آج کا کالم

اگر انتخاب جیتنے کی کوشش قومی فریضہ ہے….!

رویش کمار

"انتخاب جیتنا قومی فریضہ ہے …” وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان مجھے حال فی الحال کے تمام سیاسی بیانات میں نظریاتی عکس کا حامل لگتا ہے. میں گوگل نہیں کرنا چاہتا کہ یہ بات وزیر اعظم مودی سے پہلے کس نے کہی ہے. اس کا کوئی مطلب نہیں ہے. تلمیحی جملوں میں بات کی یہ ادا بتاتی ہے کہ وزیر اعظم خود کو قیادت کے کردار میں بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں. وہ قیادت کے کردار کو لے کر شش وپنج میں نہیں ہیں. چاہتے ہیں کہ پارٹی کا ہر کارکن انہیں لیڈر کی طرح دیکھے اور وہ خود کو لیڈر کی طرح ہی پیش کرتے ہیں. طنزیاتی اختصار میں کہہ سکتے ہیں مرد زمانہ کی طرح.

جب بھی وزیر اعظم اپنی پارٹی کے اندر لیڈروں- کارکنوں سے خطاب کرتے ہیں تو سخت ہیڈ ماسٹر سے لے کر سیاسی مفکر کی میز سے بات کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں. ان باتوں کی سخت نکتہ چینی بھی ہوتی ہے، لیکن اس سے وزیر اعظم کی پارٹی قیادت کے تئیں کردار کی اپنی سمجھ پر کوئی اثر نہیں پڑتا. امت شاہ اور نریندر مودی کی جوڑی مسلسل کارکنوں سے خطاب کر رہی ہے، اجلاس ہو رہے ہیں.

حال ہی میں ملک بھر میں 500 سے زائد نئے دفاتر بنانے کا اعلان بھی ان دونوں کے ماڈرن اسمرتی نرمان کے عمل سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہئے. جہاں ایک طرف کانگریس اور بایاں بازو اسمرتی موہ کے پرانے جال میں پھنسے ہوئے اسمرتی لوپ کا شکار ہو رہے ہیں، وہیں بی جے پی کے یہ دونوں رہنما پرانے موہ سے مسلسل پارٹی کو آزاد کر رہے ہیں. ان دونوں نے دو سال پہلے بی جے پی کو باہر سے تبدیل کر دیا، اب گجرات سے دہلی آکر اندر سے تبدیل کر رہے ہیں. کہہ سکتے ہیں کہ اپنے لئے کر رہے ہیں، مگر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ پارٹی کے لئے بھی ہو رہا ہے.

وہیں اپوزیشن کانگریس اندر اور باہر سے جڑ ہو گئی ہے. کانگریس نے نظریاتی اور سیاسی کاہلی کو ادارتی وصف دیا ہے. اس کے پاس کوئی نئی بات یا پرانی باتوں کی ہی کوئی نئی پیکیجنگ نہیں ہے، اسی لیے کانگریس جہاں بھی 10-15 سال سے ہار رہی ہے وہاں واپسی نہیں کر پائی ہے. بہار، اتر پردیش، اڑیسہ اور مغربی بنگال کی مثال آپ دیکھ سکتے ہیں. بی جے پی کے پاس ایک ریاست ہے دہلی، جہاں وہ 15-20 سال سے اقتدار میں واپسی نہیں کر پائی ہے. کانگریس کہہ سکتی ہے کہ اگر الیکشن جیتنا بی جے پی کا قومی فریضہ ہے، تو باقی جو بچتا ہے وہ فریضہ ہمارا ہے اور وہ ہے انتخاب ہارنا …!

دوسری طرف بی جے پی نے اپنی انتخابی تیاریاں شروع کر دی ہیں. بی جے پی راشٹرواد پر زور دے رہی ہے. الیکشن جیتنے کے لیے قومی فریضہ بتا کر اس نے جانے انجانے راشٹرواد کی نئی تشریح پیش کر دی ہے. اس بیان سے لگتا ہے کہ راشٹرواد اور الیکشن جیتنے میں کوئی فرق نہیں. باقی جماعتیں راشٹروادی نہیں ہیں. صاف ہے، سارا زور انتخابات جیتنے پر ہے، کسی سیاسی اخلاقیات کے جال میں پھنس کر بیڑا غرق کرنا نہیں ہے. بی جے پی کا اب یہی نظریاتی سلوک ہے. ہم جو کریں گے، انتخابات جیتنے کے لئے کریں گے. راشٹرواد مقصد کم، انتخابی فارمولا زیادہ نظر آتا ہے. دو سال پہلے ‘ٹیم انڈیا، ون انڈیا’ کے کارپوریٹ ٹائپ کے جملوں کو بی جے پی نے چھوڑ دیا ہے. بی جے پی پہلے بھی راشٹرواد کے سانچے سے خود کو متعارف کرتی رہی ہے. اس کا راشٹراواد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ  کے راشٹرواد سے آتا ہے. الیکشن جیتنے کے لیے قومی مفاد اور  راشٹرواد سے جوڑنے کی قلابازی وزیر اعظم ہی کر سکتے ہیں. ان کے مخالفین کے بس کی بات نہیں ہے جو تنقید پیش کرنے سے پہلے اخباروں میں چھپے ادارتی مضمون پڑھنے لگتے ہیں. انتظار رہے گا کہ مخالف خیمے سے کون لیڈر ان کی اس بات کی نظریاتی تنقید پیش کرتا ہے.

تب تک بی جے پی ‘انتخاب جیتنا قومی فریضہ ہے’ دفاتر اور اجلاس کے شاميانوں میں ٹھیک اسی طرح سے لکھ کر ٹانگ سکتی ہے، جیسے اسکولوں اور پرانے اسٹیشنوں پر ‘کاہلی ہی جسم کا سب سے بڑا دشمن ہے’ ٹائپ باتیں لکھی ہوتی ہیں. کوئی لیڈر جب اپنے سنہرے دنوں میں انتخاب جیتنے پر اتنا فوکس کر رہا ہو، اسے کسی بھی سیاسی مبصر کو سنجیدگی سے لینا چاہئے. اپوزیشن ابھی تک بیرومیٹر لے کر ‘مودی لہر’ ناپنے میں لگا ہے، امت شاہ اور نریندر مودی کے دماغی کیلنڈر میں 2019 کی تاریخیں پھڑپھڑانے لگی ہیں.

دونوں رہنما مسلسل اپنے کارکنوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ وہ پارٹی میں کیوں ہیں. اشارتی جملوں کے ذریعہ کارکنوں میں نظریاتی الجھن دور کرتے رہتے ہیں کہ وہ ایک جماعت کے ساتھ محض جڑنے سے معاشرے کی خدمت نہیں کر سکتے ہیں. امت شاہ اور نریندر مودی بتا رہے ہیں کہ بغیر اقتدار ہم کچھ بھی نہیں ہیں. انہیں معلوم ہے کہ اقتصادی پالیسیوں میں کانگریس اور بی جے پی میں بنیادی فرق نہیں بچا ہے. اقتصادی بنیاد پر ایک دوسرے سے الگ کرنے کا امکان کم ہوتا جا رہا ہے، اس لیے بی جے پی راشٹرواد کے ذریعہ خود کو سب سے الگ کرنا چاہتی ہے. ورنہ ہندوستانی سیاست میں اب کوئی فیشن ڈیزائنر ہی لیڈروں اور کارکنوں کے الگ کپڑے سل كر یہ معجزہ کر سکتا ہے. سبھی  اخلاقی طور پر ایک ہیں. صرف اس ایک بات کو کئی طریقے سے بولنے والے لیڈر الگ الگ ہیں.

انتخاب ہارنے کے بعد ریاستی لیڈروں کو سردار کیا سزا دے گا، معلوم نہیں، لیکن جیتنے کو قومی فریضہ بتا کر قیادت نے بتا دیا کہ اس کی ذمہ داری صرف دو لوگوں کی نہیں ہے. ہمارے ساتھی اکھلیش شرما نے بتایا ہے کہ پہلی بار 29 ریاستوں کی کور کمیٹی کے 400 اراکین کا قومی اجلاس بلایا گیا ہے. جو لوگ بی جے پی میں صرف مودی اور شاہ کو دیکھنے کے عادی ہیں، انہیں دیکھنا چاہئے کہ یہ دونوں پارٹی میں کس طرح نئے نظام کی تعمیر کر رہے ہیں. اسی کے ساتھ دونوں اپنی اثراندازیوں کا کچھ حصہ منتقل بھی کر رہے ہیں، تاکہ سب کو لگے کہ کور کمیٹی کی قیادت کے لئے آنکھ اور کان ہیں. بی جے پی میں رہنما ایک ہے، لیکن ٹیم کئی قسم کی ہے اور وہ ٹیمیں بھی اپنے آپ میں نیتا ہیں …!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close