آج کا کالم

ایک قدم میڈیائی اباحیت کے خاتمہ کےلئے

مھدی حسن عینی نصرآبادی

عصر جدید کی میڈیا کثرت نسلی اور مذہبی گروہوں کے باہمی تعلقات پر مثبت یا منفی دونوں طرح کے اثرات مُرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹویٹر، یُو ٹیوب اور فیس بُک جیسےآن لائن سوشل نیٹ ورکس کےعلاوہ عالمی سیٹلائٹ اسٹیشنوں نے خبروں کے فوری پھیلاؤ کے اسباب فراہم کیے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن کو جلانے کی خبر سب سے پہلے یُوٹیوب پر آئی تھی اور سیٹلائیٹ ٹیلی ویژن پر بار بار نشر ہو کر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اچھّی خبر کی نسبت بُری خبر زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ جیسا کہ ٹیری جونز کی قابلِ نفرت حرکت کے نتیجے میں افغانستان میں ہونے والے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے، نفرت بھری حرکات کو بار بار نشر کرنا مختلف کمیونٹیز کے درمیان تباہ کُن اثرات کا مُوجب بن سکتا ہے۔ لیکن اِس نئے میڈیا کے منفی اثرات کو کِس طرح روکا جا سکتا ہے؟ تفہیم، رواداری اور دردِ دِل کے جذبے کو فروغ دینے والے اعمال اور الفاظ کے ابلاغ کے لئے اِس نئے میڈیا کی طاقت کو ہم کِس طرح قابو میں رکھ سکتے ہیں؟عملی قدم اٹھانے کے تین درجات ہیں: ایسی بین المذہبی خبروں کو پھیلانا جن میں رحم دِلی اور تفہیم کی عکاسی کی گئی ہو، نشریاتی لہروں کا ذمہ دارانہ استعمال کرنے پر زور دینا اور میڈیا کی نگرانی۔ پہلے درجے میں ہمیں میڈیا کو اِس پر قائل کرنا ہے کہ وہ انتہائی پلڑوں میں توازن لائے اور مزید ’اچھّی خبریں‘ لے کر آئے۔ ایک امکان تو یہ ہے کہ ایسی کہانیاں تلاش کی جائیں جن میں سسپنس، حوصلے اور قربانی کے عناصر پائے جاتے ہوں۔ مثال کے طور پر کِس طرح کِسی جُرم کے دوران ایک ہندو کی جان ایک مُسلمان نے بچائی یا کس طرح ایک ہندو لڑکے نے بوڑھی مُسلمان خاتون کو طوفان سے محفوظ رکھا وغیرہ جیسی کہانیوں کی طرف ٹیلی ویژن کے پروڈیوسرز اور نئے میڈیا کے تخلیق کاروں کی توجہ مبذول کرائی جا سکتی ہے۔ لیکن کم ڈرامائی واقعات بھی دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں۔
اس طرح ذاتی کہانیاں شاید بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے لئے دلچسپی کا باعث نہ ہوں لیکن ہم اپنے بین المذہبی پیغام کو دوسروں تک پہنچانے اور اِن جیسے مزید واقعات کو تحریک دینے کے لئے اِس خود ساختہ میڈیا کی آن لائن دستیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
دوسرا درجہ عمل یعنی ایک آزاد اور منصفانہ میڈیا کے لئے وکالت کا ہے جو پہلے ہی اُبھر کر سامنے آ رہا ہے۔ اس نظریے کے حامی لوگوں کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں مقامی کموینٹیز کا مؤقف شامل کرنے کے حق سے آگاہ کر رہے ہیں۔ پریس کا غلبہ پوری دنیا پر ہے اور اصلاح کا عمل عالمی سطح پر، شاید باری باری ہر خطّے میں، کرنے کی ضرورت ہے۔
عرصہ پہلےامریکہ میں کیلی فورنیا کی ایک فلم پروڈیوسر اور ایک آزاد اور ایمان دار میڈیا کی حامی سُو وِلسن نے مُلکی حکام کے ساتھ بہتر قانون سازی کے لئے لابنگ کرتے ہوئے خوف و ہراس پھیلانے والے پنڈتوں کو شرم دلائی اور مقامی کمیونٹیز کو متحرک کیاتھا. وِلسن کو اس کی فلم ’براڈ کاسٹ بلیوز‘ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا کے ملکیت کے بارے میں جذباتی انداز میں بات کرتے سُنا گیاتھا۔ وِلسن کا مؤقف تھا کہ مقامی فضائی لہروں کی ملکیت مقامی لوگوں کے پاس ہونی چاہیے۔ وِلسن نے یہ بھی کہا تھا کہ اپنے مقامی اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو کارپوریشنوں کی مِلکیت میں جانے سے بچائیں جو انتہائی مطلق العنان، پریشان کُن اور خود غرض ہوتی ہیں۔
لیکن نئی قانون سازی اور سماجی عمل کِسی بھی طرح عمومی ذرائع ابلاغ کو قابو میں نہیں کر سکتے۔ مذہبی تنوع کے ضوابط اور میڈیا کی نگرانی پیشہ ورانہ طریقۂ کار میں ایک نئی اور اہم جہت کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی نگرانی عالمی سطح پر ہونی چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ واشنگٹن میں قائم مرکز برائے مذہبی آزادی ہر سال مذہبی تنوع کی رواداری کے حوالے سے مختلف ممالک کا موازنہ کرتا ہے۔یہ توانکل سام کےامریکہ کی بات تھی. لیکن کیا ہم کِسی ایسے بین الاقوامی ادارے کی تشکیل کا خواب دیکھ سکتے ہیں جو میڈیا کی درجہ بندی ثقافتی اور مذہبی تنوع کے احترام کی بنیاد پر کرے۔
میڈیا کا مثبت یا منفی کردار اپنانا ہماری تربیت پر ہے ،ہمارا معاشرہ ترقی کی کسی بھی راہ پر گامزن ہو جائے میڈیا کچھ بھی دکھا اور سکھا رہا ہو اگر ہماری آج کی نسل کو اچھائی اور برائی کا فرق پتہ ہو تو وہ کسی بھی چیز کا کوئی اثر لینے سے پہلے یہ ضرور سوچے گی کہ یہ چیز اُس کے لیئے اچھی ہے یا بری ،الیکٹرانک میڈیا سے اگر کسی غیر اخلاقی چیز کی نمائش کی جا رہی ہو تو یہ ضروری نہیں کہ اُس کو دیکھ کر اس کا منفی اثر لیا جائے اُس کو صرف انجوائے منٹ کی حد تک کیوں نہ دیکھا جائے ؟ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کسی چیز کے مثبت پہلو پر عمل کرتے ہیں یا منفی ؟بچوں کی تربیت کا وہ سہنرا دور جس وقت بچوں کو والدین کی ضرورت ہوتی ہے بچّے وہ ٹائم کیبل کی فضول نشریات دیکھتے ہوئے گزارتے ہیں، والدین کے پاس ٹائم نہیں ہوتا کہ وہ بچّوں کو چیک کر سکیں کہ اُن کا بچّہ ذہنی تفریح کے نام پر کیبل سے چلنے والے چینلز سے کیا سیکھ اور سمجھ رہا ہے ،میڈیا کی تربیت کے ساتھ بڑے ہوتے بچّے جب ذرا اور شعور کی عمر تک پہنچتے ہیں تو ڈراموں میں دکھایا جانے والا لائف اسٹائل بڑی بڑی گاڑیاں بنگلے بچّوں میں مادہ پرستی پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اور اگر بچوں کو گھر سے پیسے نہ ملیں تو وہ اس کے حصول کے لیئے کوئی بھی طریقہ اختیار کر لینے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے کیونکہ میڈیا اُن کو یہی سکھا رہا ہوتا ہے کہ ایک فلم کا ہیرو کس طرح منفی رویے اپنا کر زبردستی کسی سے کوئی چیز چھین سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے ایسا ؟؟ آج کی نسل کو میڈیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیئے سب سے پہلی ضرورت والدین کی تربیت ہے کیونکہ بچّہ جو چیز سات سال کی عمر میں سیکھتا ہے وہ ستر سال کی عمر تک اُس پر عمل کرتا ہے جس نوجوان کی تربیت صحیح طرح ہوگی وہ میڈیا پر دکھائے جانے والی کوئی بھی چیز دیکھ کر اُس پر منفی عمل کرنے سے پہلے یہ بات ضرور سوچے گا کہ یہ چیز اُس کے لیئے غلط ہے یا صحیح ؟ اسی طرح ہمارے ٹی وی چینلزاور موویز بنانے والوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ڈراموں اور موویز میں ہماری زندگی سے قریب تر واقعات پر ڈرامے اور موویز بنائیں، بچّے جس طرح منفی انداز میں پیش کیئے گئے ہیرو کو اپنی پسند بناتے ہیں اس طرح مثبت انداز کی سوچ کو بھی ضرور اپنائیں گے ،مگر اب اس منفی اثر کو مثبت انداز میں تبدیل ہونے میں آج کی نوجوان نسل بوڑھی ہوجائے گی اور شائد آج کی میڈیا سے ملنے والے سبق سے جو صرف خواب کی دنیا کی زندگی پیش کرتا ہے اُس سے اپنے آنے والی نسلوں کوخوابوں میں گُم ہونے سے بچا لے ، اور ایسا صرف اُس وقت ممکن ہے جب ہمارے الیکٹرانک ، پرنٹ اور آؤٹ ڈور میڈیا آج کی جدید اور گلیمرس دنیا کے ساتھ چلتے ہوئے خوابوں کی دنیا سے نکل کر، ہر بات کو منفی انداز میں لکھنا اور دکھانا چھوڑ دیں ، ایک طرح سے یہ کہنا بھی صحیح ہوگا کہ مانا آج کی دوڑتی بھاگتی زندگی میں اگر والدین کے پاس بچوں کی تربیت کا ٹائم نہیں اور یہ ذمہ داری میڈیا نے لے ہی لی ہے تو کیوں نہ میڈیا ایک اچھے والدین کی طرح آج کی نسل کی اچھی طرح پرورش کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے نوجوان نسل کو مزید تباہی کی طرف بڑھنے سے بچا لے، میڈیا ہی اپنے منفی اثرات کو مثبت انداز میں تبدیل کر سکتا ہے ۔
ایک طرف تو میڈیا کی اہمیت وضرورت میں کوئی شبہ نہیں ہے، تو وہیں میڈیا میں کام کرنے والوں کی پریشانیاں بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ اب پوری دنیا سے اہل غیرت کا فقدان ہوتا جارہا ہے۔ مگر میڈیا کی دنیا میں تو غیرت مندوں کا وجود ہی عجوبہ ہے۔ عموماً میڈیا میں کام کرنے والے کام کرتے وقت سب کچھ بھول جاتے ہیں۔انہیں اپنے پروگرام کی کامیابی اور اپنے مشن کی بہبودی ہی نظر آتی ہے، اوراس کے لیےجوبھی کرنا پڑے، وہ کر گزرتے ہیں، چاہے اس کا اثر ایمان پر پڑے یااسلام پر،یااس کے زد میں انسانیت ہی کیوں ناآجائے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ خواہ اس سےمعاشرہ برائی کے دلدل میں پھنس جائے یا نئی نسل برباد ہوجائے اس سے کوئی مطلب نہیں، انہیں توبس خود چمکنے، اپنےمیڈیا کو چمکانے اوردنیا کمانے کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ تہذیب و تمدن، ثقافت و انسانیت کے پامال ہونے سے انہیں کیامطلب؟؟
دوسری بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ میڈیا زرکثیرکا محتاج ہوتاہے، جس قدرہم میڈیا میں کام کرنا چاہتے ہیں، اسی قدر اس میں لاگت آئےگی۔تیسری مصیبت اور پریشانی یہ کہ آج کل میڈیا میں جو پروگرام پیش کیے جاتے ہیں، وہ عموما ً ان لوگوں کے تیار کردہ ہوتے ہیں، جنہیں اخلاقیات سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بجائے فائدہ کے اس میں نقصان زیادہ ہوتاہے۔ بسااوقات اس فن سے نابلد لوگ بھی اس میں حصہ لے لیتے ہیں، جو یقینا ًکافی ضرررساں ہے۔ لہذاہر فن کے ماہرین کوہی اس فن کے پروگرام کو تیار کرنا چاہئے۔
موجودہ میڈیا میں فاسد پرگراموں کاانسداد بہت ضروری ہے،کیونکہ آج میڈیا میں جو پروگرام پیش کیے جاتے ہیں، اس میں ضرراور زہر پوشیدہ ہوتا ہے، جس سے خصوصا ً بچے اور عورتیں نہیں بچ پاتی ہیں۔ آج کے میڈیا نے تو شرم وحیا کو دنیا سے نیست ونابود کرنے کا عزم مصمم کر رکھا ہے۔ اور جب انسان میں حیا ہی باقی نہ بچے، تو اس سے کس خیرکی امید کی جاسکتی ہے؟
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:
“إذا لم تستحي فاصنع ماشئت”
“اگر تمہارے اندر حیا نہیں ہے تو جو چاہو کرو۔”
ایک دوسری روایت (الحیاء خیر کلہ) أو قال: الحیاء کلہ خیر”،حیا میں اول سے آخر تک خیرہی خیر ہے۔”
بخاری کی ایک روایت ہے:
“عن عمران بن حصين قال: قال النبي صلى الله عليه و سلم: (الحياء لا يأتي إلا بخير”
حیا ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے۔
حتی کہ امام بخاری نے ایک باب کا نام”الحیاء من الإیمان”رکھاہے، یعنی حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے۔
اور ایک روایت ہے:
“عن أبي هريرة عن النبي صلی الله عليه و سلم قال: الحياء شعبة من الإيمان.
“حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔”
الیکٹرانک میڈیا کی ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ عموماً پروگراموں میں اختلاطِ مردوزن کو فروغ دیا جا تا ہے۔ بلکہ میاں بیوی کے آپسی تعلقات میں سوائے جماع کے دیگر تمام حرکات کو نشر کرتے ہیں۔ مثلاً بوس وکنار، بغل گیر ہونا، معانقہ وغیرہ وغیرہ۔ ان چیزوں کو بار بار دیکھے جانے سےعموماًکم سنی ہی سے بچوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ یہ بوس وکنار یامعانقہ وغیرہ ایک عام سی بات ہے۔ اور یہ حرکتیں ان بچوں کی زندگی میں لاشعوری طور پر داخل ہو جاتی ہیں۔
ان پروگراموں کے مرتب، اداکاراور ناشر تینوں کو، نہ تو اللہ کا خوف لاحق ہوتاہے، اور نہ ہی سماج کے برباد ہونے اور بچوں کے بگڑنے کا اندیشہ۔ بلکہ وہ لوگ تو بنی بنائی اسکیم اور منصوبہ بند طریقہ کے تحت یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ تاکہ دنیا اباحیت کی آماجگاہ بن جائے۔ اس لیے حسبِ استطاعت مسلمانوں کے لیے اس کی اصلاح اور اس کا نعم البدل پیش کرنا ضروری ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
( كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ) {آل عمران: 110}
"تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو مسلم ممالک میں جہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہے، وہاں واجب ہے کہ حکومتی سطح پر میڈیا کا صحیح استعمال کیاجائے، اورغلط دروازوں کو بند کیا جائے۔ اور اسلام کی نشر واشاعت میں میڈیاکا پورا پورا استعمال کیا جائے۔ اِن شاء اللہ اس سے ملک وملت اور قوم ومعاشرہ میں خیر کی راہیں کھلیں گی، اور امن کا ماحول پیدا ہوگا۔مگر جہاں غیرمسلم حکومتیں برسراقتدار ہیں ، وہاں پر یہ معاملہ دو حال سے خالی نہیں؛ یاتوآمرانہ نظام، یاپھر جمہوریت،جمہوری ممالک میں کھلی آزادی ہرشہری کو حاصل ہوتی ہے، جبکہ آمرانہ نظاموں میں کچھ دقتیں تو ہیں؛ مگر حریت فکر وعمل ہر ایک کو حاصل رہتی ہے۔
بہر کیف غیر مسلم ممالک میں حکومت سے توزیادہ توقع نہیں کیجاسکتی؛ البتہ وہاں کے افراد انفرادی اوراجتماعی طورپرمیڈیا کا صحیح استعمال تو کرہی سکتے ہیں۔ لہذا کہیں بھی فرار کی گنجائش نہیں ہے۔حسبِ استطاعت میڈیا کے لیے بھی لوگوں کو تین درجے میں رکھا جائےگا۔
“عن أبی سعید قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ، وذلک أضعف الإیمان” (مسلم:186)
“تم میں جب کوئی منکر چیز دیکھے، تو اس کو اپنے ہاتھ سے روکے۔ اس کی استطاعت نہ ہو، تو اپنی زبان سے روکے۔ اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو، تو اپنے دل سے برا جانے۔ اور یہ ایمان کا آخری درجہ ہے۔ لہذا ہر آدمی اپنے اندرجھانک کر دیکھے، اورحسب استطاعت اس برائی کے سدِّ باب کے لیے کوشش کرے۔”
آخری بات:
اے ایمان والو! اس دن سے ڈرو، جس دن کوئی کسی کا پرسانِ حال نہ ہوگا، نہ باپ بیٹے کا ہوگا، نہ ماں بیٹی کی ہوگی، نہ بیوی شوہر کی ہوگی اور نہ شوہر بیوی کا ہوگا۔
اے لوگو! اس دن سے ڈرو، جس دن نہ کوئی راز، راز رہےگا۔ نہ کو‏ئی بھید پوشیدہ اور چھپا ہوگا۔ اس دن یہ دنیا کچھ کام نہ آئےگی؛ بلکہ وہاں تو یہ وبال جان بن جائےگی۔
ارشار باری ہے:
( يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ)
“اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔”اس لیے اے لوگو! اس دن کو یاد کرو جس دن ہر اچھے اور برے عمل کابدلہ دیاجائےگا۔
ارشاد ربانی ہے:
(فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ٧ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ )
“پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لےگا۔ اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لےگا۔”
اے نبی آخری الزماں کے پیروکارو! اس بات کو ضرور یادرکھو ، کہ جو کسی برائی کا راستہ دکھاتاہے، تواس دکھانے والے کو بھی اتناہی گناہ ملتاہے، جتناکہ برائی کرنے والے کو ملتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی اچھی راہ دکھاتاہے، تو اس کو بھی اتناہی اجر ملتاہے، جتناکہ اس نیک راہ پر چلنے والے کو ملتا ہے۔ارشاد نبوی ہے:
(مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ)
آج کے ترقی یافتہ دور میں جب روشن خیالی اور فکری اڑان صرف اس بات میں منحصر ھیکہ خوب ننگےہوجایاجائے،اخلاقی قدروں کوپامال کرکے انسانی حدود سے بھی تجاوز کرلیاجائے.ایسی نازک حالات میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بیداری اور فعالیت کاثبوت دیتے ہوئے میڈیا کی راہیں بدل کر انہیں وہی لکھنے، بولنے، سنانے اور نشر کرنے کاپابند بنائیں جو انسانیت سوز ناہو، اس کےلئے عوامی بیداری پیدا کرنی ہوگی.تو آئیے سب مل کر قدم بڑھاتے ہیں اپنے لئے اپنے بچوں کے لئے اپنی خواتین کے لئے، ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کےلئے،مشرقی اقدار و روایتوں کے تحفظ کےلئے،اب بائیکاٹ کریں گے جھوٹ کا، فحش گوئی و بےحیائی کااخلاق کش مواد و پروگراموں کا.اردو میڈیا کو اس سمت میں سب سے پہلے لبیک کہناچاہئے. آئیے اس جمود کوتوڑ کر ملک و ملت ہی نہیں دنیائے انسانی کے لئے بڑھتے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close