آج کا کالم

ایماندار افسروں کے لئے نظام میں گنجائش کہاں؟

رويش کمار

ہریانہ کے آئی اے ایس افسر اشوک کھیمکا نے تبادلے میں نصف سنچری بنایی ہے. 51 ویں بار ان کا تبادلہ ہوا ہے. ایک تبادلے سے دوسرے تبادلے کے درمیان ایک افسر کس طرح جیتا ہے، نئے اور پرانے محکموں کے اس ماتحت یا وزیر اس کے آنے اور جانے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، مجھے یہ سب سمجھنے میں دلچسپی ہو رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اشوک کھیمکا کے ساتھ ہونے جا رہی یہ بات چیت آئی اے ایس اور آئی پی ایس یا کسی بھی سطح کے لوك سیوك کا امحتان دینے جا رہے نوجوانوں کے لئے کوچنگ کا کام کرے. کیا تبادلہ کسی ایماندار افسر کو توڑ دیتا ہے، کیا اس کے خاندان والے اسی سے تنگ آ جاتے ہیں، اس کے خاندان پر کیا اثر پڑتا ہے، کیا ایماندار افسر کو مدھیہ مارگ ہونا چاہئے، مثلا کچھ کمانے دینے چاہئے اور کچھ کو کمانے نہیں دینا چاہئے.

بہت سے افسر یہ بھی کہتے ہیں کہ خود مت کماؤ مگر کمانے سے کسی کو روکو بھی مت. نظام تو ہم تبدیل نہیں کر سکتے. اگر تبدیل نہیں کر سکتے ہیں تو پھر یو پی ایس سی کے رذلٹ کو ہم اتنا سیلیبریٹ کیوں کرتے ہیں. کیا صرف جہیز لینے کے لئے یا ٹی وی پر آنے کے لئے. اگر یہ يتھاس استھتوادي بندوبست ہے تو اس کے لئے منتخب ہونے والوں کا خیر مقدم کسی انقلابی انداز میں کیوں نہیں ہوتا ہے. اس کے منتخب ہونے پر ہم افسوس کیوں نہیں کرتے کہ ایک اور نوجوان نظام کے پنجرے میں طوطے کی طرح داخل ہو رہا ہے. بہت سے افسر ہوئے ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگی تبدیل کر دی ہے مگر اس نظام کو وہ تبدیل کیوں نہیں پاتے ہیں، نظام خود انہیں کیوں بدل دیتا ہے. یہ سب کئی سوال ہیں جن کا جواب میں نے اشوک کھیمکا سے جاننا چاہتا ہوں.

ریسرچ کے دوران ہمیں کچھ معلومات ملی ہے کہ 1973 بیچ کے منجويے ناتھ کا 39 سال کی ملازمت میں 40 بار تبادلہ ہوا تھا. تمل ناڈو میں ایک آئی ایس افسر کا تبادلہ 48 گھنٹے میں دو بار کر دیا گیا. یو ساگيام کے 27 سال کی ملازمت میں 25 بار تبادلہ ہوا ہے. کرناٹک کیڈر کے ایم این وجيۓ كمار کا 32 سال میں 27 بار تبادلہ ہوا ہے. ایم این وجۓ كمار نے توانائی، ہوم اور صنعت کی وزارت میں گھوٹالوں کو اجاگر کیا تھا. آندھرا پردیش میں پونم ملاكوڈيا کا 24 سال کی ملازمت میں 26 بار تبادلہ ہوا ہے. پونم نے صحت اور محکمہ تعلیم میں بدعنوانی کو اجاگر کیا تھا. راجستھان کیڈر کی مگدھا سنہا کا 15 سال کی ملازمت میں 13 بار تبادلہ ہوا ہے. مگدھا بھی کسی دباؤ میں آکر کام نہیں کرتی ہیں.

تو آپ نے دیکھا کہ جو افسر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر نظام کے اندر بدعنوانی کے خلاف لڑتے ہیں وہ کتنے اکیلے پڑ جاتے ہیں. ہمیں نہیں پتہ کہ ان کیڈر یا بیچ کے لوگ ان افسروں کے ساتھ کس طرح کا رشتہ رکھتے ہیں، حوصلہ بڑھاتے ہیں، سپورٹ کرتے ہیں یا کنارا کر لیتے ہیں. بہت سے قابل افسروں کو تو تبادلے کا موقع بھی نہیں ملتا، حکومت بدلتی رہتی ہے مگر کوئی ان سے کام نہیں لیتا. انہیں کسی اچھی جگہ پوسٹنگ نہیں ہوتی ہے. ایسا کیا کیا جائے کہ جو افسر نظام سے لڑتے ہیں انہیں کوئی اتنی آسانی سے توڑ نہ پائے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close