ایف ڈی آئی کے نئے اعلانات کا مطلب؟

سدھیر جین

ہماری موجودہ حکومت ماہرین اقتصادیات اور صحافیوں کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک چیلنج پیش کر دیتی ہے اور اب اس نے یہ چیلنج پیش کیا ہے کہ ماہرین اقتصادیات اور صحافی تجزیہ کریں کہ FDI (Foreign Direct Investment یعنی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری) کے نئے سرکاری اعلانوں کا کیا اثر پڑے گا ؟ ویسے اس حکومت کا یہ کوئی نیا اعلان نہیں ہے، کیونکہ پرانی حکومت بھی یہ قواعد لاگو کر رہی تھی اور نئی حکومت اپنی مدت میں شروع سے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی کوشش میں لگی ہے. لیکن امید کے مطابق نتیجے اب تک نہیں آئے. یہ مسئلہ جہاں کا تہاں ہے۔ ایسا کیا کریں کہ غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ لے کر بھارت میں کاروبار کرنے آ جائیں. غیر ملکی پیسے کی ضرورت ہمیں اس لئے  ہے کیوں کہ ہمارے پاس کرنے کو بہت سے کام پڑے ہیں، لیکن ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں. یہ کام چالو ہوں تو معیشت آگے بڑھے اور پھر بے روزگاری کا مسئلہ بھی نپٹے. اسی لیے غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے کام میں مصروف حکومت اب تعمیر، سنگل برانڈ ریٹیل اور ومان کے میدان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو نئے طریقے سے آمادہ کرنے کے لئے نئی پیشکش لے کر آئی ہے. اس پیشکش سے کیا فرق پڑے گا، فی الحال اس کا اندازہ لگانے کا کام ہمارے پاس ہے.

حکومت کے آخری سال میں ایک اور کوشش

ویسے تو موجودہ حکومت کے  پاس ابھی ڈیڑھ سال کا وقت باقی ہے، لیکن اگلے ماہ وہ اپنا آخری مکمل بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے. کہتے ہیں کہ کسی حکومت کا آخری بجٹ لبھانے والے اعلانات پر مبنی ہوتا ہے. انہی اعلانوں کو وہ اگلے انتخابات میں دہراتی ہے، لیکن اس بار کے بجٹ میں حکومت کے سامنے سب سے بڑی دقت پیش  آنے کا اندیشہ یہ ہے کہ ان کاموں کو کرنے کے لئے بجٹ میں رقم کا انتظام وہ کس طرح دکھائے گی. دراصل اب تک سب کرکے دیکھ لیا، لیکن سرکاری خزانے کی حالت ابتر ہے. غیر ملکی سرمایہ کاری اور پرائویٹائزیشن  کے علاوہ متبادل ہو ہی کیا سکتا ہے. وہ تو سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ہی تھے، جو ایک بار کہہ گئے کہ پیسے درختوں پر نہیں اوگتے اور وہیں وہ یہ بات بھی درج کرا گئے کہ کفایت برتئیے. لیکن ان کی وہ بات پسند نہیں کی گئی تھی. ایک ماہر اقتصادیات کی بات کی مخالفت کی گئی تھی اور یہاں تک کہ خود ان کے مخالف ماہرین اقتصادیات نے ان کا مذاق تک اڑایا تھا. بہرحال، آج کے مشکل حالات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے علاوہ کوئی طریقہ  کوئی نہیں سجھا پا رہا ہے.

داووس کی تقریر میں کام آئیں گے FDI کے اعلان

اسی مہینے داووس میں عالمی اقتصادی فورم کا اجلاس ہو رہا ہے، جس میں اس بار وزیر خزانہ نہیں، خود وزیر اعظم جا رہے ہیں. وہ وہاں دنیا کی بہت سے  ماہرین اقتصادیات کے درمیان ہوں گے. دنیا کی بڑی سے بڑی کثیر القومی کمپنیوں کے سربراہوں کے درمیان بھی انھیں بولنے کا موقع مل جائے گا. غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے بھرپور وکالت کرنے کا اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا ہے. ظاہر ہے، ان ملاقاتوں کے عین پہلے اپنے یہاں تعمیر، سنگل برانڈ، ریٹیل اور ومان کے میدان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے بھاری چھوٹ کا اعلان کرنے کے بعد ہی وہ وہاں جا رہے ہیں. خاص طور پر بھاري بھركم زمین جائداد والی سرکاری ومان کمپنیوں میں غیر ملکی تاجروں کے لئے شیئر کی تجویز لے کر.

‘ايذ آف بزنس’ کی رینکینگ بڑھنا طے

غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے دنیا میں کاروباریوں کو اشارہ دینے کا ایک ذریعہ ‘ايذ آف بزنس’  کی بین الاقوامی رینکنگ کو بھی سمجھا جاتا ہے. حکومت کے ان اعلانوں سے یہ رینکنگ بڑھنے کے بانك بن گئے ہیں. اس رینکنگ کے اعداد و شمار  بڑھنے سے گھریلو سیاست میں پرچار کا ایک مدعا بھی تیار ہو جاتا ہے کہ حکومت نے ملک کی تصویر چمکانے میں کیا کام کیا. غیر ملکی سرمایہ کاری آئے یا نہ آئے، اعلانوں سے درجہ بندی کا مقصد تو چھا ہی گیا ہے.

اب تک پرانی کوششوں کا کیا ہوا

کہنے کو تو موجودہ حکومت دعوی کرتی ہے کہ اس کی کوششوں سے اچھی خاصی غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی. اعدادوشمار کے مطابق 17 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا. اگرچہ یہ کامیابی گناتے وقت یہ نہیں بتایا جاتا کہ ہمیں امید کتنی تھی. کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں دوگنا- تین گنا یعنی 200 یا 300 فیصد بڑھنے کی امید رہی ہو. اب اپنے یہاں مقصد کی ناپ تول کرنے کا رواج یا چلن ہے نہیں، سو، ایسے معاملے میں کامیابیوں کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے. پھر بھی اگر FDI کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے بہت تابڑ توڑ طریقے سے نئے اوفرز کا اعلان کرنا پڑا ہو، تو یہ خود ہی ثابت کر دیتا ہے کہ ہمیں کافی غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے. یعنی پرانی کوششوں کا مطلوب اثر ہوا نہیں.

غیر ملکی سرمایہ کاری سے بے روزگاری مٹانے کے خیال میں کتنا دم

اب تک غیر ملکی سرمایہ کاری کے جو فوائد گنوائے جاتے رہے ہیں، ان میں سب سے بہترین فائدہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا بتایا جاتا رہا ہے. عام طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری ملک میں پہلے سے کام کرنے والے لوگوں کے روزگار ختم بھی کرے گی. اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر ملکی کمپنیاں سب سے پہلے اپنے کاروبار کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیں گی، جس میں انسانی وسائل کم لگتے ہوں. اب اپنے یہاں چھوٹا دکاندار بھی ایک دو نوکروں کو ضرور رکھتا ہے اور وہ خود بھی نوکر کی طرح لگا رہتا ہے. جب کروڑوں چھوٹے دکانداروں پر ہی بے روزگار ہو جانے کا اندیشہ بتایا جا رہا ہو تو غیر ملکی کمپنیوں میں روزگار میں اضافہ کرنے اور دیسی کاروبار میں روزگار ختم ہونے کا فرق آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے. اس سلسلے میں دو سال پہلے اسی کالم میں بے روزگاری پر لکھے ایک مضمون کو بھی یاد کیا جا سکتا ہے. یہ مضمون اس وقت کا ہے، جب کچھ دنوں کے لئے حکومت نے ‘میک ان انڈیا’ کی بات چلائی تھی اور بیرون ملک میں ’برانڈ انڈیا‘ کی مقبولیت بڑھانے کی بات سوچی تھی. اگرچہ بعد میں وہ خیال بھی آگے بڑھتا نہیں دکھا.

کیوں بھولنا پڑا ‘میک ان انڈیا’

اقتدار میں آتے ہی حکومت نے ایسا ہی زور ‘میک ان انڈیا’ پر لگایا تھا. جب زور لگایا جا رہا تھا، اس وقت ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے اپنے اندازے بتائے تھے. NDTV کے اسی کالم کے ایک مضمون میں اس کا حساب لگایا گیا تھا کہ کوئی غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت تک نہیں آئے گا، جب تک حکومت موجودہ مال کو فروخت کرنے کا ماحول نہ بنائے.  یعنی ہندوستانی بازار میں جب تک مطالبہ نہ بڑھایا جائے، اس وقت تک کیوں غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آکر مال بنائے گا اور کیوں یہاں آکر دکان کھولے گا. سیدھی سی بات ہے کہ جس ملک کے شہریوں کی جیب میں پیسہ ڈالا جا رہا ہو، وہاں اپنے اپنے ہی صنعتی دھندے چلنے لگتے ہیں اور نئے نئے بازار کھلنے لگتے ہیں. حال فی الحال صرف بازار کھلنے کی بات ہے، سو، کیوں نہ یہ اندازہ لگایا جائے کہ غیر ملکی سنگل برانڈ خوردہ تاجر سب سے پہلے یہ دیکھیں گے کہ بھارت میں نئے گاہک بننے کے آثار ہیں یا نہیں. مثلا، متوسط طبقہ کے اوپر اٹھنے کے کیا امکانات ہیں. ایک اور امکان دیکھیں تو ہمارے پاس ممکنہ گاہک اپنے کروڑوں بے روزگار ہیں. اگر ان کے پاس روزگار ہو تو ان کی جیب میں پیسہ ہوگا اور وہ ایک بہت بڑا بازار پیدا کر سکتے ہیں.

یہ امید لگانا بیکار کی بات ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار پہلے کروڑوں بے روزگاروں کو روزگار دیں گے اور پھر انہیں اپنا مال بیچ کر منافع كمائیں گے. رہی بات کھاتے پیتے طبقے والے بازار کی، تو گزشتہ دو دہائیوں میں شہروں میں اتنے مال کھل گئے ہیں کہ شاید ہی کوئی غیر ملکی برانڈ ہو، جو ہمارے دیسی تاجر نہ بیچ رہے ہوں. بلکہ حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے مال ملکی و غیر ملکی اشیاء کے ساتھ اٹے پڑے ہیں اور گراہک دن بہ دن گھٹتے جا رہے ہیں. اب یہ بھی بالکل الگ بات ہے کہ ایسی حالت میں بھی غیر ملکی سنگل برانڈ بازار میں ہم اپنے تاجروں کی قیمت پر غیر ملکی تاجروں کو لے آئیں. اور یہ دلیل دے کر لے آئیں کہ وہ آئیں گے، تو دكانداري کرنے کے لئے اپنا پیسہ لے کر آئیں گے، جس کی ہمیں سخت ضرورت ہے. پیسے کی ضرورت تو مانی جا سکتی ہے، لیکن اس پیسے کے لئے ہمارے گھریلو بازار کا کیا کیا چلا جائے گا، اس کا حساب بھی ابھی سے لگا لینا چاہئے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ سدھیر جین

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

IND VS SA: کارواں کیوں لٹا کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں؟

ہم فوری طور پر یعنی چوتھے دن ہی ہدف حاصل کرنے میں لگے نظر آئے. ہم جوش میں ہم بھول گئے کہ وہ صورتحال ٹھنڈا کرکے  کھانے والی تھی. ایسی خوشگوار صورتحال تھی کہ اگر یہ اصول بنا لیتے کہ شروع کے دس بیس اوور میں رن بنانا ہی نہیں ہے اور صرف وکٹ محفوظ رکھنا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا کیونکہ وقت کی کسی طرح کی کوئی فکر تھی ہی نہیں. ہماری حکمت عملی صرف گیند بازوں کو تھكانے کی بننی تھی. اس کے لئے چاہے وراٹ کوہلی اور ساہا کو ہی اوپننگ کرنے کیوں نہ آنا پڑتا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے