آج کا کالم

انکم ٹیکس چھوٹ کے برابر تمام شہریوں کو ملے پیسہ

رویش کمار

اخباروں میں نوٹ بندی کو لے کر ایک نئی سرخی چھانے لگی ہے. نریندر مودی حکومت اپنے چوتھے بجٹ میں کارپوریٹ اور انكم ٹیکس میں کمی کرنے والی ہے تاکہ سست رفتار سے چل رہی معیشت دوڑنے لگے۔ كارپوریٹ ٹیکس کو پچیس فیصد تک لانے کا بہت پرانا مقصد اس بار یا تو مکمل طور پر تسلیم کر لیا جائے گا یا پہلے سے کچھ زیادہ ہو گا، لوگوں کو برا نہ لگےاسلئے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نوٹ بندی کی حمایت کرنے والے چھوٹے انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کو بھی راحت ملے گی۔

پہلے کہا گیا کہ جی ایس ٹی کے آنے سے بالواسطہ ٹیکس کم ہو جائیں گے، چیزیں سستی ہو جائیں گی اور ٹیکس ادا کرنے والوں کے پیسے بچیں گے. ‘ایک ملک ایک ٹیکس’ کا نعرہ لگا. اب اس جی ایس ٹی میں بھی طرح طرح کے ٹیکس ہیں اور جی ایس ٹی کو لے کر دکھائے جانے والے خواب غائب ہیں۔ اب ٹیکس دہندگان کو دیکھنا ہوگا کہ اس ٹیکس کے چھوٹ کے نام پر ٹھوس اور بڑی راحت ملتی ہے یا صرف بڑی بڑی ہیڈلائن۔ ویسے ہی جیسے ساتویں تنخواہ کمیشن کے وقت ہیڈلائن میں کچھ اور ملا اور اصلیت میں کچھ اور بلکہ بہت کچھ تو ابھی تک ملا ہی نہیں ہے. ٹیکس دہندگان کو مہینے میں ہزار روپے کی چھوٹ کو ایسے بتایا جائے گا جیسے اتنے میں آپ سبزی کے ساتھ ساتھ مکان دکان بھی خرید لیں گے۔ ساتویں تنخواہ کمیشن سے بھی معیشت میں تیزی نہیں آئی. اس کے آنے کے وقت بھی یہی دلیل دی گئی تھی. اب تنخواہ میں اس انقلابی اضافہ کے اثر کا کوئی نام تک نہیں لیتا ہے. ایسا دعوی کرنے والے اخبار بھی نہیں بتاتے ہیں کہ ساتویں تنخواہ کمیشن کے بعد صارفین  ، سامانوں کی فروخت میں ممکنہ اضافے کا کیا ہوا؟

بہر حال ہندوستان کی آبادی کئی دنوں سے 120 کروڑ ہے. ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ ہی انکم ٹیکس دیتے ہیں. لیکن پوری آبادی ٹیکس چور ہے یہ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ آبادی کا بڑا حصہ ٹیکس دینے کے قابل ہی نہیں ہے یہ کہنا درست ہوگا۔ – 2620 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے بتائے جاتے ہیں تو ظاہر ہے یہ انکم ٹیکس نہیں دیں گے۔ ویسے صارفین، سامانوں کو خرید کر یہ بھی بالواسطہ ٹیکس دیتے ہی ہیں۔ ارجن سین گپتا کمیٹی نے چند سال پہلے کہا تھا کہ ستر فیصد آبادی بیس روپیہ روز کماتی ہے. اس پر سب حیران ہوئے لیکن یہ اعدادوشمار آج بھی حقیقت سے بہت دور نہیں ہیں۔ جب ساٹھ سے ستر فیصد ٹیکس دینے کے قابل نہیں ہیں تو پھر ہم شور کیوں مچا رہے ہیں کہ بھارت میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔

اب بچی تیس فیصد آبادي جو بیس روپے سے زیادہ کماتی ہے. اس میں سے بھی بڑا حصہ کم از کم مزدوری یا اس سے کم کماتا ہے. بمشکل سے یہ طبقہ کم از کم زندگی کی سطح کے لائق اخراجات جٹا پاتا ہے. اس لئے وزیر خزانہ کبھی ڈھائی لاکھ تو کبھی چار لاکھ سالانہ آمدنی والوں کو ٹیکس سے باہر کر دیتے ہیں۔ آپ نے کئی بار سنا ہوگا کہ ہندوستان میں ایک فیصد آبادی کے پاس ملک کی کل ملکیت کا ساٹھ فیصد حصہ ہے. تھوڑا بھی دماغ لگائیں گے تو یہ جان جائیں گے کہ جس ایک پرسینٹ کے پاس ملک کا ساٹھ فیصد مال ہے وہی زیادہ ٹیکس دے گا یا جس کے پاس کچھ نہیں ہے وہ دے گا؟ لیکن اسے تو راحت دینے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ کس بنیاد پر بن رہے ہیں؟

کیا نوٹ بندی کے بعد حکومت بتانے والی ہے کہ کروڑوں نئے ٹیکس ادا کرنے والے جڑ گئے ہیں؟ اسے لے کر تو کوئی بحث اور سوال ہی نہیں ہے کہ ان نامعلوم ٹیکس دہندگان کا کیا ہوا جن کے پاس ہے اور جو ٹیکس نہیں دیتے ہیں. ضرور ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں مگر ایک ارب سے زیادہ کی آبادی والے ملک میں نوٹ بندی سے پچاس ساٹھ لاکھ نئے ٹیکس ادا کرنے والے مل ہی گئے تو کون سی بڑی بات ہے. یہ سب تو انکم ٹیکس محکمہ بھی اپنے معمول کی سرگرمیوں کے طور پر حاصل کر سکتا ہے. کم از کم دس بیس کروڑ تو پکڑے ہی جانے چاہئے. بھارت میں ہر سال بیس لاکھ کاریں بکتی ہیں۔ دس لاکھ لوگ سالانہ دس لاکھ سے زیادہ کی آمدنی پر انكم ٹیکس فائل کرتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے؟ پھر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ بیس لاکھ گاڑیوں میں سے کتنی کم داموں والی کاریں ہیں اور کتنی لاکھوں کروڑوں والی؟ خیر۔

بھارت میں جتنے لوگ ٹیکس دیتے ہیں اس سے زیادہ لوگ ٹیکس ریٹرن تو بھرتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے۔ ظاہر ہے یہ ٹیکس دینے کے قابل نہیں ہیں. ایسے لوگوں کی تعداد ایک کروڑ ستر لاکھ بتائی جاتی ہے. جب ریٹرن بھرنے والوں کی حیثیت ٹیکس دینے کی نہیں ہے تو کس اعداد و شمار کی بنیاد پر ہم آسانی سے مان لیتے ہیں کہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ ٹیکس نہیں دیتے ہیں. دراصل جو نہیں دیتے ہیں وہ بھی اسی ایک فیصد میں آتے ہیں جن کے پاس ملک کی کل ملکیت کا ساٹھ فیصد حصہ ہے. کیا حکومت ہند کے پاس اس ایک فیصد سے نمٹنے کے لئے کوئی اور طریقہ نہیں تھا؟ ضروری تھا کہ پورے ملک کو لائن میں کھڑا کیا جائے؟

حکومت مانتی ہے کہ پورا ملک نوٹ بندی کی حمایت کر رہا ہے. پھرکارپوریٹ ٹیکس اور انكم ٹیکس میں چھوٹ کی بات کیوں ہو رہی ہے؟ کیا پورا ملک کارپوریٹ ٹیکس اور انكم ٹیکس دیتا ہے؟ اس کے دائرے میں آتا ہے؟ ایسی ہیڈلائن کیوں نہیں ہے کہ غریبوں کے اکاؤنٹ میں براہ راست کتنا  جائےگا؟ غریب لوگوں کو براہ راست اور فوری طور پر کیوں نہیں ملنا چاہئے؟ کیا جو اسکول کالج بنیں گے اس کا استعمال مڈل کلاس نہیں کرے گا؟ مڈل کلاس کو فوری طور پر نقد اور باقی کلاس کو پنج سالہ منصوبہ بندی، یہ تو ناانصافی ہوگی۔ میری رائے میں کسی انکم ٹیکس دہندہ کو سال میں دس ہزار کی چھوٹ ملتی ہے تو اتنی ہی رقم کسی غریب کے اکاؤنٹ میں بھی جانی چاہئے۔ غریب، خواتین، کسان اور مزدوروں کے اکاؤنٹ میں انکم ٹیکس چھوٹ کے برابر کا حصہ جانا چاہئے۔ یہ بے ایمانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ نوٹ بندی کی تکلیف سب نے اٹھائی ہے۔ ہمارے مخالفین میں اخلاقی قوت ہوتی تو عام لوگوں کی بات کر پاتے۔ وہ یہی ناپتے رہ جائیں گے کہ غریب کو خوش کرنے میں مڈل کلاس کہیں ناراض نہ ہو جائے۔ باقاعدہ تحریک چلنی چاہئے کہ جتنا ٹیکس چھوٹ اتنا ہی باقی عوام کے اکاؤنٹ میں براہ راست ٹرانسفر. سب کو ملے گا برابر برابر۔

ہو سکتا ہے کہ حکومت تعلیم، صحت کے بجٹ میں معمولی اضافہ کر دے. کسی مد میں تین ہزار کروڑ ڈال دے لیکن اس رقم کو ہم اس سیکٹر کی ضرورت کے تناسب میں دیکھیں گے یا صرف تین ہزار کروڑ سن کر ناچنے لگیں گے. حکومت کبھی نہیں بتائے گی کہ اس بجٹ کا ایک حصہ نئے پرانے اسکولوں کو چلانے کے لئے کافی تعداد میں اساتذہ کی تقرری پر بھی خرچ ہوگا۔ روزگار کے صحیح اعداد و شمار وہ اپنی طرف سے کبھی نہیں دیتی ہے.کارپوریٹ کتنی تعداد میں اور کس نوعیت کی ملازمت دیں گے؟ لوگ ہیڈلان پڑھ کر اس بھرم میں رہنے لگ جاتے ہیں کہ سب ہو گیا۔ سنہری دور آ گیا۔

اس نوٹ بندی نے پھر سے ثابت کیا ہے کہ غریب کی آواز کی کوئی قیمت نہیں ہے. صرف ان رہنماؤں کی آواز کی قیمت ہے جو خود کو غریب بتاتے ہیں اور غریبی دور کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔ شہر کے شہر آدھی سے زیادہ آبادی جھگیوں میں جہنم جیسی زندگی جی رہی ہے. کانگریس اور بی جے پی ریاستوں کے شہر بھی۔ وہاں کوئی سہولت نہیں ہے۔ بیس سال رہنماؤں نے غیر قانونی کو قانونی  اور قانونی کو غیر قانونی کرنے میں ہی نکال دیے. وہاں سہولت کے نام پر تکلیف ہی پہنچتی رہی ہے۔ مڈل کلاس کسانوں کے تئیں کوئی ہمدردی نہیں رکھتا ہے. جے جوان جے کسان کے نام پر اس کا آج تک جذباتی استحصال ہوتا آیا ہے. کسانوں کی مہینوں کی محنت اور فصل برباد ہو گئی، سماج اور سیاست نےاف تک نہیں کیا. کسی نے ان کے نقصان کی تلافی کی بات نہیں کی. اس کے لئے کسان بھی خود ذمہ دار ہیں. اب اگر دس ہزار کا قرضہ معاف بھی ہو جائے گا تو کیا اس سے ان کے ایک لاکھ سے لے کر چار لاکھ کے نقصان کی تلافی ہو جائے گی؟

مزدور ہی نہیں میڈیا ہاؤس سے لے کر پرائیویٹ اسکول کالج کے صحافی اور استاد کیا واقعی اتنی تنخواہ لینے لگیں گے جتنی پر وہ سائن کرتے ہیں؟ کیا واقعی ایسا ہونے لگا ہے یا ہو گا؟ ان  کی سچائی انہیں کے ساتھ دفن ہو جائے گی. ہم کبھی نہیں جان پائیں گے۔ بی جے پی سے لے کر کانگریسی رہنماؤں کے ہی انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز ہیں. وہاں اساتذہ کو سائن پچاس ہزار کے آگے کرایا جاتا ہے اور دیا جاتا ہے تیس ہزار۔ وہ خود ہی بتاتے ہیں. حکومت بتائے کہ اس کے کس قانون سے ایسا ہونا ناممکن ہو جائے گا اور كےسے؟ جب اساتذہ کا یہ حال ہے تو مزدوروں کا کیا ہوگا؟ جو عوام نوٹ بندی کے بعد بھی دو سو روپے لے کر ریلیوں میں غریبی دور کرنے کا فرضی تقریر سننے جا رہی ہے، وہی بہتر بتا سکتی ہے کہ پیسے لے کر خوش ہوئی یا اس کے ہوش اڑ گئے!

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close