آج کا کالم

ایکزٹ پول : ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

غیر معمولی تجسس پیدا کرکے اس سے اپنی دوکان چمکانے کی کوشش کا نام ایکزٹ پول ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

14 مئی (2019) کو دہلی کے اندر ایک دفتر میں چند دوستوں  کے ساتھ  سیاست بازی  مشغول تھا  کہ مشفق کرم فرما اور معروف شاعر و ناقد ڈاکٹر تابش مہدی کی وہاں تشریف آوری ہوئی۔ میں دوسروں سے کٹ کر ان سے جڑ گیا اور خیر خیریت معلوم کرنے لگا۔ دیگر احباب  اسی جوش و خروش کے ساتھ  بحث و مباحثہ مصروف رہے۔ یہ ہوا؟ یہ نہیں ہوا؟ یہ ہوسکتا ہے ؟ اور یہ ناممکن ہے ؟ وغیرہ وغیرہ پر گفتگو جاری رہی۔  ان قیاس آرائیوں کو سن کر ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ لوگ   ۲۳ تاریخ تک صبر نہیں کرسکتے ؟ آخر اس کا حاصل کیا ہے؟ تابش صاحب کچھ دیر بعد لوٹ گئے اور میں پھر اس چکر ویوہ میں پھنس گیا۔ ایکزٹ پول کے بعد پوری قوم کو بحث و مباحثے میں مصروف عمل دیکھ کر مجھے ڈاکٹر صاحب کا استفسار یاد آگیا۔ ابھی تو صرف تین دن باقی ہیں ؟ کیا ہم اتنا انتظار بھی نہیں کرسکتے؟ واقعی  جدید ذرائع ابلاغ نے ہمیں صبرو ضبط سے محروم کر دیا ہے۔

 بازار کا نظام رسد اور کھپت(demand & supply) پر چلتا ہے۔ صنعتی انقلاب سے قبل انسان ہاتھوں سے  تقریباً سماج کی ضرورت کے مطابق پیداوار کرپاتا  تھا  اس لیے تشہیر کی ضرورت نہیں پیش آتی تھی۔ اس انسانی  ضروریات محدود تھیں اور لو گ  بڑی حد تک  قانع تھے۔  مشینوں کی  آمد اس توازن پر اثر انداز ہوئی کیونکہ  اس نے  پیداوار میں غیر معمولی  اضافہ کردیا تھا۔ اس کو کھپانے کے لیے مصنوعی   ضرورت کو جنم دیا گیا اور یوں  تشہیر  کے کاروبار  نے بھی ایک صنعت کی شکل اختیار کرلی۔ اس  تجارت  کی غرض و غایت  عوام کے اندر زیادہ سے زیادہ  مال و اسباب حصول کی حرص و ہوس پیدا کرنا تھا تاکہ وہ اپنی ضرورت سے بے نیاز ہو کر خریداری کرے۔ اس مقصد کی خاطر سرمایہ  فراہم  کرنے کے لیے قرض کو آسان کیا گیا اور سود  کے ذریعہ اس  کو  بھی منافع سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح  صارفیت(consumerism) کا وہ مایا جال وجود میں آگیا  جس  نے عصر جدید میں ہر فرد کو اپنے چنگل میں  جکڑ رکھا  ہے۔ یہ جدید فتنہ انسان کے اخلاقی وجود کو نگلتا جارہا  ہے ۔ اشرف المخلوقات اب   صرف اور صرف ایک صارف(consumer) بن کر رہ گیا ہے۔

صنعتی انقلاب کے بعد ذرائع ابلاغ کا انقلاب آیا۔ خبر رسانی کا کام پہلے بھی  ہوتا تھا۔ حکومتوں نے  آگے چل کر اس  کی مالی سرپرستی کے بہانے  اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ حکومت کے چنگل سے آزاد ہوکر ذرائع ابلاغ صارفیت کے  توسط سے  سرمایہ داروں کا غلام ہوگیا۔ اس  طرح  خبروں کی دوکان داری شروع ہوگئی اور وہ   برائے فروخت  متاع کوچہ و بازار بن گئی۔ جو چیز بکتی ہے  اس کو بنانا بھی پڑتا ہے اس لیے خبریں بنانے کی صنعت ایجاد ہوئی۔ اس  تجارت کا  بنیادی مقصد خبروں کے  درمیان میں اشتہار دکھانا ہوگیا ۔  سڑکوں اور محلوں کے علاوہ اخبارات ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور موبائل پر اشتہارات آنے لگے۔ چھوٹی سڑک کے بالمقابل  بڑی شاہراہ کی ہورڈنگ کا کرایہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے کہ عوام کی کثیر تعداد اسے  دیکھتی ہے اسی طرح بڑے اخبار میں اشتہار کے نرخ بڑھ گئے اس لیے کہ ان کے قارئین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ یہی حال ریڈیو ، ٹیلی ویژن اور یو ٹیوب چینلس کا ہوگیا۔ ان کے درمیان مسابقت نے  چٹپٹی  خبریں بناکر ان  کو  جلد ازجلد یا سب سے پہلے فروخت کرکے منافع کمالینے کا رحجان پیدا کیا۔  اس طرح سنسنی خیز مادر پدر آزاد   خبررسانی کی  بگ ٹٹ  دوڑ میں سچائی و حق گوئی پر کذب بیانی ا ور منافع خوری کو سبقت حاصل ہوگئی  (الا ماشاء اللہ)۔

اس تناظر میں ایکزٹ پول کو  دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار کی تبدیلی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ اس کے حوالے سے  غیر معمولی تجسس پیدا کرکے اس سے اپنی دوکان چمکانے کی کوشش کا نام ایکزٹ پول ہے۔ مودی جی پانچ سال سے وزیراعظم ہیں۔ تین دن بعد پتہ چل جائے گا کہ وہ اگلے پانچ سال وزیر اعظم رہیں گے یا نہیں رہیں گے ؟ان تین دنوں میں نہ زمین پھٹے گی اور نہ آسمان ٹوٹے گا بلکہ ایک عام آدمی کے روزمرہ کی زندگی  پراگلے پانچ سال میں بھی مودی جی رہنے یا چلے جانے  سے کوئی بہت بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ پچھلے پانچ سالوں میں ایسا  کیا ہوگیا جو  پہلے نہیں ہوا تھا اور جوآگے نہیں ہوگا؟ مثلاً کسان پہلے بھی خودکشی کرتا تھا آگے بھی  خدانخواستہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ شریعت میں مداخلت پہلے بھی  ہوتی تھی آگے بھی   ہوتی رہے گی۔ فسادات میں بے قصور مارے جاتے تھے  اب ماب لنچنگ کا شکار ہوں گے۔ ظلم و جبر کے خلاف حق پسند جدوجہد کرتے تھے آگے بھی کرتے رہیں گے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل ست امروز

 چراغِ مصطفوی سے شرارِ بوا لہبی

 اس فاسد نظام کو چلانے والوں کے ہاتھ بدلنے سے تھوڑا بہت فرق ضرور  واقع ہوگا لیکن بہت بڑا انقلاب نہیں آجائے گا،  پھر بھی پولنگ کے ختم ہوتے ہی پوری قوم کوتین ون کے لیے  ایک  غیر مفید کام  میں لگا دیا گیا ہے۔ ایکزٹ پول کی حیثیت  ایک قیاس آرائی سے زیادہ کچھ اور نہیں ہے۔ انسان اندازہ لگاتا ہے کبھی وہ درست نکلتا ہے اور کبھی غلط ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ ایکزٹ پول کے ساتھ ہے۔ تفریح کے طور اس پر اگر کچھ وقت صرف کردیا جائے تو اس میں حرج نہیں لیکن سنجیدگی سے ان اندازوں پر اندازے لگانا۔ اس کے لیے بے حد فکر مند ہوکر ابھی سے افراد     کو موردِ الزام ٹھہرانے لگنا۔ پوری ملت  پر لعنت ملامت شروع کردینا، کہاں کی دانشمندی ہے؟ کیا ان تبصروں  کو تین دن کے لیے  مؤخر نہیں کیا جاسکتا ؟ خبر بیچنے والوں کی تو یہ مجبوری ہے کہ وہ گرما گرم خبر بیچ دیں لیکن  یہ سمجھ میں نہیں آتا  اسے نوش فرمانے والوں کو اپنا منہ جلا لینے والوں کی جلدی کیوں ہے؟

   امتحانی نتائج طالبعلم کی زندگی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں اس کے باوجود وہ بڑے اطمینان سے  ایک ماہ تک کا صبر کرلیتا ہےلیکن حیرت کی بات ہے کہ  عوام الناس انتخابی نتائج کے لیے  ۳ دن تک انتظار نہیں کرسکتے ۔  ایکزٹ پول کی بابت جولوگ تابش مہدی صاحب کا مشورہ نہیں ماننا چاہتت ان کے لیے  بی جے پی کے سابق صدر اور موجودہ نائب  صدر  جمہوریہ ہند ایم وینکیا نائیڈو کی تلقین حاضر  ہے۔ انہوں  نے  کہا کہ عوام  ایکزٹ پول کی بجائے اصل نتائج پر یقین کریں۔ نائیڈو نے یاد دلایا  کہ نائب صدر بننے سے قبل انتخابات کے دوران وہ ہر روز ۱۶  جلسوں سے خطاب کرتے تھے۔ انتخابات میں کامیابی  کے لئے کروڑوں روپے کے  خرچ  کو  جمہوریت کا مذاق قرار دینے کے بعد نائیڈو بولے’ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایکزٹ پول حقیقی نتائج نہیں ہیں اور ۱۹۹۹ ؁ کے بعد زیادہ پول غلط ثابت ہوئے ہیں‘۔ اس تسلی کے باوجود    بے چین روحوں کے لیے  غالب کے اس شعر میں سکون و اطمینان   کا ایک پیغام   ہے؎

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

  ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close