آج کا کالم

اونٹ پہاڑ کے نیچے!

ڈاکٹر سلیم خان

ایک زمانے میں محاورہ ہوا کرتا تھا بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی اب وہ  بدل کرہوگیا ہے گائے کا بیٹا کب تک خیر منائے گا۔ اُدھر مودی جی نے رورو کے  گھو گھا سے دہیج کے درمیان کشتی رانی کی سہولت کا اعلان کیا اِ دھر الیکشن کمیشن نے گجرات میں انتخابات کا بگل بجادیا۔ یہ کشتی رانی   دو ماہ کے لیے ٹل جاتی تو کون سا آسمان پھٹ پڑتا ؟ عام آدمی کو تو اس سے کئی کوفرق نہیں پڑتا مگر بیچارے مودی جی کی نیند حرام ہوجاتی۔ دوماہ بعد ان کے اپنے گجرات کا نیا وزیراعلیٰ انہیں اس افتتاح کی تقریب میں شرکت  کی  دعوت نہیں دیتا اور مودی جی دل  مسوس کے رہ جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ  ان پر آج کل سنگ بنیاد رکھنے کا جنون سوار ہے۔ دہلی سے اٹھتے ہیں توسیدھے  گجرات کا رخ کرتے ہیں اور ایک نئے پتھر سے اپنا سر پھوڑ کر آجاتے ہیں۔ ایک ہوائی اڈے کا پتھر کسی زمانے میں رکھا گیا تھا  وہ زمین میں دھنس گیا۔ اس کے بعد احمدآباد میٹرو ریل کا پتھر لگا جسے  بس  کے پہیوں نے گھس دیا اور اب بولیٹ ٹرین کا  جاپانی پتھر ہوا میں برف کی مانند تحلیل ہورہا ہے۔ ان پتھروں کے ساتھ گجرات کے عوام کا اعتماد مودی جی کے اوپر سے بھی اٹھتا جارہا  ہے۔  اس لیے وہ بے وفائی پر تلے ہوئے ہیں مگرافسوس کہ  کرسی کےعشق میں مبتلاپردھان سیوک چچا  غالب کی طرح  نہیں کہہ سکتے ؎

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

دہلی جانے کے بعد مودی جی نے سب سے برا سلوک اپنے حلقۂ انتخاب بڑودہ کے ساتھ کیا۔ یہ وہی شہر ہے جہاں انتخاب کے بعد مودی جی نے نعرہ لگایا تھا  ’’اچھے دن ؟‘‘عوام نے اس کا جواب جھوم کردیا ’’آنے والے ہیں ؟ ‘‘ مودی جی یہ سن کر ناراض ہوگئے۔ انہوں نے سوچاا ن  بیوقوفوں کو نہیں پتہ کہ انتخابات ختم ہوچکے ہیں اور نتائج کا اعلان بھی ہوچکا ہے۔ یہ پاگل ابھی تک ماضی میں کھوئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عوام کو ہوش   میں لانے کے لیے پھر سے گلاپھاڑ کر پکارہ ’’اچھے دن؟‘‘۔ عوام نے جوش  میں جواب دیا ’’ آنے ہی والے ہیں ‘‘۔ مودی جی کی بے چینی بڑھ گئی جسے بہورانی سمرتی ایرانی تاڑ گئیں۔ رامائن میں سیتا کا کردار نبھانے والی دیپیکا چکھالیا بڑودہ سے انتخاب جیتنے کے باوجود وہ منتری نہیں بن سکی تھیں جبکہ ایرانی  کو  امیٹھی میں ناکامی کے بعد بھی انسانی وسائل کے فروغ کا وزیر بنادیا گیا تھا اس لیے غالباً انہوں نے  جواب دیا ’’آچکے ہیں‘‘۔ پارٹی کی صدارت پر فائز ہونے والے امیت بھائی شاہ نے ایرانی کی تائید کی تو مودی جی چہرہ کمل کی طرح کھل گیا اور مجمع نے نعرے بازی شروع کردی ’’اچھے دن آچکے ہیں ‘‘ یہ سن مودی جی خوشی سے پاگل  ہوگئے۔ مودی جی بڑودہ کی عوام کا شکریہ ادا کرنے کے لیےوہاں  گئے تھے۔ بڑودہ کے لوگوں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ مودی جی شکریہ کے ساتھ ان کا ووٹ لوٹانے کے لیے آئے ہیں۔

بڑودہ کے لوگوں   کوہوش اس وقت آیا جب مودی جی  نےوارانسی کے مقابلے بڑودہ کو جسودھا بین کی طرح بنا بتائے چھوڑ دیا۔ مودی جی کو بڑودہ والوں نے 8 لاکھ 45 ہزار  ووٹ دیئے تھا جو جملہ ووٹ کا 73 فیصد تھا جبکہ وارانسی میں انہیں 5 لاکھ  81 ہزار  ووٹ ملے تھے جو صرف 56 فیصد تھا۔ مودی جی کو چاہیے تھا کہ وہ بڑودہ والوں کی اس غیرمعمولی حمایت کا احترام کرتے ہوئے وارانسی کو خالی کرتے لیکن اتر پردیش کے مقابلے احساسِ کمتری کا شکار وزیراعظم نے الٹا کیا۔ انہوں نے سوچا  ہوگا گجراتیوں کی مجبوری ہے۔ بڑودہ والوں نے مودی جی کا حالیہ روڈ شو فلاپ  کرکے ثابت کردیا کہ مجبوری عوام کی نہیں پردھان سیوک  کی ہے جو اصلی خدمت کرنے کے بجائے بول بچن سے  کام چلاتا ہے۔ بڑودہ میں اس بار مودی جی نے کہہ دیا میں وکاس ہوں۔ یہ ایک معمولی سا نعرہ ہے جیسے’ اندرا انڈیا ہے‘۔ اس  احمقانہ نعرے کو بلند کرنے کی  حرکت کانگریس کے صدر دیوکانت  بروہ نے کی تھی لیکن مودی جی نے از خود یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کردیا جب بچے بچے کی زبان پر ’’ وکاس پاگل ہوگیاہے‘‘ کے الفاظ رقص کررہے تھے  ۔ اس پس منظر میں یہ  اعلان سیدھے سیدھے  اپنے  آپ کوپاگل گھوشت کرنا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ ایسا اعتراف  تو دماغی توازن  بگڑ جانےکے بعد   بھی ممکن نہیں ہے؟ ایسے میں بھکتوں کی کیفیت غالب کے اس شعر کی مانند ہے؎

کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو 

 نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو

وزیراعظم بننے کے بعد مودی جی نے اکتوبر 2014 بڑودہ میں جاکر سردار ولبھ بھائی پٹیل کے 189 میٹر اونچے مجسمہ کا کام شروع کرایا۔ مودی جی نے 2010 میں جب پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھا تو  بڑودہ سے قریب سادھو بیٹ کے مقام پر تعمیر ہونے والے اس دیوہیکل مجسمہ کا سہارا لینے کی کوشش کی۔  اس مقصد کی خاطر ملک بھر کے 5 لاکھ کسانوں سے 5 ہزار ٹن لوہا جمع کیا گیا لیکن جب یہ نوٹنکی ختم ہوئی تو دسمبر 2013 میں مودی جی نے 2989 ہزار کروڈ میں اس کی تعمیر کا ٹھیکہ امبانی کی کمپنی لارسن ٹوبرو کو دےدیا۔ ایل اینڈ ٹی نے اعلان کیا کہ جو لوہا جمع کیا گیا تھا اس کو مجسمہ کی تعمیر میں نہیں بلکہ دوسرے کاموں میں استعمال کیا جائیگا اس طرح کسانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا گیا۔  امبانی نے اس مجسمہ کو بنانے کا ٹھیکہ چینیوں کو سونپ دیا اور میک ان انڈیا کا نعرہ لگانے والی سرکار یہ سارا کھیل ہاتھ پر ہاتھ دھرے دیکھتی رہی۔ اس کو کھڑا کرنے کی ذمہ داری بھی  ہندوستانی مزدوروں کے بجائے چینیوں کو سونپی گئی اب تو یوگی جی یہ بھی نہیں کہہ سکتے اتحاد کی یہ مورتی ہندوستانی مزدوروں کے خون پسینے سے بنی ہے۔

سردار ولبھ بھائی پٹیل کی مورتی اگر تعمیر ہوجاتی تو مودی جی کچھ تو دکھا کر گجرات کی عوام کو رجھا سکتے تھے لیکن اس سے بہتر ہوتا کہ وہ  عوامی فلاح و بہبود کی جانب توجہ دیتے۔ ابھی حال میں قومی انسانی حقوق کے کمیشن نے عدالت ِعؑظمیٰ  سے شکایت کی ہے کہ کمیشن کے 99 فیصد احکامات پر عملدرآمد ہوا ہے لیکن نام نہاد آدرش  گجرات میں داہود کھمبات علاقہ میں سیلیکوسس نامی بیماری سے مرنے والے 238  لوگوں میں سے ایک کو بھی پچھلے پانچ سالوں کے اندر  معاوضہ   نہیں دیا گیا جبکہ جھارکھنڈاور پدوچیری  جیسی مسکین ریاستیں  اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوچکی  ہیں۔ جن سیوا نامی تنظیم کی رینو کھنہ نے بتایا کہ گجرات میں زبردست صنعتی ترقی کے باوجود کارخانوں میں بیمار ہونے والوں کے لیے ایک بھی مخصوص دواخانہ نہیں ہے اور نہ کیمیاوی اشیاء کے سبب ہونے والے کینسر کے اعداد وشمار  رکھے جاتے ہیں۔ شیرخوار بچوں کی موت کے معاملے میں گجرات سرِ فہرست ہے۔ بلند بانگ دعووں کے بجائے اگر ان زمینی حقائق کو بدلنے کی کوشش کی جاتی تو بی جے پی کا دوبارہ کامیاب ہوجانا اس قدر مشکل نہ ہوتا۔

مودی جی تو خیر پردے کے سامنے کرتب بازی دکھاتے ہیں لیکن امیت شاہ پردے کے پیچھے ذات پات کا کھیل رچاتے ہیں۔ ان  کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنا روایتی ووٹ سنبھالنے کے بعد دشمن کے خیمہ میں سیندھ لگائی جائے۔اتر پردیش میں انہوں نے سماجوادی پارٹی کے غیر یادو ووٹ بنک کو لوٹا اور بہوجن سماج کے غیر دلتوں پر شب خون مار کر اپنی نیاّ پار لگائی لیکن گجرات  میں اس کا  داوں الٹ  گیا۔ گجرات کے اندر کانگریس کا ایک کھام ووٹ بنک ہے جس میں کشتری  یعنی راجپوت، ہریجن، ادیباسی اور مسلم ووٹر شامل  ہے۔ بی جے پی پٹیل، دیگر پسماندہ طبقات، بنیا اوربراہمن رائے دہندگان پر انحصار کرتی رہی ہے۔ گئو ماتا کی آڑ میں دلتوں پر ہونے والے تشدد نے ہریجنوں کو بی جے پی میں آنے سے روکا، ادیباسی عیسائی سماج  سنگھ کے بھید بھاو سے پریشان ہے۔ مسلمانوں کو بی سے پی سے خدا واسطے کا بیر ہے اور شنکر سنگھ واگھیلا کے ذریعہ راجپوتوں کو لبھانے میں شاہ جی کو کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی۔  ویسے شاہ جی نے واگھیلا کے علاوہ پٹیلوں  کو بھی اپنے اپنے ساتھ کرنے کی کوشش کی مگر ان کی حالت اس شعر کی مصداق ہوگئی؎

کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی     

بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

اس کے برعکس کانگریس  نے پٹیل سماج کے شعلہ بار رہنما ہاردک پٹیل کو بی جے پی کے خلاف کردیا۔پسماندہ سماج سے الپیش  ٹھاکور جیسے دمدار رہنما کو اپنے ساتھ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس طرح بی جے پی کے ووٹ بنک میں شگاف پڑ گئی۔پٹیل اور ٹھاکور فی الحال رام گڑھ کے ٹھاکر راہل گاندھی کے شانہ بشانہ  ویرو اور جئے کی طرح کھڑے ہیں۔ ٹھاکر بلدیو سنگھ نے  گبر سنگھ کو ٹیکس یعنی جی ایس ٹی  دینے  سے یہ کہہ کرانکار کردیا ہے کہ اب رام گڑھ کے گجراتی  کتوں نے کے آگے روٹی نہیں ڈالیں گے۔ گجرات الیکشن کے شعلے آسمان کو چھونے لگے ہیں اور اس کی تپش دہلی تک میں محسوس کی جارہی ہے۔ گجرات کے اندر 70 ایم ایم پردے  پر تو شعلے چل رہی ہے لیکن ٹیلیویژن کے چھوٹے پردے پر اچانک’ کون بنے گا کروڈ پتی‘ چل پڑی۔ بی جے پی والوں نے ہاردک کے ساتھی نریندر پٹیل کے بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا لیکن چند گھنٹوں کے اندر نریندر پٹیل  نے اخبار نویسوں کے سامنے دس لاکھ روپئے رکھ کراعلان کردیا کہ  بی جے پی کے  ایک کروڈ کی پیشگی ادائیگی ہے۔ اس اعلان نے بی جے پی کے ہوش اڑا دیئے۔ ہاردک نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کو مفاہمت کرنے کے عوض 22 کروڈ کی پیشکش کی گئی تھی۔ اب بی جے پی والے منی پور کی ایک ویڈیو پھیلاکر یہ کہتے  پھر رہے ہیں گاندھی نگر کی زبردست ریلی کو کامیاب کرنے کے لیے کانگریس نے نوٹ تقسیم کیے تھے۔بی جے پی کے جھوٹ کی ہانڈی بھرے بازار میں پھوٹ رہی اس لیے ا ن کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔

مودی جی پر یہ برا وقت کیوں  آیا اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ جو طلباء سال بھر محنت کرتے ہیں ان کو امتحان کے وقت کچھ خاص نہیں کرنا پڑتا بس تھوڑا بہت اعادہ کیا اور امتحان گاہ میں جوش و خروش کے ساتھ داخل ہوگئے مگر  جو طالب علم سال بھر کلاس میں جانے کے بجائے  باغوں میں گلچھرے اڑاتے پھرتے ہیں یعنی دنیا بھر کی سیاحت پر سرکاری خزانہ لٹاتے ہیں امتحان کی قربت ان کے ہاتھ پیر پھلانے لگتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کسی طور امتحانی تاریخ ملتوی ہوجائے۔ تیاری کے  لیےدوچار دن اضافی مل جائیں اور مزید پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیں۔ کہیں سے پیپر لیک ہوجائے  یعنی دشمن کے کیمپ سے دوچار اہم رہنماوں کو خرید کر اپنے ساتھ کرلیا جائے یا نقل مارنے کی یعنی ووٹنگ مشین  کے ساتھ کھلواڑ کا موقع نکل آئے۔ بی جے پی کو گجرات میں 22 سال کا موقع ملا لیکن ان لوگوں نے ڈرامہ بازی کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مودی جی نے مرکز کی کانگریسی حکومت کو کوس کوس کر اپنا الو سیدھا کیا لیکن اب مرکز میں الو بول رہا ہے اس لیے مشکل کھڑی ہوگئی ہے۔ ادھو ٹھا کرے یہی طنز کیا ہے کہ اگر گجرات نے ایسی ترقی کرلی ہے تو الیکشن سے قبل یہ پتھر پہ پتھر رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ اب کی بار مودی بھکت   الیکشن سے پہلے ہی یہ کہہ کہہ کر دل کو بہلا رہے ہیں کہ ؎

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم  

گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

گجرات کے اندر مودی اور شاہ کی حماقت نے ایک ایسی جماعت کو زندہ کردیا جس نے 1985 کے بعد کبھی کامیابی حاصل نہیں کی اور ایک ایسی جماعت کو ہار کے کگار پر پہنچا دیا جو 1995 سے مسلسل انتخابات جیت رہی ہے۔ اسی کے ساتھ اس حقیقت  کو بھلایا نہیں جاسکتا کہ  کانگریس نے مادھو سنگھ سولنکی کی قیادت میں  1980 اور 1985 میں بالترتیب  جملہ 182 میں سے 141 اور 149 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ مودی جی اپنی ساری ڈرامہ بازی کے باوجود اس کے قریب نہیں پھٹک سکے۔ شاہ جی کا 150 والا ہدف دراصل مادھو سنگھ سولنکی کا ریکارڈ توڑنے کا خواب ہے جسے سنگھ پریوار کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہ کرسکا۔ مودی جی تو  بیچارے کیشو  بھائی پٹیل کے 137 کا ریکارڈ بھی برابر نہیں کرسکے۔ گزشتہ مرتبہ گجرات کی 25 نشستیں بی جے پی نے صرف 5 فیصد کے فرق سے جیتی تھیں  اس لیے وہاں پر 3 فیصد کی تبدیلی اس کی لٹیا ڈبو نے کے لیے کافی ہے۔

گجرات میں  شہر اور دیہات کے اندر بی جے پی اور کانگریس کا ووٹ منقسم ہے جو مقامی انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہے۔ 2015 کے اندر بلدیاتی انتخاب میں بی جے پی نے 6 میں سے 5 بڑے شہروں کے انتخابات بہ آسانی جیت لیے چھوٹے شہروں کی میونسپلٹی میں کانگریس کو 10 اور بی جے پی کو 42 مقامات پر کامیابی ملی لیکن ضلعی پنچایت  میں کانگریس 24 اور بی جے پی صرف 6 مقامات پر کامیابی درج کراسکی۔ تعلقہ پنچایت میں کانگریس 134 مقامات پر کامیاب ہوئی جبکہ بی جے پی 26 سے آگے نہ بڑھ سکی۔  جی ایس ٹی کے سبب شہری رائے دہندگان بی جے پی سے ناراض ہیں اور بیوپاری اپنی رسید پر’ کمل کا پھول  ہماری بھول ‘ چھاپ رہے ہیں۔ سورت میں ایک دن حکومت کے خلاف  دیوالی کا جشن چراغاں نہیں کیا گیا اس لیے بی  جے پی والوں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔

بی جے پی کا آخری حربہ فرقہ پرستی ہے۔ یوگی کو بھیج کر اس نے وہ کارڈ کھیلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی اس کے باوجود پھر سے وہی گھسا پٹا مہرہ چلانے کی فکر میں ہے اس لیے احمد پٹیل پر داعش کو پناہ دینے کا اوچھا الزام لگایا جارہا ہے۔ اس طرح کی بہتان طرازی  بی جے پی والے خود اپنے رہنما ایکناتھ کھڑسے کے خلاف بھی کرچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ فردنویس نے کھڑسے کا کانٹا نکالنے کے لیے داود سے ان کے روابط کا شور مچایا اور انہیں  بے دست و پا کرکے وہ الزام ہٹا لیا۔گجرات میں مسلمان کل 9 فیصد ہیں اس کے باوجود بی جے پی والے یہ شور مچارہے ہیں کہ اگر کانگریس جیت گئی تو احمد پٹیل وزیراعلیٰ ہوں گے۔ ہندووں کو سوچنا چاہیے کہ اگر جین مذہب کا ماننے والا بنیا جن کی آبادی صرف عشاریہ 9 فیصد ہے وزیراعلیٰ ہوسکتا ہے تو 9 فیصد والا مسلمان کیوں نہیں  ہوسکتا؟ یہ حقیقت ہے کہ جین اپنے آپ کو ہندو نہیں کہتے۔  ویسے اگر کانگریس احمد پٹیل کو گجرات نہ بھیجے تب بھی سارے مسلمان بی جے پی کے خلاف ووٹ دیں گے اور بی جے پی کا یہ زعفرانی غبارہ ازخود پھوٹ جائیگا۔ بی جے پی کی یہ حرکت اپنی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالنے کی کوشش نہیں تو اور کیا ہے؟ بی جے پی کی حماقت پر غالب کا شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے ؎

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو مودی 

ترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close