آج کا کالم

ایسے بنے گا اکیسویں صدی کا ہندوستان؟

رويش کمار

آج سلور جوبلی ہے. يونیورسٹي سیریز کا 25 واں ایپیسوڈ ہم دھوم دھام کی جگہ بوم بام سے منانے جا رہے ہیں. ایسی کہانیاں جو آپ دیکھ خود کو دلاسہ دیں گے کہ آپ بچ گئے. نظام جب دھماکے کرتا ہے تو اس کے چھرے جانے کتنی نسلوں کے پیٹھ میں دھنس جاتے ہیں، جس کا حساب کوئی نہیں کر سکتا. یونیورسٹی سیریز ٹی وی چینل کی تاریخ کی سب ناکام سیریز ہے. ناکامی کو بھی کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے، اس کا مظہر یہ سیریز ہے. یہ سب باتیں زبان پر اس لیے آ رہی ہیں کہ آہ اور کراہ کا اثر ختم ہو چکا ہے. کیا آپ نے سنا ہے 13 سال کا پروبیشن. انوراگ دواري نے جب یہ کہانی بھیجی تو لگا کہ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں جبکہ نظام نے مذاق اس شخص کے ساتھ کیا تھا جو 13 سال سے پروبیشن پر ہے. دنیا کا سب سے لمبا چلنے والا پروبیشن. ڈھین ڈھین. آپ بھی ساؤنڈ دیجئے ڈھین ڈھین. ہماری فلم کا نام ہے نیشن آن پروبیشن، نیشن آن پروبیشن کے کردار ہیں ڈاکٹر ڈی ایس بامنے جو كھرگون کالج میں ریاضی پڑھاتے ہیں. 13 سال پہلے آنکھوں پر چشمہ نہیں تھا، آج چشمہ لگانے لگے ہیں. 13 سال پہلے پروبیشن پر تھے آج بھی پروبیشن پر ہیں. ڈاکٹر کرن سٹولے دھار ضلع کے سرکاری کالج میں انگریزی پڑھاتی ہیں. ان کی بھی تصویر بدل گئی. ڈونگر سنگھ مجالدا تو بلیک اینڈ وائٹ سے رنگین تصویر میں آگئے لیکن ایک بات پہلے جیسی رہی. یہ جن کالجوں میں پڑھاتے ہیں، 13 سال سے وہیں پروبیشن پر ہیں.

معافی چاہتا ہوں، اگر آپ کو یہ لگا کہ میں نے ان کی تکلیف کا مذاق اڑایا ہے۔ میں اپنے لہجے سے بتانا چاہتا تھا کہ نظام چاہے تو آپ کا کیسا کیسا مذاق اڑا سکتا ہے. اس مسئلے کو مدھیہ پردیش پر مهاودھالیہ انو سوچت جاتی جن جاتی شکشک سنگھرش کئی سال سے اٹھا رہا ہے. پردیش کے کالجوں میں خالی پڑے 700 مستقل اساتذہ کے عہدوں پر عارضی طور پر کام کر رہے اسسٹنٹ پروفیسروں کے مسئلے پر یہ شکشک شنگھرش سالوں سے حکومت کے چکر کاٹ رہا ہے تاکہ پروبیشن پر کام کر رہے یہ استاد مستقل ہو جائیں.

اصول کہتے ہیں کہ دو سال کے بعد پروبیشن ختم ہو جانا چاہئے. لیکن جن اسسٹنٹ پروفیسروں نے مقررہ معیار پورے کر لئے، 13 سال بعد بھی ان کا پروبیشن کا پیریڈ ختم نہیں ہوا. ان کے لئے ذات کا جھنڈا بلند کئے کئی لیڈر مل جائیں گے. لیکن حقیقت میں کئی سال سے یہ آپ کی جنگ خود ہی لڑ رہے ہیں. مدھیہ پردیش میں اعلی تعلیم کے شعبہ میں بھرتی کے تین قوانین ہیں. پہلے – بھرتی قانون 1967، دوسرا – بھرتی قانون 1990 اور تیسرا – بھرتی قانون 2016.

مدھیہ پردیش اعلی تعلیم کے شعبہ میں تقریبا ڈھائی ہزار اسسٹنٹ لیکچرر یعنی ایڈهاك تقرری والے ہیں. یہ 1984 سے 1990 کی مدت کے ہیں اور بیک ڈور انٹری والے ہیں. ان کی تقرری کے وقت بھرتی قانون 1967 لاگو تھا جس ایڈهاك تقرری جیسا کوئی لفظ ہی نہیں تھا. یعنی اس طرح کی تقرریاں خلاف قواعد  تھیں. ان تقرریوں کو صحیح ٹھہرانے کے لئے حکومت نے پہلے بھرتی قانون 1990 بنایا اور پھر عمر اور تعلیمی قابلیت میں نرمی دے کر سب کو باقاعدہ کر دیا. بقایا تقرریوں کے لئے 2003 میں مدھیہ پردیش لوك سیوا کمیشن نے اسسٹنٹ لیکچرر خطوط کے لئے اشتہارات جاری کیا جس میں NET /SLET/Ph.D. کی شرط تھی. انوسوچی جاتی جن جاتی کے امیدواروں نے بغیر مندرجہ بالا كوالیفیكیشن کے ہی درخواست دی دیا اور لوك سیوا کمیشن نے انٹرویو اور امتحان کے بعد امیدواروں کو منتخب کر تقرری  کے احکامات جاری کر دیئے. 2004-05 اور اس کے بعد بقایا تقرریوں میں کوئی ڈھیل نہیں دی گئی جبکہ یہ تقرریاں اصولوں کے مطابق لوك سیوا کمیشن کی طرف سے کی گئیں. دوسری طرف خلاف قانون ایڈهاك تقرریوں کے لئے ڈھیل دی گئی.

 13 سال سے پروبیشن پر کام کر رہے ان لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا، حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے، مگر مدھیہ پردیش حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ تمام کالج جن میں عمارت نہیں ہے اور جو کہیں اور سے چل رہے  ہیں ان کی عمارتیں بنیں گی . اس کے لئے 489 کروڑ دے دیئے ہیں.

دقت یہی ہے حکومتیں اعلان کر دیتی ہیں، تالی بج جاتی ہے. پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیكھتيں. اب دیکھئے، منتري جي نئے میڈیکل کالج کھولنے کی بات بتا گئے، کچھ نئے خواب دکھا گئے. لیکن انوراگ آپ کو گزشتہ فیصلوں کی حقیقت دکھانا چاہتے ہیں. مدھیہ پردیش کے تمام میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ اور آیرویدک کالجوں کو ریگولیٹ کرنے والی میڈیکل یونیورسٹی جبل پور کے درشن کرانا چاہتے ہیں. پوری ریاست کے میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کو ہینڈل کرنے والی میڈیکل یونیورسٹی، جبل پور میں کرایہ کے چار کمروں میں کام ہوتا ہے. محض چار کمروں سے. چار کمروں کی اس یونیورسٹی کی کمر ٹوٹی ہویٔی ہے. اس میڈیکل یونیورسٹی میں پچاسي فیصد سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں. اور تو اور یونیورسٹی میں کوئی امتحان کنٹرولر تک نہیں ہے جس سے کہ ریاست کے میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کا حال سمجھا جا سکتا ہے. وزیر جی نے پرانا تو ٹھیک نہیں کیا مگر نیے کا اعلان کر دیا.

مدھیہ پردیش کے تعلیمی دنیا کے تمام گھوٹالے سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے طبی ایجوکیشن سیکٹر کو کنٹرول کرنے کے لئے مدھیہ پردیش انسٹیٹیوٹ یونیورسٹی قائم کی تھی. سال 2011 میں جبل پور میں یہ میڈیکل یونیورسٹی قائم تو کر دی گئی لیکن حکومت نے اس کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا.

اس میڈیکل یونیورسٹی سے 16 طبی، 12 ڈینٹل، 17 آیر ویدک، 23 ہومیوپیتھی، 4 یونانی، 3 یوگا، 171 نرسنگ، 66 پیراگراف میڈیکل کالج یعنی کل 312 کالج اس یونیورسٹی کے تحت آتے ہیں. حیرت کی بات ہے کہ اپنے قیام کے چھ سال بعد بھی میڈیکل یونیورسٹی کے پاس اپنی عمارت تک نہیں ہے اور یونیورسٹی کے 85 فیصد عہدے خالی ہیں. یونیورسٹی کے منظور خطوط کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو کل منظور عہدے ہیں 275. ان میں ایک وائس چانسلر، ایک امتحان کنٹرولر، ایک رجسٹرار، سات ڈپٹی رجسٹرار، 18 اسسٹنٹ رجسٹرار، باقی اور چوتھے درجے کے عہدے ہیں.

18 اسسٹنٹ رجسٹرار کے عہدوں میں سے صرف ایک عہدہ بھرا گیا ہے، سات ڈپٹی رجسٹرار کے عہدوں میں سے صرف ایک عہدہ بھرا ہوا ہے، جبکہ باقی اسٹاف میں کل 35 لوگ ہی اب تک کام کر رہے ہیں. خود یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر آر ایس شرما ان حالات کو انتہائی سنگین بتا رہے ہیں۔  اب جب آپ کو یہ بتایا جائے کہ بغیر پروفیسر کے ہی کوئی میڈیکل کالج سے پڑھ کر پاس ہوا ہے تو اس کے پاس علاج کرانے سے پہلے آپ کیا سوچیں گے. یہ بھی میں نے بتاؤں یا آپ بتا گے.

دوسری طرف پردیش کے ذمہ دار وزراء سے لے کر اعلی افسران تک میڈیکل یونیورسٹی کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے اور اسٹاف کا بندوبست جلد کرنے کی بات تو کہتے آئے ہیں لیکن ایسی باتوں کا گزشتہ چھ سال میں اب تک کوئی اثر نہیں ہوا. جبل پور رہائشی پردیش کے ریاستی وزیر شرد جین کو معلوم ہی نہیں ہے کہ اس یونیورسٹی میں اسٹاف کی کمی ہے. جب ہم نے انہیں بتایا تو وہ وائس چانسلر کو خط لکھنے کی تیاری کر رہے ہیں.

چالیس ہزار طلباء کا امتحان  لینے والی یونیورسٹی میں MBBS کے پہلے سال کا رذلٹ بھی ابھی نہیں آپایا ہے کیونکہ کوئی امتحان کنٹرولر ہی نہیں ہے. فنانس افسر ڈیپوٹیشن پر ہیں. آدھا وقت یونیورسٹی میں تو باقی وقت ہوم گارڈ کے سیکشن میں دیتے ہیں. وائس چانسلر ڈاکٹر شرما کہتے ہیں کہ اگر نئی پالیسی کے تحت ریٹائرڈ لوگوں کو رکھنے کی اجازت مل جائے تو کچھ کام بن سکتا ہے. بتائیے حق بھی مانگ رہے ہیں تو ریٹائرڈ لوگوں کے لئے اس طرح سے جیسے نوجوانوں نے لکھ کر دے دیا ہے کہ انہیں نوکری چاہیے ہی نہیں.

جس ریاست میں وياپم، ڈی میٹ اور پھر نيٹ گھوٹالے ہوئے وہاں میڈیکل یونیورسٹی کے یہ حالات ہیں. چار کمرے میں جہاں یونیورسٹی چلے گی وہاں اسکینڈل نہیں ہوں گے تو کہاں ہوں گے. وياپم معاملے میں سی بی آئی نے 490 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے. اتنے تو یونیورسٹی میں پروفیسر نہیں ہیں. تعلیم کی مالی حالت آپ دیکھ ہی رہے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close