانا چاہئے. اس سوال کا جواب آنا باقی ہے کہ بس کس کے کہنے سے دیر شام سرینگر سے روانہ ہوئی. کیا مسافروں نے زور دیا، کیا مسافروں کو نہیں پتہ تھا کہ خطرے کا کام ہے. راجیو رنجن کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی پولیس مانتی ہے کہ شام سات بجے کے بعد موٹروے پر بس نہیں جا سکتی تھی. قاعدہ ہی نہیں ہے تو صرف بس طرح گئی اور جب گئی تب ناکے پر کسی نے بس کو روکا کیوں نہیں . اگرچہ رام مادھو کی غلطی کی وضاحت کرتے رہیں لیکن نائب وزیر اعلی بھی مانتے ہیں کہ سیکورٹی میں چوک ہوئی ہے اور اس کی جانچ پڑتال کرنا چاہئے.

مہاراشٹر کے ڈهاو سے نرملا ٹھاکر بھی مسافروں میں شامل تھیں . ان کی موت ہو گئی. ان کی بیٹی نیتو سنگھ نے آرگنائزر پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے. اس واقعہ کی ملک بھر میں تمام کمیونٹیز نے مل کر مخالفت کی ہے، لیکن سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ اس واقعہ کے بہانے منافرت پھیلانے کا جو کام کر رہے ہیں ، اس کا بھی علیحدہ سے مطالعہ کرنا چاہئے. واقعہ کو لے کر غصہ اور ردعمل کی آڑ میں ذمہ دار شخص سیکورٹی کو لے کر سوال نہیں کر رہے تھے، کشمیر کی پالیسیوں کی ناکامی کو لے کر سوال نہیں کر رہے تھے، ان لوگوں پر سوال کر رہے تھے جن کا اس واقعہ سے لینا دینا نہیں تھا اور جو گزرے  پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے رہے ہیں . اسی کی زد میں آکر ایک خاتون نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ٹویٹر پر نامناسب زبان میں ان سے کہہ دیا کہ کشمیریت کی پرواہ کسے ہے. آپ کا کام تشٹیکرن نہیں ہے. ان بزدلوں کو کھینچ کر بھون دیجیے. تو اس پر وزیر داخلہ نے خاموشی نہیں سادھی اور نہ ہی گھما پھرا کر جواب دیا. انہوں نے کہا، مس کالرا، یہ میرا کام ہے کہ میں ملک کے ہر حصے میں امن اور ہم آہنگی بناؤں ، تمام کشمیری دہشت گرد نہیں ہوتے ہیں .

پبلک اسپیس میں راج ناتھ سنگھ کا یہ جواب ایک شاندار مثال ہے. انہوں نے سیاست کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داری کو صاف الفاظ میں بتا دیا کہ وزیر داخلہ کا کام ہے سب کی فکر کرنا اور سب کی حفاظت کرنا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام کشمیری دہشت گرد نہیں ہوتے ہیں. مس کالرا بھی راجناتھ سنگھ کی شرافت کے آگے شرمسار ہو گئیں اور انہوں نے اپنا ٹویٹ ڈلٹ کر لیا. اس کے لئے مس کالرا کی بھی تعریف کی جانی چاہئے کہ وہ وزیر داخلہ کی باتوں کو سمجھ گئیں. عمر عبداللہ بھی راجناتھ کے اس جواب کے قائل ہو گئے اور لکھا کہ شاندار راجناتھ جی، آپ نے مجھے مرید بنا لیا، میں آپ کو سلام کرتا ہوں. آج آپ کی قیادت کا شکریہ.

کشمیر میں اس واقعے کی مخالفت وہاں کے ہر سطح کے رہنماؤں نے کی ہے. میر واعظ عمر فاروق، سید گیلانی اور یاسین ملک نے مشترکہ بیان جاری کر اس واقعہ کی مذمت کی ہے. کہا ہے کہ یہ واقعہ کشمیریت کے خلاف ہے. امرناتھ یاترا صدیوں سے پر امن طریقے سے پوری ہوتی رہی ہے. ہماری نیک تماییں مظلوم خاندانوں کے ساتھ ہیں. سری نگر میں ٹور اینڈ ٹریولس چلانے والوں نے بھی مظاہرہ کرکے اس واقعہ کی مذمت کی ہے. دہلی میں جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے گیٹ پر اساتذہ نے بھی موم بتی جلا کر اپنی تعزیت پیش کی اور جنتر منتر پر ناٹ ان مائی نیم والے پھر جمع ہو گئے. واقعہ کے دسویں منٹ سے ہی لوگ لکھنے لگے کہ کہاں ہیں ناٹ ان مائی نیم والے. کیا اب وہ کریں گے جب ہندو بھائی مرے ہیں. وہ یہ بھول گئے کہ ناٹ ان مائی نیم کی تختی لے کر لوگ بھیڑ کے تشدد کے خلاف اترے تھے. بی جے پی کے لیڈر اور قومی ترجمان جي وي ایل نرسمہا راؤ بھی شامل ہو گئے. جي وي ایل کو راجناتھ سنگھ کا ٹویٹ سنبھال کر رکھ لینا چاہئے. انہوں نے ٹویٹ کیا کہ امرناتھ قتل پر کیا ناٹ ان مائی نیم گینگ مخالفت کر رہا ہے یا یہ احتجاج صرف اخلاق، جنید اور پہلو خان ​​کے لئے ہوتے ہیں، بھگوان شو کے شردھالووں کے لئے نہیں. جي وي ایل کے اس ٹویٹ کا کیا مطلب ہے. واقعہ کے فورا بعد مذمت کی جگہ پرنندا ہونے لگی. کوئی اس کے لیے دانشوروں کو ذمہ دار ٹھہرانے لگا تو کوئی حال ہی میں بھیڑ کی تشدد کے خلاف ہوئے ناٹ ان مائی نیم مظاہروں کو ٹارگیٹ کرنے لگا. ناٹ ان مائی نیم کو کوسا جانے لگا کہ کیا اب وہ امرناتھ کے ہندو مسافروں کے خلاف مظاہرہ کیا جایے گا. ایسے لوگوں کے سامنے ایک مسئلہ تھا اگر وہ خود مظاہرہ کرنے اترتے تو انہیں اپنی پسند کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنی پڑتی، لہذا وہ انہیں ٹارگیٹ کرنے لگے جو یہ کام کر سکیں. ایک طرح سے یہ لوگ ناٹ ان مائی نیم کو صرف ہدف نہیں بنا رہے تھے، بلکہ ان سے امید کر رہے تھے کہ وہ سڑکوں پر آئیں اور مظاہرہ کریں.

جس طرح اس مہم کو نشانہ بنایا گیا ہے اس دیکھ کر لگتا ہے کہ اب کوئی مخالفت تب تک مخالفت نہیں مانی جائے گی جب تک ناٹ ان مائی نیم کی تختی لے کر لوگ مظاہرہ نہیں کریں گے. یہ ان کی بڑی کامیابی ہے. اس کھیل میں چالاکی ہو رہی تھی. کشمیر کی پالیسی، وہاں کے چیلنجز اور ناکامی پر سوال نہیں ہو رہے تھے، سیکورٹی میں چوک کو لے کر سوال نہیں ہو رہا تھا، کسی کی جوابدہی کو لے کر سوال نہیں ہو رہا تھا، استعفی کی بات نہیں ہو رہی تھی، بات ہو رہی تھی ناٹ ان مائی نیم والوں کی. یہ انتہائی ہوشیار طریقہ ہے۔ ذمہ داری کے سوال کو کہیں اور شفٹ کر دیا گیا تھا. تم کہاں تھے، تب بولے تو اب بولو. کسی کو یہ پوچھنا چاہئے تھا کہ جب جموں کشمیر کے پولیس اہلکاروں کی موت ہوتی ہے تو ان کے لئے کون نکلتا ہے، کیا وہ لوگ انجام دینے گئے تھے جو ناٹ ان مائی نیم والوں کو تلاش کر رہے ہیں . اس تو تو میں میں کا کوئی مطلب نہیں ہے. ویسے منگل کی دوپہر خبر آنے لگی کہ ناٹ ان مائی نیم کے منتظمین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ جنتر منتر پر آئیں . هرديش جوشی جنتر منتر پر تھے. وہاں جمع ہوئے لوگوں میں کشمیری بھی تھے اور صحافت کے عظیم انسان گنیش شنکر ودیارتھی کے گاؤں سے بھی کوئی آ گیا تھا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے