آج کا کالم

انصاف سے محروم عدلیہ کی زبوں حالی

عدالت   کا ایسا برا حال شاید پہلے کبھی نہ تھا اور خدا کرے کہ آگے کبھی نہ ہو۔

ڈاکٹر سلیم خان

مقننہ اور عدلیہ کے درمیان  مہابھارت چھڑی ہوئی ہے۔ حکومت ِوقت فی الحال  عدالت  سے نبردآزما ہے۔  عدالتِ عظمیٰ میں ججوں کے تقرر کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی خاطرایک آزادمجلس ہے جسے کالجیم  کہتے ہیں۔ حکومت نے عدالت پر اپنا تسلط جمانے کے لیے اول تو اس کالجیم پر دست درازی کی لیکن ناکام رہی۔  اب  کالجیم کے نامزد کردہ جسٹس کے ایم جوزف کا نام مسترد کرکے اپنی برتری ثابت کررہی ہے۔ جسٹس جوزف کے خلاف یہ دلیل دی گئی کہ ان سے سینیر کئی جج ہیں اور کیرالہ سے پہلے ہی جسٹس کورین موجود ہیں اس لیے علاقائی توازن برقرار رکھنے کےلیے ایسا کیا گیا۔  بھکتوں  کی  اس دلیل کے خلاف سب سے بڑاحوالہ اندو ملہوترا کا تقرر ہے جنہیں ایک دن کا تجربہ بھی نہیں ہے اور کالجیم نے ان کا نام تجویز بھی نہیں کیا تھا پھر بھی سرکار نے انہیں فہرست میں شامل کردیا۔   علاقائی توازن کی بات کی جائے تو حکومت  نےسپریم کورٹ میں کرناٹک کی نمائندگی  کے باوجود دو نئے ججوں کی توثیق کردی۔  سچ تو یہ ہے کہ امیت شاہ کی جوڑ توڑ سے بنائی جانے والی اتراکھنڈ سرکار  کے خلاف جسٹس  کے ایم  جوزف کے فیصلے حکومت ناراضگی ہنوز باقی ہے اور انہیں بلی کا بکرا بناکر سارے ججوں کو یہ پیغام دیا جارہا ہے حکومت کی مرضی کے خلاف جانے کا انجام یہ ہوگا۔  یہ  جبر، تنگ دلی اور کینہ پروری عدلیہ کے کالجیم کا وقار پامال کررہی ہے۔

مودی سرکار کا یہ رویہ عین توقع کے مطابق ہے۔ عشرت جہاں جعلی انکاونٹر میں سی بی آئی تفتیش کا حکم دے کر اس کی نگرانی  کرنے والے  کرناٹک ہائی کورٹ  کے جج  جینت پٹیل کے ساتھ چند ماہ قبل یہی کیا گیا۔ وہ  سب سے سینئر جج تھے اور ان کی چیف جسٹس کے طور تقرری ہونی تھی لیکن حکومت نے ان کا تبادلہ الہ باد ہائی کورٹ میں کر دیا جہاں ان سے سینئر تین جج موجود ہیں۔  اس طرح جینت پٹیل کو کرناٹک ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بننے سے اس لیے روک دیا کہ انہوں مودی جی  کی صوبائی حکومت کے خلاف ایک مبنی بر انصاف فیصلہ دیا تھا۔  حکومت کے اس معاندانہ رویہ سے بددل ہوکر جینت پٹیل نے استعفیٰ دے دیا۔ حکومت اگر عدلیہ میں اس طرح مداخلت کرنے لگے اور ججوں تک کو بلاقصور سزا سنانے لگے تو عام شہری  عدل و انصاف کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

ایک عام آدمی کا دامن اگر داغدار ہوجائےتو اسے شرم محسوس ہوتی ہے اور خودکو بے داغ کرنے کی سعی کرتا ہے لیکن تنوع فطرت  مودی جی کچھ نیا کرنے کے قائل ہیں۔  وہ سوچتے ہیں کہ اگر سفید پوش معاشرے کے ہر فرد کا دامن داغدار کردیا جائے تو ساری روک ٹوک اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔  اس کوشش میں انہوں نے گجرات میں عوام کو اکسایا  اورجب وہ  جوش میں آکر  سڑکوں پر نکل آئے تو لوٹ مار اور عصمت دری کی چھوٹ دے کرفرقہ وارانہ فساد میں ملوث کرلیا ۔  اس کے بعد انتخابی مہم میں عوام سے فرمانے  لگے  دہلی میں بیٹھی اطالوی سونیا گاندھی  تمہیں زانی اور لٹیرا کہتی ہے۔   فسادیوں اور ان کے رشتے داروں  کے دل میں خوف محسوس کیا کہ میرے مخالفین  تمہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنا چاہتے ہیں  اور میں تمہارا نجات دہندہ ہوں اس لیے مجھے ووٹ دو۔ اس طرح عوام کے دامن کو داغدار کرکے اپنا ہمنوا بنالیا۔   یہ تو صرف ابتدا تھی جو بالآخر عدلیہ تک پہنچی۔

اس دوران مودی جی نے گجرات پر اپنے اقتدار کی گرفت مضبوط کرنے کے لیےانتظامیہ کو  بدعنوانی  اور قتل و غارتگری میں بڑے پیمانے پر ملوث کیا۔ سہراب الدین، پرجاپتی اور عشرت جہاں کے معاملات اسی حکمت عملی  کا حصہ ہیں۔  سی بی آئی نے جینت پٹیل کے کہنے پر خاطی افسران کے خلاف تفتیش کرکے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا۔ امیت شاہ کو استعفیٰ دینا پڑا لیکن مرکزی حکومت پر قابض ہونے کے بعد جب سی بی آئی اور این آئی اے جیسے اداروں کوگرفت میں لے کر  سار کھیل الٹ دیا گیا۔ امیت شاہ کے  علاوہ دوسرے ملزم بھی ایک ایک کرکے چھوٹتے چلے گئے۔ گجرات میں سہراب الدین اور عشرت جہاں معاملات میں  برطرف شدہ پولس افسران این کے امین اور ترون باروٹ کو بعد از سبکدوشی ترقی دے کر عہدے پر بحال کیا گیا۔  اس پر عدالت عظمیٰ میں شکایت کی گئی تو ان لوگوں  استعفیٰ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ انتظامیہ کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کو دولت کے بل بوتے پر ایسے خریدا گیا کہ لوگ اسے طوائف سے بدتر سمجھنے لگے اور اس کی عزت و ناموس خاک میں ملا دی  گئی۔

عدلیہ عوام کے امید کی آخری کرن ہے حالانکہ سابق جج مارکنڈے کاٹجو کے مطابق اس میں بھی ۵۰ فیصد جج بدعنوانی کی  لپیٹ میں ہیں۔  ایسے میں مرکزی حکومت اس برائی کو اپنی دھاندلی سے فروغ دے رہی ہے۔ بدعنوان جج جانتے ہیں صرف  بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ لگا دینے اور دوچار زعفرانی ملزمین کو بری کردینے  سے ان کے سارے کالے کرتوت  معاف ہوسکتے ہیں۔  اسیمانند کو بری کرنے والے جج ریڈی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات منظر عام پر آچکے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  ایک جج کو جیل بھیجنے کی دھمکی دی گئی اور اس کے عوض  اپنا من مانا فیصلہ کروا لیا گیا۔  اس نازک صورتحال میں  حکومت کے خلاف  ۱۰۰ وکلاء نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے  مطالبہ کیا کہ جسٹس جوزف کی تقرری تک اندو ملہوترا کے حکمنامے پر روک لگائی جائے۔ چیف جسٹس این کے  مشرا کے سامنےجب یہ معاملہ اندرا جئے سنگھ نےیہ معاملہ پیش کیا تو وہ چراغ پا ہوگئے اور کہنے لگے ہرگز نہیں۔  یہ کیسی شکایت ہے۔ اس پر کوئی گفتگو نہیں ہوگی۔  کھٹوعہ کے معاملے میں آپ لوگوں کا غم غصہ قابل فہم ہے لیکن اندو ملہوترا کی تقرری کو جوزف سے مشروط کرنے کا کام   ہرگزنہیں ہوگا۔

  حقیقت تو یہ ہے کہ کالجیم   کو چونکہ  توقع تھی کہ جسٹس جوزف کا نام مسترد ہوجائے اس لیے دوبارہ  نام بھیجنے کی تیاری کرلی گئی تھی  لیکن مذکورہ مطالبے نے چیف جسٹس کو بے چین کردیا۔  اس کے بعد اندرا جئے سنگھ نے دونوں معاملات کو الگ کردیا اور جسٹس جوزف کی بابت سماعت کے لیے اگلی  تاریخ کا اعلان ہوگیا۔  یہ مودی سرکار کا اعزاز ہے کہ اس کے زرین دور میں عدالتِ عظمیٰ کے تین ججوں کو پریس کانفرنس کرکے اپنی بے اطمینانی کاا ظہار کرنا پڑا۔ چیف جسٹس پر الزام لگا کہ وہ بنچ کے تقرر میں روایت کی پاسداری کے بجائے من مانی کرتے ہیں  یا اقرباء پروری سے کام لیتے ہیں۔   جسٹس لویا کی پراسرار حالت میں موت ہوئی لیکن عدالت اپنے ہی رکن  سے ہمدردی کرتے ہوئے ان کی موت کو تفتیش سے بالاتر کرکے فطری موت قرار دے دیا۔ چیف جسٹس کے خلاف ایوان بالا میں   تحریک مواخذہ کو نائب صد رنے بزور قوت روک دیا۔ کیا ہی عدلیہ کے اچھے دن ہیں۔  عدالت   کا ایسا برا حال شاید پہلے کبھی نہ تھا اور خدا کرے کہ آگے کبھی نہ ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close