آج کا کالم

این ایس جی کی فضول رکنیت کے لئے اتنی بڑی فضیحت!

سدھیر جین

این ایس جی پر ملک کی درگت نے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے. اس بات کو آئی- گئی کرکے نہیں چھوڑا جا سکتا. یہ بات الگ ہے کہ اس معاملے میں ہوش مند، بیدار اور سائنس دانوں کا طبقہ ملک کی موجودہ ہلچل پر خاموش ہے. ایسے لوگوں پر تو چلئے خاموش رہنے کا دباو ہو بھی سکتا ہے، لیکن ملک کی موجودہ سیاسی اپوزیشن کا صرف چشم دید بنے رہنا حیرانی پیدا کرتا ہے. ہو سکتا ہے کہ یہ سب لوگ اس لئے خاموش رہے ہوں، کیونکہ نئے سرے سے ملک کا افتخار اور ساکھ بڑھانے کی تشہیر کے ماحول میں ان کو لگتا ہو کہ کہیں ان پر رکاوٹ پر خوش ہونے کا الزام نہ لگنے لگے.

جہاں تک ایٹومک انرجی کمیشن کے رکن اورجوہری سائنسداں ایم آر شری نواسن کے بولنے کا سوال ہے، تو شری نواسن نے این ایس جی کی رکنیت کے لئے ہندوستان کی کوششوں کو فضول اور ناپسندیدہ ثابت کرنے کی بات فضیحت اور درگت ہو جانے کے دو دن بعد کہی ہے. پھر بھی ان کی کہی باتیں ان معنوں میں اہم ہیں کہ آگے سے ہر بات کا منظر وپس منظر سوچ کر چلنے میں کام آئیں گی.

کیا بتایا شری نواسن نے

انہوں نے کہا ہے کہ این ایس جی کی رکنیت ہمارے لئے بالکل فضول کی چیز اس لئے تھی کیوں کہ منموہن حکومت کے دوران ہی ہم کئی ترقی پسند ممالک کے ساتھ جوہری تجارت کرنے کے قابل ہو چکے تھے. ویسے یہ بات اوسط درجے کے ماہرین بھی جانتے تھے کہ امریکہ، فرانس اور روس کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں کے بعد این ایس جی کی رکنیت کی ضرورت بالکل ہی ختم ہو چکی تھی. اتنا ہی نہیں قازقستان، کینیڈا، آسٹریلیا جیسے کئی ممالک کے ساتھ جوہری ایندھن یعنی یورینیم کی خریداری کا معاہدہ بھی ہمارے پاس ہوا پڑا ہے.

یہ بھی بتا سکتے تھے شری نواسن

وہ مشہور سائنسدان ہیں اور اس وقت بھی جوہری توانائی کمیشن کے رکن ہیں. وہ اعداد و شمار دے کر بتا سکتے تھے کہ جوہری میدان میں ہندوستان کی خود کفیلی کی کیا صورت حال ہے. وہ بتا سکتے تھے کہ ہمارے موجودہ 20 جوہری ری ایکٹروں کے لئے جتنے جوہری ایندھن کی ضرورت ہے، وہ اپنے قدرتی ذرائع سے یعنی اپنے ملک سے ہی حاصل کرنے کے ہم قابل ہو چکے ہیں. وہ یہ بھی بتا سکتے تھے کہ دو سال پہلے تک ہمارے جوہری بجلی گھروں میں پیداوار 3714 کروڑ یونٹ تک پہنچ چکی تھی. سن 1974 یعنی اندرا گاندھی کے وقت ملک نے ایٹمی تجربہ کر کے وہ سب کچھ بھی حاصل کر لیا تھا، جسے ایٹمی ٹیکنالوجی کہتے ہیں. البتہ 42 سال پہلے ہی ہماری اس تاریخی کامیابی سے بہت سے ممالک کو رشک ہوا تھا اور کئی ممالک کو حسد یعنی جلن ہوئی تھی. سب جانتے ہیں کہ این ایس جی کی پیدائش کی وجہ ہی ہندوستان کی یہ کامیابی تھی.

این ایس جی کی رکاوٹ ہے کیا

جب این ایس جی کی پیدائش ہی ہندوستان کی طاقت سے خوف زدہ ہوکر ہوئی تھی تویہ تشہیر کیا جانا کیسی بات تھی کہ این ایس جی کے 48 میں سے 47 اراکین ہندوستان کو رکنیت دینے پر راضی ہیں. چلئے 40 سال کے وقفے میں بہت کچھ بدل جانے کی دلیل دے کر کوئی گنجائش نکالی بھی جا سکتی ہے. لیکن اتنا تو کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ این ایس جی جیسا ادارہ جس کا  لکھت- پڑھت میں کوئی منظم آئین ہی نہ ہو، جس نے یہ طے کر رکھا ہو کہ سارے فیصلے عین موقع پر آپس میں بات چیت کرکے متفقہ طور پر ہی ہوں گے، ایسے میں یہ امید کرنا کہ بیشتر ممالک سے الگ الگ بات کرکے انہیں تیار کر لینے سے این ایس جی کی رکنیت ملنے کا افتخار حاصل ہو جائے گا، یہ بات خوش فہمی سے زیادہ اور کیا ہو سکتی تھی. وہ بھی تب جب ہندوستان نے کئی سال پہلے ہی این ایس جی میں اپنی رکنیت کی ضرورت ختم کر لی تھی. یعنی ہندوستان کے لئے این ایس جی کی افادیت ہی ختم ہو چکی تھی.

ون ٹو ون اور گروپ میں بات کرنے کا فرق

رہی بات ون ٹو ون بات چیت میں تقریبا تمام ممالک کے ذریعہ ہندوستان سے قربت بڑھانے کی وجہ کو سمجھنے کی، تو یہ کون نہیں مانتا کہ گزشتہ ساٹھ سال میں ہستی چال میں ہندوستان نے جو اپنی حیثیت بنائی ہے، اس سے دنیا کے قدآور سے قدآور ممالک کو بھی ہندوستان کی مارکیٹ کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے. جو ہم سے پشتینی دشمنی پالے ہوئے ہیں، ان سے یہ امید کرنا کہ اپنےچھوٹے موٹے فائدے کے لئے ہم سے حسد چھوڑ دیں گے، یہ سفارتی طور پر بہت ہی بڑی غلط فہمی تھی.

اب آگے کیا

گزشتہ دو تین مہینوں میں این ایس جی کی رکنیت کے لئے فضول کی مشق کرنے سے وقت، توانائی، دولت اور ساکھ کا ہمارا کتنا بھی نقصان ہوا ہو، اب ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ آگے کیا کیا جائے. کرنے کے چار طریقے ہو سکتے ہیں. پہلے کہ بات کو آئی- گئی کرنے کے لئے این ایس جی مسئلے کی بحث کرنا چھوڑ دیا جائے. دوسرا کہ اپنی جوہری خود کفیلی پر غور کرنا شروع کر دیا جائے. تیسرا کہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرا کر اپنی ناکامی پر لیپا پوتی کر دی جائے. اور چوتھا یہ کہ ہندوستان اور پوری دنیا میں یہ تشہیر کروائی جائے کہ ہندوستان کے پاس این ایس جی کی رکنیت ملنے کے مواقع ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں. ان چاروں طریقوں میں دیکھیں تو حکومت کے پاس چوتھا طریقہ ہی فی الحال اپنے کو زیادہ فضیحت سے بچانے کے لئے سب سے اچھا اور سب سے پہلا اقدام ہو سکتا ہے.

مسئلہ خود بہ خود مرنے کو نہیں چھوڑ سکتے

معاملہ ملک کی توانائی ضرورت سے جوڑ کر مشہور کیا گیا تھا. کوئلہ، ہائیڈرو بجلی، شمسی اور ہوائی توانائی کے علاوہ ایک ذریعہ جوہری بجلی ہے. ملک کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خرچ کے لحاظ سے جوہری بجلی ہی فائدہ کی لگ رہی ہے. اور اس وقت چل رہے 20 جوہری ری ایکٹروں سے 5780 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے. گزشتہ 60 سال میں جوہری میدان میں ہم نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اس میدان میں خود کفیلی کی پوری گنجائش ہے. لہذا جوہری میدان میں اپنی کامیابیوں کو ہمیں یاد کرتے ہی رہنا پڑے گا اور کوئی بھی اس مسئلے کو مرنے کے لئے چھوڑ دینے کا مشورہ نہیں دے پائے گا.

جوہری خود کفیلی کی باتیں اور بڑھا دی جائیں

کئی وجوہات سے عوامی فورم پر اپنی جوہری خود کفیلی کی باتیں عام طور پر کی نہیں جاتیں. لیکن اب وقت آیا ہے کہ نہرو کے وقت یعنی سن 1954 میں ایٹومک انرجی ایسٹیبلشمینٹ کا بن جانا، نہرو کی ہی سنجیدگی سے 1956 میں ہندوستان میں پہلا ایٹمی ری ایکٹر اپسرا کا بن جانا، 1974 میں تاریخی جوہری تجربہ، ری ایکٹر بنانے کی ٹیکنالوجی کی ترقی، ایٹمی بجلی گھر بنانے میں کام آنے والے تقریبا ہر سامان کی پیداوار میں اپنی خود کفیلی کی بحث کھل کر شروع کی جائے. حالاں کہ مندی میں پھنسے ہوئے تمام بڑے ممالک ہم پر دباؤ ڈال کر یا لبھاكر شمسی اور ہوائی توانائی کے میدان میں ان کی مدد لینے کا ماحول بنانے میں لگیں گے.

ایسے میں ہمیں دیکھ کر چلنے کی ضرورت پڑے گی کہ توانائی کے ہر ذرائع سے ہم بجلی بنانے میں خود کفیل بننے کا کام چلائے رکھیں. غور طلب ہے کہ آج ہم 5780 میگاواٹ ایٹمی بجلی کی پیداوار کے تو قابل ہیں ہی، مزید 2032 تک کی ضروریات کے لئے جوہری ایندھن یعنی یورینیم کی کھدائی کے لئے ہم نے ملک میں خزانے بھی تلاش کرکے رکھ لئے ہیں. جوہری بجلی گھروں کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز ہیوی واٹر کی پیداوار میں تو پانچ سال پہلے ہی ہندوستان اتنا قابل ہو چکا ہے کہ اسے امریکی کمپنیوں سے آرڈر ملنے لگے ہیں.

فضول میں ہوئی فضیحت کا ٹھیکرا پھوڑنے کے لئے سر کی تلاش

یہ کام بہت مشکل لگ رہا ہے. تاریخ میں جاکر بھی نہیں تلاش کر سکتے، کیونکہ پنڈت نہرو کی معنویت دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے. سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں ان کی وفاداری کی بحث ماہرین کے درمیان اچانک زیادہ ہی بڑھ چلی ہے. اندرا گاندھی کے دنوں میں سن 1974 میں جوہری تجربہ کے خوبصورت اور تاریخی واقعہ کو ہم متفقہ طور پر سنگ میل ثابت کر چکے ہیں. امریکہ، فرانس اور روس سے دو طرفہ ایٹمی معاہدوں پر بالواسطہ طور سے این ایس جی سے مہر بھی بہت پہلے ہی لگوا چکے ہیں.

اس طرح موجودہ حکومت کے سامنے مشکلات کا عالم یہ ہے کہ آج کی سیاسی اپوزیشن یعنی کانگریس تک پر کوئی الزام لگانے کی گنجائش نہیں بنتی. اگر کانگریس پر زبردستی الزام لگانے کی کوئی گنجائش بچتی بھی ہے، تو وہ یہ ہے کہ اتنے بڑے مسئلے میں اس نے آج کی حکومت کو روکنے کے لئے کھل کر مہم کیوں نہیں چلائی. خیر کانگریس کے پاس اب یہ اچھا موقع آیا ہے کہ وہ بتا سکے کہ اس نے 60 سال کے اپنے اقتدار میں کیا کیا بڑے کام کئے ہیں. ایٹمی میدان میں تو خاص طور پر.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close