آج کا کالم

ایس پی کیا، پورے ملک کی سیاست ہی شیوپال زدہ ہے!

رویش کمار

 شیو پال یادو کی کہانی سیاسیات کی کلاس میں سنائی جانی چاہئے. ملائم سنگھ یادو نے اپنے اس بھائی کے دم پر وہ سب کام کیا، جن کی باریک معلومات ہم تک نہیں پہنچی ہے، لیکن جن سے بنی شبیہ سب تک پہنچی. شیو پال یادو نے اس شبیہ کی پرواہ نہیں کی اور خوشی خوشی شیو پال رہے. ان کے کندھے پر سماج وادی پارٹی، یعنی ایس پی کا مرکزی اقتدار سواری کرتا رہا اور باقی اپنی شبیہ میں سدھار کرتے رہے. سیاست جب بھی درون خانہ اور بیرون سے اخلاقیات کو كچلتي ہے، اپنے اندر سے کسی شیو پال کو پکارتی ہے. ان جیسوں کا ہونا بتاتا ہے کہ لکھ لو، جتنا لکھنا ہے، بول لو، جتنا بولنا ہے.

ہر پارٹی کے اپنے اپنے شیو پال ہیں. بلاک کے سطح سے لے کر ضلعی سطح اور ریاستی سطح پر ہوتے ہیں. چشمہ لگا کر دیکھیں گے تو قومی سطح پر بھی شیو پال نظر آ جائیں گے. ضرورت کے حساب سے کئی شیو پال ہوتے ہیں. جیل کے اندر شیوپال ہوتے ہیں اور جیل سے باہر آکر شیوپال ہو جاتے ہیں. دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے شیو پال ہوتے ہیں اور پھر استعمال کر کے باہر پھینک دئے جانے کے لئے بھی وہی شیو پال ہوتے ہیں، وسیع پیمانے پر شبیہ درستگی کے پروگرام کے لئے.

سماج وادی پارٹی کے شیو پال کی حالت کو دیکھتے ہوئے بس یاد کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح اس ایک رہنما کی دیہری پر سیاست کی اخلاقیات ادھار رکھی ہوئی تھی. ایس پی نے پیدائش سے لے کر جوانی تک اس کے دم پر اپنا سینہ پھلایا. آج کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعلی اس شیو پال کو سادھ کر آزاد ہونا چاہتے ہیں. بری شبیہ کو نکال کر صاف ہونا چاہتے ہیں. سیاست کی برائی ایک شخص میں ہوتی ہے، ثقافت میں نہیں. ایسا سوچنے والے نہ سیاست جانتے ہیں، نہ ثقافت. وزیر اعلی کو بتانا چاہئے تھا کہ شیو پال سنگھ یادو میں کیا برائیاں ہیں جن کے وجہ سے انہیں نکالنے یا بسانے کا کھیل چل رہا ہے. بغیر ان الزامات کے شیو پال کو ہٹانا اور عہدہ سے معزول کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا. کیا ایس پی سے اور بھی بہت سے شیو پال یادو نکالے جائیں گے. امر سنگھ، راجا بھیا سے لے کر نہ جانے کتنے ہوں گے …؟ کیا باقی جماعتوں سے شیوپالوں کو صدر کے عہدے سے لے کر وزارت سے ہٹایا جانے والا ہے.

آج شیو پال کے پاس سب کچھ ہو سکتا ہے، مگر شبیہ نہیں ہے. وہ ہٹائے جا رہے ہیں، بٹھائے جا رہے ہیں، پھر ہٹائے جا رہے ہیں. انہیں بھی بتانا چاہئے کہ وہ کیوں شیوپال بنے …؟ ان کے شیو پال بننے سے کسے فائدہ ہوا اور ان کے ایس پی سے نکلنے پر کسے فائدہ ہو گا …؟ ہم نہیں جانتے کہ شیو پال نے اکھلیش کو چیلنج کیا ہے یا اکھلیش کو کچھ شک ہوا ہے. آج کی سیاست میں ایسے قیاس خوب لگائے جا سکتے ہیں کہ امر سنگھ کے اشارے پر ہو رہا ہے تو امر سنگھ کس کے اشارے پر یہ سب کر رہے ہوں گے. شیو پال کا نکالا جانا سیاست میں آوٹ سورس کا کوئی نیا واقعہ ہے، جس سے کسی کو فائدہ ملے. اچانک مبینہ طور پر بری شبیہ والا یہ لیڈر اتنا ناپسندیدہ کیوں ہو گیا ہے …؟

ہندوستان کی سیاست شیو پال ہی ہے. شیوپالوں میں ہی ہندوستان کی سیاست ہے. ہر پارٹی میں حکومت بنانے سے لے کر بنی ہوئی حکومت گرانے میں شیو پال کام آتے ہیں. دہلی، اتراکھنڈ سے لے کر اروناچل پردیش اور بہار تک میں شیوپالوں کے نئے نئے معلوم-نامعلوم ورژن گھوم رہے ہیں. بہار میں بھی لالوپرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل، یعنی آر جے ڈی میں ایسے دو شیو پال تھے – سادھو یادو اور سبھاش یادو. دونوں کے دم پر کبھی لالو کھڑے ہوئے تو دونوں نے لالو کا دم پھلا دیا. ان میں سے ایک کانگریس میں گیا، وہاں سے نکل کر وزیر اعظم نریندر مودی سے مل آیا، کیونکہ شیوپالوں کا استعمال باہر والے بھی اسی طرح کرتے ہیں، جیسے گھر والے کرتے ہیں.

بہار میں شہاب الدین کے طور پر ایک شیو پال لوٹ آیا ہے. اس شیو پال کو لالوپرساد یادو قبول کرنے میں بے چین ہیں. اچھا-خاصا ان کے بیٹے ان کے پرانے دور کے سایے سے آزاد ہو رہے تھے. تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو کو سادھو، سبھاش اور شہاب الدین کے سایے سے مختلف دیکھا جا رہا تھا. کم سے کم تیجسوی اپنے طور پر نئی جگہ بناتے لگ رہے تھے، لیکن اب تو وہ شہاب الدین کو بچانے کے لئے بے چین نظر آتے ہیں. ان کے بھائی تیج پرتاپ یادو شہاب الدین کے شوٹر کے ساتھ تصویر میں دکھائی دے رہے ہیں. یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ کیوں کوئی باپ اپنے بیٹوں پر ایسے سایوں کو تھوپے گا. سیاسی طور سے سمجھدار باپ ایسا کرے تو پردے کے پیچھے جھانک كر جاننے-بوجھنے کو دل کرتا ہے. بی جے پی پر الزام لگا دینے سے سوالات کے جوابات مل جاتے ہیں. میڈیا کا فالتوپن بھی سمجھتا ہوں، لیکن یہ نہیں سمجھ پاتا کہ لالو اپنے بچوں پر شہاب الدین کے دفاع کی ذمہ داری تھوپ کر کس کا مفاد پورا کرنا چاہتے ہیں جبکہ نیتا کے علاوہ وہ اپنے بچوں کے ارد گرد رہنے والے باپ بھی ہیں.

تو دوستوں، یوپی میں شیو پال کے نکلنے سے ہنگامہ ہے، بہار میں آنے سے ہنگامہ ہے. کیا کوئی نامعلوم طاقت ہے، جس کی پیاس ٹھنڈا کرنے کے لئے شیو پال کا استقبال ہو رہا ہے. ہم سب باہری رنگ روپ کو لے کر مسحور- مدہوش ہونے والے لوگ ہیں. اندر کیا پکتا ہے اور کون کھاتا ہے، کون جانے؟ بند کمرے میں سیاست کی چالیں کسی صنعت کار کے لئے ہوتی ہیں یا اس کی کسی سیاسی پسند کے لئے، ہم نہیں جان پائیں گے. یہ صاف ہے کہ سب کے لئے سیکولر ازم، فرقہ واریت، ہندوتو اور راشٹرواد – یہ سب کھیل ہیں؛ احمقوں کے لیے پھنسائے رکھ کر لال بتی میں گھومنے کا کھیل.

مدعا سے الگ ایک اور بات. سیاست میں کنبہ پروری ایک مسئلہ ہے، لیکن اس مسئلہ پر ہم کیوں بات کرتے ہیں …؟ اسی لئے، تاکہ پارٹی میں جمہوریت ہو. اندر جمہوری طریقے سے  انتخابات ہوں اور سب کچھ شفاف ہو. اخلاص کے نام پر غلامی نہ ہو. راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، یعنی آر ایس ایس کی حمایت سے اندرونی گروہ بندی فکس کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی، یعنی بی جے پی کے سرے پر بھلے خاندان نہ ہو، لیکن وہ بھی کوئی بہترین مثال نہیں ہے. وہ بھی ایک دوسرے قسم کے خاندان سے چلتی ہے. اس کے اندر بھی خاندان پلتے ہیں.

جمہوریت کے اس کینسر سے لیفٹ بھی بچے نہیں ہیں. عام آدمی پارٹی بھی نہیں ہے اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) بھی نہیں ہے. جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، ترنمول کانگریس، شرومنی اکالی دل، دراوڑ منیتر كشگم (درمک)، تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) – ہماری سیاسی پارٹیاں اندرونی طور پر ایک گروہ کی طرح چل رہی ہیں. کہیں پارٹیوں میں خاندان پل رہے ہیں تو کہیں خاندان پارٹیوں کو پال رہے ہیں. سب کے سب شیوپالوں کے بھروسے پل رہے ہیں. ان میں نیتا کے علاوہ صنعت کار اور صحافی بھی شامل کر لیجئے، لہذا سیاست یا پارٹی سے شیوپالوں کا نکالنا اتنا آسان نہیں ہے. آئیے سب مل کر شیو پال یادو کی حفاظت کریں. یہی کام تو سب الگ الگ شیوپالوں کے لئے کرتے ہیں، تو ایک کو سولی پر کیوں چڑھایا جائے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close