آج کا کالم

او جانے والے! ہو سکے تو بھارت لوٹ کے آنا

ایسے وقت میں جب وزیر اعظم دعوی کر رہے ہیں کہ دنیا میں بھارت کے پاسپورٹ کا وزن بڑھ گیا ہے، ٹھیک اسی وقت میں 17000 امیر بھارتی، بھارت کے پاسپورٹ کو چھوڑ دیتے ہیں، سن کر اچھا نہیں لگتا ہے۔

رويش کمار

ممبئی کے مشہور بلڈر ہيرانندانی گروپ کے بانی سریندر ہيرا نندانی نے بھارت کی شہریت چھوڑ دی ہے۔ اب وہ سائپرس کے شہری ہو گئے ہیں۔ سائپرس میں ٹیکس ہیوینس کے طور پر ہے، مطلب جہاں ٹیکس چکانے کا جھنجھٹ کم ہے۔

ہيرا نندانی نے کہا ہے کہ اس وجہ سے انہوں نے شہریت نہیں چھوڑی ہے۔ بھارتی پاسپورٹ پر ورک ویزا لینا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے شہریت چھوڑی ہے۔ ابھی ہيرا نندانی جی کو کس لیے ورک ویزا چاہیے تھا، وہی بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے ممبئی مِرر سے کہا ہے کہ میرا بیٹا ہرش، بھارت کا شہری رہے گا اور بھارت میں کمپنی کام دیکھے گا۔ ہرش کی شادی اداکار اکشے کمار کی بہن سے ہوئی ہے۔ فوبرس میگزین کے مطابق سریندر ہيرا نندانی بھارت کے 100 امیر لوگوں میں سے ہیں۔

دنیا بھر میں ارب پتی لوگ نقل مکانی کرتے ہیں۔ چین کے بعد بھارت دوسرے نمبر ہے، جس میں ارب پتی شہریت چھوڑ دیتے ہیں۔ نیو ورلڈ ویلتھ کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں 7000 امیروں نے بھارت کی شہریت چھوڑ دی اور دوسرے ملک کی شہریت لے لی۔ 2016 میں 6000، 2015 میں 4000 امیر بھارتیوں نے پیارے بھارت چھوڑ دیا۔

سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیكسیس (CBDT) نے مارچ کے مہینے میں پانچ لوگوں کی ایک کمیٹی بنائی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ اگر اس طرح سے امیر لوگ بھارت چھوڑیں گے تو اس کا کیا اثر پڑے گا۔ اس طرح کی نقل مکانی ایک سنگین خطرہ ہے۔ ایسے لوگ ٹیکس کے معاملے میں خود غیر بھارتی بن جائیں گے جبکہ ان کے کاروباری مفاد بھارت سے وابستہ رہیں گے۔ یہ رپورٹ اكونومك ٹائمز میں شائع ہوئی ہے۔ اكونومك ٹائمز نے اسے ممبئی مِرر کی بنیاد پر لکھا ہے۔

2015 اور 2017 کے درمیان 17000 امیر ترین بھارتیوں نے بھارت کی شہریت چھوڑ دی۔ ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے بھارت کی شہریت کیوں چھوڑی، کسی بات سے تنگ آ گئے تھے یا دوسرے ملک بھارت سے بہتر ہیں؟ کام کے لیے جانا اور دو پیسہ کمانے کے لیے رک جانا، یہ بات تو سمجھ آتی ہے، مگر جس ملک میں آپ کو پیسے کماتے ہیں، امیر بنتے ہیں، اس کے بعد اس کو چھوڑ دیتے ہیں، کم سے کم جاننا تو چاہیے کہ بات کیا ہوئی؟ ہمارے پاس ان کا کوئی موقف نہیں ہے، پتہ نہیں اپنے دوستوں کے درمیان کیا کیا بولتے ہوں گے؟ کس بات سے فیڈ اپ ہو گئے؟

ایسے وقت میں جب وزیر اعظم دعوی کر رہے ہیں کہ دنیا میں بھارت کے پاسپورٹ کا وزن بڑھ گیا ہے، ٹھیک اسی وقت میں 17000 امیر بھارتی، بھارت کے پاسپورٹ کو چھوڑ دیتے ہیں، سن کر اچھا نہیں لگتا ہے۔

اسی سال 22 جنوری کو پاسپورٹ کی درجہ بندی کو لے کر میں نے ٹاؤن اور اپنے فیس بک کے صفحے پر ایک مضمون لکھا تھا۔ Henley Passport Index ہر سال ملکوں کے پاسپورٹ کی رینکنگ نکالتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ کس ملک کا پاسپورٹ لے کر بغیر ویزا کے کتنے ممالک میں جا سکتے ہیں۔ جرمنی کا پاسپورٹ ہو تو آپ 177 ممالک میں بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔ سنگاپور کا پاسپورٹ ہو تو آپ 176 ممالک میں بغیر ویزے کے جا سکتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر آٹھ ممالک ہیں جن کا پاسپورٹ ہوگا تو آپ 175 ممالک میں ویزا کے بغیر سفر کر سکتے ہیں۔ ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، اٹلی، جاپان، ناروے، سویڈن اور برطانیہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ 9 ویں نمبر پر مالٹا ہے اور 10 ویں پر ہنگری۔

ایشیا کے ملکوں میں سنگاپور کا مقام پہلے نمبر پر ہے۔ بھارت ایشیا کے آخری تین ممالک میں ہے۔ دنیا میں بھارت کے پاسپورٹ کا مقام 86 ویں نمبر پر ہے۔ 2017 میں 87 ویں رینک پر تھا۔ اگر آپ کے پاس بھارت کا پاسپورٹ ہے تو آپ محض 49 ممالک میں ہی ویزا کے بغیر جاسکتے ہیں۔

Arton Capital، بھی گلوبل رینکنگ جاری کرتی ہے۔ اس میں بھارت کا رینک 72 ہے۔ بھارتی پاسپورٹ لے کر آپ بغیر ویزا کے 55 ممالک کا دورہ کر سکتے ہیں۔

اتنی معمولی بڑھوتری کی مارکیٹنگ، وزیر اعظم مودی ہی کر سکتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ گودی میڈیا کبھی ان کی بات کا تجزیہ کرے گا نہیں۔ ان کے بیان کو بار بار چھاپا جائے گا، دکھایا جائے گا، لوگ یہی سمجھیں گے کہ بات صحیح کہہ رہے ہیں۔

دے دے کے آواز کوئی ہر گھڑی بلائے۔۔۔ جائے جو اس پار۔۔ کبھی لوٹ کے نہ آئے هے بھید یہ کیسا ۔۔ کوئی کچھ تو بتانا ۔۔۔ او جانے والے ہو سکے تو لوٹ کے آنا۔۔۔ ان 17000 ہندوستانیوں کو بندنی فلم کا یہ گانا بھیج دینا چاہیے۔

ان کی واپسی کے لیے منوج کمار کی بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ وہی اس وقت دکھائی دے رہے ہیں جو ان 17000 بھارتیوں کی محفل میں مشرق اور مغرب کا گانا گا کر ان کی پارٹی خراب کر دیں۔ جب زیرو دیا بھارت نے، دنیا کو تب گنتی آئی ۔۔ تاروں کی بھاشا بھارت نے دنیا کو پہلے سكھلائی ۔۔۔۔ دیتا نہ دشملَو بھارت تو، چاند پر پہنچنا مشکل تھا۔۔ کیا پتہ یہ سارے لوگ یہاں لوٹ آئیں۔ ہے پریت جہاں کی ریت صدا، میں گیت وہاں کے گاتا ہوں، بھارت کا رہنے والا ہوں، بھارت کی بات سناتا ہوں۔

بھارت کی بات! گانے سے پروگرام کے لیے مکھڑا اڑا لینے سے ظاہری شکل بدل نہیں جاتی ہے۔ انہیں سنائیں جو چھوڑ گئے اس پیارے وطن کو۔ کیا پتہ ادھر سے یہ 17000 کسی اور فلم کا گانا، گانے لگ جائیں۔

ہم نے چھوڑ چلے ہیں محفل کو۔۔۔ یاد آئے کبھی تو مت رونا۔۔۔ اس دل کو تسلی دے لینا، گھبرائے کبھی تو مت رونا۔۔۔ ہم چھوڑ چلے ہیں محفل کو۔۔ایک خواب سا دیکھا تھا میں نے۔۔ جب آنکھ کھلی تو ٹوٹ گیا۔۔۔!

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close