آج کا کالم

آج چینلوں کی وفاداری کی رات ہے!

رويش کمار

آج اگر آپ نیوز چینل دیکھ رہے ہیں تو غور سے دیکھئے. چینلز کی اسکرین پر کیا لکھا ہے اور اینکرز کیا بول رہے ہیں. ججوں نے ملک کی خدمت کی اس کے بعد بھی یہ میڈیا حکومت کی خدمت کر رہا ہے. آپ میڈیا کی زبان پر غور کریں گے تو سارا کھیل سمجھ آ جائے گا.

جج لويا کی موت پر آپ نے ان ایكروں کو بحث کرتے دیکھا تھا جب كیروان نے کہانی بریک کی تھی؟ جج لويا کی سماعت کے معاملے نے اس پریس کانفرنس کی حوصلہ افزائی کی گئی مگر کیا کوئی اینکر جج لويا کی موت کے معاملے کا نام لے رہا ہے؟ ایک جج کی موت پر سوال اٹھے ہیں کیا آپ اس پر میڈیا کی اس وقت بھی اور آج کی خاموشی کو صحیح مانیں گے؟

کوئی واضح طور سے نہیں بتا رہا ہے کہ چار ججوں نے خط میں کیا لکھا ہے؟ نہ تو ان نکات کا کوئی  ذکر ہے اور نہ اس پر بحث کی جا رہی ہے. جج لويا کی موت کا ذکر بھی نہیں ہو رہا ہے. اینکرز صرف پریس کانفرنس کا ذکر کر رہے ہیں. کانفرنس میں کیا بولا گیا ہے اس کا نہ تو ذکر ہے اور نہ ہی اچھی بحث.

اب اس کی جگہ میڈیا ایک کام کر رہا ہے. امیج پر امیج رکھ رہا ہے. جیسے بستر کے کپڑے کے اوپر ایک موٹی شیٹ بچھا دی جاتی ہے. میں نے اسے امیج شفٹنگ کہتا ہوں. آپ دیکھ تو رہے ہیں ججوں کے پریس کانفرنس کی کہانی مگر ججوں کے سوال کی جگہ آپ بذریعہ میڈیا  اقتدار کی چالاکی کے سوال دیکھ رہے ہوتے ہیں. میڈیا نے ججوں کی چٹھی پر اپنی طرف سے چادر ڈال دی ہے. کل صبح اخبار بھی دیکھ لیجیے گا.

یہ کام کرنا بہت آسان ہے. دوسرے تیسرے سوالوں سے ججوں کے اٹھائے سوال پر پردہ ڈال دو. کچھ سی پی آئی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ ڈی راجا نے بھی حکومت کا قرض اتار دیا. وہاں جاکر ملے اور معاملہ مشتبہ بنا دیا. واقعی ڈی راجا کی کہانی کو دونوں طرف سے دیکھنے کی ضرورت ہے. چینل اگر اسے راجا کے بہانے سازش بتا رہے ہیں تو اسی کے ساتھ دیکھا جانا چاہئے کہ بادشاہ نے امیج شفٹگ کرانے میں اپنی قربانی تو نہیں دی. اقتدار کے کھیل میں یہ سب ملے ہوتے ہیں.

دوسرا اسی بہانے کانگریس کے سیاسی نیتا فائدہ اٹھانے پر ججوں کی چٹھی پر زیادہ زور دے رہے ہیں. تو اب آپ چینل پر تلاش کر رہے ہیں ججوں کے پریس کانفرنس کی کہانی مگر دیکھ سکتے ہیں راجا، کانگریس. جو نظر نہیں آتا وہ ججوں کی خط کا مضمون، جج لويا کی موت کا سوال، خاص طریقے سے بینچ کے قیام کے الزام اور پریس کانفرنس.

کم از کم مناسب طریقے سے بات تو بتائی جاتی. بحث تو ہوتی. اگر فیصلہ نہیں دینا ہے تو وہ بھی ٹھیک ہے لیکن دوسری طرف جھک کر بھی فیصلہ نہیں دینا چاہئے. میں نے آدھے گھنٹے ٹی وی دیکھ کر بند کر دی. ٹی وی کا کھیل کچھ زیادہ سمجھنے لگا ہوں. کاش کم سمجھتا۔ سکون رہتا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close