انتخابی سنسنی سے اب تک بچا کس طرح ہے گجرات؟

سدھیر جین

(معروف صحافی و تجزیہ نگار)

گجرات انتخابی سنسنی پھیلانے میں شروع سے مشہور رہا ہے. ایک وقت تھا جب گجرات کو فرقہ وارانہ خیالات کے نفاذ کی لیبارٹری کہا جاتا تھا. گجرات ہی ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر مسائل کو ڈھونڈنے اور ڈھوڈھ كر پنپانے کے لئے ایک سے ایک ہتھکنڈے استعمال ہمیں دیکھنے کو ملے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انتخابی سیاست میں ایک رستا نہیں چل پاتی. اسی لیے ہر بارانتظار رہتا ہے کہ کیا نئی بات کی جائے گی. اس بار بھی گجرات میں اب تک یہی انتظار ہے. لگ رہا تھا کہ وہاں حکمران بی جے پی آپ کی ضرورت کے پیش نظر اس وقت ترقی کا مسئلہ لے کر آئے گی، لیکن اس بار پردیش کے لیڈر کے طور پر وہاں نریندر مودی نہیں ہیں. وزیر اعظم بن جانے کے بعد وہاں ان کے لئے انتخابی جادوگری دکھانے کے موقع بھی کم ہو گئے ہیں. بہرحال دو رائے نہیں کہ وہاں بی جے پی کو ایڑی چوٹی کا دم لگانا پڑ رہا ہے. ملک پہلی بار دیکھ رہا ہے کہ ایک چھوٹی سی ریاست کے لئے مرکز کے درجنوں وزراء کو اپنا سارا کام دھام چھوڑ کر وہاں ڈیرہ ڈال پڑ رہا ہے.

گجرات میں ایسا ماحول بن جانے کے کیا کیا عنصر ہو سکتے ہیں؟ راہل گاندھی نے وہاں کیا کام کیا؟ ہاردک، الپیش اور جگنیش کا کتنی کردار رہا؟ نوٹ بندي اور جی ایس ٹی کا گجرات پر پیچھے سے کیا اثر پڑ گیا؟ عالمی کساد بازاری کے اس دور میں گجرات ماڈل کی تشہیر کی کیا حالت ہوئی؟ وہاں بے روزگاری کی حالت کیسی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو گجرات کے موجودہ انتخابی حالات کو سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں. لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ گزشتہ کئی انتخابات وہاں عین موقع پر مذہبی جذبات پر ہی ٹکائے جاتے رہے ہیں. سو انتخابی حکمت عملی میں اس سب سے زیادہ موثر ہتھیار موہ کس طرح چھوٹ پائے گا؟ اس کا اندازہ لگانا سب سے زیادہ دلچسپ ہو جائے گا.

 گجرات کے بدلے ماحول میں کانگریس کا کردار

یہ بھولا جا رہا ہے کہ گزشتہ دنوں راجیہ سبھا کی ایک نشست کے لئے احمد پٹیل کے جیتنے سے سنسنی پھیل گئی تھی. اس انتخاب کے لئے جیسا مساوات تھا، اس میں جوڑ توڑ کی گنجائش تھی. جس کی بنیاد پر مانا جا رہا تھا کہ بی جے پی امیدوار کو ہرانا تقریبا ناممکن ہے. لیکن احمد پٹیل کی جیت نے بی جے پی کا وہ کرشمہ توڑ ڈالا تھا. وہ پہلا ایسا واقعہ تھا جس کے بعد یہ کہا جانے لگا کہ گجرات میں مودی شاہ کا طلسم اب ٹوٹنے لگا اور اگر گزشتہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کو یاد کریں گے تو کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ کانگریس وہاں ایک تصادم کی حریف ہے.

گجرات ماڈل کی تشہیر کا کمزور پڑنا

یہ وقت یہ یاد کرنے کا بھی ہے کہ گجرات ماڈل کی تشہیر گجرات کے انتخابات کے لئے نہیں، بلکہ مودی کو ملک کا لیڈر بنانے کے ایک اقدام کے طور پر استعمال کیا گیا تھا. اس صورت میں بی جے پی کامیاب ہو چکی ہے. سو بہت ممکن ہے کہ اس منادی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی گئی ہو. یہاں بہار میں بھی اس نعرے کی شکست کو یاد کیا جا سکتا ہے. ترقی کے ماڈل کے سچ جھوٹ کا اندازہ اگرچہ بڑا مشکل کام ہوتا ہو، لیکن میڈیا کے غلبے والے دور میں اس پراپیگنڈے کا کام مشکل نہیں تھا، جسے بی جے پی پکڑے رہ سکتی تھی.

نوٹ بندي نے گچا دے دیا

گجرات کو تاجروں اور کاریگروں والا صوبہ تصور کیا جاتا ہے. نوٹ بندي سے اسے بھاری دھچکا لگ گیا تھا. یہ ایسا بحران تھا جسے پروموشنل سے سنبھالا نہیں جا سکتا تھا لیکن مرکزی حکومت نے اسی کے سہارے اس بحران کو مسترد کرنے کی کوشش کی. آج نوٹ بندي کی جینتی یا برسی پر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جو بولا ہے اس میں انہوں نے گجرات کے سورت میں لوم صنعت کی تباہی کا ذکر ایک حوالے کے طور پر کیا ہے. ان کے دیے اعداد و شمار ایک ماہر اقتصادیات کے دیے اعداد و شمار ہیں سو انہیں غلط ثابت کرنے کے لئے دلیل ڈھونڈنے میں بہت دقت آنے والی ہے.

جی ایس ٹی نے رہی سہی کسر پوری کر دی

نوٹ بندي کے بعد جی ایس ٹی نے جلے پر نمک چھڑکنے جیسا کام کیا. خاص طور پر کپڑا کاروبار پر پانچ فیصد ٹیکس لگ جانا. ووٹروں میں مذہبی و ٹکائے رکھی جا سکتی ہیں، لیکن تبھی تک جب تک اس کی آمدنی پر کوئی فرق نہ پڑے. گجرات کے کپڑا تاجر اس ٹیکس سے اتنے پریشان ہو گئے کہ پہلی بار سڑک پر اتر آئے تھے. انہیں کتنا بھی سمجھایا جائے کہ یہ ٹیکس آپ کو نہیں بلکہ خریدار سے لینا ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ کاروبار میں کسی چیز کے مہنگے ہونے سے دھندے پر کیسا مہلک اثر پڑتا ہے. حساب کتاب رکھنے کا جھنجھٹ مختلف انہیں پریشان کر گیا. گجرات انتخابات میں ابھی یہ مسئلہ اتنا بڑا دکھ بھلے ہی نہیں رہا ہو، لیکن اندر-اندر اثر بہت کر رہا ہوگا.

دھرمادھارت سیاست کے اثر کا فیکٹر

اکثریت اور اقلیت مبنی سیاست کو ہی فرقہ وارانہ سیاست سمجھا جاتا ہے. اپنے ملک میں اس کا مطلب ہندو مسلمان سے لگایا جاتا ہے. لیکن عام تجربہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر اس سیاست کی دھار اس کثرت میں استعمال سے کند بھی پڑنے لگتی ہے. گزشتہ انتخابات میں حکمراں بی جے پی نے اپنا چیف الیکشن مہم ترقی کے نام پر چلائی تھی، لیکن بعد میں اضافی اقدام کے طور پر عین موقع پر بھارت-پاکستان بھی شامل کر دیا تھا. ایسا کوئی قابل اعتماد نگرانی یا سروے دستیاب نہیں ہے کہ کسی مسئلے کا کتنا اثر پڑا، لیکن تھوڑا سا ہی سہی مذہب کی بنیاد پر تبلیغ کا اثر پڑتا ہی ہے. سیاست میں تھوڑے سے بھی بہت سمجھا جاتا ہے.

گجرات میں نئی احساس، ‘رام’ اور ‘حج’ کا پوسٹر

گجرات میں تازہ ترین احساس بنانے کی کوشش ایک پوسٹر میں نظر آتی ہے. مبینہ طور پر نامعلوم افراد کے لگائے اس پوسٹر میں بی جے پی کے روپاني، امت شاہ اور مودی کے پہلے حروف کو اٹھا کر رام بنایا گیا ہے اور بی جے پی کے زبردست حریفوں ہاردک، الپیش اور جگنیش کے ادياكشرو سے ایک لفظ ‘حج’ بنایا گیا ہے. اس پوسٹر میں گجرات کے تینوں نوجوان رہنماؤں کی تثلیث کو حج بنا کر راہل گاندھی اور کانگریس سے شامل کر دیا گیا ہے. ‘رام’ اور ‘حج’ کا یہ درجہ بندی مذہبی جذبات کے استعمال کے علاوہ کیا کسی اور غرض سے کیا کام سمجھا جا سکتا ہے؟ یہاں اطمینان کی بات اتنی ہے کہ پوسٹر لگانے والوں نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی ہے. اطمینان کی ایک اور بات یہ ہے کہ فی الحال اپنی شناخت چھپا کر لوكلاج کا خیال رکھا گیا ہے.

خاص باتوں پر غور کے بعد یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ گجرات انتخابات میں اس بار آخر تک مودی اور راہل ہی نظر آئیں گے. ان دونوں کے ہی نظر کا مطلب ہے کہ ساری باتیں گجرات سے زیادہ ملک کی ہوں گی. ملک دنیا کی ان چیزوں میں گجرات کے عوام کا دکھ درد کتنا آ پائے گا یہ اب سوال ہی ہے.



⋆ سدھیر جین

مدیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے