آج کا کالم

ایک مسلم خاتون کی اسلامی احکامات کے خلاف چیف جسٹس سے شکایت

ہندوستان کے ایک آزاد خیال گھرانے کی پڑھی لکھی خاتون عائشہ جمال نے ملک میں چیف جسٹس رہ چکے مرکنڈے کاٹجو کو خط لکھا کہ "اسلام میں بہت سارے معاملات میں جنسی مساوات نہیں ہے۔ میری گواہی کو اسلام ایک مرد کی گواہی سے کمزور شمار کرتا ہے اور یہ بات مجھے خلاف عقل اور خلاف عدل محسوس ہوتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اسلام کچھ معاملات میں تو عورتوں کو اختیارات و حقوق دیتا ہے لیکن بہت سے معاملات میں مردوں کو عورتوں پر فوقیت دے دیتا ہے جو کہ مساوات کے خلاف ہے۔” تحریر کے آخر میں یہ بھی لکھا کہ ” آپ بلا جھجھک میرے اس خط کی اشاعت کرسکتے ہیں کیونکہ مجھے مذہب کے ٹھیکیداروں سے بالکل بھی ڈر نہیں لگتا۔”

نتیجے کے طور پر فراق میں بیٹھے مرکنڈے کاٹجو صاحب نے جوکہ ملک میں کامن سول کوڈ کی وکالت کرتے آۓ ہیں تحریر کی سوشل نیٹ ورک پر جم کر اشاعت کی اور ہزاروں لوگوں کے بیچ جن میں بلاشبہ ہر مذہب کے ماننے والے شامل تھے خوب مباحثہ ہوا۔

اس شور اور بھیڑ کے بیچ میں نے بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ رکھے اور بعض افراد کو میری بات پسند بھی آئی لیکن میری بے چینی ختم نہیں ہوئی اور مجھے یقین ہے کہ میں دوسروں کی تشنگی بھی مٹا نہیں سکا۔ یہ تحریر بھی میری اسی بے چینی کا نتیجہ ہے۔

میں نے لکھا کہ ” عائشہ جمال کی تحریر پڑھ کر مجھے بے پناہ خوشی ہوئی کہ انھوں نے اپنے افکار سامنے لانے کی جرات کی اور میں ان کی اس بات سے اتفاق رکھتا ہوں کہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کو تمام حقوق برابر نہیں دئیے ہیں۔ بعض حقوق اور اختیارات دونوں کو برابر دئیے اور بعض کو جنس کے ساتھ خاص کردیا اور ٹھیک ایسا ہی فطرت نے بھی انسانوں کے ساتھ کیا؛ کسی مرد کو اگر یہ خواہش جاگ اٹھے کہ وہ اپنی کوکھ سے اپنے بچے کو جنم دے اور اسے پال پوس کر بڑا کرے تو کیا فطرت اسے اس بات کا اختیار دیتی ہے؟ نہیں فطرت نے یہ طاقت صرف عورت کو بخشی اب کیا مرد فطرت کے خلاف شکایت کریں ؟ دراصل انسان کا مقصد مساوی زندگی نہیں بلکہ ایک خوبصورت اور با وقار زندگی ہونا چاہئیے اور اسلام نے دونوں جنسوں کو حقوق و اختیارات اس طور پر تقسیم کیے کہ وہ ایک باوقار اور اخوت بھری زندگی گذار سکیں۔

مزید یہ کہ اگر دو خواتین کی گواہی ایک مرد کے برابر مانی جاتی ہے تو یہ خواتین کی حق تلفی کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ تو اس انسان کی حق تلفی شمار ہوگی جس کے حق میں دو عورتیں گواہی دے رہی ہیں لیکن اسے ایک شمار کیا جارہا ہے اور وہ انسان مرد بھی ہوسکتا ہے اور عورت بھی ہوسکتی ہے۔ گویا یہ حکم خواتین کے خلاف تفریق میں تو بہرحال شمار نہیں کیا جاسکتا۔ "

اس طرح کے مختلف واقعات اب آئے دن سامنے آرہے ہیں اور کچھ سرپھرےآزاد خیال مسلمان غیر مسلموں سے ہم آہنگ ہوکر اسلامی تعلیمات پر جملے کسنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں اور ان تمام اسباب پر شدت سے توجہ دینے کی ضرورت ہے؛

مسلم خواتین کو سماج میں سوالات کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے مواقع نہیں مل رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے عقائد میں کمزوری رہ جاتی ہے اور اسپیس ملتے ہی وہ کم علمی کے نتیجے میں مذہب کے خلاف بول پڑتی ہیں۔
مسلم عورتوں میں جرات کی صفت بہت نایاب ہوتی جارہی ہے اور اس کی وجہ سے وہ دل میں دبے مذہبی اشکالات کو وقت پر باہر نہیں لاتیں اور نتیجے میں وہ اشکالات کبھی ختم نہیں ہوپاتے۔
دینی تعلیم کا رجحان گھٹتا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں نہ تو بچوں کو دینی مدارس میں پڑھنے کے مواقع مل رہے ہیں اور نہ والدین انہیں دین سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
خود علماء میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو نئی نسلوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دے سکیں
جبکہ یہ اشکالات و اعتراضات جدید ترقیات سے متعلق نہیں ہیں بلکہ ایک زمانے سے وقتا فوقتا کسی نہ کسی گوشے سے آتے رہے ہیں اور اکابرین نے مختلف انداز سے ان کے جوابات بھی دئیے ہیں اب ہماری اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ کم از کم ان جوابات کو سوالات یا سوالات کو جوابات تک پہنچائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صلاح الدین ایوب

ڈاکٹر صلاح الدین ایوب نوجوان ادیب اور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close