آج کا کالم

انل امبانی ٹاور،اسپیکٹرم، کیمپس بیچ  رہے ہیں، آپ بھی لے لو!

رويش کمار

2010 تک ٹیلی کی دنیا میں نمبر دو کی جگہ بادشاہت رکھنے والی انل امبانی کی کمپنی RCOM تین ماہ کے اندر اپنا بہت کچھ نیلام کرنے والی ہے. اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو آپ خرید سکتے ہیں مگر دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کس کمپنی کے پاس اتنا پیسہ ہوگا جو تین ماہ کے اندر 39000 کروڑ کی خرید کرے گی. ظاہر ہے ایک کمپنی تو نہیں ہو گی، بہت سی کمپنیاں بھی ہو سکتی ہیں.

آپ جانتے ہیں کہ انل امبانی پر بہت بینکوں کا7000 44 کروڑ روپیہ لون ہو چکا ہے. اسٹیٹ بینک آف انڈیا، آئی ڈي بي آي، بینک آف بڑودہ. چائنا ڈیولپمنٹ بینک نے تو 9600 کروڑ کے لون کی وصولی کے لئے NCLT میں دعوی بھی ٹھوک دیا تھا. جون میں انل امبانی نے کہا تھا کہ چھ ماہ کے اندر لون کے بوجھ اتارنے کے لئے کئی اہم تبدیلیاں کریں گے. اسے SDR اسکیم کہتے ہیں جس کی سمجھ مجھے نہیں ہے.

موٹا موٹی یہی سمجھ آیا ہے کہ اس اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں ہوا. ابھی انل امبانی مارچ 2018 تک اپنے کئی ایسیٹ یعنی سرمایہ فروخت کردیں گے. انل امبانی کے پاس اسپیکٹرم، ریئل اسٹیٹ اور شیئر کے طور پر پونجی ہے. اس لئے RCOM 43000 ٹاور فروخت کیے جا رہے ہیں. 4 جی اسپیکٹرم کا 122.4 میگاهرتج اسپیکٹرم بیچ کر 25000 کروڑ جٹائے گیں. ملک بھر میں بچھائے گئے 178000 کلومیٹر آپٹیکل فائبر فروخت کر دیں گے. نوی ممبئی میں دھیرو بھائی امبانی نالج سٹی کیمپس ہے. اسے بیچ کر 10000 کروڑ آئے گا. اس کے علاوہ 4000 کروڑ کی اپنی حصہ داری بیچیں گے. آركام کے بحران کی وجہ سے کتنوں کی نوکری گئی ہے، اس کا حساب نہیں ہے.

ٹیلی سیکٹر کی یہ تبدیلی عام قارئین کی سمجھ سے باہر رہے گی. یہی کہا جا رہا ہے کہ ریلائنس جیو کے آنے سے بازار کا پرانا ڈھانچہ ختم ہو گیا. بہت سی کمپنیاں برباد ہو گئی ہیں. مجھے اس پر کم یقین ہوتا ہے. پھر بھی جب سمجھ نہیں ہے تو دعوی کس طرح کر سکتا ہوں. ٹاٹا نے اپنا وائرلیس بزنس فری میں فروخت کر دیا ہے. آپ کی ملازمت جائے گی اور دو مہینہ ہوم لون نہیں دے پائیں گے تو بینک آپ کی زندگی کو دکھ سے بھر دیں گے. یہ مت سوچئے کہ انل امبانی کا سب کچھ اجڑ گیا ہے.

بزنس سٹینڈرڈ نے لکھا ہے کہ اس خبر سے کہ وہ تمام نیلام کریں گے، شیئر کے دام بڑھ گئے ہیں. انل امبانی ایک وقت میں ممبئی کے میرین ڈرائیو اور انڈیا گیٹ کے سامنے دوڑتے تھے تو غضب کی تصویر بنتی تھی. وہ میڈیا کے ہیرو تھے. میڈیا میں رہ کر کارپوریٹ کو ہیرو بنانا ہی پڑتا ہے. اب اکیلے تمام ہمیں تھوڑے نہ بدلیں گے. آپ کیا آلو کرچھیلتے رہیں گے؟ انل امبانی کی RELIANCE AEROSTRUCTURE نے DASSAULT نام کی کمپنی کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہے. اس کمپنی کو فرانس کے لڑاکو طیارے رافیل کے معاملے میں بڑا حصہ ملا ہے. گجرات انتخابات میں راہل گاندھی نے مسئلہ بھی بنایا تھا کہ تجربہ کار ہندوستان ایرونوٹكس لمیٹڈ کو کچھ نہیں ملا، ایک نئی کمپنی کو کیسے ملا. اگرچہ راہل گاندھی بھی سيدھے سیدھے انل امبانی کا نام نہیں لے رہے تھے.

اس ڈیل کے بارے میں آپ کو جاننا ہے تو محنت کرنی پڑے گی. دی پرنٹ پر جاکر منو پوی اور بزنس سٹینڈرڈ میں تین چار سیریز میں لکھی گئی اجے شکلا کی رپورٹ پڑھیں. فوكٹ میں بھنجا بھی نہیں ملتا ہے. اپن کی سمجھ سے باہر ہے یہ دنیا. پھر بھی اپنے لئے اور ہندی کے قارئین کے لئے ایسی معلومات جٹاتا رہتا ہوں تاکہ کچھ تو آدھار بنے. باقی ہندی کے کوڑا اخباروں سے ہوشیار رهئیے گا. پچاس سال پڑھنے کے بعد ٹرک ٹرالی ٹکر سے زیادہ کی سمجھ نہیں بنے گی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close