آج کا کالم

آسام کا منظر نامہ: گائے کے نام پر فرقہ واریت

شہریت کے متنازع بل کو ٹھنڈے بستے میں ڈال کر بی جے پی نے پھر سے قدیم  فرقہ واریت کا کھیل شروع کردیا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

بی جے پی کو یقین ہے کہ  اس بار اسے شمالی،  وسطی اور مغربی ہندوستان میں ۲۰۱۴ ؁ کے مقابلے میں  نقصان ہوگا۔  وہ  اس کمی کو شمال مشرق اور مشرقی صوبوں سے پورا کرنا چاہتی ہے۔  مغربی بنگال اوراڑیسہ میں ممتا اور نوین پٹنائک سے لوہا لینا مشکل ہے لیکن آسام میں کانگریس کے خلاف تمام علاقائی جماعتوں کا ایک بڑا محاذ بنانے میں اسے کامیابی مل گئی ہے۔ بی جے پی کی اپنی حماقتوں کے سبب  اے جی پی کو ساتھ کرلینے کے باوجود اس کو کامیابی کا یقین نہیں ہے اس  لیے آسام میں  گائے کے نام پر نفرت و تشدد کے کھیل   کا آغاز ہوگیا ہے۔اس کے چلتے آسام کے وشوناتھ ضلع میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شک کی بنیاد پر بھیڑ نے شوکت علی  کی اس  بے رحمی سے پٹائی کی کہ   انہیں علاج کے لیے  سرکاری اسپتال میں داخل کر نا پڑا۔  ہجومی تشدد  کی شرمناک   ویڈیو کو  سوشل میڈیا پر وائرل کرکےزعفرانی غنڈے  اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی مذموم کوشش  کررہے ہیں۔  اس طرح گائے بی جے پی کے مینی فیسٹو سے تو غائب ہوگئی مگر اس کا سیاسی استحصال   ہنوز جاری ہے۔

آسام میں بی جے پی  کی صوبائی حکومت بھی ہے۔  تمام محاذ پر ناکامی کے بعد اس نے ۲۰۱۹ ؁ کے انتخابات میں عوام کی توجہات کو پراگندہ کرنے کی خاطر اس نےغیر ملکی  در اندازوں کا جعلی  نعرہ لگا کر آسامی زبان بولنے والے مقامی لوگوں کے اذہان  مسموم کرنےکی منصوبہ بندی کی۔  اس  مہم کی شروعات امت شاہ نے وہاں غیر موجود  بنگلہ دیشی  مسلمانوں کو دیمک  کے لقب سے نواز  کر کی حالانکہ  مرکزی حکومت ایوان پارلیمان میں  اعتراف کرچکی  ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے کوئی بھی شخص بنگلا دیش سےآسام  نہیں آیااور آئے بھی کیوں ؟ بنگلا دیش کی معاشی حالت  آسام سے بہتر ہے نیز اس ملک  کے لوگ دنیا بھر میں اپنی تجارتی  مہارت کا لوہا منوا کر خوشحالی کی جانب گامزن ہیں۔ ایسے میں کوئی پاگل ہی  آسام جیسے پسماندہ علاقہ کا رخ کرسکتا ہے۔ بی جے پی ان نعروں  کے ذریعہ صدیوں  سے وہاں بسنے والے  مسلمانوں کے خلاف   ماحول سازی کررہی  ہے۔  شوکت علی پر تشدد اسی سازش کا حصہ ہے۔

پولس کے مطابق شوکت علی ۳۵ سالوں سے ہفتہ وار ہاٹ (بازار)  میں پکا ہوا گوشت فروخت کرتا ہے۔ کبھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا اس لیے آسام میں گئوکشی پر پابندی نہیں ہے۔اروناچل پردیش کے  بی جے پی وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو علی الاعلان یہ کہہ چکے ہیں کہ میں بیف کھاتا ہوں۔  مجھے کون روک سکتا ہے؟  ان کو برخواست کرنے کی جرأت نہ تو سنگھ نے دکھائی اور کوئی ہجوم ان کی جانب نظر اٹھانے کی ہمت کرسکا لیکن انتخابی فائدہ اٹھانے  کے لیے ان بدمعاشوں کو نہتے شوکت علی مل گئے۔ ان  پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا گیا اور شوکت کے علاوہ بازار کے منیجر کمل تھاپا کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔   پولس نے اس ضمن میں شوکت اور تھاپا کی  ایف آئی آر درج کرکے   پانچ لوگوں کو حراست میں تو لیا لیکن  دیکھنا یہ ہے کہ ان بدمعاشوں کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی ہوتی ہے یانہیں؟  ثبوت کی عدم فراہمی کا بہانہ بناکر اگر انہیں  چھوڑ دیا گیا تو اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔

 وشوناتھ ضلع میں پچھلے ہفتہ گائے چوری  کے اندیشہ میں قبائلیوں  کی بھی  بے رحمی سے پٹائی کی گئی تھی۔ ان  میں سے ایک اسپتال میں دَم توڑ چکا ہے اور  باقی تین بری طرح  زخمی ہیں۔  آسام کے اندر ۹۷ قبائل آباد ہیں۔  مسلمانوں کے ساتھ ان قبالی  طبقات کی مجموعی آبادی ۳۴ فیصد ہے۔ ان دونوں  کے خلاف ۶۶ فیصد لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرکے بی جے پی انتخاب جیتنے کی کوشش کررہی  ہے۔ انگریز اپنے  چائے باغات میں کام کرنے کے لیے  جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ جیسے وسطی ہندوستان کے علاقوں سے قبائلیوں کو بنگالیوں کو وہاں لے کر آئے تھے۔ اب کئی نسلوں کے بعد یہ لوگ آسام کے مقامی باشندے بن چکے ہیں۔  یہ اسی طرح کی صورتحال ہے جیسے چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں غیر قبائلی جاکر بسے ہوئے ہیں  یا بنگال اور کولکاتہ میں غیر بنگالی آباد ہیں۔  ان کو وہاں سے نکالنے کا تصور بھی محال ہے۔ اس لیے ایسا معاملہ تو ملک بھر میں ہے۔ مہاراشٹر کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں گجراتی اور راجستھان کے مارواڑی  رہتے بستے ہیں۔ کرناٹک اور بنگلورو میں تمل اور ملیالی زبان بولنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔  پنجاب کے اندر ہندی اور ہریانوی زبان بولنے والوں کی کمی نہیں ہے۔  دہلی کے اندر مودی اور شاہ جی جاکر بس گئے ہیں۔  اب کس کس کو کہاں کہاں سے نکالا جائے گا؟

آسام کے اندر بی جے پی کو یہ غلط فہمی تھی کہ سارے غیر آسامی مسلمان ہیں۔  ان کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے لیے این سی  آر  پر زور دیا گیا لیکن وہ داوں الٹا پڑا، اس لیے  کہ ان میں بہت بڑی تعداد ہندووں کی نکل آئی۔  اس مسئلہ کو موقع میں تبدیل کرنے کے لیے بی جے پی نے بڑی چالاکی سے  شہریت بل میں ترمیم کردی۔  اس کی روُ سے ہندوستان کے اندر آس پاس کے ممالک سے آکر بسنے والے غیر مسلمین کوہندوستانی  شہریت سے نواز دیا گیا۔  بی جے پی کو توقع تھی کہ اس طرح شہریت پانے والے اس کے احسانمند رہیں گے اور اسے ووٹ دیں گےلیکن اس پر اسے منہ کی کھانی پڑی کیونکہ شہریت  بل کے خلاف  ۶۶ فیصد آسامی  آگ بگولا ہوکر احتجاج کرنے لگے۔  اس طرح  بی جے پی والوں کے چھکے چھوٹ گئے  کیونکہ یہ آگ  شمال مشرق  کے دیگر صوبوں میں بھی پھیلنے لگی۔

شہریت کے متنازع بل کو ٹھنڈے بستے میں ڈال کر بی جے پی نے پھر سے قدیم  فرقہ واریت کا کھیل شروع کردیا ہے۔ اس موقع پر معروف سیاسی مبصر  آشیش نندی کی بات یاد آتی ہے  کہ ’’ترقی کا گجرات ماڈل تو کہیں نافذ نہیں کیا گیا، البتہ گجرات کا نفرت ماڈل پورے ملک میں پھیلا دیا گیا۔‘‘ گجرات اور دیگر صوبوں  کےمتوقع  نقصان کی بھرپائی کے لیے آسام میں  وہی ۲۰۰۲ ؁ کا فرقہ وارانہ  حربہ استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے۔ شوکت علی پر حملہ اس کا ثبوت ہے کہ ملک میں برپا ہونے والے  دنگا فساد کی ایک بڑی وجہ انتخابات ہیں ۔ ۔  جمہوریت پر فخر جتانے والے  بھولے بھالےدانشور اس کو نعمت قراردیتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ مودی جیسی مصیبت سے چھٹکارہ ممکن ہے لیکن بھول جاتے ہیں کہ یہ مصیبت اسی انتخاب کے راستے سے عوام الناس پر مسلط ہوئی تھی۔ حالیہ  انتخاب  میں بی جے پی سے بڑا  ہندوستانی عوام کا امتحان ہے۔  دیکھنا یہ ہےملک  کے رائے دہندگان اس بار پھر  بی جے پی کے جال میں پھنس جاتے ہیں یا اس کو راندۂ درگاہ کردیتے ہیں ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close