آج کا کالم

انتخابی مہم: اپنی آنکھوں کے خواب بیچے ہیں

ڈاکٹر سلیم خان

اٹل جی کے دورِ اقتدار میں ساری سیاسی جماعتوں نے ڈاکٹر عبدالکلام کو صدر بنانے پر اتفاق کرلینا ایک بہت بڑا سیاسی چمتکار تھا کیونکہ ان کے گرو گولوالکر اس ملک  میں مسلمانوں کو  دوسرے درجہ کا شہری  سمجھتے تھے۔ ایسے میں کسی مسلمان  کا منتخب ہونا تو کجا وہ کسی انتخاب میں شریک ہونے  کا بھی حقدار نہیں ٹھہرتا۔ خیر زندگی کے دیگر شعبوں کی مانند سیاست کی دنیا بھی حیرت انگیز معجزات سے مزین ّ  نظر آتی ہے۔ اس میں سنجے گاندھی جیسا آرزومند نوجوان اقتدار سے محروم رہ جاتا ہے جبکہ راجیو گاندھی جیسا غیر سیاسی فرد اپنے اہل عیال سمیت سرکار دربارکا مستحق ٹھہرتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالکلام نے خواب میں بھی یہ نہیں سوچا ہوگا۔ سیاست کی ابجد سے نا واقف ایک سائنسداں پر  بھانت بھانت کےگھاگ  سیاستداں متفق ہوجائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کہا کرتے تھے ’ایک خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے سے قبل ایک نیا خواب بُن لینا چاہیے‘۔ بقول عیق اللہ ؎

آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس

اور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے

ڈاکٹر عبدالکلام  کے انتقال  کے وقت  بھی اتفاق سے ملک کی قیادت  بی جے پی کے دوسرے وزیراعظم نریندر مودی  کے ہاتھوں میں تھی۔ انہوں نے سابق صدر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر عبدالکلام ہر ہندوستانی کے قلب و ذہن  میں بستے ہیں۔ وہ ایک ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو پورا کرنے میں  مصروف رہے۔ انہوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کی ترغیب  سب  کودی۔ یہ حوصلہ ہمیں جدید ہندوستان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں مدد کرے گا۔ خواب کون نہیں دیکھتا ؟ لیکن  خواب دیکھنے اور خواب بیچنے میں  بڑا فرق ہے۔ ڈاکٹرعبدالکلام جیسے لوگ اپنے سپنوں  کو  ساکار ر کرنے کے لیے خود محنت و مشقت کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے ’آسمان کو دیکھیں۔ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ ساری کائنات ہماری   رفیق  و دمسازہے اور وہ انہیں کی ہمنوا ئی کرتی ہے جو خواب دیکھتے ہیں اور اس پر کام کرتے ہیں ‘۔ سابق صدر کا ذکر خیر  خوابوں کےبغیر  ادھورا  ہے؟  بقول جاں نثار اختر؎

نہ کوئی خواب ، نہ کوئی خلش ، نہ کوئی خمار  

یہ آدمی تو ادھورا دکھائی دیتا ہے

سپنوں کے سوداگر وں کا یہ معاملہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو خواب دکھا کر اپنے سپنے ساکار کرتے ہیں۔  جمہوری سیاست میں یہ حربہ خوب   چلتا ہے مثلاً ’غریبی ہٹانے ‘ یا ’اچھے دنوں ‘ کا خواب زور و شور سے بیچے جاتے ہیں  لیکن ان  جھوٹے خوابوں کی تعبیر بڑی بھیانک نکلتی ہے۔ یہ  صدیوں کی رفاقت کو رقابت میں بدل دیتی ہے۔ گہرےدوستوں کو جانی   دشمن بنا دیتی ہے۔ موقع پرستانہ جمہوریت  میں ویسے بھی  کوئی کسی کا دوست نہیں ہوتا۔    ہر خودغرض  سیاستداں موقع پاتے ہی اپنے دوست کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتا ہے جیسا کہ آج کل وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ وزیر مواصلات نتین گڈکری  کررہے ہیں۔ ایک تقریب میں  مرکزی وزیر نتین گڈکری نے  کہا  کہ ’’خواب دکھانے والے رہنما عوام کو بھلے معلوم ہوتے ہیں لیکن دکھائے ہوئے خواب اگر پورے نہیں کئے جاتے تو عوام ان کی پٹائی بھی کرتی ہے۔ اس لئے خواب وہی دکھاؤ جن کو پورا کر سکو‘‘۔ ایسا کون ہے جو اس طنز کا اشارہ نہیں سمجھ سکا ہو۔

مودی جی نے  پانچ سال قبل عوام  کو جو خواب فروخت کیے تھے وہ چکنا چور ہوکر بکھر گئے ہیں۔ وزیراعظم جب انہیں چننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی انگلیاں  لہو لہان ہوجاتی ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر  نتین گڈکری کا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ وہ   ان زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کرنےلگتے ہیں۔  اس لیے کہ  موجودہ سیاست میں یہی ہوتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف عوام کے بلکہ ایک دوسرے کے بھی دشمن ہیں۔  اپنے آپ کو نریندر مودی سے مختلف ثابت کرنے کے لیے گڈکری جی فرماتے  ہیں ’’میں خواب دکھانے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میں جو بولتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر صد فیصد پورا کرتا ہوں ‘‘۔ مودی جی کی خستہ حالی نے نتین گڈکری کے  خواہشات و آرزو جوان کردی ہے۔ اس لیے کہ ان پر اوس ڈالنے کا کام نریندر مودی نے ہی کیا تھا۔ نتین گڈکری کو صدارت سے ہٹانے میں کس نے کیا کردار ادا کیا وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ کل جس کی وجہ سے  گڈکری کے   ستارے گردش میں آئے تھے  آج اس  مودی کے ستاروں کی گردش نے گڈکری کو پر امید کردیا ہے بقول اقبال ؎

چمکنے والے مسافر عجب یہ بستی ہے

جو اوج ایک کا ہے دوسرے کی پستی ہے

انتخابات میں خوابوں کی سوداگری کیوں  کی جاتی ہے؟ اس سوال  کے  جواب میں  نتین گڈکری نے چند ماہ قبل ایک  ٹی وی انٹرویو میں دیا  تھا۔ انہوں نے بلا تکلف کہا تھا کہ ’’اقتدار میں آ جانا ان لوگوں  کے خواب و خیال میں نہیں تھا ۔ اس لیےکسی  نے مشورہ دیا لمبے چوڑے  وعدے کرنا شروع کر دو کیونکہ ہم کون سےاقتدار میں آنے والے ہیں ؟اب عوام نے حقیقت میں ہمیں ووٹ دے کر اقتدار سونپ دیا ‘‘۔ اس  جواب کے بعد گڈکری کا قہقہہ بلند ہوا۔ اس مکالمہ میں جب  نتین گڈکری سے پوچھا گیا کہ جس وقت لوگ وعدے یاد دلاتے ہیں تو آپ کیا کرتے ہیں ؟  انہوں نےجواب دیا ہم مسکرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ رائے دہندگان کےخوابوں کو ٹھوکر مارکرآگے بڑھ جانے   والے رہنماوں  کے ساتھ عوام آئندہ انتخاب میں  کیا  معاملہ کریں گےیہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ لوگ بیدار ہورہے ہیں۔    ویسے  الیکشن کے پیش نظر پھر بارایک   خوابوں کا  بازار سجایا جا رہا ہے،  ووٹرس کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ انہیں سنجیدگی سے نہ لیں ورنہ خسارے میں رہیں گے۔    بقول شاعر؎

آنکھوں میں سجا لو گے تو کانٹوں سے چبھیں گے

یہ خواب تو پلکوں پہ سجانے کے لیے ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close