آج کا کالم

این آر سی: یہ پہلا سبق ہے کتاب ہدیٰ کا، کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

ڈاکٹر سلیم خان

میگھالیہ کی راجدھانی شیلانگ میں ایک پنجابی گلی ہے جس میں سکھ مذہب کے ماننے والے انگریزوں کے زمانے سے آباد ہیں اور شہر میں صفائی کا کام کرتے ہیں۔ اس سال ۳۱ مئی کے دن  وہاں پارکنگ کو لے کر سکھوں اور مقامی کھاسی قبیلے کے درمیان تصادم  ہوگیا۔  کھاسی لوگوں کے دل میں چونکہ  سکھوں کے خلاف نفرت کے جذبات پہلے سے پنپ رہے تھے اس لیے ان لوگوں نے موقع غنیمت جان کر کالونی کو گھیر لیا۔ پولس آئی کرفیو لگا۔ انٹر نیٹ کی خدمات روک دی گئیں۔ دس لوگ زخمی ہوئے ان میں پولس کا ایک اعلیٰ افسر شامل  تھا۔ وزیراعلیٰ نے تنازعہ  حل کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی  اور سکھوں کو محفوظ مقام پر پہنچا نے کا بہانہ بناکر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔  پنجاب کی حکومت نے ان سکھوں کی دیکھ بھال  کے لیے  ایک وفد روانہ کیا  اور حالات قابو میں آگئے۔ میگھالیہ کے کھاسی قبیلے  زیادہ تر عیسائی ہیں اور وزیراعلیٰ بھی مسیحی ہے۔ ان کا تنازعہ ہندوستان کے صوبے میں رہنے والے سکھوں سے ہوا تھا  اس لیے اس کو ہندو مسلم یا بنگلہ دیشی اور ہندوستانی کا رنگ نہیں چڑھایا جاسکا  ورنہ وہی ہوتا جو آج کل آسام میں این آر سی کو لے کر ہورہا ہے۔ بی جے پی اس پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکتی اور ممتا بنرجی اپنا الو سیدھا کرتیں۔

آسام کے اندر غیر ملکیوں کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ اس پر خون خرابہ بھی بہت ہوا اور سیاست بھی بہت ہوئی لیکن بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے اس کو جس گھٹیا سطح پر پہنچا دیا ایسا کبھی نہیں ہوا۔ امیت شاہ کا معاملہ یہ ہے کہ ان کو اپنے آقا کی مانند ہر مسئلہ میں سیاسی مفاد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا  اسی لیے وہ راجناتھ سنگھ کی مانند اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے۔ این آر سی  کی ڈارفٹ رپورٹ آنے سے قبل ہی  وزیرداخلہ نے ایوان پارلیمان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ  اس پورے عمل میں کسی کو بھی پریشان نہیں کیا جائے گا اور ہر مرحلہ میں تمام  لوگوں کو اپنی بات رکھنے اور اعتراض ودعویٰ دائر کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ یہ مسودہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں قانون کے مطابق بنایا گیا ہے۔ یہ پورا عمل غیرجانبدارانہ، شفاف اور قانون کے مطابق مکمل کیا جارہا ہے اور کسی کے ساتھ تفریق و امتیاز نہیں کیا جائے گا۔

ایوان زیریں میں تو خیر بات نبھ گئی لیکن ایوان بالا میں جب این  آرسی پر بحث کے دوران کانگریس اور ترنمول کانگریس نے اعتراض کیا تو  امیت شاہ نے جواب دیتے ہوئےپوچھ لیا کہ’’  کیا کانگریس غیر قانونی بنگلہ دیشی دراندازوں  کو بچانا چاہتی ہے‘‘۔ یہ اس قدر غیر ذمہ دارانہ بیان  کی توقع کسی سڑک چھاپ رہنما سے بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔ جن لوگوں کے نام اس ناقص فہرست میں شامل نہیں  ہیں ان کو غیر ملکی قرار دینے کی  حماقت خیزشرارت  اگر  برسرِ اقتدار قومی جماعت کے صدر سے سرزد ہوجائے تویہ  بڑی شرمناک ہے؟ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عدالت کی آنکھ پر پٹی بندی ہوتی ہے مگر سیاستداں عوام کے ہمدرد و بہی خواہ ہوتے ہیں۔ وہ عوام کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں لیکن آسام کے معاملے میں اس کے بر عکس نظارہ ہے۔ اس بابت عوام کو حکومت کے بجائے  سپریم کورٹ  سے رجوع کرنا پڑا اور اس نے قومی رجسٹر میں غیر موجود لوگوں  کے اعتراضات کو منصفانہ طریقہ کار سے نمٹانے کے لیے  اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس او پی) پر عملدرآمد کی تلقین کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے تک کہہ دیا کہ اس میں جن کے نام نہیں ان کو رائے دہندگی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ اب شاہ جی بتائیں کہ کیا عدالتِ عظمیٰ، الیکشن کمیشن اور خود ان کی پارٹی کے وزیر داخلہ بنگلا دیشیوں کی حمایت کررہے ہیں؟

جسٹس رنجن گوگوئی اور روہنٹن فالی نریمن پر مشتمل ڈویزن بنچ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے  کہا کہ ضابطہ کے مطابق متعلقہ شخص کو نوٹس بھیجنے کے بعد اس کی سماعت ہونی چاہئے۔ ڈویزن بنچ نے این آر سی کے منتظم اعلیٰ پرتیک ہجیلا اور مرکزی حکومت کو حکم دیا  کہ وہ عدالت  کے سامنے طریقہ کار اور منصوبہ کی تفصیل پیش کرے۔جسٹس گوگوئی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ دستاویز کو انصاف کی کسوٹی پر  جانچا  جائے گا اور اگر حسبِ ضرورت  ترمیم کی  جائے گا۔ عدالت عظمی نے جن لوگوں کے نام این آر سی میں نہیں ہیں انہیں پریشان نہ کرنے  اور  ان کے خلاف کسی طرح کی کارروائی نہیں  کرنےکی تلقین کی۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا رویہ شروع سے ہمدردانہ رہا ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نےجب آسام میں نیشنل رجسٹر فار سیٹیزن (این آر سی) میں اندراج کے لئے پنچایت سر ٹیفیکٹ کو ناقابل قبول قرار دیا تھا تو۲۸ فروری ۲۰۱۷؁ کو جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس نریمن پر مشتمل عدالت عظمی کی دو رکنی بنچ نے اس فیصلہ کومسترد کرکے اسےقابل قبول قرار دے دیا۔

ایک طرف  تو حکومت کے مختلف اداروں  اور عدالت کا یہ موقف اور اس کے برخلاف امیت شاہ کا اشتعال انگیز بیان کہ ’’یہ عمل کانگریس کے وزیراعظم کی مساعی ہے اور اُن (راجیو گاندھی) میں اس کی ہمت نہیں تھی۔ ہم میں ہمت ہے اور ہم یہ کام کررہے ہیں‘‘۔بی جے پی والوں کا خاصہ ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے بلکہ نوٹ بندی جیسی  حماقت کو بہادری اور دلیری کا نام دیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا این آر سی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کو کھلے دل سے تسلیم کیا جاتا اور اس پر معذرت طلب کی جاتی لیکن اس کی تعلیم سنگھ نے انہیں نہیں دی اس لیے کانگریس کے ساتھ تمام  سابق وزر ائے اعظم کو بزدل ٹھہرا دیا۔ وہ بھول گئے کہ راجیو گاندھی کے بعد اٹل جی کو بھی وزیراعظم بننے کا موقع ملا  تھا۔ اپنے اس ناعاقبت اندیش بیان سے انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے سابق وزیراعظم کی توہین کردی۔ امیت شاہ کے اندر ہمت ہے تو وہ آسام کے اندر اپنی  صوبائی حکومت کے چلتے گئو کشی کا قانون بنوا دیں تو دال آٹے کا بھاو معلوم ہوجائے لیکن شاہ جی جیسے ڈرپوک سے یہ بیجا  توقع ہے۔

  امیت شاہ نے اپنے اس متنازعہ  بیان سے  آسام کے رائے دہندگان  اوراندھ بھکتوں کو ضرور خوش کیا  لیکن پورے  حزب اختلاف کو بی جے پی کے خلاف متحد کردیا۔ ۲۰۱۹؁ کے انتخاب میں حزب اختلاف کا اتحاد  بی جے پی کا بوریہ بستر گول کرسکتا ہے اس لیے شاہ جی کی  کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ مخالفین میں انتشار ہو لیکن وہ سب کو متحد کررہے ہیں۔ شاہ  کے بیان پر ہونے والے  کانگریس اور ٹی ایم سی کے  پُرشور احتجاج کے  باعث وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ ایوان میں موجود ہونے کے باوجود اپنا موقف پیش کرنےسے قاصر رہےحالانکہ  صدرنشین نے مسئلہ کی حساسیت اور سنگینی کے پیش نظر  وقفہ سوالات کو ملتوی کرکےاین آر سی پر بحث کی اجازت دی تھی۔

 قائد حزب اختلاف  غلام نبی آزاد نے بحث کے آغاز میں  کہا تھا کہ یہ کسی خاص مذہب، ذات یا علاقہ کا نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ آزاد نے زور دے کر کہاکہ ’’ہم نہیں چاہتے کہ کسی بھی فرد کو ملک سے باہر نہ نکالا جائے۔ یہ محض  لاکھ افراد کی نہیں بلکہ اہل خانہ کو ملا کر ایک ڈیڑھ  کروڑ لوگوں کا مسئلہ ہے۔ اس کے بین الاقوامی اثرات ہندوستان کے قریبی دوست بنگلہ دیش پر مرتب ہوں گے۔ آزاد نے ہندوستانی شہریوں  کی شناخت ثابت کرنے کی ذمہ داری فرد واحد  کے ساتھ حکومت پر بھی عائد کی۔ اُنھوں نے حکومت کومتاثرہ افراد کو ہراساں کرنے باز رہنے کی تلقین کرتے ہوئے قانونی گنجائش فراہم کرنے پر زور دیا۔ آزاد کا موقف تھا کہ  شناخت ثابت کرنے کے لیے جملہ۱۶ میں سے کسی  ایک دستاویز کوبھی کافی بتایا۔ غلام نبی آزاد نے  اس  نازک مسئلہ پر سیاست بازی سے باز رہنے کا مشورہ دیا  لیکن امیت شاہ اس کا پاس و لحاظ نہیں  رکھ سکے۔

 سماجوادی پارٹی  کے رام گوپال یادو نے این آر سی میں بہار اور اترپردیش جیسی ریاستوں کے افراد کے ناموں کی عدم موجودگی  پر تشویش کا اظہار کیا۔ ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے نے (این آر سی) کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے  ۴۰ لاکھ افراد کے  بے وطن بنا ئے جانے کو دنیا میں اپنی نوعیت کا عجیب و منفرد واقعہ  قراردیا۔ تلگودیشم کے وائی ایس چودھری نے این آر سی کی تدوین و ترتیب میں نا مناسب ضابطہ استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ این سی پی کے مجید میمن نے کہاکہ گزشتہ ۵۰ سال سے آسام میں رہنے والے ۴۰ لاکھ افراد کو کسی دوسرے مقام پر ڈال دیئے جانے کی صورت میں ہندوستان ساری دنیا میں مذاق کا موضوع بن جائے گا۔ اس موضوع پر سی پی آئی ایم،آر جے ڈی،سی پی آئی،بی پی ایف،وائی ایس آر کانگریس، عآپ، ٹی آر ایس،ڈی ایم کےنے ایک زبان میں حکومت کوآڑے ہاتھ لیا۔

آسام کے مقامی باشندوں کو یہ بات  باور کرائی گئی  کہ  غیرآسامی   لوگ ان کا حق مار رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ  بنگالیوں کے خلاف ۱۹۷۹ ؁ میں آسام کے اندر احتجاج شروع ہوئے اور  نیلی کے بھیانک نسل کشی کے بعد جس میں ڈھائی ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۱۹۸۵؁ میں اے جی پی اور مرکزکی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس  میں طے ہوا کہ ۱۹۷۱؁ کے پہلے سے بسنے والے سارے باشندوں کو  شہریت دی جائے اوربعد والوں  کو جلاوطن کر دیا جائے۔ لوگوں کو یہ امید تھی کہ اس سمجھوتے سے شورش ختم ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس  احتجاج کی بنیادابھرنے والی  نئی سیاسی جماعت آسام گن پریشد نے  صوبے کے اندر اقتدار سنبھالا بلکہ مرکزمیں بی جے پی  مخلوط حکومت میں بھی شامل رہی لیکن مسئلہ جوں کا توں باقی رہا۔

آگے چل کرکانگریس کو اقتدار  سے بے دخل کرنے کے لیے بی جے پی سے ہاتھ ملانے والی اے جی پی کی وہی حالت  ہوئی  جو مہاراشٹر میں شیوسینا کا حشر ہوا۔ وقت کے ساتھ کشتی ملاح کے کندھوں پر سوار ہوگئی اور ایسا دن بھی آیا کہ کشتی نے اپنے ملاح کو  پان کی طرح چبا کر  کوڑے دان میں تھوک  دیا مگر سپاری نگل گئی۔   آسام میں  بی جے پی وزیراعلیٰ  سربانند سونوال اے جی پی کی مادر تنظیم آسو کے ۱۹۹۲ ؁ سے ۱۹۹۷ ؁ تک صدر تھے۔ اس کے بعد انہوں  نے سیاست میں قدم رکھا اور ۲۰۱۱؁ تک آسام گن پریشد میں شامل رہے ۔ یہی وہ زمانہ تھا جب اے جی پی اور بی جے پی کے درمیان اشتراک تھا اس وقت  بی جے پی کو ایک مقبول رہنما کی ضرورت تھی اور سونوال کو ایسی پارٹی درکار تھی جس میں ان کی  عزت و وقعت ہو۔ اس طرح  سونوال پکے ہوئے پھل کی طرح بی جے پی کی پناہ  میں آگئے۔ بی جے پی نے  ان کو صوبائی شاخ کا صدر بنایا  جو وہ اے جی پی میں نہیں بن سکتے تھے۔ بی جے پی انہیں  قومی انتخاب لڑاکر  کھیل کی  وزارت سے نوازہ اور صوبے کا وزیراعلیٰ بنادیا۔

ان سارے احسانات کے باوجود سربانند سونوال  بی جے پی کا ایک  ایسا وزیراعلیٰ ہے جو ببانگ دہل بیف کھاتا ہے۔ مختار عباس نقوی نے جب اپنے آقاوں کی چاپلوسی میں کہا کہ جن کو بڑے کا گوشت کھانا ہے وہ پاکستان جائیں تو ان کی مخالفت میں   سونوال نے بیان دیا تھا  ’’ہمارے والدین  نے ہمیں تمام رسوم و رواج اور تہذیب و تمدن  کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ یہی  ہمارے اختلاف میں اتفاق کی بنیاد ہے  اور اسی کو مستحکم کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ بڑے جانور کا گوشت  چونکہ شمال مشرق کے مختلف طبقات  کے روزمرہ کی غذا ہے اس لیے بیف  پر پابندی  ان میں بے چینی پیدا کرے گی۔ ۲۰۰۵؁ کے اندر  عدالت عظمیٰ میں   سربانند سونوال نے مفادعامہ کا مقدمہ دائر کرکے گہار لگائی  گئی تھی کہ  ۱۹۶۱؁ کی مردم  شماری کے مطابق آسام میں مسلمانوں کی آبادی ۳ء۲۳ فیصد تھی جو ۲۰۱۱؁ میں ۳۴ فیصد ہوگئی ہے۔ عدالت نے اسے تسلیم کیا   لیکن یہ  واضح نہیں تھا کہ ان میں سے کتنے آسامی، بنگالی یا بنگلہ دیشی ہیں۔ اس کا پتہ لگانے کے لیے  این آر سی  جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آسام ملک کی واحد ریاست ہے جہاں  این آر سی کے تحت غیر قانونی تارکین وطن  کو تلاش کیا جاتا ہےیہاں تک   کہ ملک کے دوسرے حصے میں  رہنے والے یا برسرِ روزگارشہریوں کے لیے بھی  این آر سی میں اپنا نام درج کرانا ضروری  ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ سربانند سونوال این آر سی کے اجراء کے موقع  پر وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائزہے۔

این آر سی پر کام  ابھی جاری تھا کہ مودی سرکار  نے ۲۰۰۶ ؁ میں  شہریت  بل میں تبدیلی کی تجویز رکھی جس کے مطابق ۱۹۵۵ ؁ کے قانون میں تبدیلی کرکے غیر ملکیوں کو۱۴ میں  ۱۱ سال کے بجائے ۶ سال تک ہندوستان میں رہنے کی صورت میں  شہریت کا حقدار قرار دیا گیا بشرطیکہ وہ ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی یا عیسائی ہوں اور ان کا تعلق بنگلا دیش، افغانستان یا پاکستان سے ہو۔ اس مجوزہ ترمیم سے شمال مشرقی صوبوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ میگھالیہ نے اسے غیر ملکیوں  کو کھلی دعوت قرار دے کر مسترد کردیا اور سربانند سونوال کو  اس سال مئی میں پریس کانفرنس بلا کر یہ کہنا پڑا کہ اگر مذکورہ   بل میں ترمیم منظور ہوجائے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ بی جے پی نے اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے ناقص این آر سی جاری کرکے ایک  ہندو مسلم تنازعہ کھڑا کردیا اورصوبے  کے ہندو رائے دہندگان کی ہمدرد بن گئی۔

ہندوستانی ایوان پارلیمان کے صدر دروازے پر مہا اپنشد کے باب  چہارم کا ۷۱ واں اشلوک درج ہے۔ اس اشلوک کے معنیٰ ہوتے ہیں ’یہ اپنا بھائی ہے اور وہ اپنا بھائی نہیں ہے۔ اس طرح  کی گنتی  (فرق) حقیر ذہنیت کے حامل  لوگ کرتے ہیں۔ وسیع القلب لوگوں کی تو (پوری) دھرتی ہی پریوار ہے‘۔ یہ ہندوستان کے قدیم مذہب سناتن دھرم کا بنیادی عقیدہ ونظریہ ہے  اس لیے کم ازکم بی جے پی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس کا پاس و لحاظ رکھے گی  لیکن سنگھ پریوار کے نظریات کی بنیاد  مغرب سے درآمد شدہ  قوم پرستی پر ہے  جو عصر حاضر کا سب سے  بڑا فتنہ ہے۔ اس وطن پرستی(nationalism) کو  حب الوطنی(patriotism)  کا نام دے کر عوام کے گلے سے اتارا جاتا ہے لیکن اس کی بنیاد اپنے  وطن کی محبت پر نہیں بلکہ دوسری قوموں سے نفرت پر ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر قوم پرست رہنما اپنے بارے میں کم اور دشمنوں کی بابت زیادہ بولتا ہے۔ یہ نظریہ انسانوں کو جوڑتا نہیں بلکہ توڑتا ہے۔ علامہ اقبال  نے یونہی تو نہیں کہا تھا  ؎

ان تازہ خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے

 جو پیرہن اس کا ہے محبت کا کفن ہے

اس نظریہ کا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو دنیوی  وسائل کا امین نہیں بلکہ مالک سمجھتا ہے۔ وہ دوسروں کو اپنا شریک نہیں بلکہ حریف سمجھتا ہے۔ جب تک یہ نظریۂ حیات مقبول  عام نہیں ہواتھا لوگ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے اور بسنے کے لیے آزاد تھے۔ وہ زمین کے جس حصے میں چاہتے جاتے رہتے اور محنت و مشقت سے اپنا رزق حاصل کرتے لیکن اس سفاکانہ نظریہ نے انسانوں کی اس آزادی کو سلب کرکے انسانوں  پر بے شمار پابندیاں لگا دیں۔  دنیا کے مختلف حصوں  میں چاہے وہ یوروپ و امریکہ ہوں یا آسام و تمل ناڈو اسی نظریہ نے انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنارکھا ہے۔  اسی کے سبب آسامی باشندوں کے لیے  بنگالی اجنبی ہوجاتے ہیں اورشیلانگ میں بسنے  والے  پنجابی مقامی کھاسی قبیلے  کو دشمن نظر آتے  ہیں۔ اسی لیے ڈونالڈ ٹرمپ میکسیکو کے لوگوں کو امریکہ میں آنے سے روکنے کے لیے خود انہیں کے خرچ سے  دیوار تعمیر کرنے کی دھمکی دیتے ہیں اور شامی مہاجرین پر یوروپ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۔ اسی نے مصری حکمرانوں کو فلسطینی بھائیوں کا دشمن بنا دیا اور سعودیوں کو  قطر کا حریف بنادیا ہے۔ دنیا کو اس فتنے سے بچانے کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ ’’ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے پیاری وہ مخلوق ہے، جو اس کے کنبہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرے‘‘(حدیث)۔  بقول شاعر؎

یہ پہلا سبق ہے کتاب ہدیٰ کا 

  کہ ساری  ہےمخلوق کنبہ خدا کا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close