آج کا کالم

امریکی ادارے کی اس رپورٹ کا نوٹس لیا جانا چاہیے

سال 2015 میں ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد میں 17 فیصد اضافہ ہواہے ۔ ہندوستان میں سال 2015 مذہبی آزادی کے لیے بہت مشکل سال رہا۔ متذکرہ بالا یہ دو جملے دو الگ الگ رپورٹوں کے عنوانات ہیں ، اول الذکر ہندوستانی وزارت داخلہ کی رپورٹ کا حصہ ہے جبکہ دوسرا جملہ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کا ہے ، لفظوں کی تبدیلی کے ساتھ یہ دونوں جملے ہندوستان میں مذہبی آزادی کو درپیش چیلنج اور فرقہ وارانہ تشدد کی صورت حال پیش کرتے ہیں ۔ یہ رپورٹیں مرکزکی مودی حکومت کی بڑی ناکامی پر سے بھی پردہ اٹھاتی ہیں ۔ حالیہ رپورٹ امریکی ادارے کی ہے دنیا بھر میں مذہبی آزادی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ” یونائیٹیڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلجیس فریڈم "نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ 2015 ہندوستان میں مذہبی آزادی کے لیے بہت مشکل سال رہا ، امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران ہندوستان میں مذہبی رواداری میں بہت تیزی سے گراوٹ درج کی گئی ہے ساتھ ہی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی میں بھی اضافہ ہوا ہے اس رپورٹ کو امریکی کانگریس کی منظوری بھی حاصل ہے یہ اس ادارے کی سالانہ رپورٹ ہے ، یہ امریکی ادارہ ہر سال دنیا بھر میں مذہبی آزادی پر رپورٹ تیار کرتا ہے ۔ کمیشن نے حکومت ہند سے ان عہدیداروں اور مذہبی رہنماؤں کی سرزنش کر نے کو کہا ہے جنہوں نے مذہبی اقلیتوں کے بارے میں نازیبا بیانا ت دیے ہیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں سال 2015 میں مذہبی رواداری کی صورت حال بدتر ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سال میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں بڑھتی چلی گئیں ۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے اس بات کو بھی اپنی رپورٹ میں ظاہر کیا ہے کہ سروے کے لیے ہندوستان جانے والی اس کی ٹیم کے ارکان کو اس سال کے اوائل میں حکومت ہند نے ویزا دینے سےبھی انکار کر دیا تھا۔ ویزا جاری نہ کرنے کی یہ دلیل دی گئی تھی کہ مذہبی آزادی ہندوستان کے آئین میں موجود ہے اور کسی غیر ملکی تیسرے فریق کو اس پر تبصرہ کرنے یا اس کی جانچ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اقلیتی برادری خاص طور پر عیسائی، مسلمان اور سکھوں کو دھمکی، اور تشدد کے ایسے کئی واقعات کا سامنا کرنا پڑا جس میں بڑے پیمانے پر ہندو قوم پرست تنظیموں کا ہاتھ تھا۔ اس نے الزام لگایا ہے کہ حکمران بی جے پی کے ارکان نے درپردہ طور پر ان تنظیموں کی حمایت کی اور کشیدگی کو ہوا دینے کے لئے مذہبی بنیاد پر تقسیم کرنے والی زبان کا استعمال کیا۔ یو ایس سی آئی آر ایف نے کہا ہے کہ ان مسائل نے پولیس متعصب رویے اور عدالتوں سے حصول انصاف میں تاخیر نے ایسا ماحول پیدا کیا جہاں مذہبی اقلیتوں میں عدم تحفظ اور خوف کا ماحول بڑھتا چلا گیا اور اس کا دائرہ دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ ان حالات نے ہندوستان کو مذہبی آزادی کے معاملے میں دوسرے درجے کے ممالک کی فہرست میں رکھا ہے اس فہرست میں افغانستان، کیوبا، انڈونیشیا، ملائیشیا، روس جیسے ممالک کے نام شامل ہیں۔ رپورٹ میں جنوری 2015 میں امریکی صدر براک اوباما کے ہندوستان دورے کے دوران اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے اوباما کی تعریف کی ہے۔ رپورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کی ایک تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سال 2015 میں ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔
امریکی ادارے کی تازہ رپورٹ نے جن دشواریوں کی نشاندہی کی گئی ہےاس میں گزشتہ 22 ماہ میں اضافہ ہی درج کیا گیا ہے ۔ خود وزارت داخلہ کی جولائی 2015میں پیش کی گئی رپورٹ کے بعد بھی اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اس رپورٹ نے مرکزی حکومت کی کمزوریوں کو منظر عام پر لا دیا ہے ۔ سروے ٹیم کے ارکان کو ویزا جاری کرنے میں دشواریوں کا ذکریہ بتاتا ہے کہ موجودہ حکومت میں عدم برداشت کس درجہ سرایت کر گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جن امور و مسائل کی جانب اس رپورٹ میں توجہ مبزول کرائی گئی ہے کیامرکزی حکومت کوئی نوٹس لے گی؟ حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے سرگرم گروپوں کو بھی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت پر دباو ڈالنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ مسلم تنظیموں کو بھی آگے آنا چاہیے جو طویل عرصے سے یہ احساس کرتی رہی ہیں کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو اقوام متحدہ تک لے جائیں گے ان کے لیے یہ رپورٹ ایک مظبوط بنیاد فراہم کرتی ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

اشرف بستوی

اشرف بستوی معروف اخبار سہ روزہ دعوت کے نائب مدیر اور اردو کے مشہور و معروف نیوز پورٹل ایشیا ٹائمز کے مدیر اعزازی ہیں۔ آپ آل انڈیا آئیڈیل جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے موسس بھی ہیں۔ آپ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ

Close