آج کا کالم

امریکہ میں ایک اور خبط الحواس دہشت گردی

ڈاکٹر سلیم خان

گیارہ ستمبر کے بعد امریکی تاریخ کا سب سے بڑاحملہ گزشتہ سال  جون میں اورلینڈو نائٹ کلب پر حملہ ہوا تھاجس میں 50 ہلاک اور 59 زخمی ہوئے۔ لاس ویگاس کے حملے نے وہ ریکارڈ توڑ دیا۔  اس بار 59 ہلاکتیں  اور 500  سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اورلینڈوحملہ   ایک سنکی مزاج عمر متین  کی حرکت تھی اس لیے پولیس چیف نے اسے نفرت کا جرم  ( Hate Crime)قراردیا۔ سابق صدر اوبامہ نے ان  حادثات  کوبلا ثبوت مذہب سے جوڑنے کو غلط ٹھہرایا۔ حملہ آور کے والد صدیق میر کے مطابق  ان کے بیٹے کی ہم ہم جنسوں سے نفرت  کلب پر حملےکا سبب بنی۔ امریکہ کے دستور میں اگر چہ  تعدد ازدواج  پر پابندی  ہے مگرہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ہے۔ عوام  کی ایک بڑی تعداد لوطیتسے نفرت کرتی ہے۔ دو سال قبل جب  امریکہ کی سپریم کورٹ نے اس غیر فطری  شادی کو جائز قرار دیا تو 9 رکنی بینچ میں سے 4 جج مخالف تھے  جن میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ اس حملے کے بعد  امریکہ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی بحث پھر سے چھڑ گئی تھی۔ ان تمام حقائق کے باوجود چونکہ حملہ آور افغانی نژاد مسلمان تھااس لیے میڈیا نے اسےمذہبی رنگ دے کر داعش سے جوڑدیا  اور عوام کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے اس معاندانہ رویہ پر ایک لطیفہ یاد آتا ہے۔ یوروپ  میں کسی خاتون  پر ایک کتے نے حملہ کردیا۔  پاس سے گزرتے ایک شخص نے جان پر کھیل کر اس عورت کی جان بچائی  اگلے دن کے اخبارات میں بچانے والے کی تصویر کے ساتھ چھپا”انگریز ہیرو نے عورت کو کتے سے بچالیا‘‘اس شخص نے اخبار کے دفتر فون کرکے کہا:” میں انگریز نہیں ہوں ‘‘دوسرے دن اخبار نے لکھا ” ایک غیر ملکی نے عورت کو جان پر کھیل کر کتے سے بچایا”۔ اس شخص نے پھر فون کیا اور بتایا’’میں غیر ملکی نہیں مقامی  مسلمان ہوں .”تیسرے دن اخبار نے اعتذارکیا” خطرناک دہشت گرد نے  بے ضرر پالتو کتے پر حملہ کردیا”۔ جس طرح ٹرمپ اور مودی کی اسلام دشمنی مشترک  ہے اسی طرح ہندوستان اور امریکہ کا میڈیا بھی مسلمانوں کی مخالفت میں ایک دوسرے کا بھائی ہےکیونکہ دونوں مقامات پر وہ  مسلم دشمن حکومت کا باجگذار ہے۔

لاس ویگاس کا حملہ آور 64 سالہ ریٹائرڈ اکاؤنٹنٹ اسٹیفن کریگ پیڈک ہے۔ اسٹیفن کے بھائی ایرک نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والد ایک بینک لٹیرے تھے جن کا نام  ایف بی آئی کی سب سے زیادہ مطلوب فہرست میں  شامل تھا اور انہیں ایک بار جیل سے فرار ہونے کا بھی شرف حاصل تھا۔ 1969 میں پیڈک کو دماغی مریض قراردیا گیا تھا۔  ایرک نے کہا کہ اس کےبھائی کو بندوقوں کا شوق نہیں تھا لیکن حال میں اس نے دسیوں ہزار دالرس کا جوا کھیلا تھا۔ اسٹیفن کے دوسرے بھائی بروس پیڈک کے مطابق حملہ آور ملٹی ملین پراپرٹی سرمایہ کار تھا۔ سانحہ کے کچھ گھنٹے بعد اس حملے کی ذمہ داری  داعش نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ پیڈک نے اسلام قبول کرلیا تھا اور یہ حملہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی ایماء پر کیا گیا۔  اس کے باوجود ذرائع ابلاغ نے اسٹیفن کو اسلام سے جوڑنے کا کام نہیں کیا اس لیے کہ وہ عیسائی تھا۔  میڈیا کا یہ  نفاق فی زمانہ انتظامیہ کی جانبداری سے زیادہ خطرناک ہوگیا ہے۔ وہ لوگ دہشت گردی کو ایک فعل نہیں بلکہ فرد سے جوڑ دیکھتے ہیں  اور حملہ آور کے مذہب کی بنیاد پر یہ طے کرتے ہیں کہ وہ دہشت گرد ہے یا ایسا جنونی جس کا دماغی توازن بگڑ گیا ہو۔ حملہ آور کے مسلمان نکلتے ہی اس کا تعلق دین اور ملت  سے جوڑ دیا جاتا ہے بصورت دیگر وہ اس کا انفرادی  عمل قرار پاتا ہے۔

 امریکی حکام نے داعش کے  دعویٰ  کی تردیدتو کی لیکن پتہ لگانے کی زحمت نہیں کی کہ  آخرایسا بے بنیاد دعویٰ کون اور کیوں کرتا ہے؟ پولیس افسر لومبارڈو نے بتایا کہ اسٹیفن کے گھر سے 18 رائفلیں۔  گولہ باردو اور کئی ہزار گولیاں برآمد کی گئیں نیز  گاڑی سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز امونیم نائٹریٹ بھی ملا اس کے باوجود لومبارڈو نے کسی ہوائی قیاس آرائی کرنے کے بجائے کہا  ’’ہمیں نہیں معلوم کہ اس حملہ آور کا تعلق کس عقیدے سے تھا۔ میں ایک پاگل کے دماغ کے اندر نہیں جھانک سکتا۔ ‘‘ انہوں یہ گواہی ضرور دی کہ پیڈک کا ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ پولیس کے پاس موجود نہیں اور نہ ہی اس حملے سے پہلے وہ مشکوک تھا۔ انتظامیہ کی جانب  جس طرح کے احتیاط امریکہ میں برتا جاتا ہے ہندوستان کے اندر نہیں ہوتا۔ ایسا حادثہ اگرہمارے ملک  میں رونما ہوجائے  تو اس کو پلک جھپکتے لشکر اور جیش سے جوڑ کر نہ جانے کتنے بے قصور مسلم نوجوانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونس دیا جاتا؟ جہاں تک ہندوستانی  میڈیا  کی کذب بیانی کا سوال ہے تو اس  کے آگے امریکہ تو دور یہودی بھی پانی بھرتے ہیں۔   ارنب کو دیکھ کر تو مودی جی اور شاہ جی بھی شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں۔

امریکی  نوجوانوں کے اندر کارفرما اشتعال انگیزی کے پس پشت  اسلحہ رکھنے کا بنیادی حق بھی اہم اکردار ادا کرتا ہے۔ صدر اوبامہ نے اسے ساقط کرنے بارہا کوشش کی لیکن اسلحہ ساز سرمایہ داروں ایوان کے ارکان کو خرید کر انہیں ہر بار ناکام کردیا۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ امریکہ میں ہر سال 33 ہزار سے زائد لوگ فائرنگ سے ہلاک ہوتے ہیں۔  ان میں سے دو تہائی خودکشی کرتے ہیں اور 12 ہزار کسی مخبوط الحواس  مجرم کا شکار ہوتے ہیں۔  لاس ویگاس  قتل عام سے قبل 2007 میں ورجینیا ٹیک یونیورسٹی میں ایک طالب علم نے 32 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد 2012 میں سینڈی ہوک اسکول میں ایک قاتل نے 26 اسکولی بچوں  کو قتل کرنے سے قبل اپنی ماں کو موت کے گھاٹ اتاردیا جو وہاں استانی تھی۔ پچھلے سال  دو مختلف واقعات میں 9 افراد ہلاک ہوے۔ یہ  مثالیں شاہد ہیں کہ  اسلحہ رکھنے کا قانون، جنونیوں  کوجرائم  کےارتکاب میں معاون ہوتا ہے لیکن سرمایہ دارانہ جمہوریت اس عفریت کی پرورش کرتی ہے۔  اس کے باوجود جو لوگ مغرب کی ذہنی غلامی میں گرفتار ہیں  وہ اقبال کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں؎

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں           

  نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

الکشن، ممبری، کونسل، صدارت      

  بنائے خوب آزادی نے پھندے

میاں نجار بھی چھیلے گئے ساتھ         

 نہایت تیز ہیں یورپ کے رندے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close