آج کا کالمہندوستان

انتخابی سیاست کے زیر و زبر

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
پارلیمنٹ اور اسمبلی نشستوں کی حلقہ بندی مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ ہی ایک اختلاف کا موضوع رہاہے۔ مسلمانوں کی جانب سے لگاتار یہ شکایت کی جاتی رہی ہے کہ حلقہ بند ی اس انداز سے کی جاتی ہے کہ عموماً دو مسلم محلوں کو ایک دوسرے سے جدا جدا کر کے دو الگ الگ اسمبلی یا پارلیمانی حلقوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔ جس سے ایک مخصوص حلقے میں مسلمان ووٹوں کا تناسب کم ہوکے وہاں سے کسی مسلمان امیدوار کے کامیاب ہو نے کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح حلقہ بندی کے علاوہ حلقوں کے ریزرویشن کے لئے بھی ایسا طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے کہ عموماً مسلم اکثریتی حلقے شیڈول کاسٹ یا شیڈول ٹرائب کے لئے ریزرو کردیئے جاتے ہیں۔ اور اس طرح سے وہاں مسلم امیدوار الیکشن لڑنے تک کے اختیارات سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس کی تصدیق سچر کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں کی ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کی کم ہوتی ہوئی نمائندگی کا ایک بڑا سبب حلقہ بندی ہی ہے۔ پچھلے دنوں مسلمانوں کی چند تنظیموں اور افراد کی جانب سے یہ مطالبہ بہت زور پکڑتا جارہا ہے کہ حلقہ بندی کمیشن کے قانون میں تبدیلی کر کے ریزرو مسلم سیٹوں کو آزاد کرایا جائے۔ اس ضمن میں چند وضاحتیں ضروری محسوس ہوتی ہیں تاکہ قارئین سمجھ سکیں کہ حلقہ بندی کیسے ہوتی ہے اور عوامی نمائندے اس پر کس طرح اثرا نداز ہوتے ہیں۔
ہندو ستان میں حلقہ بندی کا کام پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ حکومت جب بھی محسوس کرتی ہے کہ حلقوں میں آبادی کا سائز بہت بڑا ہوگیاہے اس سلسلے میں میں عوامی دباؤ بڑھتا ہے تو حکومت پارلیمنٹ میں ایک بل لا کر نیا حلقہ بندی کمیشن قائم کرتی ہے۔ یہ کمیشن حکومت کے مقرر کردہ ضابطوں کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی نئے سرے سے حلقہ بندی کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ہر حلقے میں مجوزہ حلقے کا پلان بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور پھر عوامی نمائندوں مثلاً ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور غیر سرکاری تنظیمیں وغیرہ اس پر اعتراضات داخل کرتی ہیں۔ کمیشن ان اعتراضات کو بغور سنتا ہے اور اس پر بحث کی جاتی ہے اکثر ایک اعتراض کو روکنے کے لئے دوسرا اعتراض بھی پیش کیا جاتاہے جس کے نتیجے میں بحث کی نوبت آتی ہے ایسے میں یاتو باہمی رضامندی سے ان اعتراضات کو رفع کرلیا جاتا ہے یا کمیشن خود کوئی حتمی فیصلہ لے لیتا ہے کمیشن کے فیصلے پر بھی اعتراض کی گنجائش موجود رہتی ہے مگر اس کا ایک وقت متعین ہے یعنی کمیشن کے فیصلے سے گزٹ ہونے کے درمیانی وقفے میں ہی کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے لیکن اگر ایک بار کمیشن کا فیصلہ گزٹ ہوگیا تو پھر اس پر کوئی عدالتی کارروائی بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد صرف لوک سبھا کو یہ حق ہے کہ وہ ایک ترمیمی بل لاکر کمیشن کے فیصلے کو بدل ڈالے۔
ہندوستان میں حلقوں کا پہلا حدبندی کمیشن 1952میں قائم ہوا تھا۔ جس نے اس وقت کی لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی حدبندی کی تھی۔ اس کے بعد دوسرا کمیشن 1962میں اور تیسرا1971میں قائم ہو اتھا۔ بعدا زاں 2001میں 1971کے حد بندی کمیشن میں ایک ترمیم کردی گئی کہ لوک سبھا کی موجودہ 543نشستوں اور ریاستی اسمبلیوں کی موجودہ تعداد کو، 6 202 تک نہیں بدلا جائے گاساتھ ہی یہ ترمیم بھی کر دی گئی کہ شیڈول کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائبکے لئے ریزرویشن کی مقدار اور مدت میں بھی 2026تک کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔
بعدازاں 2002میں چوتھا حد بندی ایکٹ لوک سبھانے پاس کیا اور 2001کے ترمیمی ایکٹ کو مدنظررکھتے ہوئے 2002کے نئے حدبندی ایکٹ میں کمیشن کو محض یہ اختیار دیا گیا کہ وہ آبادی کے تناسب کے پیش نظر لوک سبھااور یاستی اسمبلیوں کی حدبندی اس طور پر کرے کہ ہر حلقے میں تقریباً یکساں آبادی رہے اور اسی آبادی کے تناسب سے شیڈولڈ کاسٹ اور ڈشیڈولڈٹرائب حلقوں کا ریزویشن بھی کرے۔ چنانچہ اس کمیشن نے 2004تک اپنا کام پورا کرکے لوک سبھا اور اسمبلیوں کی نئے سرے سے حدبندی بھی کردی اور ریزویشن بھی نئے سرے سے کردیا۔ اس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی کردیا۔ واضح رہے کہ ریاست آسام میں غیر ملکی مسئلہ کے پیش نظر اس ریاست کو نئی حدبندی سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ نیز 2008میں ترمیمی بل لاکے ریاست جھارکھنڈ کے لئے کئے گئے حدبندی گزٹ کو بھی کالعدم قرار دے دیاگیا۔
2002کے حدبندی کمیشن کے فیصلوں کا اطلاق 2026تک رہے گا۔ یعنی اب لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے حلقے 2026تک نہیں بدلے جاسکتے ہیں چاہے وہاں کی آبادی کتنی بھی بڑھ جائے۔ اسی طرح حلقوں میں ریزرویشن میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی چاہے وہاں ایس سی اور ایس ٹی کی تعداد کتنی بھی کم کیوں نہ ہوجائے۔ ا لّایہ کہ عوامی دباؤ کے تحت پارلیمنٹ میں حکومت وقت کوئی ترمیمی بل لاکر گزٹ نوٹیفکیشن کو معطل کر دے۔ گویا اب پورے ملک کو 2026تک نئی حلقہ بندی کا انتظار کرنا ہوگا۔
2026کئی معنوں میں بے حد اہم ہے ایک تو یہ کہ اسی سال پارلیمنٹ میں ایک بل پیشکیا جائے گا اور اسی میں لوک سبھا، راجیہ سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے حلقوں کی تعداد نئے سرے سے متعین کی جائے گی۔ یعنی لوک سبھا کی 543سیٹوں کی تعداد بڑھائی جائے گی جو اس وقت کی آبادی کے تناسب پر منحصر ہوگی۔ 2021میں ہونے والی مردم شماری ان معنوں میں بہت اہم ہوگی۔ اسی بنیاد پر ہر حلقوں کی تعداد متعین ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ 543کی یہ تعداد بڑھ کر 700یا 750ہوجائے۔ اسی طرح ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں بھی قرار واقعی اضافے کا امکان ہے مثلاً اترپردیش کی موجودہ 403نشستیں بڑھ کر 600 – 650 ہوسکتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
دوسرے یہ کہ تعداد کے علاوہ 2026کا حدبندی کمیشن پورے ملک میں نئے سرے سے تمام لوک سبھا اور یاستی سبھا اسمبلیوں کے حلقوں کی حدبندی بھی کرے گا۔
تیسرے یہ کہ 2026میں ہی پارلیمنٹ یہ بھی طے کر گی کہ دلتوں اور قبائلیوں کے لئے مزید ریزرویشن دیا جائے یا نہ دیا جائے اور اگر دیا جائے تو کتنے فیصد دیا جائے اور کتنے عرصے کے لئے دیا جائے۔ واضح رہے کہ آزادی کے وقت یہ ریزرویشن محض دس سال کے لئے دیا گیا تھا جو باربار بڑھتے بڑھتے آج تک جاری ہے اور 2026میں بھی اس کا کوئی امکان بظاہر نظر نہیں آتا کہ یہ ریزرویشن ختم ہوگا۔ ایسے میں ایک حیرت ناک بات یہ ہے کہ قومی ترقی کے یکساں زمرے میں لانے کے لئے دلتوں کو جو ریزرویشن تعلیمی اداروں، روزگار اور مقننہتک دیا گیا تھا وہی ریزرویشن انہیں بنیادوں پر جب دیگر پسماندہ طبقات کو دیا گیا تو تعلیم اور روزگار کے اداروں تک ہی محدود کردیا گیا اور لوک سبھا اور اسمبلیوں میں دیگر پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن نہیں دیا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی ملحوظ رہے کہ ابھی 33فیصد نشستیں خواتین کے لئے محفوظ کرنے کا بل بھی لوک سبھا میں موجود ہے جو راجیہ سبھا سے پہلے ہی پاس ہوچکاہے ایسے میں 2026کی ریزرویشن کی بحث خاصی دلچسپ اور معنی خیز ہوگی۔ خواتین کو ریزرویشن، دلتوں کو ریزرویشن، قبائلیوں کو ریزرویشن کے ساتھ دیگر پسماندہ طبقات بھیمقننہمیں ریزرویشن کا مطالبہ کریں گے۔ ممکن ہے اس وقت تک مسلمانوں کی بھی کوئی ایسی جماعت یا لیڈر شپ وجود میں آجائے تو مسلمانوں کے لئے مقننہمیں ریزرویشن کا مطالبہ کرسکے۔
بہرحال حدبندی اور ریزرویشن ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مسلمانوں نے آج تک شکایتیں تو بہت کی ہیں مگر عملاً کچھ نہیں کیا جو افراد اور تنظیمیں آج بھی لوک سبھا میں ترمیمی بل کے ذریعے نئے حدبندی قوانین کا مطالبہ کررہی ہیں ان سے بجا طور پر پوچھا جا سکتا ہے ابھی دس سال پہلے جب یہ عمل جاری تھا تب وہ لوگ کہاں تھے ؟ مجھے یاد ہے کہ دلی کی حدبندی کے موقع پر میں موجود تھا اور ہر حلقے کی حدبندی رپورٹ میر پیش نظر تھی ہمارا زیادہ نقصان نہیں ہورہا تھا اس لئے زیادہ اعتراض بھی نہیں کئے البتہ پارلیمانی حلقوں کی حدبندی کے بعد کسی بھی حلقے میں مسلمانوں کے ووٹ کی تعداد 20فیصد سے زائد نہ ہوسکی۔ میں نے اس وقت کے ایک اہم ایم ایل اے کو اس جانب بہت متوجہ کیا مگرانہوں نے کوئی دھیان نہیں دیا بس وہ اپنی سیٹ کی حد بندی اپنے مفاد میں کرانے کے لئے اس قدر کو شاں تھے کہ انہوں نے لوک سبھا کی جانبکوئی دھیان نہیں دیا۔ اسی طرح اتر پردیش کی بہرائچ سیٹ کے لئے وہاں کی رکن لوک سبھا کو میں تحریری طور پر متوجہ کیا مگر انہوں نے ایک نہ سنی۔ ایسے میں شکایتیں کرنے کیا فائدہ؟۔
ملک میں 4070 اسمبلی حلقے ہیں ان کی حدبندی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جب تک ہر حلقے میں ایسے سمجھ دار، باخبر اور مخلص لوگوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود نہ ہو جو اس کام کے طریقہ کار کو بھی سمجھتے ہوں اور اہمیت کو بھی۔ تب تک ہم اپنی پسند کی حلقہ بندی نہیں کراسکتے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک میں بڑی تنظیمیں موجود ہیں جو ضلع اور تحصیل کی سطح تک اپنا نیٹ ورک رکھتی ہیں۔ یہ سب جماعتیں اپنے دستور کے لحاظ سے تو غیر سیاسی جماعتیں ہیں مگر ہر انتخاب کے موقع پر مسلمانوں کو مشورہ مفت دینے سے کبھی گریز نہیں کرتیں کہ کسی حلقے میں کس پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے کر ’’فسطائی‘‘ قوت کو ہر انا ہے۔ لیکن یہ جماعتیں جو برقعہ پہن کر سیاست کر تی ہیں۔ میدان عمل میں اپنے اس نیٹ ورک کو حدبندی کے لئے کبھی استعمال نہیں کرتیں بلکہ ان جماعتوں کے اکثر ذمے داران کو تو یہ معلوم بھی نہیں ہے کہ حدبندی کمیشن وغیرہ ہوتی کیا بلا ہے؟ بس برائے مصلحت یا برائے مفاد انتخابی دسترخوان کے بھورے چننے کی حد تک اعلانات کر کے اپنافرض منصبی ادا کردیتی ہیں۔ بعد میں کوئی بتا دیتا ہے کہ کیا نقصان ہوگیا تب واویلا کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ آج ملک کے مقننہ میں مسلمانوں کی نمائندگی 6فیصد سے بھی کم ہے اس کی ذمے داری جہاں ملک کی سیکولر سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے وہیں ان مسلم جماعتوں پربھی عائد ہوتی ہے جو مسلمانوں کی نمائندگی کا دم تو بھرتی ہیں مگر عمل کچھ نہیں کرتیں۔
2002کے حدبندی کمیشن کے لئے ترمیمی بل لانے کا مطالبہ اب مضحکہ خیز لگتا ہے جو سیکولر سرکاریں وعدے کے باوجود فرقہ وارانہ فسادات انسداد بل پاس نہ کراسکیں۔ جنہوں نے خود سچر کمیٹی بنائی اور یہ جھوٹ بھی بولا کہ انہوں نے اس کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرلیا ہے جب وہ مسلمانوں کی مسیحا سمجھی جانے والی حکومتیں مذکورہ ترمیمی بل نہیں لاسکیں تو اب مرکز کی یہ موجودہ سرکارجو بہ قول شخصے’’ فسطائی ‘‘پارٹی کی سرکار ہے اس سے آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ وہ کوئی ترمیمی بل لائے گی۔ یعنی ’’ بنیا ادھار نہیں دے رہا آپ کہہ رہے جھکتا تول‘‘۔
مگر اس سب کے باوجود وقت ابھی گزرا نہیں ہے شکایتیں بند کیجئے۔ 2026کو نشانہ بنائیے۔ 4070اسمبلی حلقوں میں نیٹ ورک قائم کرنا اگلے دس سال کے عرصے میں کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے۔ وہ نیٹ ورک قائم کیا جائے۔ حدبندی کے تعلق سے ان افراد کی معمولی سی تربیت کی جائے اور پھر جب وقت آئے تو نئے قوانین کی روشنی میں نئی حد بندی کے کام میں پوری توانائی کے ساتھ حصہ لیا جائے۔ نیز دیگر پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کو بھی مقننہ میں ریزرویشن دلانے کی جدو جہد کا آغاز ابھی سے کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اوریہی چال بے ڈھنگی آگے بھی جاری رہی تو یقین کیجئے موجود سیکولر جمہوری نظام کے تحت اس ملک میں مسلمان کبھی اپنا حصہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔

متعلقہ

Close