آج کا کالم

ایک نام نہاد فقیر کی شاہانہ تاج پوشی

ڈاکٹر سلیم خان

ہندوستان کے سیاسی گلیارے میں وی پی سنگھ کے ہمنواوں نے   پہلی مرتبہ یہ نعرہ لگایا  گیا تھا کہ ’ یہ راجہ نہیں فقیر ہے، یہ بھارت کی تقدیر ہے‘۔ اس کی ایک خاص  وجہ اور ضرورت  تھی۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کا تعلق   مانڈہ کے  سابق شاہی خاندان سے تھا لیکن وہ  ذاتی طور پر  درویش صفت انسان تھے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ وہ تو ایک چائے والے کے طور پر اپنی شبیہ بنا چکے ہیں اس کے باوجود  دکھ سکھ کے لمحات میں اپنے   فقیر ہونے کا ذکر ازخود  فرماتے رہتے ہیں  مثلاً نوٹ  بندی میں ناکامی کے بعد روتے ہوئے  کہہ دیا کہ ’ہم تو فقیر آدمی ہیں، جھولا اٹھائیں گے اور چل دیں گے‘۔ مودی جی کا وہ اعلان بھی ان بادلوں کی گرج کے مانند تھا جنہیں برسنے کی سعادت نہیں ملتی۔ اس مرتبہ اپنی شاندار کامیابی درج کرانے کے بعد مودی جی نے وگیان بھون میں اعلان کیا ’بھارت کی جنتا نے فقیر کی جھولی بھر کر اسے مالا مال کردیا‘۔ گویا یہ فقیر کا جن پھر سے ان کی بوتل سے نکل آیا لیکن  سوال یہ ہے کہ مودی جی کو بار بار یہ  جتانے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے کہ وہ فقیر منش انسان  ہیں؟

اس سوال   کے پیچھے ان کا پرتعیش  طرزحیات  کار فرماہے۔ اپنے عیش و عشرت بھری زندگی  کی پردہ پوشی کے لیے   انہیں بار بار عوام کو اپنے بچپن کے جھوٹے سچے واقعات سنانے  پر مجبور ہونا پڑتا  ہے۔ اس دلیل پر اگر کسی کو  یقین نہ آتا ہو تو ان کے تاجپوشی کی تقریب کو دیکھ لے  جس میں  ۸ ہزار لوگوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ کیا یہ شان و شوکت  کسی نام نہاد  فقیر کا شعار  ہے؟ کیا  رسم حلف برداری  کام سادگی کے ساتھ  نہیں ہوسکتا تھا ؟ کیا اس پر سرکاری خزانے  سے کروڈوں روپیوں کو  اس طرح لٹانا ضروری  تھا؟ کیا کسی عیاش  راجہ مہاراجہ نے بھی  ٹھاٹ دکھانے کے لیے اس طرح کی فضول خرچی کی ہے؟  ۸ہزار لوگوں کے شاہانہ  کھانے اور آمدورفت  اور رہائش و آسائش کے لیے پانی کی طرح روپیہ بہانا کیا کسی جمہوری رہنما کو زیب دیتا ہے؟ مودی جی کو جمہور نے دوسری مرتبہ ووٹ دے کر  اپنا حکمراں ضرور  بنایا ہے اس لیے انہیں یہ حق حاصل ہے کہ عوام کی امانت کے ساتھ جیسی چاہے خیانت کریں  لیکن اس کے ساتھ  وہ فقیر اور اس  کی جھولی والی بات مضحکہ خیز لگتی  ہے۔

مودی جی کو اس کامیابی سے تو  ہندوستان کے عام لوگوں نے ہمکنار  کیا لیکن تاجپوشی کی تقریب میں  ان لوگوں کو بھلا کر وزیراعظم نے اپنی توجہات خاص لوگوں پر مرکوز کردی ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عوام  تو ٹیلی ویژن کے پردے پر ان کا دور درشن کریں اور  خواص سرکاری خرچ پر دعوت اڑائیں۔ انتخابی نتائج کے آتے ہی میڈیا میں غیر ملکی مہمانوں کے حوالے سے  مختلف اٹکلیں لگائی جانے  لگیں۔  تقریب حلف برداری  کے متوقع  شرکاء میں پہلے   امریکہ کے صدرٹرمپ، روس کےصدر پیوٹن، چینی سربراہ ژی سمیت  برطانوی  اور جاپانی وزرائے اعظم اور  جرمنی کے چانسلر، فرانس کے صدر، اسرائیل کے وزیراعظم  اور عرب سربراہان کے نام  زیر بحث آگئے ۔ ان لوگوں کو فرصت نہیں تھی یا دلچسپی کا فقدان تھ وجہ جو بھی تھی بالآخر  ننھے منے ہمسایوں پر اکتفاء کرنا پڑا۔ اتفاق سے ان میں سب سے بڑا ملک بنگلادیش مسلم نکل آیا۔ حسینہ واجد نے پچھلی مرتبہ جاپان کے دورے کا بہانہ بناکر معذرت کرلی تھی اس بغیر وجہ بتائے صدر مملکت عبدالحمید کو روانہ کردیا۔ ان سے مل کر مودی جی کو نہ سہی تو رام ناتھ کووند کو ضرور خوشی ہوئی ہوگی۔

صدر عبدالحمید کے علاوہ دیگر  ۷غیر ملکی مہمانوں میں سری لنکا کے صدر میتری پالا سیری سینا، نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما اولی، بھوٹان کے وزیراعظم لوٹے شیرنگ، میامنار کے صدر یو ون مینٹ،ماریشس کے وزیراعظم پروند کمارجگناتھ، کرغستان کے صدر جین بیکوو اور  تھائی لینڈ کے خصوصی سفارتکار شامل تھے۔ ان کی یہ حالت ہے کہ اگر تصویر کے نیچے نام ندارد ہوتو شاید ہی کوئی شناخت کرسکے۔ گزشتہ مرتبہ حلف برداری کی تقریب میں شامل ہونے والا اہم ترین نام پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کا تھا لیکن اس بار حیرت انگیز طور پر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا نام  غائب  تھا۔ پلوامہ  اور ائیر اسٹرائیک کے بعد پیدا شدہ نازک صورتحال میں عمران خان نے دونوں ممالک کے درمیان   کشیدگی کم کرنے  کی بابت جس سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا     اس کے چلتے وہی شرکت  سب سے زیادہ حقدار تھے۔

 ابھینندن کی واپسی کا جس طرح بی جے پی نے سیاسی استعمال کیا کم ازکم اس کا  شکریہ ادا کرنے کی خاطرعمران خان  بلا ئے  جانے کے حقدار تھے  لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کی دوجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ  پچھلے سال   عمران خان کی کامیابی پر مودی جی نے جب  انہیں مبارکباد کا فون کیا تو انہیں توقع رہی ہوگی کہ انہیں حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور وہ دل مسوس کر رہ گئے۔ انہوں نے  سوچا ہوگا  کہ اگر نواز شریف کامیاب ہوگئے ہوتے تو ان کا قرض ضرور ادا کرتے۔ دوسرے اس بار کی انتخابی مہم میں بی جے پی سب کا ساتھ سب کا وکاس اور اچھے دن کے بجائے  مولانا مسعود اظہر، پلوامہ اور بالاکوٹ کو مرکزی حیثیت دے دی۔ اس  کے فوراً بعد مودی جی کے لیے مشکل تھا کہ پاکستان کو دعوت  دے کر بلا لیتے لیکن افغانی حکومت تو ان کی  قدیم حلیف ہے۔ صدر اشرف غنی کو دعوت دے کر پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکا جاسکتا تھا لیکن   نہ جانے کیاسوچ کر اس سے گریز کیا گیا۔حکومت ہند کے ذریعہ  نظر انداز کیے جانے پر افغانی صدر کی حالت  ندا فاضلی کے اس شعر کے مصداق ہوگئی ؎

تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو

 جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا

  ایک بات تسلیم کرنی ہوگی کہ بی جے پی نے وزارت سازی میں کمال مہارت اور دور اندیشی کا ثبوت دیا۔راجناتھ سنگھ نے اس بار بھی لکھنو سے زبردست کامیابی درج کرائی اس لیے ان کو نظر انداز کرنا مشکل تھا۔ مودی جی نے راجناتھ وزارت میں تو شامل رکھا مگر قلمدان بدل کر وزیر دفاع بنا دیا گیا۔ اس  اقدام کے پیچھے کئی حکمتیں ہوسکتی  ہیں لیکن سب  سے اہم چیز رافیل گھوٹالا ہے۔ عوام نے اس کو اہمیت نہیں دی لیکن مودی جی کو پتہ ہے کہ آج نہیں تو کل یہ جہاز ان کی لٹیا ڈبو سکتا ہے۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رامن ان کا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ اب یہ سوچھتا ابھیان ( گندگی کی صفائی کا کام ) میں ایک پائیدان نیچے اتار کر راجناتھ کو   سونپ دیا گیا ہے۔ امیت شاہ کے وزیرداخلہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ   اب وہ سرکار  دوسرے نمبر  ہیں یعنی اگر کسی عدالتی فیصلے کے سبب  مودی جی کو سرکار چھوڑنی پڑے تو ان کا وفادار امیت شاہ اقتدار پر فائز ہوجائے اور نرمی سے پیش آئے۔ مودی جی کو شاہ جی سے یہ توقعات باندھنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک کردیکھنا چاہیے۔ اپنے عمل سے امیت شاہ کی انہوں نے جو تربیت کی ہے اس کے مطابق  کوئی کسی کا وفادار نہیں ہوتا۔ کیاضروری  ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد  مودی جی نے جو سلوک اپنے گرو اڈوانی کے ساتھ کیا وہی معاملہ امیت شاہ مودی کی ساتھ نہ کریں اس لیے ہندوتوا کی تو یہی پرمپرا ہے۔

 مودی جی تاریخ کا ایک سبق بھول گئے۔ ۱۹۸۴ ؁ کے اندر ایوان پارلیمان میں جملہ ۵۱۴ نشستیں تھیں۔ ان میں سے ۴۰۴  پر کانگریس  نے کامیابی حاصل کی تھی  اور بی جے پی ۲  تک محدود تھی۔ ۲۰۱۹ ؁ میں ۵۴۳ میں سے بی جے پی کے پاس ۳۰۳ نشستیں ہیں اور کانگریس کے ۵۲ ارکان ہیں۔ اس وقت راجیو گاندھی نے ان کے ارون جیٹلی یعنی  وی پی سنگھ کو وزیر خزانہ اور شنکر راو چوہان کو وزیر داخلہ کے عہدے پر فائز کیا تھا۔ نرسمھا راو کو وزیر دفاع بنادیا گیا۔  بوفورس کے معاملے میں   وی پی سنگھ نے اصولی موقف اختیار کیا تو انہیں وزیرخزانہ سے ہٹا کر وزیر دفاع کا قلمدان سونپا گیا جیسے راجناتھ سنگھ کے ساتھ ہوا ہے۔ اس وقت عارضی طور راجیو گاندھی نے اپنے دست راست ارون نہرو کو گھبرا کر وزیرداخلہ بنا دیا تھا جیسے مودی جی امیت شاہ کو بنا دیا ہے، لیکن یہ پھیر بدل کسی  کام نہیں آیا۔ وی پی سنگھ کو وزیر دفاع بنائے جانے کے بعد اور زیادہ خطرناک بن گئے۔ بعید نہیں کہ راجناتھ کے بارے میں یہ  فیصلہ غلط ثابت ہو کیونکہ  وی پی سنگھ  نے پستول بدعنوانی کا پردہ فاش کردیا۔ اس  اٹھا پٹخ کا نتیجہ یہ نکلا کہ  پہلے تو وی پی سنگھ راجیو گاندھی  کو سیاست سے بے دخل کیا اور آگے چل کر نرسمھا راو نے کانگریس پارٹی کو گاندھی پریوار سے مکت کردیا۔کون جانے آگے چل راجناتھ اور امیت شاہ کے اس گورکھ دھندے کیا گل کھلاتا ہے۔ اس لیے  کہ مودی ہے تو بہت کچھ  ممکن ہے اور سیاست کے  امکانات آسمان  اس سے  کہیں زیادہ  وسیع  ہے بقول اکبر حیدرآبادی ؎

رت بدلی تو زمیں کے چہرے کا غازہ بھی بدلا  

رنگ مگر خود آسمان نے بدلے کیسے کیسے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close