آج کا کالم

 امریکہ میں  ٹرمپ کی آمد 

امریکہ میں ٹرمپ آوگن کا دور شروع ہو چکا ہے. انتخابات کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں  گے. اب کہہ رہے ہیں  کہ بھوتو نہ بھوشيت ٹائپ عظیم بنا دیں  گے. حمایتی نعرے لگاتے ہیں  کہ امریکہ کو عظیم بنا دو، ٹرمپ کہتے ہیں  بنا دیں  گے، بنا دیں  گے. عظیم اور گریٹر ملک کی تاریخ جنگ کی تاریخ ہے. اس طاقت کو حاصل کرنے کی تاریخ ہے، جسے صرف لکھنے کے لیے دکانیں  ہی نہیں  کھولنی ہوتی ہیں، توپیں  بھی چلانی ہوتی ہیں. اس وقت میں  دنیا میں  بہت سے ملکوں  میں  رہنما اپنے ملک کو تسلي بخش عظیم بنانے کا دعوی کر رہے ہیں . اپنی سانسیں  تھام لیجیے، آپ عظمت کے نئے دور میں  داخل ہو رہے ہیں . ان سفید صفحات پر نظر رکھئے جہاں  نئی ​​تاریخ لکھی جانی ہے. بشرطیکہ کچھ نئی تاریخ بن پایے تو. لکھا گیا تو.

ٹرمپ آوگن کو لے کر ایک طرف حامیوں  کی بھیڑ میں ایک طرح کا جوش  ہے. واشنگٹن پہنچ رہی ہے. ٹرمپ اس امریکہ کے ہیرو ہیں،  جو شہروں  میں  نہیں  رہتا ہے. ٹرمپ کو ڈ سرٹو امیدوار کہا جا رہا ہے. ہمارے یہاں  جمائے کھیل بگاڑ دینے والاڈ سرٹو کہلاتا ہے. لوگ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں  مگر سمجھ نہیں  پا رہے ہیں . لیکن ٹرمپ کے ووٹر جوش سے بھرے ہیں. امریکی پارلیمنٹ کے سامنے کے نیشنل مال میں  لاکھوں  کی تعداد میں  جمع ہو رہے ہیں . ٹرمپ حامی ماسک لگا کر آئے ہیں  جس پر لکھا ہے، امریکہ کو پھر سے عظیم بنا دو. ان کے لیے امریکہ میں  نئی ​​صبح کا آغاز ہونے والا ہے. ان کے استقبال کی تقریب کا بائیکاٹ بھی ہو رہا ہے. تقریبا 50 کانگریس ارکان نے تقریب میں  شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے. 1973 میں  بھی رچرڈ نکسن کے حلف برداری کی تقریب 80 ممبران پارلیمنٹ نے بائیکاٹ کیا تھا. نیویارک میں  ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل اور ٹاور کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں . رابرٹ ڈی نیرو جیسے بڑے فنکاروں  نے حصہ لیا ہے. رابرٹ ڈی نیرو نے کہا کہ جو بھی ہوگا ہم محب وطن، امریکی، نيوياركر اپنے ملک کے شہریوں  کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں . عورت مخالف بیان کے خلاف خواتین نے بھی ٹرمپ کے حلف  تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے. خبروں  کے مطابق دو لاکھ چالیس پانچ ہزار کے قریب لوگ ٹرپاگمن کے خلاف واشنگٹن میں  مارچ کریں  گے. اس کے علاوہ دنیا کے مختلف شہروں  میں  600 مارچ نکالے جانے کا دعوی کیا جا رہا ہے. 2009 میں  اوباما کے انا گریشن میں  18 لاکھ لوگ آئے تھے. دیکھتے  ہیں  کہ ٹرپاگمن کے لئے کتنے لوگ آتے ہیں.

 ٹرمپ کے حامی کہہ رہے ہیں  کہ انہوں  نے اسے اس لیے چنا  کیا کیونکہ وہ امریکہ کو عظیم بنانے کی بات کر رہے ہیں . بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ٹرمپ حامی نے کہا ہے کہ اسے بھی برا لگا تھا جب 2009 میں  اوبامہ نے حلف لی تھی اس لیے ٹرمپ کو لے کر دکھی لوگوں  کا درد سمجھ سکتا ہوں . امریکہ عوام دو حصوں  میں  بٹ گئی ہے. تقریب کے لئے 28000 سیکورٹی فورسز تعینات کئے گئے ہیں . خبروں  کے مطابق اس نظم پر 200 ملین ڈالر کا خرچہ آئے گا. بھارتی روپے میں  تقریبا 1400 کروڑ ہوتا ہے. ہمارے ہی لیڈر اچھے ہیں . حلف برداری کی تقریب پر اتنا خرچہ نہیں  کرتے.

 امریکہ کے سولہویں  صدر، غلام رواج کو ختم کرنے والے ابراہم لنکن کی مورتی کے سامنے ٹرمپ کو دیکھ کر کسی نے چٹکی لی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ کے حا می لنکن کی وراثت کو پسند نہ کرتے ہوں . کیا ٹرمپ ان کی وراثت کو آگے بڑھا ییں  گے. ٹرمپ نے سیاہ فام یعنی افریقی امریکی لوگوں  کا مذاق اڑایا ہے. خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے زمانے میں  ان کے حقوق پر حملے ہوں  گے. اسی تناظر میں  لنکن میموریل پر ٹرمپ کی تقریر کو دیکھا جا رہا ہے. لیکن ٹرمپ ہوتے کہیں  اور ہیں ، بولتے کچھ اور ہے. اب تک ان کا انداز بتاتا ہے کہ وہ اپنی تقریر میں  امریکہ کو متحد رکھنے کی بات تو کر دیں  گے لیکن لوگوں  کو یہ بھی سنائی دے گا کہ اسی ٹرمپ نے کہا ہے کہ میکسیکو کے لوگوں  کو امریکہ میں  گھسنے نہیں  دیں  گے. امریکہ میں  مسلمانوں  کے آنے پر عارضی طور پر روک لگا دیں  گے. ایک کروڑ سے زیادہ ماگریٹ کو باہر نکال دیں  گے. پھر بھی ان کی تقریر پر پوری دنیا کی نظر ہے. حلف لینے کے بعد پہلے چند گھنٹوں  میں  وہ اوباما کے کن فیصلوں  کو پلٹتے ہیں  اس پر بھی نظر ہے. ٹرمپ تمام تنقید سے متاثر نہیں  نظر آتے ہیں. اپنی باتوں  میں  بار بار دہرا رہے ہیں  کہ یہ ایک تحریک ہے، دنیا میں  اس طرح کی تحریک کہیں  نہیں دیکھی ہوگی. آپ میں  سے آدھے لوگ ہیٹ پہنے ہوئے ہیں، امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں  گے. ان باتوں  سے لگتا ہے کہ ٹرمپ امریکہ کو نئے سرے سے وضاحت کریں  گے. ان باتوں  کا یہی مطلب ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں  سے آئے لوگوں  سے جو امریکہ بسا ہے، اب امریکہ ان کا ہے جو اس کی اصل باشندے ہیں . جو ہیٹ پہننتے ہیں. حامیوں  کو لگتا ہے کہ ٹرمپ امریکہ میں  روزگار واپس لائیں  گے.

 سارا کھیل ملازمتوں  کا ہے. عوام دنیا بھر میں  اپنی حکومتوں  سے ملازمتوں  کی امید لگائے بیٹھی ہے. ایک نہ ایک دن وہ اپنے گھر سے لے کر پڑوس تک میں  ملازمتوں  کو لے کر دکھائے گئے خواب کی حقیقت بھی جان لے گی. تمام اعداد و شمار بتاتے ہیں  کہ اقتصادی عدم مساوات بڑھ رہی ہے. سو پچاس امیر لوگوں  کے پاس دنیا کی آدھی جائیداد ہے. ظاہر ہے باقی کے پاس کچھ نہیں  ہے، یا بہت کم ہے. دنیا میں  اب تک ان سو پچاس لوگوں  کی صحت پر کوئی اثر نہیں  پڑا ہے. نہ پڑے گا. نہ ہندوستان میں  نہ امریکہ میں . روزگار بڑھنے کے تمام دعووں  کو گنتے رہیں . یہاں  بھی امریکہ میں  بھی.

240 سال کے جمہوری تاریخ میں  ٹرمپ پہلے ہیں  جو کسی فوجی سروس میں  نہیں  رہے ہیں  نہ ہی کسی عوامی عہدے پر رہے ہیں . 70 سال کی عمر میں  صدر بن رہے ہیں. اس عمر میں  پہلا دور شروع کرنے والے ٹرمپ پہلے ہیں . ٹرمپ کب کیا بولیں  گے اور کیا کریں  گے، کسی کو اندازہ نہیں  ہے. ٹرمپ کا ہی بیان ہے کہ ایک ملک کے طور پر ہم انپرےڈكٹبل ہونا چاہئے. یعنی کب کیا کریں  گے کسی کو پتہ نہ ہو. خارجہ پالیسی کو لے کر پوری دنیا کی نگاہ ان پر ہے. ایران کے ساتھ امریکہ نے جو جوہری معاہدہ کیا تھا کیا اسے تبدیل کر دیں  گے. ٹرمپ کہتے ہیں  کہ اس سے بری ڈیل کبھی نہیں  ہوئی ہوگی. کیا ان بیانات کی طرح فیصلے بھی ہونے جا رہے ہیں . اگر ٹرمپ نے اپنے بیانات کو فیصلے میں  تبدیل کرنا شروع کیا تو کیا ہوگا. اس طرح کے قیاس لگ رہے ہیں . کبھی کہتے ہیں  کہ ہمیں  ایران کے ساتھ ڈیل کے ساتھ جینا ہی ہوگا. آب و ہوا چینج یعنی موسمیاتی تبدیلی کو لے کر ان کے بیانات کو لے کر زیادہ فکر ظاہر کی جا رہی ہے. ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پیرس معاہدہ کو منسوخ کر دیں  گے. ایک طرف چین کی پالیسیوں  کا جائزہ لے رہا ہے. کوئلے سے چلنے والے کئی بجلی گھروں  کو بند کر رہا ہے. ٹرمپ کہتے ہیں  کہ آب و ہوا کی تبدیلی کی بات آخر ہے. لیکن وہی ٹرمپ کہتے ہیں  کہ جوہری ہتھیاروں  کا ذخیرہ کم کرنا چاہیے. کیا یہ اچھی بات نہیں  ہے. آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ کی بات کرتے کرتے کہتے ہیں  کہ ہمیں  تیل کو ہی برباد کر دینا چاہئے. نیٹو کے بارے میں  بھی ان کا بیان بدلتا ہی رہا ہے.

کل ملاكار چیلنج یہ ہے کہ ٹرمپ کو ان بیانات کے تناظر میں  ہی دیکھا جائے یا اب پالیسیوں  کا انتظار کیا جائے. بیانات سے وہ کئی بار پلٹتے ہیں . وہ اپنا نیا آداب قائم کر رہے ہیں . کچھ بولو اور جب دل کرے پھر نیا بول دو.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close