آج کا کالم

اچھا شہری بننا ہی آئین کا احترام ہے

رويش کمار

26 جنوری مبارک. جمہوریت آباد رہے. لوک بھی آباد رہے، صرف تنتر ہی تنتر نہ رہے. یہ آزادی اس لئے بھی ہے کہ ہمارے پاس ایک خوبصورت آئین ہے. اس کتاب کے ذریعہ ہم نے ایک جھٹکے میں سینکڑوں سال سے روایات کے نام پر موجود بہت سے کباڑ اپنے آپ سے الگ کر لیا ہے. ہم برابری، مساوات اور آزادی اظہار رائے  کے خواب کی راہ پر چل نکلے ہیں. بہت کچھ حاصل نہیں ہو سکا ہے مگر اتنا بھی کم حاصل نہیں ہے کہ ہم جشن نہ منا سکیں.

یہ جشن اس لئے بھی مناتے رہنا ہے تاکہ ہم سب کو آئین کے قواعد یاد رہیں. آج پھر سے ہم کمزور ہونے لگے ہیں. خاموش رہنے لگے ہیں. افسوس اس وقت بھارت میں تھرڈ کلاس لیڈر وزیر اعلی بن گئے ہیں. یقیناً تھرڈ کلاس ہیں. اگر ان کے چہرے پر ذات اور مذہب کا پاکھنڈ نہ لیپا گیا ہوتا تو یہ اپنا دستخط کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں. آپ ان کی تقاریر میں موجود حماقتوں کو پہچان لیتے اور ان کے جلسوں سے اٹھ کر چلے جاتے.

یہ وزیر اعلی تھرڈ کلاس نہ ہوتے تو یہ آئین کی حفاظت میں 25 جنوری کو کھڑے نظر آتے. ایک فلم کے بہانے کچھ لوگ فساد مچاتے رہے اور جو لوگ اس  فرقہ وارانہ تشدد پر خاموش رہے ان سب نے آئین کی روح کو دھوکہ دیا ہے. امید ہے آنے والے وقت میں بھارت ان تھرڈ کلاس لیڈروں کو وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹا دے گا. ہم ان بیوقوفوں کو عظیم سمجھ کر اپنے خوابوں کو ان کے حوالے کرنا بند کریں گے. یہ بھارت کے آئین کے نمائندے نہیں ہیں. آئین کی دیے ہوئے نظام کا فائدہ اٹھا کر عہدوں پر پہنچے ہوئے یہ لوگ ہیں. کوئی نوجوان آئے گا جو آئینی آدرشوں سے لیس ہوگا  اور آئینی نظام کی بالادستی کو قائم کرے گا.

دور آتے جاتے رہیں گے. آئین پر حملے ہوتے رہیں گے، مگر سیاہی چھڑک دینے سے کتاب نہیں مٹ جاتی ہے. آئین کی کروڑوں کاپیاں ہیں. آپ کسی بھی کاپی کو اٹھا لیجئے. ایک بہتر شہری بننے کی سمت میں رواں دواں ہو جائیے. مسلسل مشق کیجیے. اس کی کوتاہیوں پر بھی اسی جرات سے بات کیجیے جس جرات سے ہم اپنے فخر کی بات کرتے ہیں. وہ فخر ذات کا نہیں ہونا چاہئے. آئین سے ملے نظام کی وجہ سے ہم جو کچھ بھی حاصل کرتے ہیں، اس کا گورو گان کیجیے. پگڑی پہن کر رنگین مت بنيے. سب کچھ فلم کا سیٹ نہیں ہے. شادی کے وقت بارات کے استقبال اور جمہوریت کی تقریب میں فرق کیجیے. ہاتھ میں آئین کی کتاب لے کر آئیے.

بہت کچھ ہے جشن منانے کے لئے. تبھی تو 26 جنوری کے دن فلمی گانے کھڑکیوں سے آکر گدگدا جاتے ہیں. ہم پھر سے اداروں کو حاصل کریں گا. کیا ہم آزاد جانچ ایجنسی، آزاد پولیس نظام، آزاد عدالتی نظام کی بھی جھانکی نکال سکتے ہیں؟ فی الحال نہیں. مگر انہی انتظامات میں ایسے آزاد لوگ ہیں جو اپنے اکیلے دم پر آئین کی حفاظت میں کھڑے رہتے ہیں. ویسے لوگوں کا آج کے دن خوش آمدید کیجیے. ان کے لئے تالی بجايے. جو کسی لیڈر کے دباؤ میں جھک کر فائلوں پر دستخط کرتا ہے، انہیں بھی یاد کیجئے چاہے وہ جج ہی کیوں نہ ہو. پہچانیے ہراس ہر شخص کو جو آئین کی تقریب میں آنے سے پہلے آئین کو دھوکہ دے کر آتا ہے.

بچوں کو پریڈ دكھايے، ملک دکھائیے. بولئے. اپنے اندر ذات انا اور مذہبی حماقت سے لیس فخر سے آزاد ہونے کے لئے بولئے. جب تک آپ ان کی جکڑن میں ہیں، آپ آئین کی دی ہوئی شہریت کے قابل نہیں ہیں. شہری بنیے. آپ کا شہری بننا ہی، آئین کا احترام ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close