آج کا کالم

اگست کنونشن کو مودی یوگی کی پالیسیاں کامیاب بنائیں گی!

حفیظ نعمانی

اس میں کوئی شک نہیں کہ بہار میں آج بھی سب سے زیادہ مقبول سیاسی لیڈر لالو پرساد یادو ہیں ۔ نتیش کمار نے بیشک ایک صاف ستھری شبیہ بنائی ہے اور بے داغ وزیر اعلیٰ کے طور پر سب ان کا احترام اور ان کی قدر کرنے پر مجبور ہیں ۔ لالو یادو اگست میں پٹنہ میں حزب مخالف کا ایک اجتماع کرنے جارہے ہیں ۔ ان کی دعوت کو اطلاع کی حد تک ملک کی غیربی جے پی پارٹیوں میں سے زیادہ تر نے منظور کرلیا ہے۔ اترپردیش میں کانگریس کے بعد جو دو پارٹیاں سامنے آئیں وہ ایس پی اور بی ایس پی ہیں ۔ قسمت سے دونوں کو پوری طرح اقتدار کا موقع ملا اور یہی دونو ں کے لئے عذاب بن گیا۔

بہار میں کانگریس کی موت بھاگل پور میں ہوئی بھاگل پور میں جس طرح ستندر نرائن سنہا نے مسلمانوں کو تباہ و برباد کیا وہ بہار کے مسلمانوں کے لئے آخری فیصلہ کا مسئلہ بن گیا حالانکہ اس وقت مولانا ولی رحمانی ان کے دست راست بنے ہوئے تھے اور وہ سارا تماشہ دیکھتے رہے تھے۔ اس وقت مسلمانوں نے آخری فیصلہ کیا اور لالو کو بہار کی قیادت سونپ دی۔ بہار میں برسوں لالو نے حکومت کی اور خود کہا کہ جب تک سموسہ میں آلو رہے گا بہار میں لالو رہے گا۔ لیکن لالو سنجیدہ کم اور مست مولا زیادہ ہیں ۔ وہ حکومت کو بھی اس طرح چلاتے رہے جیسے پارٹی کو چلاتے ہیں اور بہار کے مسلمانوں نے ہی نہیں ہندوئوں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ اب لالوجی کو گھر میں بٹھا دیا جائے۔

یہ بات سب مانتے ہیں کہ وہ بے ایمان نہیں ہیں مست مولا ہیں ، اور حکومت کے لئے جتنی سنجیدگی کی ضرورت ہے وہ ان میں نہیں ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سے زیادہ سیکولر کوئی نہیں ہے۔ آج وہ قانون کی پابندی کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑسکتے اس لئے حزب مخالف کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا جو فیصلہ انہوں نے کیا ہے وہ اس کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہیں ۔ اور اس لئے یہ خیال کیا جارہا ہے کہ ایک عظیم اتحاد پٹنہ میں بن سکتا ہے۔ اور 1977 ء میں جو جنتا پارٹی کا بنا تھا اس میں جو خامیاں رہ گئی تھیں ان سے بچنے کی کوشش کی جائے گی۔ جنتا پارٹی میں یہ فیصلہ کہ اپنی اپنی کشتی کو جلاکر آئو بنیادی طور پر غلط ثابت ہوا۔ پارٹی کی حیثیت لیڈر اور عہدیداروں اور ورکروں کے لئے ایک خاندان کی ہوتی ہے، جو برسوں میں بنتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ فیصلہ کہ ایک جھٹکے میں اسے توڑ دیا جائے شری جے پرکاش نرائن کا تھا اور ان کی کوئی پارٹی نہیں تھی۔ اور یہی چیز جنتا پارٹی کے بکھرنے کا سبب بنی۔

پٹنہ کنونشن میں اکھلیش اور مایاوتی دونوں نے شریک ہونے کا وعدہ کرلیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اترپردیش میں یہی دو لیڈر ہیں ۔ 2017 ء میں کیا ہوا اس پر زیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں ہے ووٹ کے اوسط کو دیکھا جائے تو 2014 ء میں بھی اگر ملائم اور مایاوتی ایک ساتھ ہوتے تو بی جے پی مودی کے جادو کے بعد بھی اتنی سیٹیں نہ لاتی کہ امت شاہ کی تاج پوشی ہوتی؟ اور 2017 ء میں بھی اگر دونوں کوئی باعزت سمجھوتہ کرلیتے تو بی جے پی کے لئے مودی کتنی ہی فرقہ پرستی پھیلاتے 200  سے آگے نہیں جاسکتے تھے۔ اصول کی بات یہ تھی کہ اکھلیش کو وزیر اعلیٰ بنانا طے کرتے اور خود جیسی وزارتیں لینا چاہتی تھی لے لیتیں ۔ اور عقل کا تقاضہ تھا کہ باہر رہ کر حکومت کا ساتھ دیتیں ۔ لیکن ان کے دماغ میں وزیر اعلیٰ سے کم نہیں تھا۔ اور اس نے مودی کو وہ کرنے پر مجبور کردیا جو وزیر اعظم کے لئے شرم ناک ہے۔

مودی کا سب کا ساتھ سب کا وکاس پوری طرح فیل ہوچکا ہے اب یہ صرف ایسا ہی ہے جیسے مودی کے راج میں جمہوریت اور سیکولرازم، وہ سنگھ کے تربیت یافتہ ہیں جہاں صرف ایک کی حکومت ہوتی ہے یہی انہوں نے گجرات میں کیا سب کو معلوم ہے کہ لوک آیکت جو ایک دستوری عہدہ ہے اور گورنر جسے صدر کا نمائندہ کہا جاتا ہے گجرات میں ان کی اتنی بھی حیثیت نہیں تھی جتنی سرکاری وکیل کی ہوتی ہے۔ وہ 10  برس دُہائی دیتے رہے اور مودی نے بتادیا کہ ان کے نزدیک دستور اور صدر کچھ نہیں ہیں وہ من مانی کے قائل ہیں ۔ اور یہی وہ لوک پال کے بارے میں کررہے ہیں ۔

اس وقت ملک میں جو ہورہا ہے اور اُترپردیش میں جو ہورہا ہے وہ ہر لیڈر کے سامنے ہے۔ نوٹ بندی جس کے لئے مودی جی نے 50  دن لئے تھے اور کہنے والوں نے کہا تھا کہ ایک سال میں بھی کمر سیدھی نہیں ہوگی اس میں بھی مودی جی نے منھ کی کھائی ہے اور جو بات سابق وزیر اعظم کہہ گئے تھے وہی حالت ہے۔ اٹھتے بیٹھتے زبان پر ایک ہی جملہ ہے کہ کوئی بھرشٹاچار نہیں ہے اور خوب بھرشٹاچار ہورہا ہے۔ اُترپردیش میں جنگل راج اور غنڈہ راج کا الزام لگاکر مودی آئے تھے آج ریاست کی حالت بدترین ہے اور جو ایک ناتجربہ کار وزیر اعلیٰ کے دَور میں زیادہ سے زیادہ ہوسکتا تھا وہ ہورہا ہے۔  سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایمانداروں کی تلاش کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف گوشت کا کام کرنے والے کروڑ ہی نہیں تعمیر اور مکان دُکان بنانے والے مستری مزدور لوہار اور بڑھئی سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں ۔ بازار میں نہ مورنگ ہے نہ بالو ہے۔ انتہا یہ ہے کہ ٹی وی جس پر سب سے زیادہ سیمنٹ کے اشتہار آیا کرتے تھے انہوں نے اشتہار بند کردیئے کیونکہ صرف سیمنٹ سے کچھ نہیں ہوتا۔ وزیر اعلیٰ پولیس کی بھرتی کی بات کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ریاست میں جتنے بے روزگار بنائے ہیں یہ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ بتایا جارہا ہے کہ بازار میں سناٹا ہے جبکہ عید میں چلنا دشوار ہوتا تھا۔ اور جولائی سے جی ایس ٹی کی لعنت آنے والی ہے جو کاروبار کرنے والوں کو بھکاری بنائے گا۔

اگست میں جو حزب مخالف کنونشن ہوگا اس میں لاکھوں ایسے لوگ بھی آنا چاہیں گے جن کے خون اور پیسے سے آج مودی اور یوگی کے سروں پر تاج رکھے ہیں ۔ کاروباری طبقہ تو بہت پہلے آچکا ہوتا مگر اس شرم نے ان کے پائوں میں بیٹری ڈال دی کہ 60  برس تو بی جے پی کی مالا جپی اب اس کی حکومت آگئی تو تین سال میں کس منھ سے توڑیں ۔ لیکن اب ان کے سامنے موت کھڑی ہے۔ وہ پیسہ جسے تین نسلوں نے کمایا ہے کیسے اس فریب پر قربان کردیں کہ حکومت جیسی بھی ہے اپنی ہے۔ اپنی حکومت وہ ہوتی ہے جو ایک لاکھ کو دس لاکھ بنا دے۔ اور جو حکومت دس لاکھ کو ایک لاکھ کردے اس کی تو ماں …… اس کا اندازہ اگست میں ہوجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close