آج کا کالم

اپنی پرانی تصویر سے باہر نکلنا یوگی کے سامنے بڑا چیلنج!

رویش کمار

بہتوں کے لئے یہ مان لینے میں کوئی برائی نہیں ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ کو نہ ترقی کی سمجھ ہے اور ہندوتو کی معلومات. یہ اور بات ہے کہ اس کے بغیر بھی بہت سے لوگ حق میں اور اپوزیشن میں دونوں کے بارے میں مستند تبصرہ کرنے کا دعوی کرتے رہتے ہیں. یہ بات بی جے پی مخالف مخالف لبرل پر بھی صادق آتی ہے اور بی جے پی حامی لبرل پر بھی. ویسے ہی جیسے آپ کو کٹر ہندوتو اور نرم ہندوتو میں فرق کرنا سکھایا گیا ہے، جس کی روایت 1905 سے چلی آ رہی ہے جب گرم دل اور نرم دل کے سبب کانگریس کی تقسیم ہویی تھی. ہندوتو اگر امرت ہے تو کٹر اور نرم کے فاصلے کا کیا مطلب ہے، ہندوتو اگر زہر ہے تو کٹر اور نرم کا کیا مطلب ہے.

انتخابات سے پہلے کی تمام رپورٹنگ دیکھئے، یوگی آدتیہ ناتھ ہی وزیر اعلی کے دعویداری کر رہے تھے. انتخابات کے دوران کی تمام رپورٹنگ دیکھئے، یوگی آدتیہ ناتھ کے حامی ہی دعویداری کر رہے تھے. ہندو نوجوان ڈکٹ کے بغاوت کی خبر آتی ہے، پرسکون ہو جاتی ہے، گورکھپور میں امت شاہ کے روڈ شو کو نئے وزیر اعلی یادگار بنا دیتے ہیں، انتخابات کے بعد پھر لوگ کیوں بھول گئے کہ یوگی آدتیہ ناتھ وزیر اعلی نہیں بنیں گے. انتخابات کے دوران ان کے حامی جو بی جے پی میں ہیں اور جو ان کے بھی ہیں، DJ  بجا رہے تھے. یوگی کو سی ایم بنانا ہے، گا رہے تھے. پورے انتخابات میں تمام دعویداروں کے درمیان کسی نے اپنی دعویداری مضبوطی سے کی ہے تو وہ یوگی تھے. ضرور کیشو پرساد موریہ کی داد دی جانی چاہئے کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم اور کامیاب صدر امت شاہ کے واحد حکومت کے نیچے ہسپتال میں بھرتی ہوکر یا دیگر خفیہ طریقوں سے اپنی دعویداری کی. موریہ وزیر اعلی نہیں بن پائے، لیکن نئے ہونے کے بعد بھی انہوں نے کوشش یوگی جی سے کم نہیں کی.

سیاست کو ہمیشہ ہار اور جیت کے سانچے میں نہیں دیکھنا چاہئے. ہار میں بھی کوئی جیت رہا ہوتا ہے، جیت میں بھی کوئی ہار رہا ہوتا ہے. وزیر اعلی یوگی کے ابھرنے سے جیت کے اس لمحے میں کون ہارا ہے، کوئی ہارا بھی ہے یا نہیں، اس کے لئے آپ کو اس پریس پر کس طرح اعتماد کر سکتے ہیں جو ذرائع کے حوالے سے راج ناتھ سنگھ، منوج سنہا کو وزیر اعلی بنوا رہا تھا . آزاد دیو جی وزیر مملکت بنے. منوج سنہا کا نام 18 مارچ کی دوپہر کے بعد تیزی سے غائب ہو گیا. میڈیا کے رابطے میں جس فارمولا بیٹھے تھے، انہیں تو سانپ سونگھ گیا ہو گا جب یوگی آدتیہ ناتھ کا نام سامنے آیا. اعلان کچھ ایسا تھا گویا جیسے دوسری بار نوٹ بندي کا اعلان ہوا ہو. اثر بھی کچھ ویسا ہی ہے.

یوپی میں بی جے پی کی جیت پر جتنی خبریں شائع ہویی ہیں، اس سے کم یوگی کے اعلان کے بعد نہیں شائع ہوییں ہیں. ہر گھنٹے یوگی کا جائزہ کرتا ہوا ایک مضمون نازل ہو رہا ہے. ان مضامین میں یوگی کے پرانے بیانات کا حوالہ دیا جا رہا ہے. عورت مخالف بیان، اقلیتی مخالف بیان. اتنی ہی تیزی کے ساتھ یوگی کو مسلم دوست بتانے والے قصے بھی سامنے آ رہے ہیں. کس طرح مندر احاطے میں مسلمانوں کی دوکانیں ہیں، کس طرح مسلمان ان کے قریبی ہیں. ایک طرح تنقید ہندوتو والے فریم کو بڑا کر رہے ہیں، دوسری طرف  ان کے سیکولر فریم کو بڑا کر رہے ہیں. یوگی جو بھی ہیں اور جتنے بھی ہیں، کھل کر ہیں. گورکھپور کے عوام نے کچھ تو خاص دیکھا ہو گا جو 1998 سے یوگی کو چنتی آ رہی ہے. یوگی کی زبان اور تیور جس کا ایک وقت بی جے پی کے بڑے لیڈر کھل کر دفاع نہیں کرتے تھے، کرتے تو انتخابات سے پہلے انھیں امیدوار قرار دیتے، مگر اب سب یوگی کا دفاع کر رہے ہیں. یوگی آدتیہ ناتھ کی سنگھ پریوار اور بی جے پی کے خاندان میں اس سے بڑی جیت کبھی نہیں ہوئی ہوگی.

یوگی آدتیہ ناتھ کی اپنی ویب سائٹ بھی ہے. دو سال پہلے جب ان کی ویب سائٹ کا جائزہ لیا تھا تو مجھے ایک خود مختار اور نہایت ذاتی قسم کے لیڈر لگے تھے. دو سال پہلے ان کی ویب سائٹ پر صرف یوگی ہی یوگی تھے. 2014 کے سال میں بی جے پی کے رہنما کی ویب سائٹ سے لے کر ملاقات کی دیواروں پر مودی کی تصویر تو ہوتی ہی تھی، یوگی کی ویب سائٹ پر صرف یوگی تھے. وزیر اعظم کی تصویر تھی مگر بہت خاص نہیں. اب ان کی ویب سائٹ پر وزیر اعظم کی بھی تصویر ہے اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کی بھی ہے.

میڈیا میں یوگی کے جو بیانات ہیں وہ بھلے ان کی تصویر بنانے کے پروجیکٹ کے حصہ رہے ہوں، لیکن ان کی ویب سائٹ پر موجود مضمون تھوڑا زیادہ ثبوت کے ساتھ سمجھنے کا موقع دیتے ہیں. 30 سے ​​زائد تنظیموں کے انتظام کام سنبھالتے ہیں. وہ شاید بی جے پی کے اکیلے لیڈر رہے ہیں جن کی اپنی ہندو نوجوان ڈکٹ ہے. ان کی ویب سائٹ پر نہ بی جے پی کا پرچم ہے، نہ سنگھ پریوار کا. بی جے پی اور سنگھ پریوار سے خود مختار ہوتے ہوئے بھی وہ ہندوتو اور سنگھ پریوار کی سیاسی سوچ سے باہر کے لیڈر نہیں ہیں. وہ بی جے پی کے ایم پی ہیں اور کام بی جے پی کے لئے ہی کرتے ہیں اور وزیر اعلی بی جے پی کے ہی ہیں. پھر بھی ویب سائٹ کے سہارے بھی یوگی آدتیہ ناتھ کی خود مختاری کو سمجھنا چاہئے. رہنما کے طور پر ان تمام کاموں کی تفصیلات ہے. ویب سائٹ پر مضامین کا ایک کالم ہے، جس میں نیپال کے بارے میں کئی مضامین ہیں. کئی بار لگتا ہے کہ گورکھپور سے بیٹھ کر یوگی جی نیپال کی طرف بھی خوب دیکھتے ہیں. اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مندر میں نیپال کی آبادی کا بڑا حصہ آتا ہے. بکنگ، ماترشكت اور نئے ریاستوں کی تنظیم نو کو لے کر کچھ مضامین ہیں.

سیاق و سباق سے الگ تشریح کا خطرہ ہو سکتا ہے، مگر کچھ باتیں ہیں جو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں. ماترشكت والے مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ خواتین کو ریزرویشن دیتے وقت اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس سے گھر خاندان میں ان کے کردار پر کیا اثر پڑا ہے. وہ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیئے جانے کا فیصلے پر غور کرنے کی بات کرتے ہیں، اس کی حمایت نہیں کرتے ہیں. خواتین کو مردوں کی طرح بنانے میں اور بھی کئی خطرے ہیں جیسی باتوں سے بکنگ کا جائزہ لینے کی بات کرتے ہیں. ویب سائٹ پر موجود مضمون میں كريميلےير اور ایک ہی خاندان کو بار بار بکنگ ملنے کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہ سماج کو بانٹنے والا ہے، نكمماپن میں اضافہ ہے. مشرقی اتر پردیش اور بندیل کھنڈ کو الگ ریاست کے طور پر بنائے جانے کے مسئلے پر سنجیدگی سے کوشش کی جانا چاہئے، اس کی حمایت میں بھی ایک مضمون ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close