آج کا کالم

امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی فتح کا مطلب

رویش کمار

امریکہ میں میڈیا ہار گیا ہے. اینكرس اور ایڈیٹرس کی ضمانت ضبط ہو گئی ہے۔ وہ الیکشن تو نہیں لڑ رہے تھے، لیکن ہلیری کلنٹن کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔ عوام نے ٹرمپ کو جتا دیا، جنہیں وہاں کی میڈیا نے اڈيٹ تک کہا۔ اوپینین پول کی شکست تو ایسی ہوئی ہے کہ دہلی اور بہار انتخابات کی بھی یاد نہیں آ رہی ہے۔ ‘اب کی بار ٹرمپ سرکار’ وہاں ہو گیا ہے۔ یہ انتخابات ان رہنماؤں میں اعتماد پیدا کر سکتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بغیر میڈیا کے وہ الیکشن نہیں جیت سکتے۔ جب بھی میڈیا اقتدار سے منسلک کسی لیڈر کا پرچارک بن جاتا ہے، رہنما اس میڈیا کو دیکھتے تو ہیں مگر اس کی سنتے نہیں ہیں۔ آج امریکی چینلز کے اسٹوڈیو میں اداسی چھا گئی۔ واشنگٹن کی سڑکوں پر سناٹا پھیل گیا۔ میڈیا ہلیری کے استقبال میں مصروف تھا، آ گئے ٹرمپ۔ جب بھی میڈیا کسی لیڈر کے لئے بیٹنگ کرتا ہے، عوام اسے آؤٹ کر دیتی ہے۔ ٹرمپ کی جیت پر تنقید کرنے والےحیران ہیں تو میڈیا کی اس شکست پر ہندوستان کے دیہات میں بھی جشن منایا جانا چاہئے۔ امریکی اخبارات نے اعلانیہ طور پر ہلیری کی حمایت کرنی شروع کر دی تھی۔ ان کے قصیدے پڑھےجانے لگے تھے۔

کہا جانے لگا کہ اس بار ان کی باری ہے۔ امریکہ میں پہلی بار خواتین صدر بنیں گی، تاریخ رقم ہوگی۔ انتخاب مونچھیں بڑھا کر یا گھنٹوں گا کر لمکا بک آف ریکارڈ میں نام لكھانے کا موقع نہیں ہوتا ہے۔ پھر بھی ہلیری کی شکست کو لے کر امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگ حیران ہیں۔ کیا ہلیری کمزور امیدوار تھیں یا حالات نے ہلیری کو بیگانہ بنا دیا؟ اس وقت دنیا کی بڑی آبادی کو پہلے روٹی چاہئے، پہلے ملازمت چاہئے. پہلی خاتون یا پہلا انجینئر صدر یا وزیر اعظم نہیں چاہئے۔ لیکن وہاں کی میڈیا کے لئے ہلیری رام دلاری بن گئیں۔ تمام اقتدار سے جڑے لوگ اور میڈیا اعلانیہ طور پر ہلیری کی حمایت کرنے لگے۔ امریکی میڈیا نے ٹرمپ میں برائی دیکھی، آگے آکر عوام کو آگاہ کیا، یہ اچھا کام تو کیا مگر تب وہ میڈیا کہاں تھا جب برنی سینڈرز عوام کے حق کا سوال اٹھا رہے تھے۔ یہی میڈیا برنی کا مذاق اڑانے میں لگا ہوا تھا۔ عوام میڈیا کو سمجھ گئی ہے۔ ہندوستان میں بھی کسانوں کی بات کیجئے تو میڈیا مذاق اڑاتا ہے۔ ہارورڈ کے منسوخ شدہ طالب علموں کے دم پر یہاں بھی الیکشن جیتنے کا خواب دیکھنے والے لیڈر سمجھ لیں۔ یہ لوگ وهاٹس ایپ میٹریل بنانے سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ ہارورڈ کی ڈگری لے کر عوام کو بے وقوف بنا کر، غلط اور بدمعاش امیدواروں کو جتانے کے لئےہندوستان آ جاتے ہیں۔ پہلے گاؤں کے لوگ دبنگوں کو جتاتے تھے، اب ہارورڈ کے قابل لوگ ان  کی جیت کی منصوبہ بندی بناتے ہوئے آپ کو ہر الیکشن میں مل جائیں گے۔

اس امریکہ کے درد کو کوئی نہیں دیکھ رہا تھا جو بے روزگار ہے، جسے کام چاہئے۔ جو اسٹوڈنٹ لون کے بوجھ تلے دبا ہے۔ جہاں بغیر انشورنس کے ہسپتال جانا، پہاڑ سے کود کر خود کشی کرنے جیسا ہے۔ کیا اصلاحات کا یہ دور دم توڑ رہا ہے۔ پوری دنیا میں لیڈران کی اپنی حیثیت تو بڑھ رہی ہے، عام آدمی کی حیثیت گھٹتی جا رہی ہے۔ میڈیا نے ہلیری پر لگے الزامات کو نظر انداز کیا، مگر ٹرمپ کے الزامات سے جڑے الزامات کو اتنا دکھایا کہ لوگ تنگ آ گئے۔ ٹرمپ برے تھے تو کیا ہلیری بہت اچھی تھیں؟ سبق یہ ہے کہ دو نااہل امیدوار ہوں گے تو اس میں وہ امیدوار شکست سے دو چار ہوگا جو نرم مزاج بننے کا ڈرامہ کرے گا۔ بہر حال ٹرمپ ایک ایسے لیڈر ہیں، جن کے بیانات کو مہذب محفلوں میں دہرایا نہیں جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان مہذب محفلوں کے اپنے سیاہ کارنامے نہیں ہیں۔ دنیا پر جنگ مسلط کر، اپنی عوام کو بھوکا رکھ کر امریکہ عالمی طاقت بن سکتا ہے لیکن وہ دنیا کے سامنے ایک لائق امیدوار نہیں رکھ سکا، یہ اس جمہوریت کی شکست ہے۔

ٹرمپ کی باتوں نے امریکہ کو تبدیل کر دیا ہے مگر امریکہ تو ٹرمپ سے پہلے بدل چکا تھا۔ اگر وائٹ ہاؤس کے نئے مہمان نے اپنی باتوں پر عمل کیا تو دنیا پھر سے بدلے گی۔ بریكجٹ کے بعد ٹرمپ کی انٹری دھماکے دار ہے۔ ٹرمپ کا بھی امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ کیا وہ جنگ کے میدانوں سے امریکہ کو کھینچ کر دکانوں میں بٹھا دیں گے۔ کیا وہ دنیا کے ممالک سے امریکی فوجیوں کا خرچہ مانگیں گے۔ براک اوباما امن کا نوبل لے کر بھی جنگ کے منصوبے بناتے رہے۔ ٹرمپ نے میکسیکو سے آئے لوگوں کو عصمت ریز کہا، مجرم کہا۔ ایسی زبان ہندوستان کے انتخابات میں مہاراشٹر اور دہلی کے انتخابات میں بولی جا چکی ہے۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنائیں گے تاکہ میکسیکو سے کوئی غیر قانونی طریقے سے امریکہ نہ آ سکے۔ مسلمانوں کے بارے میں کہا کہ وہ مکمل طور پر مسلمانوں کو نکال دیں گے۔ کئی بار کہا کہ اپنے اس فیصلے کو لاگو کریں گے۔ ہلیری کلنٹن کو کہا کہ جیل بھیج دیں گے۔ عورتوں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں بولیں کہ آپ دہرا نہیں سکتے۔

کیا اب انتخابات میں بدنام ہونے اور بد زبان ہونے کو کامیابی کا منتر مان لیا جائے گا۔ مجھے لگتا ہے جو اس پر یقین کرے گا وہ اگلا الیکشن پکا ہار جائے گا۔. امریکہ میں ٹرمپ اس لئے جیت گئے، کیونکہ امریکہ کی حالت خراب ہے، بہت ہی خراب ہے۔ 20 ستمبر کو اوپینین پول کرانے والے ادارے گیلپ کے چیئرمین جم كلفٹن نے ایک مضمون لکھا تھا۔ سن 2000 میں 61 فیصد امریکی خود کو  اپر مڈل کلاس کا مانتے تھے، لیکن 2008 تک آتے آتے 51 فیصد لوگ ہی اپر مڈل کلاس کہلانے لگے، یعنی اقتصادی حالت اتنی خراب ہوگئی کہ معاشرے کے اوپری طبقے کی تعداد میں 10 فیصد کی کمی آ گئی۔ مطلب یہ ہوا کہ امریکہ میں 25 کروڑ بالغ ہیں، اس کا 10 فیصد یعنی ڈھائی کروڑ لوگ مالی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ كلفٹن نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ میں نہیں مانتا کہ امریکی معیشت بہتری کی طرف ہے جبکہ امریکہ کے تمام اخبارات معیشت میں بہتری کی خبریں لکھ رہے ہیں۔ ایسا امریکہ ہی نہیں، دنیا کے تمام ممالک میں ہو رہا ہے۔ كلفٹن نے کہا کہ یہ ڈھائی کروڑ لوگ امریکہ کے بیکار لوگوں کی تعداد میں نہیں نظر آتے کیونکہ ان کے پاس کام تو ہے، مگر ان کی تنخواہ نصف سے کم ہو گئی ہے۔ ہندوستانی روپئےمیں سمجھیں تو پہلے ان کی سالانہ آمدنی 12 لاکھ تھی جو اب گھٹ کر 6 لاکھ سے بھی کم ہو گئی ہے۔ ایسا آدمی بے روزگار بھلے نہ ہو، مگر وہ ہلیری کے جھوٹے خواب کا خریدار نہیں ہو سکتا ہے۔

امریکی ایکسچینج میں 20 سال کے اندر پبلک لسٹڈ کمپنی کی تعداد آدھی رہ گئی ہے۔ پہلے 7300 کمپنیاں پبلک لسٹڈ تھیں، جو اب 3700 پر آ گئی ہیں۔ اس سے امریکہ میں خوفناک طریقے سے ملازمتیں کم ہوئی ہیں۔ 48 فیصد لوگوں کے پاس ہی مستقل اور مکمل نوکری ہے. نئے بزنس اسٹارٹ اپ کی تعداد تاریخی طور پر کم از کم سطح پر ہے۔

امریکہ کی اس حالت پر یقین نہیں ہے تو جیتنے پر ٹرمپ نے جو کہا وہ امریکہ کے بارے میں ہی کہا ہے،  نہ کہ بندیل کھنڈ کے بارے میں ۔ ان کے بیان سے لگا کہ امریکہ میں نہ تو شاہراہ ہے، نہ پل ہے. ایئر پورٹ اور اسکول بھی نہیں ہے۔ آپ سنئے تو انہیں۔ کیا ٹرمپ کے پاس کوئی نیا اقتصادی ماڈل ہے۔ وہ آ تو گئے ہیں، لیکن کیا وہ آؤٹ سورسنگ بند کر دیں گے، امریکہ میں بیرونی لوگوں کا آنا بند کر سکتے ہیں۔ دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کرنے کے لئے نکلا تھا امریکہ، اب اسے یاد آ رہا ہے کہ اس کی لوکل بس چھوٹ گئی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ وہاں کی عوام نے ٹرمپ کے بیانات پر دل لٹايا ہے، یانرم زبان بول کر اس نے غریب بنانے والوں کے خلاف بغاوت کی ہے۔ 2008 کی کساد بازاری کے بعد سے آج تک دنیا سنبھل نہیں سکی ہے۔ عوام غصے میں حکومت تو بدل رہی ہے لیکن کیا کہیں معیشت بدل رہی ہے؟ امریکہ میں ٹرپ کی آمد کے موقع پر سہرا پڑھنے والے نہیں ہیں۔ وہاں تو پانچ سو اور ہزار کے نوٹ ردی کی ٹوکری میں نہیں بدلے ہیں، پھر وہاں جشن کیوں نہیں ہے، یا جو جشن منا رہے ہیں، وہ وہاں کی میڈیا میں کیوں نہیں ہیں۔

مترجم : شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close