آج کا کالم

اکھلیش حکومت کے قول و عمل میں کھلا تضاد!

ہندوستان کی سیاست بڑی دلچسپ ہے ساتھ ہی یہاں کے باشندے بھی سیاست میں خوب دلچسپی رکھتے ہیں۔ چھوٹا ہو یا بڑا ،پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ، آفس میں کام کرنے والا ہو یا کھیت کھلیان میں ،چائے کی دکان پر بیٹھے لو گ ہوںیا بسوں اور ٹرینوںمیں سفر کرتے مسافر،کوئی بھی مقام ہو اور کسی بھی عمر کا فرد،انتخابات کے دور ان ہر شخص سیاست پر گفت و شنیداوربحث و مباحثہ کرتا نظر آئے گا۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سیاست پر گفتگو کرنے والے افرادکی اکثریت ،سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور،اس میں کیے گئے وعدوں اور ان پر عمل درآمد سے عموماً ناواقف ہوتے ہیں۔نیز ایسے افراد بھی بڑی تعداد موجود ہیں جنہیں یہ تک پتا نہیں ہے کہ ریاست نے اُنہیں کیا حقوق فراہم کیے ہیںاور کون سی اسکیمیں ان کے نام پر چلائی جا رہی ہیں۔ساتھ ہی وہ حقوق جو ریاست کے ہر شہری کو فراہم کیے گئے وہ حقیقی معنوں میں انہیں حاصل ہیں یا نہیں ؟اور اسکیمیں جو کل ان ہی کے نام پر شروع کی گئی تھیں،وہ جاری بھی ہوئیںیا نہیں؟دوسری جانب سیاست میں حد درجہ دلچسپی رکھنے والی عوام کے علاوہ ایک قلیل تعداد ایسے افراد کیبھی موجودہے جو اپنا وقت سیاسی مباحث میں صرف نہیں کرتے،انہیں ووٹ دینے کی ضرورت نہیں اورنہ ہی حقوق ومطالبات کے لیے وہ احتجاج اور ریلیاں کرتے ہیں۔انہیں اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حکومت کس پارٹی کو حاصل ہوگی اور کسے نہیں۔اس کے باوجود سیاست ،برسراقتدار حکومت،معاشی پالیسیاں،معاشرتی تغیرات اور تہذیب و تمدن کو رخ دینے والے یہی لوگ ہوتے ہیں نیز حکومت پے بھی کسی نہ کسی حد تک اُن کا کنٹرول ہوتا ہے۔یہ لوگ عموماً بڑے سرمایہ دار ہوتے ہیں۔عام زبان میں انہیں کارپوریٹ کہا جاتا ہے اور دولت کا بہائواِنہیں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔اس پس منظر میں ریاست کی اقلیتیں اور کمزور طبقات کس قدر خستہ حال ہوں گے؟یہ بات سمجھی جانی چاہیے۔ آئیے انہیں حالات میں گزشتہ 2012کے اسمبلی الیکشن میں کیے گئے وعدوں کا جائزہ لیں ساتھ 2012تا2016ریاست اترپردیش کن حالات سے دوچار ہوئی؟ا س پر بھی ایک سرسری نگاہ ڈالتے چلیں۔
2017اسمبلی انتخابات کے لئے ایک بار پھر سماج وادی پارٹی نے اپنا انتخابی منشور جاری کیا ہے۔ پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، ایم پی ڈمپل یادو کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے منشور جاری کیا۔ اس موقع پر ملائم سنگھ یادو اور شیو پال یادو موجود نہیں تھے۔ بتیسصفحات کے منشور کے کور پیج پر وزیر اعلی اکھلیش یادو اور ان کے والد ملائم سنگھ یادو کی تصویر ہے جبکہ پچھلے صفحے پر اکھلیش کے ساتھ ساتھ اہم سوشلسٹ رہنما رام منوہر لوہیا، جے پرکاش نارائن، چودھری چرن سنگھ، جنیشور مشرا اور چندر شیکھر کی تصویریں موجود ہیں۔منشور جاری کرتے ہوئے اکھلیش نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے گزشتہ انتخابات میں اپنے وعدوں سے بڑھ کر کام کیاہے ۔نیز بی ایس پی اور بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی حکومت پتھروں والی حکومت تھی … جو پوچھنے پر کچھ بولتے ہی نہیں تھے وہیں مرکز میں بی جے پی حکومت کبھی یوگا کرواتی ہے تو کبھی جھاڑو پکڑا دیتی ہے، لیکن ترقی کے وعدے بی جے پی حکومت بھول گئی ہے۔

اس موقع پر اکھلیش یادو نے ایک طویل فہرست اپنے کاموں کی بتائی، جس میں خاص طور سے میٹرو ریل پروجیکٹ، لکھنؤ-آگرہ ایکسپریس وے کی تعمیر، بجلی کے بنیادی ڈھچے کے بہتر بنانے اور کئی شہری علاقوں میں 24 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے بجلی کی فراہمی ، سماجوادی پنشن ، کسانوں کو مفت آبپاشی، کسان حادثے کی انشورینس کی منصوبہ بندی، لیپ ٹاپ کی تقسیم، کنیا ودیا دھن تقسیم اور 102/108 ایمبولینس وغیرہ ۔کوموں کی لمبی فہرست سننے اوردیکھنے کے باوجود ضرورت ہے کہ جائزہ لیا جائے کہ کیا واقعی اکھلیش حکومت نے اپنے وعدے پورے کر دیے ؟خصوصاً وہ وعدے جو مسلمانوں سے کیے گئے تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایک طرفہ ووٹوں کے نتیجہ میں ہی 2012میں سماج وادی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی تھی جس کی بنا پر انہیں حکومت بنانے کا موقع حاصل ہوا۔لہذا جن لوگوں کی بنا پر حکومت وجود میں آئی ،دیکھنے چاہیے کہ ان لوگوں سے کیے گئے وعدے بھی پورے ہوئے؟
واقعہ یہ ہے کہ 2012 میں سماج وادی پارٹی کے انتخابی منشور میں جو وعدے مسلمانوں سے کیے گئے،وہ پورے نہیں کیے گئے۔بلکہ اگر کہا جائے کہ مسلمانوں کو بڑے پیمانہ پر نظر انداز کیا گیا تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔اور یہی وہ حالات ہیں جس بنا پر سماج وادی پارٹی کی آج2017کے انتخابات سے چند دن قبل،ان کی شبیہ مسلمانوں کے سامنے اچھی نہیں ہے۔اس کے باوجود محسوس ایسا ہورہا ہے کہ انہیں اس کی کوئی فکر بھی نہیں ہے۔وہ پر امید ہیں کہ کانگریس سے اتحاد کے بعد سابقہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کریں گے،لیکن اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ یہ صرف ان کی خوش فہمی یا ضرورت سے زیادہ احساس برتری ثابت ہو۔نتائج کیا نکلیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن آئیے ایک سرسری نگاہ ان وعدوں پر بھی ڈالتے چلیں جو 2012میں مسلمانوں سے کیے گئے تھے۔وعدہ کیا گیاتھا کہ مسلمانوں کو ریزرویشن فراہم کرکیاجائے گا ، دہشت گردی کے مبینہ الزام میں جیلوں میں بند مسلم نوجوانوں کو رہا کرائیں گے۔وہیں دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی آڑ میں اترپردیش میں جن بے قصور مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے انہیں نہ صرف فوراً رہا کرایا جائے گا بلکہ معاوضے کے ساتھ انصاف بھی دلایا جائے گا۔

لیکن رہائی منچ جیسی آرگنائزیشن کہتی ہیں کہ حکومت نے اس وعدے کو نہ صرف بھلادیا بلکہ نمیش کمیشن کی رپورٹ جس میں خالد مجاہد کو بے گناہ پکڑے جانے کی بات کہی گئی تھی ، اس تک پر عمل نہیں کیا۔ رہائی منچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب وہ کسی کو رہا نہیں کرے گی تو انہیں معاوضہ کیسے دیا جائے گا؟وعدوں کی لسٹ میں یہ بھی تھا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں کالجز کھولیں گے،رنگاناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی رپورٹوں کی سفارشات کے نفاذ کے لیے مرکزی حکومت پر دبائو بنائیں گے اور جو سفارشات ریاستی حکومت سے متعلق ہیں یعنی ان کے ذریعہ نافذ ہوسکتی ہیں، انہیں پورے اترپردیش میں نافذکیا جائے گا۔ آرٹی آئی کارکن آروشی شرما کے مطابق اترپردیش حکومت نے سچرکمیٹی سفارشات کو نافذ کرنے کے لیے کوئی پہل نہیں کی۔ 11فروری 2015کو ملے جواب میں اترپردیش حکومت نے اس بابت باضابطہ کوئی آرڈی نینس جاری نہیں کیا۔ اترپردیش کے رابطہ عامہ افسر آر این درویدی نے مسلمانوں کو مین اسٹریم میں لانے کے لیے حکومت نے کیا کیا ؟کے جواب میں اطلاع کا ‘زیرو ‘ ہونا لکھا ہے۔الیکشن سے قبل رام گوپال یادو نے سچر کمیٹی کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ رپورٹ میں مسلمانوں کو دلتوں سے بھی زیادہ پسماندہ قرار دیا ہے تب کیوں حکومت مسلمانوں کیلئے آئین میں ترمیم کرکے ریزرویشن کو ممکن نہیں بناسکتی؟لیکن وہی رام گوپال اور ان کی پارٹی نے جب ریاست میں اقتدار سنبھالا تو اپنے ہی ذریعہ کیے گئے وعدے بھول گئے۔

اردو کی ترقی کے لیے مسلم اکثریتی اضلاع میں پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کی سطح پر سرکاری اردو میڈیم اسکول قائم کیے جائیں گے ۔وعدے کی روشنی میں ہمیں اور آپ کو دیکھنا چاہیے کہ علاقہ میں یہ اسکول کہاں کھلے ہیں اور ان کاکیا معیار ہے؟ اس کے برخلاف اترپردیش میں اردو کی ترقی کے لیے قائم خواجہ معین الدین چشتی اردو، عربی، فارسی یونیورسٹی سے ہی اردو کو نکال دیا گیا۔وہیںیہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ سبھی سرکاری کمیشنوں، بورڈوں اور کمیٹیوں میں کم سے کم ایک اقلیتی نمائندہ بطور رکن نامزد کیا جائے گا، اس پر بھی کوئی منظم کام نہیں ہوا ۔ وقف بورڈ کی جائیداد پر سے ناجائز قبضے ہٹاکر انہیں وقف بورڈ کے حوالے کیا جائے گا۔ وقف جائیدادوں کو تحویل اراضی قانون کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا، کے ضمن میں وقف جائیداوں کے تحفظ کے لیے الگ قانون بنانا منشورمیں شامل ہے۔ یہ قانون کب بنے گا؟سوا ل آج تک برقرار ہے۔اور اب جبکہ پارٹی کا انتخابی منشور2017جاری ہو گیا ہے،اس میں گزشتہ وہ وعدے جو 2012میں کیے گئے تھے موجود نہیں ہیں۔ایسا کیوں ہے ؟یہ خود اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے۔یہیں پر ایک لمحہ ٹھہر یئے،اکھلیش حکومت کے قول و عمل کا جائزہ لیجئے اور موازنہ کیجئے اور پھر اپنے ووٹ کی حیثیت کو جانتے پہچانتے ہوئے فیصلہ کیجئے کہ اس مرتبہ کسے اورکیوں ووٹ دیا جائے گا!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close