آج کا کالم

ان 57 ارب پتی قرض دارو سے سیکھو میرے کسانوں!

رویش کمار

جب سے کسی نے بتایا ہے کہ پورے ہندوستان میں صرف 57 لوگ ایسے ہوئے ہیں، جن پر سرکاری بینکوں کے 85000 کروڑ قرضے ہیں، تب سے میں خود کو ملامت کررہا ہوں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں، جنہوں نے 500 کروڑ سے کم کا لون لینا اپنی شان کے خلاف سمجھا۔ مطلب یہ کہ اگر بینک کا لون لے کر بھاگنا ہی تھا تو 500 کروڑ سے کم لیکر کیا بھاگیں۔ بینک کو دقت نہیں ہے، کوئی تیسرا آدمی پریشان ہےکہ بینک ان سے پیسے نہیں لے رہے ہیں۔ وہ جا کر کیس کردے رہا ہے۔ ان ارب پتی قرض دارو کی سماجی ساخت کو چوٹ پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے، وہ بھی بینکوں کو بچانے کے لئے. ایسی تباہی تو ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔

 انہیں بیدار مقدمہ بازوں کی وجہ سے عدالت کو پوچھنا پڑ رہا ہے کہ کون لوگ ہیں جو 85 ہزار کروڑ لے کر بھی نہیں دے رہے ہیں، ان کا نام کیوں نہ پبلک کو بتا دیں؟ کیوں بتا دیں؟ کیا پبلک پیسے وصولےگي؟ یہ ہندوستانی سماج ہے. لوگ ایسے قرض داروں کے یہاں رشتہ جوڑنے پہنچ جائیں گے۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان 57 لوگوں میں سے صرف ایک ہی بیرون ملک بھاگا ہے۔ ان کا نام وجے مالیا ہے اور سپریم کورٹ کو بھی نام معلوم ہے۔ باقی 56 یہیں ہندوستان میں ہی ہیں۔ ان کو پتہ ہے کہ جب فرارہونے سے بھی بینک پیسے واپس نہیں لے سکتے تو کیوں نہ ہندوستان میں ہی رہیں۔  یہاں رہ کر بھی تو وہ بینکوں کو پیسے لوٹانے نہیں جا رہے ہیں۔

 ریزرو بینک نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ حضور ان کے نام پبلک کو نہ بتائیں۔ حکومت نے ریزرو بینک پر چھوڑ دیا کہ چلو یہی بتاؤ، کیوں نہ بتائیں؟ اتنا بڑا سوال تھا کہ ریزرو بینک کو سوچنے کا وقت بھی دیا گیا۔ انتخابات ہوتا تو ضرور کوئی لیڈر کہتا کہ عوام کے پیسے دو ورنہ عوام کو نام بتا دیں گے۔ بینک کو بھلے نہ پیسے ملتے، لیکن نیتا جی کو انتخابات کے لئے چندے تو مل ہی جاتے۔ میرا ایک سوال ہے، وجے مالیا کا نام تو کورٹ اور پبلک کو معلوم ہے، تو کیا بینکوں نے پیسے وصول لئے؟ کہیں گروی تو کہیں نیلامی، یہی ہو رہا ہے۔ مالیا اب تک بھارت نہیں آیا۔ داؤد کی طرح لایا ہی جا رہا ہے۔ ٹی وی چینلز نے کتنی خبریں چلائی کہ پاکستان داؤد دینے والا ہے۔ بیچارے بینکوں کو بھی کتنی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ وہ وصولنا نہیں چاہتے، کچھ لوگ پیچھے پڑے ہیں کہ وصولو بھائی. جو بھی ہے، نام معلوم ہونے سے پیسہ آسانی سے مل جائے گا، اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے. اب آپ ہی بتائیں، پبلک کو نام بتا بھی دیں گے تو نام جان کر پبلک کیا کرے گی؟ جب حکومت وصول نہیں پائی تو کیا پبلک 85000 کروڑ وصول لے گی؟

 جب سے یہ خبر سنی ہے،مارے  خوشی کے دفتر نہیں گیا۔ 57 لوگ مل کر 85000 کروڑ لے کر یہاں ہندوستان میں ہیں. اگر یہ تمام کسان ہوتے تو اکیلا تحصیلدار ان سے وصول لاتا ہے۔  مثبت بات یہ ہے کہ ان 57 میں سے کسی نے خود کشی نہیں کی ہے۔ میری رائے میں حکومت کو انہیں برانڈ امبیسڈر بنا کر کسانوں کے درمیان لے جانا چاہئے۔ یہ لوگ کسانوں سے کہیں کہ ہم 500 کروڑ کا قرضہ لے کر خوش ہیں، نہیں دے کر بھی خوش ہیں. خودکشی نہیں کر رہے ہیں۔ ایک آپ لوگ ہیں جو 10 لاکھ کے لئے خود کشی کر لیتے ہیں۔ حکومت کو قانون بنا کر کسانوں اور ہوم لون والوں کو ‘ول فل ڈفالٹر’ بننے کا سنہری موقع دینا چاہئے۔ بھائی فصل ڈوب گئی، نوکری چلی گئی تو کہاں سے قرضہ دیں گے۔

 گوگل کیجئے. وزیر خزانہ کے کتنے بیان ملیں گے کہ بینک آزاد ہیں، پیسے وصول کرنے کے لئے۔ انہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر خزانہ کی دی ہوئی آزادی کا فائدہ بینکوں نے خوب اٹھایا ہے۔ اس آزادی کی وجہ سے ایک سال میں بینکوں کا مجموعی نان پروفٹ ایسیٹ یعنی این پی اے دوگنا ہو گیا ہے۔ یعنی جون 2015 میں 5.4 فیصد تھا، جون 2016 میں 11.3 فیصد ہو گیا۔ پیسے دینے کے بجائے یہ جلد از جلد دیوالیہ ہو سکیں، اس کے لئے بھی انہیں قانونی سہولت دی گئی ہے۔ حال ہی میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان کو قرض ادا کرنے والا سماج بننا ہوگا۔ ضرورت کہنے کی یہ تھی کہ ہندوستان کو قرض ادا کرنے والا سماج بننا چاہئے، لیکن ٹیکس کا نام لے لیا تو اب کون بولے گا۔

 یہ 57 لوگ ہی چاہیں تو لاکھوں ہندوستانی کسانوں کا قرضہ معاف کر سکتے ہیں. دو طرح سے. ایک تو اسی پیسے سے کسانوں کی مدد کر دیں یا پھر کسانوں کو بتا دیں کہ بینکوں کا قرضہ کس طرح پچايا جاتا ہے۔ سوچیں اگر ہندوستانی کسان 500 نہ صحیح 100 کروڑ کا قرض لے کر ہضم کرلیں تو گاؤں گاؤں میں امیری آ جائے گی. دیہی صارفین انڈیکس چھپر پھاڑ کر اوپر چلا جائے گا. میں تو چاہتا ہوں کہ ریزرو بینک ان 57 لوگوں کے نام بتا دے۔ پیسے تو یہ ویسے ہی نہ دینے والے ہیں، کم سے کم ان سے باقی قرض دار مشورہ تو لے سکتے ہیں۔ ان کے بارے میں پڑھایا جانا چاہئے۔ ان کی طرز زندگی دکھائی جانی چاہئے، جیسے ہم دیہات میں جا کر قرض میں ڈوبے کسان کی اداس زندگی دکھاتے ہیں۔ جب ہم پانچ پانچ سو کروڑ کے قرض دارو کی عالیشان زندگی دکھائیں گے تو کسانوں میں غضب کا اعتماد آئے گا. کسانوں کو بھی یقین ہوگا کہ اگر وہ کروڑوں کی تعداد میں نہ ہوتے تو آج حکومت اور بینک ان کا بھی کچھ نہیں کر پاتے، جیسے ان 57 لوگوں کا نہیں کر پا رہی ہے۔ فوری کارروائی کی جگہ طویل طریقہ کار کے سہارے مدد کا یہ راستہ لاکھوں کسانوں کو زندگی دے سکتا ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close