آج کا کالم

انسانی آزادی کا تحفظ

ڈاکٹر محمد رفعت

آزادی کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ دوسروں کی مرضی اُس پر نہ چلے، بلکہ وہ اپنے رجحانِ طبع کے مطابق کام کرنے اور زندگی گزارنے کے لیے آزاد ہو۔ آزادی کی یہ طلب اتنی شدید ہوتی ہے کہ بسا اوقات انسان آزاد ہونے یا آزاد رہنے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ آزادی کی اس طلب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد عملاً آزادی سے محروم رہتی ہے۔ اس صورتِ حال کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ انسانوں کے درمیان ایسے افراد کی موجودگی ہے جو دوسروں پر اپنی مرضی چلانا چاہتے ہیں اور طاقت، تحریص یا فریب کے ذریعے اُن کی آزادی سلب کرلیتے ہیں۔ ایسے افراد کو یہ گوارا نہیں ہوتا کہ دوسرے انسان اُن کے مساوی ہوجائیں بلکہ وہ اُن کے سر اپنے آگے جھکانا چاہتے ہیں۔ ان متکبرین کی موجودگی کے علاوہ انسانوں کی آزادی سے محرومی کی ایک دوسری وجہ بھی ہے، جس کا تعلق انسانی زندگی کے اجتماعی پہلو سے ہے۔ ہر انسان اپنا انفرادی وجود یقیناً رکھتا ہے لیکن زندگی بہرحال وہ تنہا نہیں گزارتا بلکہ اس کی فطرت اور اس کی ضروریات دونوں اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ اجتماعی زندگی گزارے اور اجتماعی اداروں سے تعلق رکھے۔ ہوتا یہ ہے کہ بسا اوقات یہ اجتماعی ادارے انسان کی آزادی سلب کرلیتے ہیں اور اسے حریتِ فکر و عمل سے محروم کردیتے ہیں۔

 اس صورتحال کے پیشِ نظر، انسانی آزادی کے حصول کے لیے درجِ ذیل نکات پر غور ضروری ہے:

(الف)    انسانوں کی آزادی سلب کرنے والے متکبرین کے رویے کی اصلاح۔

(ب)    اگر اصلاح نہ ہوسکے تو متکبرین کے مقابلے میں آزادی کے تحفظ کی تدابیر۔

(ج)    اجتماعی اداروں کے طرزِ عمل کی اصلاح۔

(د)    اجتماعی اداروں کی زیادتیوں کا مقابلہ۔

انسانی آزادی کا مفہوم

مندرجہ بالا نکات سے قبل خود انسانی آزادی کے مفہوم پر غور کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میںایک بنیادی سوال اٹھتا ہے۔سوال یہ ہے کہ  اگر ایک شخص دوسرے انسانوں کی مرضی پر چلنے کے لیے تو مجبور نہ ہو لیکن خود اپنی خواہشات کا بندہ بن جائے اور اپنے نفس کے ہر جائز و ناجائز مطالبے کو پورا کرنے لگے تو کیا واقعتاً ایسے فرد کو آزاد کہا جائے گا؟اس امکان پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو حقیقی آزادی، اپنی فطرت سے ہم آہنگی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ انسان کی فطرت اصلاً خیرپسند ہے، چنانچہ جب انسان شر کو چھوڑ کر خیر کو اختیار کرتا ہے تو اس سچی آزادی سے ہم کنار ہوتا ہے، جس کی بے پناہ طلب، انسانی سرشت میں پائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ خیر کو چھوڑ کر شر کو اختیار کرلیتا ہے تو آزادی سے محروم ہوکر اپنے نفس کا یا شیطان کا غلام بن جاتا ہے۔مطلق آزادی کے لغوی معنی تو یہ بیان کیے جاسکتے ہیں کہ ’’انسان جو چاہے، کرے۔‘‘ لیکن انسان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ خیر ہی کو چاہے، اسی کوطلب کرے اور شر کی طرف اپنے کو راغب نہ ہونے دے۔ اس نوعیت کی آزادی کے حصول کے لیے محض اُن بیرونی عناصر سے کشمکش کافی نہیں ہے، جو انسانوں کی آزادی کو سلب کرتے ہیں، بلکہ اس نفسِ امارہ سے کشمکش بھی ضروری ہے جو انسان کو برائی کی ترغیب دیتا ہے۔ اور نیکی کرنے کی صلاحیت سے انسان کو محروم کردیتا ہے۔

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَہْوَاۗءَہُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ۔ فَمَنْ يَّہْدِيْ مَنْ اَضَلَّ اللہُ۔ وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ۔  فَاَقِـمْ وَجْہَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا۔ فِطْرَتَ اللہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْہَا۔ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللہِ۔ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔  (الروم: 29۔30)

’’مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے، اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے، جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو؟ ایسے لوگوں کا تو کوئی مدد گار نہیں ہوسکتا۔ پس یک سو ہوکر اپنا رخ، اس دین کی سمت جما دو، قائم ہوجاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی۔ یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

اس آیت کی روشنی میں آزادی کا مفہوم ہے،’’انسان کا راہِ خیر اختیار کرنے پر قادر ہونا۔‘‘ یعنی جب نیکی اور بھلائی کے راستے کی رکاوٹیں دور ہوجائیں (چاہے وہ رکاوٹیں، بیرونی طاقتوں نے ڈالی ہوں یا خود انسان کے نفس نے کھڑی کی ہوں) تو انسان کو آزادی حاصل ہوتی ہے۔

انسانی ارتقاء آزادی سے وابستہ ہے۔ انسان آزاد ہو تو اس کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں، اس کی شخصیت ابھرتی ہے اور تکمیلِ ذات کی طرف سفر اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔

وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىہَا۔ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰىہَا۔ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىہَا۔ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىہَا۔ (الشمس: 7۔10)

’’نفسِ انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا، پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی۔ یقیناً فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس دبا دیا۔‘‘

اقبالؔ نے اس حقیقت کواس طرح بیان کیا ہے:

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے جوئے کم آب

اور آزادی میں بحرِ بے کراں ہے زندگی

متکبرین کا رویہ

انسانی فطرت خیر پسند بھی ہے اور حقیقت پسند بھی۔ اس کی خیر پسندی کا تقاضا ہے کہ وہ نیکی کے راستے کو اختیا رکرے، اسی طرح اس کی حقیقت پسندی اس کو آمادہ کرتی ہے کہ معبودِ حقیقی کے آگے اپنا سر جھکائے۔ بالفاظِ دیگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آزادی کا فطری جذبہ—— جو قلبِ انسانی میں پایاجاتا ہے— وہ مخلوقات کی بندگی سے آزادی کا جذبہ ہے، اس  لیے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کائنات میں اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ مخلوقات کو کوئی اقتدار حاصل نہیں ہے۔ اس لیے یہ عین حقیقت پسندی ہے کہ انسان خالقِ حقیقی کے آگے سرجھکائے اور مخلوقات کے آگے اس کا سر نہ جھکے۔

متکبرین کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انسانوں کو اللہ کی بندگی سے باز رکھیں۔ اس رویے کے مقابلے کے لیے بنیادی حقیقتوں کی یاددہانی ضروری ہے:

اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْہٰى۔  عَبْدًا اِذَا صَلّٰى۔ اَرَءَيْتَ اِنْ كَانَ عَلَي الْہُدٰٓى۔ اوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰى۔ (العلق: 9- 12)

’’تم نے دیکھا اس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے، جب کہ وہ نماز پڑھتا ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہِ راست پر ہو یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو، تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ (منع کرنے والا شخص، حق کو) جھٹلاتا اور منھ موڑتا ہو۔‘‘

یہاں خطاب، عام انسانوں کو ہے جو متکبر شخص اور اللہ کے مخلص بندوں کے درمیان جاری کشمکش کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ ان مشاہدین کے ضمیر کو جھنجھوڑا گیا ہے اور بالواسطہ طور پر خود متکبرین کو بھی حقائق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تاکہ اگر اُن کی خوابیدہ فطرت کے اندر کچھ حق پسندی چھُپی ہوئی ہو تو وہ اِس توجہ دہانی سے فائدہ اٹھائیں اور جبر و اکراہ کے رویے سے باز آجائیں۔ البتہ اگر محض تلقین سے متکبرین کے رویے کی اصلاح نہیں ہوتی تو اُن کو خدا کی پکڑ سے ڈرایا جانا چاہیے۔ خدا کی یہ گرفت آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ہوسکتی ہے:

اَلَمْ يَعْلَمْ بِاَنَّ اللہَ يَرٰى۔ كَلَّا لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَہِ۔ۥۙ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِيَۃِ۔ نَاصِيَۃٍ كَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ۔ فَلْيَدْعُ نَادِيَہ۔سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَۃَ۔ (العلق: 14- 18)

’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ ہرگز نہیں۔ اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے اس پیشانی کے جو جھوٹی اور سخت خطا کار ہے۔ وہ بلالے اپنے، حامیوں کی ٹولی کو، ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔‘‘

جبر و اکراہ متکبرین کا ایک حربہ ہے، جن کے ذریعے وہ انسانوں کو اللہ کی بندگی سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا دوسرا حربہ فریب ہے۔ اس فریب سے انسان بچ سکتا ہے اگر وہ سہل انگاری اور نفسانیت کی روش اختیار کرنے کے بجائے عقل و ہوش سے کام لے۔ بہرصورت اس فریب کی حقیقت آخرت میں کھل کر سامنے آجائے گی:

وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْہِ۔ وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ۔ يَرْجِــعُ بَعْضُہُمْ اِلٰى بَعْضِۨ الْقَوْلَ۔ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ۔ قَالَ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْہُدٰى بَعْدَ اِذْ جَاۗءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِيْنَ۔  وَقَالَ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَــنَآ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللہِ وَنَجْعَلَ لَہٗٓ اَنْدَادًا۔ وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ۔ وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْٓ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ ہَلْ يُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔ (سبا: 31۔33)

’’یہ کافر کہتے ہیں کہ ’’ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے۔ کاش تم دیکھو ان کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے‘‘ وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے: ’’کیا ہم نے تمھیں اُس ہدایت  سے روکا تھا، جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے۔‘‘ وہ دَبے ہوئے لوگ اِن بڑے بننے والوں سے کہیں گے:’’نہیں، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم، ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اُس کا ہم سر ٹھیرائیں۔‘‘ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے۔ کیا لوگوں کو اس کے سوا کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے، ویسی ہی جزا پائیں؟‘‘

جناب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اِن آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’عوام الناس، آج دنیا میں اپنے لیڈروں، سرداروں، پیروں اور حاکموں کے پیچھے آنکھیں بند کیے چلے جارہے ہیں، اور اُن کے خلاف کسی ناصح کی بات پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہیں (مگر) یہی عوام جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ حقیقت کیا تھی اور اُن کے پیشوا، انہیں کیا باور کرارہے تھے، اور جب انھیں یہ پتہ چل جائے گا کہ ان رہنماؤں کی پیروی انھیں کس انجام سے دوچار کرنے والی ہے، تو یہ اپنے بزرگوں پر پلٹ پڑیں گے اور چیخ چیخ کر کہیں گے کہ کم بختو، تم نے ہمیں گمراہ کیا۔ تم ہماری ساری مصیبتوں کے ذمہ دار ہو، تم ہمیں نہ بہکاتے تو ہم خدا کے رسولوں کی بات مان لیتے۔‘‘ (تفہیم القرآن، سورہ سبا، حاشیہ 51)

دوسری جانب بڑے بننے والے، منکرینِ حق سے اپنی برأت کا اظہار کریں گے یعنی اپنی جانب سے کسی جبر و اکراہ کی نفی کریں گے۔ جناب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:

’’وہ (بڑے بننے والے) کہیں گے کہ ’’ہمارے پاس ایسی کوئی طاقت نہ تھی جس سے ہم چند انسان، تم کروڑوں انسانوں کو زبردستی، اپنی پیروی پر مجبور کردیتے۔ اگر تم ایمان لانا چاہتے تو ہماری سرداریوں اور پیشوائیوں… کا تختہ الٹ سکتے تھے۔ ہماری فوج تو تم ہی تھے، ہماری دولت اور طاقت کا سرچشمہ تو تمہارے ہی ہاتھ میں تھا۔ تم نذرانے … نہ دیتے تو ہم مفلس تھے، تم ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے تو ہماری پیری ایک دن نہ چلتی۔ تم زندہ باد کے نعرے نہ مارتے تو کوئی ہمارا پوچھنے والا نہ ہوتا۔… اب کیوں نہیںمانتے کہ دراصل تم خود اس راستے پر نہ چلنا چاہتے تھے، جو رسولوں نے تمہارے سامنے پیش کیا تھا۔ تم اپنی اغراض وخواہشات کے بندے تھے اور تمہارے نفس کی یہ مانگ، رسولوں کی بتائی ہوئی راہِ تقویٰ کے بجائے ہمارے ہاں پوری ہوتی تھی۔

تم حرام و حلال سے بے نیاز ہوکر عیشِ دنیا کے طالب تھے، اور وہ ہمارے پاس ہی تمھیں نظر آتا تھا۔ تم ایسے پیروں کی تلاش میں تھے جو تمھیں ہر طرح کے گناہوں کی کھلی چھوٹ دیں اور کچھ نذرانہ لے کر خدا کے ہاں تمھیں بخشوا دینے کی خود ذمہ داری لے لیں۔ تم ایسے پنڈتوں اور مولویوں کے طلب گار تھے جو ہر شرک او رہر بدعت اور تمہارے نفس کی ہر دل پسند چیز کو عین حق ثابت کرکے تمہارا دل خوش کریں اور اپنا کام بنائیں۔ تم کو ایسے جعل سازوں کی ضرورت تھی جو خدا کے دین کو بدل کر تمہارے خواہشات کے مطابق ایک نیا دین گھڑیں۔ تم کو ایسے لیڈر درکار تھے جو کسی نہ کسی طرح تمہاری دنیا بنادیں خواہ عاقبت بگڑے یا درست ہو۔ تم کو ایسے حاکم مطلوب تھے جو خود بدکردار اور بددیانت ہوں اور ان کی سرپرستی میں تمھیں ہر قسم کے گناہوں اور بدکرداریوں کی چھوٹ ملی رہے۔ اِس طرح ہمارے اور تمہارے درمیان برابر کے لین دین کا سودا ہوا تھا۔ اب تم کہاں یہ ڈھونگ رچانے چلے ہو کہ گویا تم بڑے معصوم لوگ تھے او رہم نے زبردستی تم کو بگاڑ دیا تھا۔‘‘   (ایضاً، حاشیہ 52)

عوام اور بڑے بننے والوں کے اس مباحثے پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بہکانے والوں کے مکر وفریب سے بچنے کے لیے  —عقل و ہوش کا استعمال اور آخرت کی باز پرس کا استحضار — ضروری ہے۔ انسان کو خواہشات کی پیروی کے بجائے دینِ حق کو اختیار کرنا چاہیے خواہ حق کا راستہ دشواریوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہو۔ اسی طرح متکبرین کے جبرو اکراہ کے مقابلے کے لیے اُن کو یاد دلایا جانا چاہیے کہ خدا کی بندگی اور راہِ راست کی پیروی ہر انسان کا فطری حق ہے۔ اگر متکبرین انسانوں کو جبرو اکراہ کے ذریعے، اللہ کی بندگی سے روکیں گے تو دنیا اور آخرت میں اللہ کی گرفت کی لپیٹ میں آجائیں گے۔

متکبرین کی طرح اجتماعی اداروں کی جانب سے بھی انسانی آزادی کو سلب کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس موضوع پر گفتگو ان شاء اللہ کسی اور موقع پر کی جائے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رفعت

مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

متعلقہ

Close